Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے، لوگ خود غرض ہو گئے ہیں، رشتے بے معنی ہو چکے ہیں، تعلیم صرف ڈگری کی حد تک رہ گئی ہے، عبادات رسم بن چکی ہیں، اور محبت ایک سودا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام مشاہدات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرا کر آخر حاصل کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ مسلسل دہرانا دراصل ہماری اپنی بے بسی اور داخلی مایوسی کا اظہار نہیں بن چکا؟

    درحقیقت تبدیلی کبھی شور و غوغا سے نہیں آتی۔ وہ ایک خاموش، مسلسل، اور اندرونی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نعروں یا ہتھیاروں سے نہیں، نظریات، کردار اور حسنِ عمل سے وجود میں آئے۔ ہمیں یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو بہتر بنا لیں، تو کیا معاشرہ ویسا ہی بگڑا ہوا رہے گا جیسا ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ شاید نہیں۔

    اگر ایک چراغ جلایا جائے تو اندھیرے کو چیرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچان کر اُن سے نبرد آزما ہو، تو مجموعی ماحول خودبخود روشن ہونے لگتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم روشنی پیدا کرنے کے بجائے صرف اندھیروں پر گفتگو کرنے کو "شعور” سمجھ بیٹھے ہیں۔

    ہم دوسروں کی غلطیوں، لغزشوں، اور کمزوریوں پر بڑی روانی سے بولتے ہیں، مگر کیا کبھی خود پر سوال اٹھایا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کے بجائے، ان کی ایک خطا کو ان کی مکمل شناخت کیوں بنا لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خود احتسابی کا راستہ سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر ہوتا ہے۔

    تبدیلی کی پہلی اینٹ اپنے اندر جھانکنے سے رکھی جاتی ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے رویے کا محاسبہ کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہ مان لینا ہی پہلا قدم ہے کہ ہم سب سیکھنے کے عمل میں ہیں، کوئی کامل نہیں۔ جب ہم خود میں بہتری کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسروں کو بھی بہتر دیکھنے کی امید جاگنے لگتی ہے۔

    کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اُس کی حالت کو سمجھنا سیکھنا چاہیے۔ ہر انسان ایک مکمل کہانی ہے، ایک مکمل جہان — جسے سمجھے بغیر دی جانے والی کوئی بھی نصیحت، چاہے وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، بے اثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کے سب سے مؤثر ذرائع خلوصِ دل، نرم گفتگو، اور حسنِ سلوک ہیں۔

    عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی طعنہ — صرف کردار کی روشنی۔ ان کے خاموش عمل نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔ ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عمل ہی اصل ترجمان ہوتا ہے۔

    آج کے بچے کل کے رہنما ہیں۔ مگر یہ رہنمائی صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ ماحول، رویوں، اور مشاہدات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ایماندار، بااخلاق اور نرم خو ہو، تو ہمیں خود اپنی زندگیوں میں سادگی، احترام اور دیانت داری کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔

    سوشل میڈیا کے شور میں ہمیں لگتا ہے کہ صرف بڑی باتیں اور وائرل جملے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کسی غم زدہ دل کی خاموش دلجوئی، کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ، یا کسی الجھے ذہن کے لیے ایک مثبت لفظ — یہ سب تبدیلی کی وہ چنگاریاں ہیں جو اگر بھڑک اٹھیں تو انقلاب بن سکتی ہیں۔

    ہمیں ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو چیخے نہ، صرف جئیں؛ جو نصیحت نہ کریں، مگر زندگی میں ایسی سادگی، نرمی، اور سچائی لے آئیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر خود اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیں۔

    ہمیں اپنے رویّوں، لہجوں، گفتگو اور سوچ کے زاویوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اصلاح کا راستہ بلاشبہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں محبت الزام سے بالاتر ہو، رشتے مفاد سے آزاد ہوں، اور اخلاق کسی رسم کا محتاج نہ ہو۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ:
    "اصلاح ایک آواز نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔”
    اگر ہم اسے خاموشی سے اپنا لیں تو تنقید کے بغیر بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

  • ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہم ایک ایسی دُنیا اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہے کہ انسان اپنے اندر قدرتی صلاحیتوں کو دیکھنے کی بجائے خوف کے سیایہ میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ناکام ہونا نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف اور کامیابی کا دباؤ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناکامی کا تصور اس قدر منفی اور محدود ہے کہ ناکامی کا لفظ سنتے ہی ہم حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ناکامی کا ڈر اس قدر انڈیل دیا جاتا ہے کہ ہم ناکامی کے خوف سے ساری زندگی باہر ہی نکل پاتے ہیں۔ ناکامی کے لفظ کے ساتھ جُڑی شرمندگی اور نفرت ہمیں مجبور کردیتی ہے کہ ہم کامیابی کے لیے جستجو کرنے ہی کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو ناکامی کا نہیں ناکافی کا خوف مار دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ڈر ہر انسان کو ہر بڑا مشکل اور کھٹن کام کرنے کے آغاز میں لگتا ہے۔ نامعلوم کا خوف ان جانے راستے کی پریشانی ناکامی کا ڈر اور سب سے بڑا خوف اپنے اندر کے خوف پر فتح ناکام لوگ اس ڈر سے ڈر جاتے ہیں اور فاتح اپنے اندر کے ڈر پر قابو پالیتے ہیں۔

  • آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    ایک اوورسیز پاکستانی ملنے آئے تو کہنے لگے کہ”پنڈ وسیا نئیں، اُچکے پہلے آگئے“ کے مترادف ابھی آئی فون 17مارکیٹ میں نہیں آیا اور فلاں سرکاری صاحب نے ڈیمانڈ کردی ہے کہ آپکا کام ہوجائے گا لیکن ستمبر میں لانچ ہونے والے آئی فون کے نئے ماڈل کے دو موبائل سب سے پہلے اسے ملنے چاہئیں۔میرے لیے یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی کیونکہ سرکاری افسران کی ایسی ڈیمانڈ روٹین ہے۔اس حوالے سے گذشتہ سال میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا۔
    حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ٹیلیفونک کال پر کسی کے ترلے کررہا تھا کہ سر ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس وقت ڈالر ریٹ کم تھا اس دفعہ آپ کا شکوہ دور ہوجاتا ہے۔دکاندار نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے سپیکر فون اوپن کردیا۔ دوسری طرف موجود شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں لاہور پوسٹڈ ہے تو تم اسکو زیادہ ریٹ دیتے ہو، اس نے اچھی پوسٹنگ کروا لی تو وہ مجھ سے بڑا افسر نہیں ہوگیا۔ میرا دوست جواباً صفائیاں پیش کرتے ہوئے نہیں نہیں سر ایسی بات نہیں آپ کے ساتھ تو دس سال کا تعلق ہے کبھی ریٹ میں فرق نہیں کیا۔ کال ختم ہوئی تو اس نے نمبر دکھایا تو سنئیر پولیس آفیسر کی کال تھی۔

    دکاندار کا کہنا تھا کہ یہ روز کا مسئلہ ہے چند دن قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شکوہ کررہے تھے کہ تم پولیس والوں کو زیادہ ریٹ دیتے ہو، یاد رکھنا دکان ہم ہی سیل کرتے ہیں پولیس والے نہیں۔مذید انکشاف کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی لیول کے افسران ماہانہ پانچ سے سات جبکہ اے ڈی سی آر، ایس پی، ڈی پی او، ڈی سی، ڈی جی، آرپی او، کمشنر اور سیکرٹری لیول کے افسران بسا اوقات ایک مہینے میں پچاس سے زائد باکس پیک آئی فون بیچنے کیلئے اپنے قابل اعتبار ہول سیل ڈیلر سے رابطہ کرتے ہیں لیکن ایک بات پر حیرت ہے کہ ان کے اندر کی غربت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور چار سے پانچ ہزار کیلئے بھی دکان بند کروانے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔کرپٹ افسران گفٹ ملے آئی فون ہول سیل میں بیچتے ہیں تو ایماندار افسران کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارے لائک انڈرائیڈ لینا بھی مشکل ہے۔

    پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے لیکن”آگ لگے بسی میں ہم ہیں اپنی مستی میں“ کے مصداق بیوروکریسی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ پہلے پہل سول بیوروکریسی میں اچھے پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ آیاکرتے تھے، عام سرکاری ملازمین کی نسبت سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کا رویہ اور کردار قابل تقلید و تعریف ہوتا تھا۔ نئے افسران کی اکثریت سیلفی سٹار اور ٹک ٹاکرز بنے ہوئے ہیں۔وقار و سائستگی خواتین آفیسرز کی پہچان ہوتی تھی جبکہ نئی خواتین آفیسرز خاص طور پر پولیس کی خواتین ماڈلنگ میں ٹی وی اینکرز اور فلم سٹارز کو مات دے رہی ہیں۔

    وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ”باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے افسران جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور نہ صرف من چاہی پوسٹنگ لیتے ہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تارہ بن کر صوبے اور ڈیپارٹمنٹ کے لئے ”اچھے افسران“سلیکٹ کرنے کی ٹھیکیداری بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ”یو آر مائی انسپائریشن“ کے نعرے لگاتے چاپلوس اور ”کنسیپٹ کلئیر“ افسران کو”ملٹی ٹاسک اچیور اور ڈوئیر“ کا نام دے کر حکمرانوں کے دربار میں پیش کرکے اہم پوزیشن دلوائی جاتی ہیں۔ اہم کام نکلوانے کیلئے چھوٹے افسران کو بڑی سیٹوں پر تعنیات کیا جاتا ہے۔ اگر کسی آفیسر کو ایمانداری کا بخار ہو تو بخار اتارنے کیلئے او ایس ڈی کردیا جاتاہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ دیانت دار افسران ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ایماندار افسران کی اہم جگہوں پر یہ کہہ کر تقرری نہیں کی جاتی کہ”اسکو افسری نہیں آتی اسے رہنے دو“۔ ”بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن زیادہ ایماندار ہے سسٹم کے ساتھ چلنے والا نہیں“۔

    افسران نے بیوروکریسی کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔انکی نت نئی اوچھی حرکتوں سے بیوروکریٹ گالی بنتا جارہا ہے۔ شدید کرپٹ افسران کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔صرف اسی کو اپنے دفتر میں ویلکم کرنا پسند کرتے ہیں جو آتے ہوئے تحائف لاتا ہو اور امراء کے گھروں میں اس لیے حاضری لگواتے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم سے کونسی قیمتی چیز دیکھ کہ کہہ سکیں کہ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر دیکھی لیکن اس لیے آرڈر نہیں کی کہ آن لائن چیز سہی نہیں ملتی، تب تک تعریف کرتے رہتے ہیں جب تک میزبان یہ نہ کہہ دے کہ یہ چیز اٹھا کر صاحب کی گاڑی میں رکھ دو۔
    نئے افسران اپنے جیسی بچگانہ فہم و فراست کے جوانوں کے ساتھ رات گئے والی محافل میں مگن ہوتے ہیں اور وہاں یہ انتہائی تفاخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ تیرا دوست اے سی /اے ایس پی لگ گیا ہے جو مرضی کرے۔ واقعی جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں مارا ماری کررہے ہوتے ہیں۔
    افسران کے”کنسیپٹ کلئیر“ ہیں اور مائنڈ سیٹ ہے کہ پیسا ہی سب کچھ ہے اس لیے دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔
    اس سے قبل کہ بیوروکریٹ شہرت کی لت میں پاگل ہوجائیں، قوم کے پیسے سے سرکاری افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصیت پرستی کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اس غلط روایت سے سرکاری افسران سارا دن نت نئے اشتہارات بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہ کرتے اور نہ سوچتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور کے بعد اسلام آباد میں گدھے کا گوشت برآمد ، شہریوں کو گدھے کا بالٹی گوشت اور تکے کھلانے کا قومی فریضہ سرانجام دینے والوں کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے پکڑ لیا۔ ملاوٹ تو ایک الگ موضوع ہے اب گدھے اور کتوں کاگوشت برآمد ہونے لگا۔ کیا خوبصورت تربیت کی ہے ہمارے منبرو محراب ۔ نام نہاد پیر خانوں ،گدی نشینوں نے اپنے مریدوں کی ، ہم ترقی پذیر نہیں ہم زوال پذیر قوم بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسی قوموں پر قہر نازل ہوئے۔ بھلا ہو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جس نے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف جہاد شروع کیا ہے یہ جہاد سے کم نہیں ،مخلوق خدا کو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات ،دودھ اور دیگر روز مرہ استعمال کی چیزوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ جمہوریت تاہم سیاسی گلیاروں میں ہیرو بننے کا شوق پروٹوکول ہوٹر بجانے والی گاڑیاں آگے پیچھے گھومیں ،اسی تک سیاست اور جمہوریت رہ گئی ہے۔ سیاست نے کاروباری روپ دھار لیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے قوم بالخصوص نوجوان طبقے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی ۔شخصیت پرستی کی راہ ہموار کی گئی۔ جمہوریت کے دور حکومت اور آمریت کے دور حکومت میں ہرایک قوم کا نجات دہندہ کہلواتا رہا

    میری عمر بیت گئی کس سے نجات دہندہ کہلواتے رہے ۔ پھر قوم کاہیرو تعلیم ، صحت اور مفاد عامہ کا کوئی معیار مقرر نہیں کر سکے۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے قوم کو یرغمال بنایا۔ عقل اور شعور کے دشمنوں نے قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر عاشقان عمران کو کہتے سنا جا سکتا ہے ہمیں عمران چاہیئے پاکستان نہیں یہ شرک کی انتہا اور شخصیت پرستی کی حدکراس کرنے والی باتیں ہیں۔بلاشبہ وہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں دوسری جماعتوں کی طرح ،ملکی وفاء اور قومی سلامتی کے درمیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ادارے ریاست کی سلامتی ، خود مختاری اور داخلی وخارجی خطرات سے حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں ان پر سیاسی جماعتوں کو حملہ آور نہیں ہونا چاہیئے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں ،ہماری سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں کارکردگی ملی جلی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اندرونی اصلاحات ، شفافیت ، میرٹ اور دیگر معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اقربا پروری ، خوراک ، ادویات ،دودھ ، دیگر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں میں ملاوٹ کی وجہ سے ہمارے خون میں ملاوٹ پھیل چکی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے باتوں میں بھی ملاوٹ ، سو ہر کام میں ملاوٹ ہی نظر آتی ہے۔

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسی نسل میں سانس لے رہے ہیں جس نے نئی دنیا کو خوش آمدید تو کہا، لیکن اس راستے میں سب سے پہلے جس چیز کو پیچھے چھوڑا، وہ "ادب” تھا۔ یہ وہی نوجوان نسل ہے جو دنیا بھر کی خبریں اور معلومات ایک کلک پر حاصل کر لیتی ہے، مگر غالب، فیض اور اقبال جیسے نام اس کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جسے نئے گانوں کے بول تو یاد ہیں، لیکن "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” جیسے الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔

    ادب کو زندگی سے یوں الگ کر دیا گیا ہے جیسے وہ کسی پرانے وقت کی چیز ہو۔ اب نہ وہ کلاس میں گفتگو کا حصہ ہے، نہ گھروں میں کتابوں کی مہک باقی ہے، نہ شام کی چائے کے ساتھ افسانوں اور نظموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی اور سوچ کی نرمی اب تیز رفتار ویڈیوز میں کہیں کھو چکی ہے۔

    حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری پہچان، اور ہمارے شعور کا آئینہ ہے۔ جب ادب سے رشتہ کمزور ہوتا ہے تو صرف لفظ نہیں، بلکہ سوچ، احساس اور اخلاق بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ جو نسل خود کو "ڈیجیٹل دور” کی نمائندہ کہتی ہے، وہ اپنی زبان، اپنی شاعری، اور اپنے قصے کہانیوں سے ناآشنا ہے۔ اب بچے قاعدہ پڑھنے کے بجائے موبائل ایپ سے زبان سیکھتے ہیں، اور جوان میر و غالب کو "پرانی باتیں” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مشاعرے خاموش ہو چکے ہیں، کتابیں صرف امتحان کے دنوں میں کھلتی ہیں، اور جہاں کبھی ادبی محفلیں ہوتی تھیں، اب وہاں ڈانس ویڈیوز اور وی لاگز کا راج ہے۔

    ادب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ منٹو کو پڑھیں تو ایک تلخ سچائی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کو سمجھیں تو ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی تحریریں انسان کو اپنے دل میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ادب ہمیں اچھا انسان بننے کا ہنر سکھاتا ہے۔

    آج طالب علم کے لیے ادب ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔ وہ بحث، سوال اور سوچ کے عمل سے دور ہو چکے ہیں۔ اب علم کا مطلب صرف نمبر لینا ہے، نہ کہ سمجھ پیدا کرنا۔ لطیفے، میمز اور کلپس نے گہرے خیال کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف زبان کا نقصان نہیں، یہ سوچ کی سطحیت، احساس کا ختم ہونا، اور ذہنی زوال کی علامت ہے۔

    جب انسان کتاب سے رشتہ توڑتا ہے، تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ شاعری سے دور ہوتا ہے، تو دل سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اور جب وہ کہانیاں نہیں پڑھتا، تو زندگی کو صرف اوپر سے دیکھتا ہے، اس کی گہرائی اسے نظر نہیں آتی۔

    ادب ہمیں سوچنا، محسوس کرنا، اور بہتر انداز سے جینے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ادب کو نصاب کا بوجھ نہ بنائیں، بلکہ دل سے جینے کا ذریعہ بنائیں۔ بچوں کو کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، ان کی رائے سنیں۔ گفتگو اور سوال کی فضا پیدا کریں، تاکہ لفظ صرف لفظ نہ رہیں، بلکہ احساس بنیں، روشنی بنیں، تربیت بنیں۔

    یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی کچھ نوجوان ایسے ہیں جو چپکے چپکے فیض کے اشعار پڑھتے ہیں، کچھ آن لائن بلاگز میں اردو افسانے لکھتے ہیں، اور کچھ ریختہ جیسے پلیٹ فارم پر ادب کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں انہی چراغوں کو ہوا دینی ہے۔

    ادب ہمیشہ زندہ رہے گا…
    اگر ہم زندہ دل، زندہ دماغ، اور زندہ ضمیر کے ساتھ اسے پڑھیں گے، لکھیں گے اور محسوس کریں گے۔

    ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لکھنے والے تو شاید بچ جائیں —
    لیکن پڑھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔

  • ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جھوٹ،فریب،افواہ سیاست ٹھہری،معاشرہ کیسے سدھرے گا؟
    ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ،انصاف سیاست کے معیارات،ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    بڑھتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،منبر ومحراب بھی خاموش،محاسبہ کون کریگا؟
    وڈیروں کی ذاتی جیلیں،سوشل میڈیا ایٹم بم بن چکا،انصاف نہ قانون،عام عوام کہاں جائیں
    تجزیہ ، شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے ،افواہ شر پسندوں کا بڑا ہتھیار، افواہ جھوٹ کی وہ منزل ہے جہاں سچ کی ایک نہیں چلتی اور بے بسی سچ کا مقدر بن جاتی ہے، افواہ جو تباہی پھیلاتی ہے، وہ ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں، دنیا بھر کے اہل سیاست افواہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ملکی سیاست میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، آج کل یہ فریضہ سوشل میڈیا سرانجام دے رہا ہے ،عوام کو گمراہ ، ملک میں انتشار پیدا کرنے اپنے ہی ملک کی عسکری قیادت جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے کون سا قومی فریضہ ،کون سی قومی خدمت ہو رہی ہے؟ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جیسا کردار ادا کرے، اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی سے کام نہ لیا جائے ،صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے جو حکومت کر رہا ہے وہ انصاف سے حکومت کرے ،حزب اختلاف پرامن حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دے باقی سب غلط ہے اور غلطیوں پر فخریہ اعادہ احمق لوگ کرتے ہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی ،معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف دھرنا دیکھا نہ لانگ مارچ نہ منبر و محراب نے اپنی ذمہ داری سمجھی، بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری نیکی تقوی دیانت داری پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے مدرسوں میں معصوم بچوں کو مار دیا جاتا ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں نے اپنی عدالتیں اپنی جیلیں بنا رکھی ہیں کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے، سوشل میڈیا اس گند کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ پی ٹی آئی کے اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا کا نشانہ پاک فوج جملہ ادارے، نواز شریف اور مریم نواز ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں؟ حکمران سیاسی جماعتیں علمائےکرام، گدی نشین، پیر خانے اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری نفسا نفسی سے باہر نکل سکتا ہے، ہوس زر نے انسانوں کو انسانیت سے دور کر دیا ہے ، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل میں ہے، قانون کی حکمرانی، انصاف، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، ملکی سیاست میں بھڑکوں دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رجحان بے سبب نہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے ،خدارا !بس کیجیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دی جائے

  • "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”(سورہ المائدہ:3)
    دین مکمل، شریعت کا ہر حکم مکمل، قانونِ الٰہی مکمل، بنوت مکمل، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آ کر ختم الانبیاء کی مہر لگ گئی تو نبوت بھی مکمل ہو گئی۔ اب جو دین اسلام میں نئی بات گھڑے گا نیا قانون لائے گا وہ جھنمی ہو گا۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سب سے بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین ہدایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور سب سے بد ترین کام دین میں نئے امور (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے "(صحیح مسلم:867)
    اللّٰہ رب العزت نے ہم سب کو آزاد پیدا کیا ہے خواہ وہ مرد ہے یا عورت، ہم سب اللّٰہ کے غلام ہیں اس کے بندے ہیں۔ مرد عورت کا قوام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قوام ہوتا کیا ہے؟ قوام کا مطلب حاکم ہرگز نہیں ہے بلکہ قوام وہ ہوتا ہے جو خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ جو معاشی طور پر گھر اور گھر والوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری اللّٰہ نے مرد پر ڈالی ہے۔ وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اس لیے عورت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کو ایک درجہ بلند رکھا اس لیے کہ وہ ہر اچھے برے حالات میں اپنے خاندان کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہوا کیا؟ آج کے مرد نے قوام کا مطلب خود کو عورت کا مالک سمجھ لیا ہے جب کہ مالک تو اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہے کیونکہ جو خالق ہوتا ہے ملکیت بھی اسی کی ہوتی ہے۔ کوئی انسان کسی انسان کے اوپر اپنی ملکیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کی پیدائش اس دنیا میں انفرادی طور پر ہوئی اس کی خوبیاں اس کی خامیاں اسی انسان کی ذاتی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر ہم ہر کسی کے اعمال کے ٹھیکدار کیوں بن جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے دور میں کتنا آسان ہو گیا ہے نا کسی کو بھی جنتی یا جھنمی قرار دینا۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار بن گیا ہے۔ شریعت کے قانون کے مطابق انسان کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کو جنتی یا جھنمی کہے لیکن ہم سب تو اتنے دیندار بن گئے ہیں کہ باقی سب کو بے دین تصور کرنے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورت اپنے گھر کے مردوں سے بھی محفوظ نہیں، اسے آزادی رائے نہیں وہ اپنا موقف کسی کے سامنے رکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ آئیے لمحے بھر کو اس ماضی میں چلتے ہیں۔

    جہاں درحقیقت عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔
    جہاں اسے رائے کی آزادی نہ تھی۔
    جہاں شوہر اپنی بیوی کو نہ بساتے تھے نہ آزاد کرتے تھے۔
    جہاں بیٹی کی پیدائش پر والد منہ چھپاتا پھرتا تھا۔
    جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔
    جہاں عورت کے بیوہ ہونے پر اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔
    جہاں بغیر نکاح کے ایک مرد کئی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا اختیار رکھتا تھا۔
    جہاں عورت کی کوئی مرضی نہ تھی۔
    جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کیا کیا ظلم ہوتے تھے عورت پر۔۔

    پھر حرا سے ایک روشنی پھوٹتی ہے ایک پاکیزہ فرشتہ دنیا کے سب سے پاکیزہ انسان کے پاس آتا ہے اور اس کا سینہ بھینچتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ رب نے اسے اپنا رسول چن لیا ہے۔ اب دین اسلام کی برکات سے سب انسانوں کو ان کا حق ملے گا۔ اب کوئی کسی کا غلام نہ رہے گا سب انسان آزاد ہیں وہ صرف خالق و مالک کے غلام ہوں گے۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟ آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کو ملی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے۔
    جہاں عورت کو تعلیم دینے کا حق نہیں تھا۔
    جہاں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔
    جہاں اسے وراثت سے دستبردار کر دیا جاتا تھا۔
    جہاں اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
    لیکن دین اسلام نے آتے ہی عورت کو وہ سب حقوق دیے جس نے اسے معاشرے میں ایک الگ حیثیت سے روشناس کروایا۔

    صفحہ زیست میں ماضی کے دریچوں سے گزریں تو یہ کہانی یوں تو بہت پرانی لگتی ہے لیکن اپنے آپ میں ایک جدت لیے ہوئے ہے۔ یہ کہانی ہے ایک محبت کرنے والی خوشحال شادی شدہ جوڑے کی۔ یہ کہانی ہے ایک غلام اور ایک لونڈی کی۔ پتہ ہے غلام اور لونڈی کا کیا تصور ہے اسلام میں؟ جی ہاں! جن کی نہ کوئی مرضی ہوتی تھی نہ رائے نہ پسند یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی مالک کی اجازت کے مختاج ہوتے تھے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ایک دن غلامی کی زندگی سے آزاد ہو گئی اسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا نے آزاد کر دیا۔ آزادی کا حمار کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت بریرہ سے پوچھتا۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟

    آج کی ماڈرن عورت دوپٹے سے آزادی کو آزادی تصور کرتی ہے۔ کھلے بالوں کو آزادی تصور کرتی ہے۔ گھر کے باہر در در بھٹکنے کو آزادی تصور کرتی ہے لیکن حقیقی آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کے پاس تھی۔اسلام کے مطابق ایک غلام اور ایک آزاد اگر چاہیں تو نکاح قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ جو آزاد فریق کی مرضی ہو وہی ہو گا۔ بریرہ کو آزادی اتنی پسند آئی کہ وہ دل و جان سے محبت کرنے والے شوہر کی محبت کو فراموش کر گئی۔ وہ اپنی رائے میں، اپنے فیصلوں میں آزاد ہو گئی۔ محبت کرنے والا مغیث گلیوں، بازاروں میں روتا پھرتا تھا۔ وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا تھا ایک بار بریرہ کو منا دو، وہ روتا تھا بریرہ ایک بار تو مجھ سے بات کر لے۔ سب سے سفارش کرتے کرتے وہ اپنی سفارش لے کر رحمت العالمین کے دربار میں پہنچ گیا وہ رسول جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے مغیث کو یقین تھا وہ میرے لیے بھی رحمت والا فیصلہ کریں گے۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مغیث کی بات سنی اس کی تکلیف اور دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بریرہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریرہ دربار رسالت میں پیش ہوتی ہے۔ وہ اب ایک آزاد عورت تھی وہ جانتی تھی۔
    وہ صرف رب کی غلام ہے۔ رب کے احکامات کی غلام ہے۔
    وہ صرف خود آزاد نہیں تھی بلکہ اس کی سوچ بھی آزاد تھی۔
    وہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہ تھی جو دین اسلام نے ایک آزاد عورت کو عطا کیے تھے۔
    وہ پہلے غلام تھی مگر اب نہیں تھی۔
    وہ اپنی رائے اپنے فیصلوں میں آزاد تھی۔
    وہ جانتی تھی اب وہ کسی انسان کی غلام نہیں صرف رب کی غلام تھی۔
    دربار رسالت لگا ہوا تھا۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بریرہ کاش تم مغیث کے پاس لوٹ جاتیں۔” مغیث اپنی محبت بھری خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بریرہ کے جواب کا منتظر تھا۔ شاید اس وقت مغیث کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہو گی ضرور اس نے رب کی بارگاہ میں دعا کی ہو گی مگر بریرہ جو آزادی کا مزہ چکھ چکی تھی وہ ایک غلام شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ دنیا جیت لینا چاہتی تھی وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی زندگی ایک بار ملی ہے اسے غلامی کی نظر نہیں کرنا۔ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھ چکی تھی۔ روشن خیال اپنے حقوق کو پہچاننے والی بریرہ نے رسول اللّٰہ کی مجلس میں ان کی بات قبول نہیں کی بلکہ الٹا اپنا موقف رکھ ڈالا۔

    "اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش؟ اگر حکم ہے تو مان لوں گی کیونکہ بخثیت مسلمان مجھ پر آپ کی اطاعت فرض ہے لیکن اگر سفارش ہے تو نہیں مانوں گی کیونکہ میری زندگی کے بارے میں مجھے رب نے اختیار دیا ہے۔” کیسا مکالمہ چل رہا تھا سرور دو عالم اور ایک عام مسلمان خاتون کے درمیان۔ کیا آج کوئی بیٹی اپنے والد کے سامنے اپنی رائے دے سکتی ہے؟ جی ہاں! دے تو سکتی ہے مگر ایسی آزادی بہت کم بیٹیوں کو میسر ہے۔

    "رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔” بریرہ کا جواب آتا ہے۔ "پھر مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔”(صحیح بخارہ:5283)
    میں آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی ہوں، اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں، اپنی اڑان بھرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو صرف اللہ کی غلامی میں گزارنا چاہتی ہوں مجھے کسی انسان کی غلامی قبول نہیں اور مغیث غلام ہے میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

    کیا آج کی لبرل عورت کبھی ایسا سوچ سکتی ہے؟ یہ وہی عورت سوچ سکتی ہے جس نے اپنی زندگی کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ بریرہ کی اس بات نے کتنی خواتین کے لیے نئی سوچ کے در کھولے ہیں۔ عورت تب آزاد ہو گی جب وہ خود کو رب کے احکامات کی قید میں رکھے گی۔ بریرہ تو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو گئی۔ آج اس کہانی کو گزرے صدیاں بیت گئیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا آج کی عورت آزاد ہے؟ اپنی گفتار میں، اپنے فیصلوں میں، اپنی سوچ میں، اپنی رائے دینے میں، اپنی پسند سے نکاح کرنے میں؟؟؟ سوچتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے رہیے۔ اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے۔ آمین!

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر: ظفر اقبال ظفر

    دل کی آنکھ محبت کے نزول سے ہی کھلتی ہے۔دو دلوں میں احساس و جذبات کا تبادلہ محبت کے سوا ممکن نہیں مگرجو محبت عزت کا نقصان کرئے وہ نفس کی طرف سے زلت کا جال ہے۔پتھر کی طرح جمے جمائے معاشرے میں احساس کی دراڑ ڈالنا بغیر آسمانی چیز کے ممکن نہیں اس زمین پر اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہے۔آسمانی محبت آسمان والے کی طرف سے پسندیدہ دلوں پر ہی نازل ہوتی ہے جو تقسیم محبت میں اتنے مدہوش ہو جاتے ہیں کہ وہ آسمان سے زیادہ زمین سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کی محبت میں شدت و پاکیزگی دیکھ کر آسمان والوں کو بھی ان کی محبت سے محبت ہو جاتی ہے۔

    دنیاوی خواہشات کے گدھے پر سوار ہو کر زندگی کے فاصلے طے کرکے موت کی منزل پر پہنچنے والے آسمانی محبت کی کمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔محبت ایک انسان تک بھی محدود ہو تو تاثیر رکھتی ہے یہ چھوڑ جانے والے کو بددُعا نہیں دیتی مگربددُعا فقط ہاتھ اُٹھا کر منہ سے نکلے الفاظوں کا مجموعہ تو نہیں ہوتی کہ جو دی جائے تو لگ جائے،دولت بیدار کے لوگ جانتے ہیں کہ محبت کے بددیانت لوگوں کی طرف سے دی گئی بے سکونی بدحالی درد میں قید رُوح صبر میں گرفتار جسم بھی اک بددُعا ہے جو خودبخودلگ جاتی ہے۔

    وہ جو سنجیدہ و مخلص لوگوں کے جذبات کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی محبت و عقیدت پہ طنزیہ قہقہے لگاتے ہیں وہ تنہائی کے بستر پر بے بسی کی بیماری میں جکڑتے ہیں تو آنسوؤں سے باتیں کرنے لگتے ہیں بے قدری کی معافیاں مانگتے ہیں جہاں محبت اپنے مجرموں کا خود احتساب کرتی ہے وہاں اپنے مخلصوں پر نوازشات کی بارش بھی کرتی ہے محبت کا انتخاب غلط ہو سکتا ہے مگر محبت خود کبھی غلط نہیں ہوتی۔

    ناسمجھ لوگوں کی وجہ سے محبت کے بارے میں ناقص رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جیسے کسی مزار کے خادمین اپنی ناسمجھی کے تناظر میں صاحب مزار کی محبت میں گرفتار عقیدت مند کو ڈانٹ دیتے ہیں تو اس میں صاحب محبت اور محبت کاکوئی قصور نہیں ہوتا۔سمندر سے بھی گہری محبت کے مستحق ہیں وہ لوگ جو نفرتوں کے خنجر کھا کر بھی محبت کا لنگر تقسیم کرنا نہیں چھوڑتے۔محبت فریب نہیں دیتی نہ کبھی بدلتی ہے لوگ بدل جاتے ہیں،جہاں اکثریت ناقابل اعتبار ہووہاں کچھ محبت کے سفیر بڑے کمال کے کردار رکھتے ہیں جن پر قدرت کے نظارے ناز کرتے ہیں ان اندر کے خوبصورت لوگوں کی ترجمانی کے لیے قدرت باہر کے منظر حسین بنا کر اپنی تعریف کی وجہ پیداکرتی ہے۔جس طرح رُوح پر جسم کے اصول لاگو نہیں ہوتے اسی طرح نفرتیں وجود محبت پہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    قدرت اسی لیے سب سے قیمتی ہے کہ وہ ہر چیز سے مہنگی ہو کر مفت دستیات رہتی ہے اس مزاج کے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کا نہ ملنا مشکل نہ اس کی محبت بوجھ پرسکون خوشگواراحساس سے لبریزجو دنیا کی طرف سے جھوٹی محبت کے دئیے گئے زخموں پر آسمانی محبت کی مرہم رکھتے ہیں تو شفا پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔اگر انسان آسمانی محبت میں گرفتار نہیں تو شہ رگ سے قریب خدا ساری زندگی کے سفروں کے باوجود نہیں ملتا محبت تمہیں تمہارے وجود میں موجود خدا سے ملوانے کا معجزہ کھلی آنکھوں سے دیکھانے کی طاقت رکھتی ہے۔