Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل
    ایک سیر حاصل تجزیہ: ڈاکٹر عتیق الرحمان
    تجزیہ کار کا تعارف
    ڈاکٹر عتیق الرحمان قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، بھارت پاکستان تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی ڈائنامکس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیے علاقائی تنازعات، واٹر سیکیورٹی اور بھارتی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گہرے اور بصیرت افروز ہیں۔

    پہلگام واقعہ کیا ہے؟

    مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل 22 اپریل کی دوپہر کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ مارے جانے والے فوجی یا سیکیورٹی اہلکار نہیں بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاح تھے۔ بھارت ابھی تک مکمل شواہد اکٹھے نہیں کر پایا اور نہ ہی واقعے کی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ لیکن واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام تراشی شروع ہو گئی۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق پہلگام حملہ دوپہر 3 بجے ہوا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے 3:05 بجے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ حملے کے 30 منٹ بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے #PakistanTerrorError ہیش ٹیگ بنایا۔ واقعے کے 30 سے 60 منٹ کے اندر بی جے پی لیڈرز جے پی نڈا اور امیت شاہ نے ٹویٹس کر دیے۔

    واقعے کے 1 سے 3 گھنٹوں بعد جعلی انٹیلی جنس رپورٹس لیک کی گئیں جنہیں آر ایس ایس کے ٹرول اکاؤنٹس نے بڑے پیمانے پر ری ٹویٹ کیا۔ حیران کن طور پر پہلگام واقعے کے پہلے 15 منٹ میں بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹویٹس کیے گئے اور 30 منٹ میں #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں جعلی کشمیری ناموں سے ٹویٹس کیے گئے۔

    یاد رہے کہ پہلگام لائن آف کنٹرول سے تقریباً 397 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی
    پہلگام واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مودی سرکار نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا، جس سے پہلگام واقعہ مزید سنگین صورت حال اختیار کر گیا۔ بھارتی حکومت کا سندھ طاس معاہدے کو فوری ختم کرنے کا اعلان اس واقعے کو مشکوک بناتا ہے۔

    قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر راجہ قیصر نے 27 اپریل کو انڈیپنڈنٹ اردو کے کالم میں لکھا:

    "6 نومبر 2019 کو میں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کا غیر متوقع اور سنگین اقدام اٹھا سکتی ہے، جس کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو اگلے پانچ سال میں اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ انڈیا کسی داخلی سیکیورٹی واقعے کو بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد انڈیا میں ہندوتوا کی نظریاتی تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت تھی جو موجودہ پالیسیوں کو چلا رہی ہے اور جس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔”

    کیا بھارت دریائے سندھ کا پانی روک پائے گا؟
    بھارت تکنیکی اعتبار سے بھی دریائے سندھ کا پانی روکنے سے قاصر ہے۔ آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ
    "اپریل سے ستمبر کے دوران دریاؤں میں پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو مقبوضہ کشمیر ڈوب جائے گا۔ سندھ کا پانی ہمالیہ ریجن سے انتہائی اونچائی سے نیچے آتا ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ دریائے سندھ کا 95% پانی گلگت بلتستان کے دریائی سلسلے اور دریائے کابل سے آتا ہے۔ بگلیار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم چلتے پانی سے بجلی بناتے ہیں، پانی نہیں روک سکتے۔ کراکرم ریجن ٹیکٹونک پلیٹس پر ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آئے گا۔”

    انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کی ٹیل پر اگر پاکستان ہے تو بھارت چین کی ٹیل پر ہے۔ جو کرے گا، بھگتے گا۔ بھارت ایڈونچر کرے گا تو چین براہم پترا دریا کا پانی روک سکتا ہے، جو سندھ سے بڑا دریا ہے۔ بھارت کے لیے دریائے سندھ کا پانی روکنا قابل عمل ہی نہیں۔”

    بھارت کی بڑی گیم
    بھارت کی اپنے ملک میں دہشت گردی کروا کر پاکستان پر الزام لگانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی چالوں کو سمجھنے کے لیے بھارت کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی کے اہداف کو سمجھنا ضروری ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کے چار بڑے مقاصد ہیں:
    1.معاشی ترقی اور ملٹری طاقت کا حصول (یہ ہدف شاید امریکہ کو پسند نہ ہو)،2.جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے ذریعے چین کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ،3.انفارمیشن وار میں برتری،4.بحر ہند پر تسلط۔
    اپنے معاشی ہدف تک پہنچنے کے لیے بھارت نے فارورڈ ڈیفنس سٹریٹجی اپنائی ہے کہ اپنے ملک سے باہر دشمن ریاستوں کو الجھاؤ۔ پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔ پچھلے ایک سال میں دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 45% اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کی بھارتی پشت پناہی ہے۔

    بحر ہند پر بھارت اور امریکہ کیوں تسلط چاہتے ہیں؟
    بحر ہند وسائل سے مالا مال ہے۔ سیاسی طور پر، یہ تیسرا بڑا سمندر اسٹریٹجک مقابلے کا ایک اہم تھیٹر بن چکا ہے کیونکہ موجودہ دور کی 70% تجارت بحر ہند سے ہوتی ہے۔ یہ عالمی تجارت کی شریان کے طور پر مرکزی تجارتی راستے فراہم کرتا ہے۔ اس میں دنیا کے چار بڑے اسٹریٹجک چوک پوائنٹس ہیں آبنائے ہرمز، باب المندب، ہارن آف افریقہ اور آبنائے ملاکا کے ذریعے سوئز کینال۔ یہ راستے خام ہائیڈرو کاربن کی تجارت کے لیے اہم ہیں۔ بحر ہند اپنے کنارے پر 47 ممالک اور دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہے جو اب جیو پولیٹیکل ٹگ آف وار کا میدان بن چکا ہے۔ دنیا کے معلوم تیل کے ذخائر کا 65% اور گیس کا 35% بحر ہند سے وابستہ ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ فوجی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    بھارتی پیراڈاکس
    دنیا کی تیسری بڑی معیشت، سب سے زیادہ جنگی ہتھیار اور اسلحہ خریدنے والی جمہوریت، لیکن جنوبی ایشیا میں بھی تھانیدار نہیں بن پا رہی اور کوئی بڑا کردار ادا کرنے سے محروم ہے۔ شاید یہی بھارت کی بے چینی کی بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف چین، دوسری طرف پاکستان اور اب بنگلہ دیش بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ بھارت تلملائے نہ تو کیا کرے؟

    بھارت کے مستقبل کی ڈور مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ کے ہاتھ میں ہے۔ منموہن سنگھ کی محنت سے بنائی گئی جی ڈی پی کو مودی سرکار تباہ کرنے پر تلی ہے۔ بی جے پی حکومت کے تین بڑے ہینڈیکیپ ہیں،ہندو انتہا پسندی، جو تیس کروڑ مسلمانوں، دلیت، اور شودروں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، جو مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ لکیر میٹی کھیلنے پر مجبور کرتی ہے، ورنہ کانگریس میدان مار لے گی۔ہندو انتہا پسندی مودی سرکار کی طاقت بھی ہے اور اس کے گلے کی ہڈی بھی۔

    بھارت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ میں نہیں، سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کبڈی کی طرح ہاتھ لگا کر بھاگ سکتا ہے۔ بالی ووڈ اور آئی پی ایل بھارتی عوام کی تفریح بھی ہیں اور پاکستان کے خلاف غصے کو ہوا دینے کے ہتھیار بھی۔ بھارت نے آئی ٹی سروسز کے علاوہ دنیا کو فیک نیوز اور کرکٹ کو شدید نقصان پہنچانے کا تحفہ دیا ہے۔ بھارت نے کرکٹ کو محدود، انڈین سینٹرک اور سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

    بھارت یہ سب شرارتیں صرف اپنی عوام کو ورغلانے کے لیے کرتا ہے۔ تقریباً ایک ارب ہندو ووٹوں کو کہیں تو مصروف رکھنا ہے۔ بی جے پی کی سوچ بیک وقت ترقی پسندانہ بھی ہے اور رجعت پسندانہ بھی۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت اپنے آپ کو گلوبل پاور دیکھنا چاہتی ہے، لیکن اپنے ملک میں مسلمانوں، کشمیریوں اور ہندو دلیت ذات کو کچلنا بھی چاہتی ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان، جو ایٹمی طاقت ہے، اسے دبانا چاہتی ہے۔ چین سے بھی ٹکر لینا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کے چنگل سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی بنانا چاہتا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی انتہا تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات چھپا کر مشرق وسطیٰ اور ایران سے پینگیں بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے، سپورٹ کرتا ہے، بڑھاوا دیتا ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بھی بننا چاہتا ہے۔ یہ ہے بھارت کا پیراڈاکس۔

    رجعت پسندانہ اپروچ بھارت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ ریاست کے استحکام کے لیے فوکسڈ اپروچ چاہیے۔ تھانیداری والی پالیسی ریاستی معاملات میں نہیں چلتی۔ اگر بھارت کی معاشی اور ملٹری طاقت اسے پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کی تحریک دے رہی ہے تو بھارت کو یہ بھی علم ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں سب سے پہلے جی ڈی پی اڑے گی، پھر باقی چیزوں کی باری آئے گی۔ پاکستان کے ساتھ جنگ دراصل تباہی کا اعلان ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی اور آئی ٹی سروسز گئیں تو پیچھے صرف آر ایس ایس یا اڈانی گروپ بچتا ہے۔ بھارت کو اپنی معیشت کو بچا کر رکھنا چاہیے۔

    بھارت کو اس وقت پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ 600 ملین لوگ انتہائی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ بھارت کو دنیا کے کل آبی وسائل کا 18% چاہیے، جبکہ اس کے پاس صرف 4% آبی وسائل ہیں۔ بھارتی سماجی رویے اور حکمرانوں کی تاریخی ہٹ دھرمی بھارت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ اگر دنیا کی تیسری بڑی معیشت بار بار ایک ہی جگہ اٹک رہی ہے، تو یقیناً کوئی گڑبڑ ہے۔ بھارت اندرونی ڈرامے کر کے جنگ کا ماحول بناتا ہے، دنیا کی توجہ حاصل کرتا ہے اور پھر پروپیگنڈے کو اپنے ڈسکورس کا حصہ بناتا ہے۔

    بھارت کا ڈسکورس اس کے دور رس قومی اہداف سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بھارت کا ڈسکورس فیک نیوز، ہندو انتہا پسندی کی ترویج، فالس فلیگ آپریشنز اور انڈین کرونیکلز سے جڑا ہے جبکہ قومی اہداف معیشت کی بہتری، عالمی تجارتی روابط میں بہتری، آزاد خارجہ پالیسی اور خطے میں حاکمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عمل اور کردار کا یہ تضاد بھارت کا المیہ ہے۔

    بھارت: دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار
    بھارت ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے جو اس کے 70 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ سے الگ ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی وجوہات میں حکمران جماعت کی انتہا پسند سوچ، جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے عزائم، کشمیر پر قابض پالیسی اور پاکستان دشمنی شامل ہیں۔ مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مذہبی انتہا پسندی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ بھارت کی داخلہ، خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر ہندو انتہا پسند قابض ہو گئے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے۔

    بھارت کے امریکہ اور فرانس سے اچھے مراسم ہیں کیونکہ بھارت ان دونوں ممالک سے اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت کی آئی ٹی سروسز کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی امریکہ ہے۔ ظاہر ہے، اسلحہ بیچتے ہیں تو کچھ نہ کچھ خریدنا بھی پڑتا ہے۔

    بھارت کا کمزور حساب کتاب
    بھارت کا گیم تھیوری میں حساب کتاب کمزور ہے۔ اس کھیل میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا چال چلی جائے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ کیا دو نیوکلیئر ہمسایہ ممالک جنگ لڑ سکتے ہیں؟ بھارت کی نان سٹیٹ ایکٹرز کی پشت پناہی نے خطے کی سیکیورٹی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پرورش کرتا ہے۔ یہ تضادات کی بھرمار ہے۔

    امریکہ کا ردعمل اور چین کا کردار
    صدر ٹرمپ کے پہلگام واقعے پر دیے گئے بیان کا بغور جائزہ لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹکراؤ کو سیریس نہ لیا جائے۔ اگر بھارت کی الزام تراشیوں میں کوئی دم ہوتا تو دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ کو کچھ فکر تو ہوتی، خاص طور پر جب بھارت امریکہ کا اتحادی اور خطے میں چین کے خلاف اہم پارٹنر ہے۔

    جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے کردار کو مت بھولیں۔ چین اس خطے کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔ چین پاکستان کا اتحادی اور یوریشین ریجن میں امن کا خواہش مند ہے۔ بھارت اب یکطرفہ فیصلوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواب بھول جائے۔ عالمی سیاست کے تمام جز معیشت، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، کرنسی، تجارت، ریاستیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں، نان سٹیٹ ایکٹرز، اور عالمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت-پاکستان کی جنگ پوری دنیا کی تباہی کا عندیہ ہو گی۔ کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے؟

    بھارتی ڈسکورس
    جنگیں لڑنے کے تبدیل ہوتے طریقہ کار میں انفارمیشن کی بالادستی بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا ڈسکورس قابل توجہ ہے۔ بھارتی سینما 2014 کے بعد نئی کروٹ لے چکا ہے۔ محبت اور رومانس کی جگہ انتہا پسندی اور پروپیگنڈے نے لے لی ہے۔

    ہر ریاست اپنی کہانی اپنے ملک کے گرد بُنتی ہے، لیکن بھارت وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی کہانی پاکستان کے گرد جھوٹ سے بنائی ہے۔ دنیا میں ہیرو اور ولن کی کہانی بہت بکتی ہے۔ بھارت اپنے آپ کو ہیرو اور پاکستان کو خطرہ پیش کرتا ہے۔ یہ سیاسی کہانی اب بھارتی فلم انڈسٹری کی ہٹ سٹوری بن چکی ہے۔

    پاکستان کا سینما اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی کمزور ہے۔ ہم اپنی کہانی نہیں بیچ پائے، جس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور ثقافتی و عالمی سیاسی محاذ پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب بھارت OTT پلیٹ فارمز استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے ابھینندن کی سبکی کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے فلم "Fighter” بنائی۔ ایسی بے ربط کہانی کا حقیقت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
    2010 سے اب تک لگ بھگ 103 بھارتی فلمیں اور ان گنت ویب سیریز پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کے لیے بنائی جا چکی ہیں۔ بھارت نے 2005 سے پاکستان کے خلاف انڈین کرونیکلز آپریشن جاری کر رکھا ہے، جس کا مقصد پاکستان مخالف ایجنڈا ہے۔ یہی کہانی بھارت پوری دنیا کو سنا رہا ہے۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک طالب علم نے 2018 میں بھارتی فلم انڈسٹری پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، جس میں چار فلموں”26/11″، "بیبی”، "ویلکم ٹو کراچی” اور "فینٹم”کا تجزیہ کیا۔ طالب علم نے تحقیق کے مروجہ طریقوں سے ثابت کیا کہ بھارتی فلم انڈسٹری پاکستانی عوام، ریاست اور اداروں کو دہشت گردوں کا سہولت کار پیش کرتی ہے۔ ان کی فلموں کے ڈائیلاگ اور کہانی تحقیق سے نہیں گزرتے بلکہ سیدھے باکس آفس پر جاتی ہیں اور ہٹ کرائی جاتی ہیں۔ عوام کو ورغلانے کے لیے سٹارڈم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ہالی ووڈ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی افغانستان پر بننے والی درجنوں فلمیں اور ویب سیریز پاکستان کو ایک خاص رخ سے دکھاتی ہیں،پہلگام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    انڈین کرونیکلز کے بغیر بھارتی پروپیگنڈے کی اصل کہانی ادھوری ہے۔ انڈین کرونیکلز دراصل ڈیجیٹل میڈیا میں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا بانی پروگرام ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے 2020 میں اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ 119 ممالک میں 750 جعلی میڈیا نیٹ ورک، 550 ویب سائٹس اور 10 این جی اوز سے شروع ہونے والا یہ نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔

    پاکستان اور پاکستانی فوج کی برتری
    ہر قوم کا ایک کردار ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کا خاصہ یہ ہے کہ وہ بحران میں یکجان ہو جاتی ہے، خاص طور پر بھارت کی طرف سے کسی خطرے کے وقت۔ پاکستانی قوم پورے جوش و جذبے سے متحد ہوتی ہے۔میدان حرب سے شناسائی سپاہی کے خوف کو ختم کر دیتی ہے۔ اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے حالت جنگ میں ہے، وہ کس حد تک بے خوف ہو چکی ہو گی۔
    جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا، انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ یہ حرکت پاک فوج کو ناقابل تسخیر بنا دے گی۔ ہمارے افسران اور جوان بیس سالہ جنگ سے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے لڑاکا سپاہی بن کر نکلے ہیں۔ یہ بے خوف، تربیت یافتہ اور انتہائی پیشہ ور فوج آہنی اعصاب کی مالک ہے۔

    ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں کہ سپاہی میدان حرب میں کیسے بے خوف بنتا ہے:
    جنرل جارج ایس پیٹن، امریکہ کے معزز فوجی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد امریکی انقلاب اور دیگر اہم جنگوں میں داد شجاعت دے چکے تھے۔ ان کی بہادری کی داستانوں سے متاثر ہو کر پیٹن نے فوج میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پیٹن ایک حساس شخص تھے اور انہیں خوف تھا کہ جنگ میں بزدلی سے ان کے خاندان کا نام بدنام نہ ہو جائے۔
    1918 میں ٹینک ٹروپس کی کمان کرتے ہوئے ایک موقع آیا جب پیٹن کے اعصاب شکست کے خوف سے شل ہو گئے۔ اسی لمحے ان کا دھیان اپنے بزرگوں کی دلیری کی طرف گیا، جو انہیں کہہ رہے تھے کہ لڑتے ہوئے ہمارے پاس آ جاؤ۔ اس ایک لمحے نے پیٹن کی زندگی بدل دی۔ وہ خوف پر قابو پا گئے، نعرہ مارا اور دشمن پر چڑھ دوڑے۔اس کے بعد حتیٰ کہ جب وہ جنرل بن گئے، پیٹن خوفناک وارفرنٹ لائنوں پر جاتے تاکہ خوف ختم ہو جائے۔ انہوں نے خود کو بار بار آزمایااور ہر بار خوف پر قابو پانا آسان ہوتا گیا۔

    پیٹن کی کہانی سے سبق ملتا ہے کہ خوف کا سامنا کریں، اسے سطح پر آنے دیں، نہ کہ نظر انداز کریں۔

    اب اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے صبح شام موت کا سامنا کر رہی ہے، وہ ایک اور جنگ سے کیا گھبرائے گی؟

  • مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تاہم کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی حکومت خود پھنس چکی ہے بلاشبہ عالمی دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی مگر عالمی دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ بغیر ثبوت بھارت کس طرح پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے بھارت کو اب عالمی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ وطن عزیز کی علاقائی و صوبائی سیاسی جماعتیں پانی کی نہروں کو لے کر سینہ کوبی کرتی نظر آرہی ہیں کالا باغ ڈیم جیسے عظیم قومی منصوبے کی مخالفت کس نے کی اس قومی منصوبے کو پیپلزپارٹی نے دفن کیوں کیا؟ کون سی سیاسی جماعت یہ نہیں جانتی تھی کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ڈیمز بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں ایک ٹیم کی رپورٹ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریت کے نیچے پانی ہے پر عمل کرنا چاہا جس سے چولستان کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے سیاسی افراتفری کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنے دیا گیا پھر دوبارہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نوازشریف نے قدم بڑھایا تو نام نہاد پانامہ لیکس اور سیاسی افراتفری نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا۔ پانی کو لے کر سینیٹر پرویز رشید اس وقت بار بار اپنی آواز بلند کرتے رہے مگر حوس اقتدار اور حکومت کرنے کے خواہشمندوں نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا نہروں کو لے کر پیپلزپارٹی اج سینہ کوبی کر رہی ہے 1990ء میں نہروں کو لے کر جو منصوبہ نوازشریف نے بنایا تھا اس پر صوبہ سندھ سے لے کر تمام صوبوں کا اتفاق تھا۔

    2022ء میں ایک آبی ماہر حسن عباس نے ایک رپورٹ بنائی جس کو گرین پاکستان کا نام دیا گیا تھا اس منصوبے پر جناب آصف زرداری نے اتفاق کیا تھا منصوبے کے تحت چار نہریں پنجاب دو سندھ تھرپارکر میں بنائی جانی تھیں پی پی پی آج سیاسی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی یاد رکھے گرین پاکستان منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا اس میں وطن عزیز اور کروڑوں پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ ہے ویسے بھی دریائے سندھ پر صرف سندھ کا لفظ ہونے کی بنا پر سندھ کا قبضہ نہیں ہو جاتا یہ دریا کے پی کے بالائی علاقوں سے نکلتا ہے اس منصوبے سے پاکستان کی بھلائی ہے، یاد رکھیئے! پاکستان اور عوام کی ضروریات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا ہماری سیاست اور جمہوریت کیسی ہے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں آپ نوازشریف سے اختلاف کر سکتے ہیں نوازشریف کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن وطن عزیز اور قوم کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملک و قوم کے لئے خدمات کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں بلاول بھٹو اگر اپنے نانا اور اپنی والدہ محترمہ کی سیاسی زندگی پر عمل کریں تو پیپلزپارٹی دوبارہ قومی جماعت بن سکتی ہے ورنہ ایک صوبے تک ہی محدود رہے گی۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • خواتین جنسی تعلق سے انکار کیوں کرتی ہیں؟انکشاف

    خواتین جنسی تعلق سے انکار کیوں کرتی ہیں؟انکشاف

    ہم سب جانتے ہیں کہ جنسی تعلق کے لیے ہر وقت دل نہیں چاہتا اور مختلف وجوہات کی بنا پر خواتین کبھی کبھار انکار کر دیتی ہیں۔ لیکن حالیہ تحقیق کے مطابق، ایک خاص اور حیرت انگیز وجہ ہے جس کی بنا پر زیادہ تر خواتین جنسی تعلق کے لیے انکار کرتی ہیں۔

    فلپس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً ایک تہائی خواتین جنسی تعلق سے انکار کر دیتی ہیں اگر ان کےجسمانی بال ٹھیک طرح سے صاف نہ ہوں۔ خاص طور پر، خواتین اپنے جسم کے بال صاف کیے بغیر جنسی تعلق میں شامل ہونے سے گریز کرتی ہیں، خاص طور پر اگر ان کی ٹانگوں کے بال بڑھ گئے ہوں۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین کو جنسی تعلق کے لیے تیار ہونے میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ وہ خود کو صاف ستھرا اور خوبصورت محسوس کریں۔

    اس تحقیق میں شامل 2000 خواتین میں سے نصف سے زیادہ نے یہ کہا کہ اگر وہ نہائی نہ ہوں تو وہ جنسی تعلق نہیں بنائیں گی۔ اسی طرح، تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ اگر ان کے دانت صاف نہ ہوں تو وہ جنسی تعلق سے انکار کر دیتی ہیں۔ اسی طرح تقریباً 30 فیصد خواتین یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے بغل کے بال نہیں صاف کیے تو وہ جنسی تعلق میں حصہ نہیں لیں گی۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 90 فیصد خواتین یہ چاہتی ہیں کہ وہ جنسی تعلق سے پہلے اچھی طرح سے تیار ہوں تاکہ ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔ ایک نمائندے نے بتایا کہ "جبکہ دوسرے شخص کو یہ بات شاید اہم نہ لگے، لیکن جنسی تعلق کے سب سے ذاتی لمحوں میں اپنے آپ کو بہترین حالت میں محسوس کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔”

    اگرچہ بہت سی خواتین جنسی تعلق سے انکار کرتی ہیں، ایک دوسری تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ خواتین ہر ہفتے 20 بار تک جنسی تعلق بناتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جنسی تعلق کے بارے میں خواتین کی پسند مختلف ہوتی ہے، اور یہ سوالات کی بنیاد پر چار مختلف زمروں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں: نرم، معتدل، شدت پسند اور خواہش مند۔

    ایڈم بوڈے، جو اس تحقیق کے سربراہ اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی طالب علم ہیں، نے کہا، "حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کی جنسی پسند ایک جیسی نہیں ہوتی۔” اس تحقیق کے مطابق، کچھ خواتین ہفتے میں اوسطاً 2.5 بار جنسی تعلق کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف، "خواہش مند” خواتین ہر ہفتے 20 بار تک جنسی تعلق میں ملوث ہوتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ہر عورت کی جنسی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں اور ان کے جذباتی یا جسمانی حالات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس حالت میں خود کو زیادہ آرام دہ اور پر اعتماد محسوس کرتی ہیں۔

  • عورت مرد میں دلچسپی لے توکونسی”ادائیں”کرتی ہے،ڈیٹنگ کوچ کا انکشاف

    عورت مرد میں دلچسپی لے توکونسی”ادائیں”کرتی ہے،ڈیٹنگ کوچ کا انکشاف

    اگر کسی خاتون کی نظریں چوری چوری آپ کی طرف اٹھ رہی ہیں، اور اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ہے، تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ ڈیٹنگ کوچز کے مطابق، ایسی علامات اس بات کا واضح اشارہ ہو سکتی ہیں کہ وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے ، چاہے اُسے خود اس کا شعور نہ ہو۔

    ڈیٹنگ ایکسپرٹ گریسی پلیشکورٹ، جنہیں رومانس اور تعلقات کے حوالے سے گہری سمجھ بوجھ حاصل ہے، نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں خواتین کے مخصوص "باڈی لینگویج” سگنلز پر روشنی ڈالی، جو کسی مرد کو پرکشش پانے پر ان کے لاشعور سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کی ویڈیو کو اب تک 20 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔گریسی نے بتایا:”یہ وہ پانچ حرکات ہیں جو عورتیں اس وقت کرتی ہیں جب وہ کسی مرد کو دل سے پسند کرنے لگتی ہیں،
    اپنے لباس کو درست کرنا یا ٹاپ کو ایڈجسٹ کرنا یہ اشارہ سب سے نمایاں اور شعوری طور پر کم محسوس ہونے والا عمل ہے، جو خواتین غیر ارادی طور پر کرتی ہیں تاکہ خود کو بہتر انداز میں پیش کریں۔جیولری کے ساتھ کھیلنا ، چاہے وہ کان کی بالیاں ہوں یا گردن کا لاکٹ، خواتین جب کسی کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو زیورات کے ساتھ کھیلنا ایک نازک سا پیغام ہوتا ہے۔

    سر کو ایک طرف جھکا کر دلچسپی سے سننا، یہ اشارہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ نہ صرف آپ کی بات سن رہی ہے، بلکہ اس میں سنجیدہ دلچسپی بھی رکھتی ہے۔اپنے ہونٹوں کو چھونا ،یہ ایک فطری لیکن بے حد دلکش اشارہ ہے جو لاشعوری طور پر کشش کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، اگر یہ باڈی لینگویج آپ کو واضح نہ لگے، تو ایک اور آزمودہ طریقہ ہے، ہنسی۔

    ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر نفسیات، پروفیسر لیف ایڈورڈ اوٹسین کینیئر کے مطابق:
    "جب کوئی عورت کسی مرد کی باتوں پر ہنستی ہے یا قہقہہ لگاتی ہے، تو یہ ایک بہت طاقتور فلرٹ کرنے کی تکنیک ہے ،مرد و عورت دونوں کے لیے۔”ایک اور دلچسپ تکنیک کو "Sticky Eyes” یعنی "چپکنے والی نظریں” کہا جاتا ہے، جس کا ذکر سوشل میڈیا اسٹار چیلسی اینڈرسن نے کیا۔

    چیلسی کا کہنا ہے،”اپنا ہدف منتخب کریں، اُس کی طرف مسلسل دیکھیں جب تک کہ وہ بھی آپ کی طرف نہ دیکھ لے۔ جیسے ہی آنکھیں چار ہوں، فوراً نظریں ہٹا لیں، جیسے آپ پکڑی گئی ہوں۔””پھر دوبارہ نظریں ملیں تو ہٹائیں نہیں — اُس وقت تک دیکھتے رہیں جب تک وہ نظریں نہ چرائے۔””تقریباً 45 سیکنڈ کے اندر وہ شخص خود آپ کے سامنے آ جائے گا — جیسے کسی جادو سے بلایا گیا ہو!”چیلسی اس تکنیک کو اپنے سب سے طاقتور "لائف ہیکس” میں شمار کرتی ہیں۔

  • بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دینا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن پر کھلا وار اور آبی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام بھارت کے اُس توسیع پسندانہ عزائم کی ایک نئی قسط ہے جس کی ابتدا مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات سے ہو چکی ہے۔ اب پانی جیسی قدرتی نعمت کو ہتھیار بنا کر بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پروا ہے اور نہ ہی انسانیت کا لحاظ۔
    1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس، راوی) بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو وہ پانی فراہم کیا جس پر ہماری لاکھوں ایکڑ زمین انحصار کرتی ہے۔ بھارت کو اس معاہدے کی بدولت مشرقی دریا مکمل طور پر ملے، جب کہ پاکستان نے اعتماد، مروت اور عالمی ثالثی پر بھروسا کرتے ہوئے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے۔بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان، دراصل اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی عام دو طرفہ مفاہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ثالثی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا مطلب ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا آغاز کر رہا ہے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں تباہ کن تنازع کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
    پاکستان کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی، لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اگر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، تو وہ محض الفاظ یا احتجاج تک محدود نہ ہوگا۔ اگر ہماری زمینیں بنجر ہوئیں، تو بھارت کی فضائیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ اگر ہمارے کسان پیاسے مرے، تو بھارتی معیشت بھی پانی کے ایک قطرے کو ترسے گی۔ جنگ ہم نہیں چاہتے، لیکن اگر دشمن ہم پر مسلط کرے گا تو ہم تاریخ کو یہ بھی دکھا دیں گے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کیسے دیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے بین الاقوامی طاقتیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر بیان بازی کرتی ہیں، آج بھارت کے اس سنگین اقدام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو اب جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا کے کئی خطوں میں آبی وسائل کی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔
    بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان صرف زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا تو یہ اُس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے کسی بھی مغربی دریا پر پانی روکا، تو یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ہم نہ صرف بھرپور سفارتی، قانونی اور عسکری جواب دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو آبی دہشتگرد اور معاہدہ شکن ملک کے طور پر بے نقاب کریں گے۔سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، بقاء کا مسئلہ ہے۔ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو زیر کر لے گا تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے بھی اپنے دفاع میں کیے تھے، پانی کے ایک قطرے کے لیے بھی ہم وہی جذبہ رکھیں گے۔ دشمن کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم متحد ہو جائے تو نہ صرف دریاؤں کا رخ موڑ سکتی ہے بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہے۔
    اب جب کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی بھارت کو سخت جواب دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب صرف الفاظ سے کام نہیں چلے گا۔ قومی سلامتی کے ادارے، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سب ایک صفحے پر ہیں اور یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم امن پسند ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہر میدان، ہر محاذ اور ہر دریا پر پاکستان کی جیت ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے — چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا سرحدی مورچے۔

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے ہر رشتے میں اختلافات ایک فطری عمل ہے۔ دوستوں کے درمیان، والدین اور اولاد کے درمیان، شوہر اور بیوی کے درمیان، یا حتیٰ کہ ہمسایوں کے درمیان بھی کبھی نہ کبھی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غلط فہمی یا ناراضی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو کیسے لیتے ہیں؟ کیا ہم ہر بات پر رشتہ توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ہم ایک لمحہ رک کر سوچتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا انسان ہمارے خلاف ہے، یا وہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف صرف نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچنے کی صلاحیت، اس کی پرورش، تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم بغیر سوچے سمجھے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم وہ دروازے بند کر دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑ سکتے تھے۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر رشتہ قیمتی ہوتا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دل سے ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں اگر ہم تھوڑا سا تحمل، برداشت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، تو شاید ہم بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اکثر اوقات چھوٹی باتوں پر ناراضی شروع ہوتی ہے، اور پھر وہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ برسوں پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور افواہوں کا دور ہے، وہاں "تفرقہ ڈالنے والے” عناصر بہت سرگرم ہیں۔ ایک کامیاب رشتہ یا مضبوط تعلقات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایسے موقعوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، اور پیغام رسانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کو رک کر یہ سوال کریں کہ "کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟” تو شاید ہم بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکیں۔

    غلط فہمیاں اکثر ان لوگوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں جو ہماری زندگی میں منفی سوچ لے کر آتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات پر برا ماننے لگیں، بغیر تصدیق کے کسی کی بات پر یقین کر لیں، تو ہم خود اپنے رشتوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی بات خود کریں، وضاحت طلب کریں، اور دل صاف رکھیں۔آخری بات یہی ہے کہ”اس سے پہلے کہ ہم کسی سے اختلاف کریں یا رشتہ توڑیں، ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟”یہ سوال نہ صرف ہمارے فیصلے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمیں اندر سے مضبوط، باشعور اور بالغ نظر بھی بنائے گا۔

  • بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا مضبوط جوابی وار.تحریر:جان محمد رمضان

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا مضبوط جوابی وار.تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی، تو یہ جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کے عوام کا حق ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی مداخلت یا دھاندلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان ایک سنگین عالمی تنازعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے پانی کے حصے طے کیے گئے تھے۔ بھارت نے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین دریا یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کا حق دیا تھا، جبکہ بھارت کو پانچ دریا ملے تھے۔پاکستان نے بھارت کے اس اعلان کو نہ صرف غیر قانونی بلکہ عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں مداخلت کی، تو اس کا نہ صرف پانی کی فراہمی پر اثر پڑے گا، بلکہ یہ ایک فوجی تنازعہ کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے لیے پانی کی فراہمی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ پانی پاکستان کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور اس پر کسی قسم کی رکاوٹ کو جنگی اقدام کے طور پر لیا جائے گا۔ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ میں مداخلت کی، تو پاکستان ہر سطح پر اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔پاکستان کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے واہگہ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واہگہ بارڈر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے، اور اس کے بند ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور نقل و حرکت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان نے بھارت کے سارک ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ سارک (جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم) کے تمام رکن ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط قائم ہیں، اور بھارت کے ساتھ پاکستان کا یہ اقدام اس تنظیم میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے۔

    پاکستان نے بھارتی مشیر کو ناپسندیدہ شخص قرار دے دیا ہے، جس کے تحت انہیں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی طرف سے ایک سخت پیغام ہے کہ بھارت کے غیر جمہوری اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا۔پاکستان نے بھارت کی فضائی حدود کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر متاثر ہو گا، بلکہ اس کا اثر عالمی تجارت پر بھی پڑے گا۔ پاکستان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی اعلان کو مسترد کر کے نہ صرف اپنے موقف کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے، بلکہ بھارت کو یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ وہ پاکستان کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کے عوام اور فوج اس وقت متحد ہیں اور کسی بھی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔پاکستان کے اس موقف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو اس اہم مسئلے پر فوری اور سنجیدہ ردعمل دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رہ سکے۔