Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    گلی میں شدید دھوپ اور گرمی میں قربانی کے بکرے اور گائے بندھی ہوئی نظر آئیں۔ گرمی کی شدت سے بیچارے بکروں کی زبان حلق سے باہر آ رہی تھی۔ گاڑی روک کر پانی کی بوتل جو اپنے لیے رکھی تھی باہر بندھے بکرے کے برتن میں ڈال دی اس نے فور۱” سے پہلے ٹھنڈا پانی پیا اور مشکور نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا جیسے اس وقتی ریلیف کیلئے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پاس بیٹھے چوکیدار سے کہا کہ ان کے مالکان کو سمجھاؤ اتنی گرمی ہے گھر میں کسی پنکھے کے نیچے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ چوکیدار نے بتایا کہ صاحب جی میری ڈیوٹی ان کا باہر خیال رکھنا ہے کہ کوئی چور ی نہ کر کے لے جائے، باقی ساری گلی والوں نے بکرے اور گائے اس لیے باہر باندھے ہوئے ہیں کہ ہر آتے جاتے کو دکھا سکیں کہ وہ قربانی کررہے ہیں۔ مجھے ہماری اجتماعی گھٹیا سوچ پر شدید دکھ ہوا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا ہی رہ چکا ہے جبکہ قربانی فرض کرنے کا حقیقی سبق تو یہ تھا کہ آپ اپنی عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ جس بکرے کو ہم نے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے اس کو شدید دھوپ اور گرمی میں اذیت دیکر ہماری قربانیاں کیسے قبول ہوسکتی ہیں۔؟

    خدارا نمود و نمائش میں پاگل ہوکر ان معصوم اور بے زبان جانوروں پر ظلم نہ کریں ورنہ اللہ کی قسم تمہاری قربانی قبول ہونا تو دور یہ جانور اللہ کے ہاں تمہاری شکایت کریں گے۔ اس اذیت کے بدلے تمہارا گریبان پکڑیں گے۔ بکرا منڈی کے انتظامی افسران سے بھی گزارش ہے جہاں اتنے اللے تللوں کے جعلی بل تیار کرتے ہیں وہیں ان بے زبان جانوروں کیلئے پنکھے، ائیر کولر اور سایہ فراہم کرکے دعائیں لیں۔

    اگر آپ کا بکرا بھی باہر گلی میں بندھا ہے یا کہیں گرم جگہ تو اسی فوری سایہ دار جگہ اور ٹھنڈی ہوا فراہم کریں۔
    ہمارے گھر میں عید سے چند دن پہلے بکرا آجاتا ہے اگر گرمی ہوتو مناست ٹھنڈی جگہ اور پنکھے کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب سردیوں کی عید ہوتی تھی تو امی بکرے کو جرسیاں اور کمبل پہنا کر خیال رکھتی تھیں۔ بکرے کو چیف گیسٹ کا سٹیٹس دیا جا تھا، دالیں، پھل سبزیاں اور تازہ چارہ کھلایا جاتا تھا۔ امی نے سختی سے تلقین کرنی کہ یہ اللہ کا مہمان ہے اس کی خدمت کرو گے تو اللہ قربانی قبول کرے گا۔ ہمارے گھر میں بولنے والا راء طوطا ہے جسے گرمیوں میں اے سی کمرے میں اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں شفٹ کردیا جاتا ہے۔ گھر میں آنے والے ہر پھل پر پہلا حق طوطے کا ہوتا ہے۔ گھر کی چھت پر دو درجن سے زائد مٹی کے کونڈے ہیں جن میں باجرہ، گندم اور پانی رکھا جاتا ہے تاکہ پرندے کھانا کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔

    لکھاری کا کام حکومت،افراد اور اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں ہوتا۔ لکھاری کا اصل کام یہی ہے کہ معاشرتی برائیوں اور مسائل کا ذکر کیا جائے۔اس لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ منافقانہ شرم و ہچکچاہٹ کی بجائے معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا رہوں۔

    آئے دن کسی نہ کسی معصوم جانور اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں دیکھ کر دل شدید رنجیدہ ہوتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ پیٹس لورز کلب (pets Lovers Club) بنایا جائے جہاں خاص طور پر معاشرتی ناانصافی اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ غیرانسانی رویوں اور ظلم و ستم کا شکار سٹریٹ ڈاگ، بلیوں سے لیکر ہر طرح کے جانوروں کیلئے کئیر سینٹر ہو۔ زخمی جانوروں اور پرندوں کیلئے ہسپتال اور ریہبلیٹیشن سینٹر ہو۔ جو احباب بھی Pets Lovers Club(پیٹس لورز کلب) کا حصہ بننا چاہتے ہوں ضرور انباکس کریں ہم اجتماعی کاوش سے انسانیت دوستی کی اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔

    حکومت کو چاہئے کہ گھریلو جانوروں کیلئے انسپیکشن کا سسٹم ہو اگر کسی کو گھر میں PET رکھنے کا شوق ہو تو مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ جانوروں اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔

    میں نے عید الفطر پر بھی لکھا تھا کہ اگر عید کی حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو ذاتی ملازمین کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، بینکوں اور پبلک مقامات کی سکیورٹی اور دیگر ڈیوٹی پر مامور ایسے افراد کو عیدی ضرور دیں جو اپنی عید قربان کر کے بھی ہماری حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور عید جیسے اہم تہوار پر بھی حصول رزق حلال کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
    ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
    مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے

  • یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    28 مئی 1998ءایک ایسا دن تھاجب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی واحد نظریاتی ریاست نے اپنے دفاع کو فولادی حصار فراہم کرتے ہوئے دنیا کفر کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اپنے جغرافیے کی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ اپنی نظریاتی سرحدوں پر بھی کسی قسم کی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ یہی دن ”یومِ تکبیر“ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ دن جب پاکستان نے خود کو دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر منوایاجس کی وجہ سے پورے عالم اسلام بلکہ دنیا میں موجود ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند اور پیشانی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوگئی۔
    جب پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو یہ سفر آسان نہ تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ماہرین، وسائل اور وقت، سب کچھ محدود تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی اور رب العزت پر توکل یقین اور بھروسہ لامحدود تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مخلص اور باصلاحیت سائنسدانوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور دیگر اداروں میں شب و روز تحقیق جاری رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے دباﺅ ، دھمکیاں اور معاشی پابندیوں کی باتیں کی گئیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب رکاوٹیں اس وقت غیر موثر ہو گئیں جب پاکستان کے جذبے نے ان سب کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداہی سے جن مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے فرمانروا جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز تھے ۔ وہ اسلام کے سچے خادم اور بہت ہی دور اندیش حکمران تھے ۔ وہ پاکستان سے بھی بے حد محبت کرتے تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان عسکری اعتبار سے مضبوط تر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ ملک فیصل بن عبدالعزیزنے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلئے مملکت کے خزانوں کے منہ کھول دیے ۔ اس طرح سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں مختلف حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں ان میں باہم شدید قسم کے اختلافات بھی رہے لیکن تمام تر باہمی مخالفت کے باوجود ایک بات پر سب متفق رہیں کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت سے لیس کرنا ہے ۔ بہر حال وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ 11مئی 1998ءکو بھارت نے ایک بار پھر پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارتی قیادت نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو جنوبی ایشیا میں ”نیا سورج“ طلوع ہونے کے مترادف قرار دیا۔بھارت خود کو علاقے کا چوہدری اور پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست سمجھنے لگ گیا۔ہندو بنیا اپنے تئیں اس زعم کا شکار ہوگیا کہ اب پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بھارت ایٹمی دھماکے کرچکا تو اس کے بعد دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں۔ عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں کہ پاکستان کو دھماکہ نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ معاشی پابندیوں، قرضوں کی بندش اور سفارتی دباو جیسے تمام حربے آزمائے گئے۔ امریکہ، جاپان، اور یورپی ممالک نے وطن عزیز پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو یہ باور کرایا کہ اگر اس نے دھماکہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے اور پاکستان کو بدترین قسم کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
    ان حالات میں پاکستان کے لیے فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک طرف شدید عالمی دباو تھا تو دوسری طرف پوری قوم کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو اس کے ایٹمی غرور کا جواب دیا جائے۔ عوام، افواج، اور دانشور طبقہ ایک آواز ہو چکا تھا۔ آخرکار غیرت مند، محب وطن، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مسلم ممالک بالخصوص مملکت سعودیہ عربیہ کی مشاورت سے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد، قومی غیرت اور دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جس پر آج بھی قوم فخر کرتی ہے۔ 28 مئی 1998 ءکو بلوچستان کے ضلع چاغی میں دھات کے پہاڑوں نے لرز کر گواہی دی کہ پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔ پانچ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کو مو¿ثر جواب دیا اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ اسلامی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کی۔اس مشکل ترین وقت میں مملکت سعودی عربیہ نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مالی تعاون کیساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ ایک طرف بھارت کی جارحیت تھی، دوسری طرف اندیشہ ہائے دور دراز تھے معاشی اور سفارتی پابندیوں کے خدشات تھے ۔ تب اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا دورہ کیا ۔اگرچہ اس وقت ملک فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے فرمانروا تھے تاہم ان کی علالت کی وجہ سے امور مملکت ولیعہد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز چلارہے تھے ۔ نواز شریف نے ملک فہد اور ولیعہدملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔سعودی فرمانروا ملک عبداللہ نے نواز شریف کو ہر قسم کے مالی اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا
    یہ وہ وقت تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباو¿ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ان حالات میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا ۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ تیل دینا شروع کیا تھا۔تیل کی فراہمی کا یہ سلسلہ 1998 ءکے بعد بھی کئی برس تک جاری رہا ۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں کئی قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی جاچکی تھیں اس وجہ سے سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کو تیل ’ادھار‘ دیا جارہا ہے لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے کبھی بھی سعودی عرب نے پاکستان سے نہیں لئے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولیعہد ملک عبداللہ آٹھ ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے ۔آغاز واشنگٹن سے ہوا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نیوسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کےلئے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے ۔واشنگٹن سے شروع ہونے والے اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا تھا ۔ دورے کی اس ترتیب میں دنیا کےلئے پیغام تھا کہ ملک عبداللہ کے نزدیک پاکستان ایسے ہے جیسے اپنا گھر ہو ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو انھیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ بھی کروایا گیا ۔ یہ بات معلوم ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ وہ حساس ترین جگہ ہے جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص خصوصاََ غیر ملک پر بھی نہیں مارسکتا ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو ایوان شاہی میں ان کےلئے بیمثال استقبالیہ کا اہتمام تھا تب ولی عہد ملک عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے انھیں اپنا فل بردار قرار دیا شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ہاف برادر تھے ۔ یہ تھا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سعودی عرب کا کردار جس پر آج ہر پاکستان کو فخر ہے ۔ حقیقت یہ کہ اگر سعودی عرب کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو پاکستان میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب ہوتی نہ ہی پاکستان کےلئے ایٹمی دھماکے کرنا ممکن ہوتا اور نہ آج پاکستان کےلئے اپنا دفاع کرنا ممکن ہوتا ۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز جب وزیراعلیٰ آفس سے اس بات کی خبر ملی کی ٹریفک پولیس کی بدمعاشیوں کے خلاف اسٹوڈنٹس کی پکار پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری طور پر منگل کی صبح ٹریفک مسائل کے حوالے سے خصوصی اجلاس رکھا ہے تو طلبہ و طالبات کیلئے یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز، خوشی اور ایکسائٹمنٹ والی بات تھی کہ ان کی وزیراعلیٰ ان کیلئے کس قدر باخبر اور فکر مند ہیں۔ مریم نواز کا مقبولیت کا گراف 67فیصد سے 95فیصد پر آگیا لیکن اگلے ہی دن یعنی آج دوپہر میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز سے سخت مایوسی ہوئی ناصرف طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے بلکہ ہر قانون پسند شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سی ٹی او اور ٹریفک وارڈن کو حکم دیا جاتا کہ سات دن میں چار لاکھ پبلک ٹرانسپورٹرز کی اوریجنل نمبر پلیٹ نہ لگی اور کروڑوں روپے کی کرپشن بند نہ ہوئی تو سی ٹی او سمیت سب کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹریفک پولیس کو وارننگ دی جاتی کہ معزز شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کرو خاص طور پر طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ جو ہمارا مستقبل ہے۔
    پہلے پہل تو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز کی گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ تھی اب تو تھانوں اور دیگر سرکاری ملازمین نے بھی سیف سٹی کیمرہ کے آن لائن چالان اور دیگر غیرقانونی حرکات کیلئے بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں بھگانا شروع کردی ہیں۔ کیا قانون کا اطلاق صرف ٹیکس دینے والے معزز شہریوں کیلئے رہ گیا ہے؟
    اس پریس ریلیز میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ بنا نمبر پلیٹ گاڑی چلانا کتنا بڑا جرم ہے، میڈم وزیر اعلیٰ بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کام کررہے ہیں۔ میڈم جن رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو آپ کے سامنے غریب بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہی غربت کارڈ صرف لاہور شہر میں 1200کروڑ ماہانہ کی غیر قانونی کمائی کا زریعہ ہیں۔ ایک ہزار سے دو ہزار فی رکشہ و پبلک ٹرانسپورٹ وصولی کی بجائے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف پانچ ہزار کروڑ ماہانہ سرکاری خزانے میں آئیں بلکہ محفوظ اور پرامن لاہور و پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پریس ریلیز میں ٹریفک پولیس کو غیرقانونی پارکنگ کی سرپرستی سے روکنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹریفک پولیس جس غیر قانونی پارکنگ سے مبینہ طور پر پرسنل پاکٹ کرپشن کیلئے پانچ سے دس کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے اگر وہی پارکنگ منظم طریقے سے لاہور پارکنگ کمپنی کو کرنے دے تو پانچ سو کروڑ ماہانہ سرکار کیلئے اکٹھا کرسکتی ہے اسی طرح پورے پنجاب میں پانچ ہزار ارب صرف پارکنگ سے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

    یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹریفک پولیس جتنی رقم بطور رشوت اکٹھا کرتی ہے سرکار کو اس رقم کا 900فیصد نقصان کرتی ہے۔ کیونکہ اگر سرکار کو 1000ملنا چاہیے تو رشوت میں 100اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ900فیصد صرف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونے والے رقم کا نقصان ہے جبکہ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہی رکشے اور پبلک ٹرانسپورٹرز روڈ ایکسیڈنٹس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں ہر ایک منٹ میں 1500روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ 80فیصد موٹرسائیکل اور رکشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہ ون وے اور فاسٹ لین کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں اشارے پر بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اغوا، قتل اور دہشت گردی میں پچانوے فیصد یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن ٹریفک پولیس کمائی کے ان اڈوں پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔

    آج سپہر تین بجے کے قریب گارڈن ٹاؤن سے نکلا تو سپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر سے حمید لطیف ہسپتال تک پرائیویٹ دفاتر، مارکیٹ اور کار شوروم کی گاڑیوں، کھانے کی اشیاء کی ریڑھیوں اور رکشوں سے ہاف سڑک پر قبضہ تھا، لمحہ فکریہ اور بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ سینٹر آف دی لاہور کلمہ چوک ناصرف رکشہ سٹینڈ کا منظر پیش کررہا تھا بلکہ رکشہ والے اسے ہوم سٹیشن سمجھ کر کھلے عام رانگ وے کا استعمال کر رہے تھے۔ گذشتہ روز شاہ عالم مارکیٹ جانا تھا تو بانساں والا بازار ون وے کی وجہ سے کلوز تھا اور متبادل راستے کی طور پر میوہاسپتال کی بیک سائڈ سے گیا جبکہ میرے سامنے ہی وارڈن بنا نمبرپلیٹ رکشوں کو ون وے پر جانے دے رہا تھا (ویڈیو ثبوت موجود ہے) میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک سو سے زائد غیر قانونی دکانیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، پولیس سمیت سرکاری گاڑیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر وارڈن شہری کی ویڈیو بنا سکتا ہے تو شہری کو بھی حق دیا جائے کہ وہ بھی وارڈن کی بدتمیزی، پارکنگ مافیا اور پبلک ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کی ویڈیو بنا کر بطور ثبوت وزیراعلیٰ آفس کو بھیج سکیں۔ اگر ویڈیو بنانے پر معزز شہریوں پر پیکا لگ سکتا ہے تو اسی پیکا ایکٹ کا نفاذ وارڈن اور دیگر سرکاری ملازمین پر بھی ہونا چاہئے۔ جو نوجوان مستقبل میں مریم نواز کو بطور وزیراعظم اس لیے دیکھنا چاہتے تھے کہ مریم رول آف لاء کی بات کرتی ہے وہ آج سخت مایوس ہیں اور کسی نئے راہنما کی تلاش میں ہیں، اس سے قبل کی اس ملک کی اکثریتی آباد یعنی نوجوانوں کی آپ سے ساری امیدیں دم توڑ دیں آپ واضح الفاظ میں ”رول آف لاء“ کا اعلان کریں ٹریفک پولیس سمیت دیگر کرپٹ اور بدتمیز اہلکاروں کو جیل بھیجیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • "فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق

    "فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق

    یوں تو بلوچستان ازل سے کئی طرح کی سازشوں کی وجہ سے بد امنی کا شکار رہا مگر 2013 میں جب سی پیک کا آغاز ہوا تب سے لے کرآج تک مسلسل بدترین دہشت گردی کی آگ بلوچستان کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی افراد سب سے زیادہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات نہایت گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں ،بلوچستان میں بھارت دہشت گردی پھیلا رہا، اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری سب سے بڑا ثبوت ہے، غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ کیوجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے،بلا شبہ یہ بات درست ہے مگر ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے کہ بلوچستان کے موجودہ انتہائی خراب حالات کہ ذمہ دار پاکستان کے مخالفین کے علاوہ خود ریاست پاکستان کی کوتاہیاں اور ناقص حکمت عملی بھی ہے۔ جن میں سے سب سے بڑی وجہ بلوچوں کے مطالبات اور ان کی فریاد کو رد کرنا اور دھتکارنا ہے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد بھی ایک اہم ایشو ہے، ابھی تک بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ہی ملوث نکلتے ہیں، تاہم لا پتہ افراد کے معاملے میں ریاست پاکستان کو بہترین حکمت عملی اپنانی چاہیے اور ان افراد کا ٹرائل کورٹ میں چلانا چاہیے انہیں عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے ان میں سے جو کوئی دھشت گردی میں ملوث پایا جائے اسے آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جو کوئی ایسی کسی کاروائی میں ملوث نہیں پایا جاتا اس کو رہا کیا جائے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ وہ باشعور اور جمہوریت پسند لوگ ہیں جو جنوری 1965 میں فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جس وقت فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف لڑ رہی تھیں تو خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سیکیورٹی گارڈ تھے۔ اسی طرح غوث بخش بز نجو خضدار کے علاقے میں پولنگ کے عمل کے انچارج تھے۔ لہذا اس بات کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں نازک صورتحال کو سنبھالنے اور دہشت گردی جیسے معاملے سے نپٹنے کے لیے مضبوط جمہوری نظام کا قائم ہونا ضروری ہے جس میں شفاف انتخابات کے ذریعے ایسے عوامی نمائندے کو لایا جائے جو عوام کے مسائل سنے اور انہیں حل کرے۔ بلوچوں کی فریاد سنی جائے ان کے درد کا مداوا کریں۔ قدرتی ذخائر اور معدنیات کے حوالے سے شروع کیے جانے والے پروجیکٹس ،اس حوالے سے پاس کیے جانے والے بلز اور بنائی جانے والی پالیسیاں پبلک کی جائیں تاکہ مقامی افراد کو معلوم ہو سکے ۔ معدنیات سے مستفید ہونا مقامی افراد کا پہلا حق ہے انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہماری گزارش ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو سنجیدگی ،عقل و تفہیم سے لیں ان کے مطالبات سنیں ان پر غور کریں۔ وہ وعدہ نبھائیں جو حکومت پاکستان نے الحاق کے وقت بلوچیوں سے کیا تھا اور بڑھتی ہوئی نفرتیں کم کریں ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں اور ہمارے اپنوں کو ہی ہمارے خلاف کھڑا کریں۔ یاد رکھیں پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

  • ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کہ بھائی ناشتہ کرلیا میں نے کہا کہ نہیں موسٹ ویلکم تشریف لائیں اکٹھے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک میوچل دوست لاہور آئے ہوئے ہیں ہم دھرم پورہ پائے کھانے جارہے تھے آپ کو بھی پک کرلیتے ہیں۔ ہم گارڈن ٹاؤن سے نکلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد کے گھر سے نہر کی طرف جانے والے ڈبل روڈ پر رکشہ و ریڑی والوں نے ہاف سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کینال روڈ سے دھرم پورہ کیلئے یوٹرن لینے لگے تو سامنے سے بنا نمبر پلیٹ رکشوں کا قافلہ بلا خوف و خطر رانگ وے استعمال کرتا ہوا آرہا تھا۔ دھرم پورہ دونوں اطراف بیچ سڑک ناجائز پارکنگ اور تجاوزات ہی تجاوزات۔ مشہور اقبال ٹی سٹال کا رخ کیا تو وہاں بھی منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک اور ہال روڈ سے گاڑی گزارنا مشکل تھا۔ جس سڑک سے بھی گزرتے بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود وزارت داخلہ میں تعینات سنئیر افیسر نے بتایا کہ گذشتہ چھے ماہ میں متعدد دفعہ مختلف ایجنسیز کی طرف سے ایس آئی آر(سپیشل انفارمیشن رپورٹ) آئی ہیں کہ مبہم اور بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں سیکیورٹی رسک ہیں اس کے باوجود مبہم، بنا نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگاکر نمبر پلیٹ کو چھپانے والی ٹریفک پولیس سمیت دیگرسرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟ تیسرے افیسر کا کہنا تھا کہ اغوا، چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی بنا نمبر پلیٹ گاڑی کا پرچہ متعلقہ سی ٹی او پر ہونا چاہئے۔
    ٹریفک کی روانی میں ناکامی، نااہلی اور جعل سازیوں کی پردہ پوشی کیلئے پولیس ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی مدد سے ہر وقت خبروں میں رہ کر جھوٹے دعووں سے ارباب حکومت اور اداروں کو مس گائیڈ کرنے کی بجائے غیر قانونی پارکنگ، گارگو اڈوں، پبلک ٹرانسپورٹر کی ریگولر کمائی چھوڑ دیں ٹریفک مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مسائل ہی ٹریفک پولیس کے وسائل ہیں۔
    پولیس سروس کے دوست نے کہا کہ بزدار دور میں انہیں سی ٹی او لاہور کی آفر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سی ٹی او نہیں کہیں ڈی پی او کی آپشن ہو تو ٹھیک ورنہ سی پی او پنجاب آفس ہی ٹھیک ہے۔ پی ایس پی دوست نے کہا کہ آفر کرنے والے نے کہا کہ سی ٹی او کے بعد آپ ساری ڈی پی او شپ بھول جائیں گے۔ یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی سی ٹی اوکے بعد کسی ڈی پی او شپ کی ضروت نہیں۔
    تینوں افسران کا کہنا تھا کہ سی ٹی او، ای چالان ڈیفالٹر سرکاری گاڑیوں کے خلاف ان بڑھکوں سے کس کو اور کتنا بیوقوف بنائے گا؟
    تم ایک ایک ای چالان ڈیفالٹر گاڑی کی نشان دہی بھی کرلو گے اور انکو پکڑ بھی لو گے کیونکہ وہ ان قانون پسند شہریوں کی ہیں جو دونمبر نہیں ہیں جو اوریجنل نمبر پلیٹ لگاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ بنا نمبر پلیٹ والوں کو نہیں پکڑو گے۔
    ای چالان سسٹم میں بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ایک تہائی چالان ایسے ہوتے ہیں جو جسٹیفائیڈ نہیں ہیں کیونکہ اگر اچانک آگے والا بریک لگا دے یا سپیڈ سلو کردے تو "مڈ وے” میں آپکا چالان۔ لائن کی خلاف ورزی بھی بائیک اور رکشہ والوں کی تیز رفتار کٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
    گاڑی میں موبائل استعمال کرتا، بنا سیٹ بیلٹ والا نظر آجاتا ہے تمہیں اگر نظر نہیں آتا تو کروڑوں روپے ماہانہ کی اکانمی والے مبہم اور بنا نمبر پلیٹ رکشے، ٹرک ٹویٹا اور بسیں نظر نہیں آتیں۔ عام شہری سڑک پر گاڑی کھڑی کرتے نظر آجاتا ہے لیکن پرائیویٹ دفاتر اور کار شوروم کی بیچ سڑک ریگولر غیر قانونی پارکنگ نظر نہیں آتی۔
    سارا لاہور اور پنجاب ٹریفک جام میں پھنسا ہوتا ہے لیکن تم روڈ سائڈ تجاوزات اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے؟
    کوئی سڑک بتا دو جہاں بیچ روڈ ریڑیاں اور رکشے راستہ روک کر دکانداری نہیں کر رہے؟
    لفٹر کے زریعے اکٹھے ہونے والے رقم پنجاب حکومت کی بجائے سی ٹی او ویلفئیر اکاؤنٹ میں کس قانون کے تحت جاتی اور کہاں خرچ ہوتی ہے؟
    یہ لاقانونیت، زورزبردستی اور فاشزم کی انتہا نہیں کہ نشئی پبلک ٹرانسپورٹررز کو کھلی چھٹی کیونکہ وہ ریگولر روزانہ اور ماہانہ دیتے ہیں جبکہ معزز شہری جو ٹریفک پولیس کی بجائے سرکار کو جائز ٹیکس دیتے ہیں ان کے ساتھ بدمعاشیاں کرکے نمبر گیم پوری کرو۔
    تم جن اسٹوڈنٹس کا ریکارڈ خراب کرنا چاہتے ہو ضروری نہیں کہ وہ سارے بڑے ہوکر کرپٹ اور قانون شکن سرکاری ملازم ہی بنیں گے ان میں سے بہت سارے ایماندار لوگ بھی آئیں گے جو اس بدبودار کرپٹ اور قانون شکن سرکاری کلچر کو ختم کریں گے۔
    پورے پنجاب کی پولیس کا ریکارڈ دیکھ لیں پولیس کی مدعیت میں مقدمات کی تعداد بامشکل ایک فیصد ہوگی جبکہ ٹریفک پولیس کی مدعیت میں ہر روز درجنوں ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ معزز شہریوں پر بدتمیزی کا الزام لگاکر ٹریفک پولیس کا استغاثہ دینا اختیارات سے تجاوز اور فسطائیت ہے۔
    تم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے مامور ہو یا اپنی فرسٹیشن نکالتے ہوئے شہریوں سے دست و گریبان ہونے کیلئے۔ نمبر گیم کے لیے معزز شہریوں پر ایف آئی آرز کرانا فاشزم کی انتہا ہے۔ ٹریفک پولیس معزز شہریوں کیلئے خوف کی علامت اور غنڈہ فورس بنتی جارہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹر اور غیر قانونی پارکنگ والوں کیلئے تمام تر قانون شکن اقدامات کیلئے معاون فورس۔ تیز فلیش لائٹ کے خلاف کاروائی کی بجائے دن بہ دن فلیشر لائٹ استعمال کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ،، اخوت کا سفر ،، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی بہترین کتاب ہے جو فاؤنٹین ہاوس کے سمینار ہال میں منعقدہ نویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر اہل قلم کو تحفتا پیش کی گئی ادبی چاشنی سے بھر پور یہ بہت معلوماتی کتاب ہے سر ورق پر لکھا ہے ،، قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام ،، اخوت ،، کی کہانی ،،

    اس کتاب میں نامور شخصیات مثلا مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ڈاکٹر سعادت سعید ، اور عطا الحق قاسمی کی آراء شامل ہیں، یہ محترم امجد صاحب کے پر خلوص سفر اور جدوجہد کی کہانی ہے دس ہزار کے قرض سے شروع ہونے والا سفر آج کامیابیوں سے ہمکنار ہے اخوت یونیورسٹی آج محترم امجد صاحب کی ذات کی طرح ہی امید کی کرن ہے روشنیوں کا مینارہ ہے

    ڈاکٹر امجد صاحب نے امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے لا اسکول میں ان کی دعوت پر خطاب کیا اور ہارورڈ کینڈی اسکول کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اس کتاب میں اس کی رو داد موجود ہے ، امجد صاحب کے خلوص اور کامیابیوں کا سفر طویل اور جدوجہد سے بھر پور ہے ان کو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں حاصل ہیں انشاءاللہ انہیں نوبل پرائز ملے گا جو نہ صرف ان کے کاز بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا –

  • قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب آرگنائزر نیشنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ ہیں اور ان کے شوہر شعیب منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ہیں دونوں اپنی قومی زبان اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں. قرۃالعین العین اردو ورثہ کے نام سے ویب سائٹ بھی چلا رہی ہیں گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک میٹنگ رکھی تاکہ زبان و ادب کے حوالے سے اہل قلم سے مشاورت کی جائے اور ادب کی مختلف اصناف پر بات کی جائے اور اردو ورثہ کے لیے معیاری تخلیقات پر کام کیا جائے

    اس پروگرام میں کنول بہزاد ، فرح خان ، رابعہ نعمان ، دعا عظیمی ، ظفر ، سرفراز احمد ، راحت فاطمہ اور بصیرت نے شرکت کی بہت عمدہ گفتگو ہوئی شعر وادب علم عروض اور مختلف موضوعات پر سب نے اظہار خیال کیا تجاویز بھی دیں محفل میں شریک شاعر احتشام حسن صاحب نے اپنی نظم نوسٹلجیا بھی سنائی یہ نشست جوہر ٹاؤن میں کیپسن سی میں منعقد کی گئی، قرۃالعین العین اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائے آمین

  • دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس بار قوم پہلے سے زیادہ متحد، پُرعزم اور ہوشیار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو غیر متزلزل عزم سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں‌ترجمان پاک فوج واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ملوث ہے یہ حملہ صرف ایک سکول پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، معصومیت اور تعلیم پر حملہ تھا۔ ایسے سفاک درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دہشت گرد اس قسم کی شرانگیزی یا بربریت کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت اور جارحیت کو چھپانے کے لیے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کو ہوا دینا ایک کھلی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے۔لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی پاکستانی سکیورٹی فورسز جدید تربیت، اعلیٰ جذبے اور عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔آپریشن بنیان مرصوص 10 مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کومنہ توڑ جواب دیا

    پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلیجنس ادارے دن رات ملک کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر حملہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آخری دہشت گرد اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔یہ لمحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کی ان گھناؤنی سازشوں کا نوٹس نہ لیا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو خطے میں بدامنی کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بڑے ممالک کو پاکستان کے شواہد کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ریاستی دہشت گردی بند کرے۔پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور قومی جذبے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایک آواز ہو کر اپنی قیادت، افواج اور اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا فوج کی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ ہم سب کو ایک سپاہی بن کر، قلم سے، زبان سے، اور عمل سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔پاکستان ایک زندہ قوم ہے، اور ان شاءاللہ، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔

  • ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب ایک لطیف اور روحانی فن ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے، احساسات کو جگاتا ہے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ادیب کا تعلق صرف کاغذ اور قلم سے نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ ادیب اپنے مشاہدات، تجربات، درد، خوشی اور سچائی کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے تاکہ سماج کو ایک بہتر سمت دی جا سکے۔مگر آج کل ایک افسوسناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ ادب کے نام پر تقاریب منعقد کر کے ادیبوں کو سیاسی جماعتوں کے پروگرامز میں بلایا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا عنوان تو "ادبی ایوارڈز "کے نام پر رکھا جاتا ہے، مگر اصل مقصد سیاسی تشہیر، سیاسی شخصیات کی مدح سرائی یا مخصوص نظریات کی ترویج ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں ادیبوں کے لیے باعث اذیت بن جاتی ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

    ادیب کا سب سے بڑا وصف اُس کی غیر جانبداری، غیر وابستگی اور فکری آزادی ہے۔ وہ کسی جماعت، مسلک یا مفاد سے بالا ہو کر انسانی اقدار اور سچائی کی بات کرتا ہے۔ وہ نہ کسی لیڈر کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی نعرے کی گونج میں اپنی آواز کھوتا ہے۔ ادیب کا ضمیر اُسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے قلم کو کرائے پر دے یا سچائی کو مصلحت کی نظر کرے۔جب ایسے ادیبوں کو زبردستی سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر ادب کا نام استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اُن کی شخصیت، وقار اور مقصدِ ادب کی توہین ہوتی ہے۔سیاست، اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار کا حصول، اپنی جماعت یا لیڈر کی پروموشن، اور اکثر اوقات اس میں مصلحت، منافقت اور مفاد پرستی شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ ادب کا اصل مقصد شعور بیدار کرنا، فکر پیدا کرنا اور سچائی کو بے باکی سے بیان کرنا ہے۔ادب سیاست کا تابع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب ادب کو سیاست کے تابع کیا جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے اور ایک پروپیگنڈہ کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    سیاستدان وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اُس کے بیانیے، وفاداریاں اور نظریات بھی حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ مگر ایک سچا ادیب اپنی فکر پر قائم رہتا ہے۔ اس کا قلم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر سچ لکھتا ہے۔ اُسے کسی وزارت، اعزاز یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ضمیر کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کئی سیاستدانوں کو بھلا دیا، مگر ادیبوں کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت کو واقعی ادب سے محبت ہے تو وہ ادب کو اس کے اصل مقام پر رہنے دے۔ ادبی شخصیات کو اس لیے مدعو نہ کیا جائے کہ وہ اسٹیج پر بیٹھ کر لیڈروں کی تعریف کریں، انکے حق میں تحریریں لکھیں ،سوشل میڈیا پر انکے لئے بیانیہ بنائیں بلکہ اُنہیں مکمل آزادی دی جائے کہ وہ سماج، سیاست اور اقتدار کے بارے میں جو چاہیں کہیں۔ادیبوں کو محض اس لیے بلا لینا کہ اُن کے نام سے تقریب کو معتبر بنایا جا سکے، یا اُن کی موجودگی سے سیاسی رنگ کو “ادبی” بنایا جا سکے، نہایت افسوسناک رویہ ہے۔

    ادب کو سیاست سے جدا رکھیے۔ اگر سیاستدانوں کو ادب سے سچی محبت ہے تو وہ ادیبوں کی فکر کو سنیں، اُن کی تنقید کو برداشت کریں اور اُن کے قلم کو آزاد رہنے دیں۔ ورنہ ادب کے نام پر ہونے والی سیاسی محفلیں نہ صرف ادیبوں کے لیے توہین آمیز ہیں بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہیں،ادیب وہ نہیں جو سیاسی بینر تلے بیٹھ کر تقریریں کرے، ادیب وہ ہے جو بے خوف ہو کر سچ کہے ،چاہے وہ سچ اقتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔