Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری حسن و خوبصورتی کے بارے میں جب بھی زکر ہوتا ہے توکہا جاتا ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ حسین وجمیل تھے بہت اچھی شخصیت کے مالک تھے یہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب 25 سال کی عمر میں عین عالم شباب میں جب دولہا بنے ہونگے تو کیا عالم ہوگا ،جب حضور کے پیارے چچا حضرت ابو طالب نکاحِ پڑھا رہے ہونگے آور حضور کی اولین شادی کا منظر کتنا خوبصورت ہوگا کتنی مقدس محفل ہوگی دولہا دلہن پر کتنا روپ اور نور ہوگا..

    رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی شادی خدیجہ طاہرہ سے ہوئی جن کا قبل اسلام زمانہ جہالت میں بھی لقب طاہرہ تھا ، وہ طاہرہ یعنی پاکیزہ ہستی کی قدر و منزلت یہ تھی کہ وہ 25 سال اپنے عالی مرتبت شوہر کی ہمراہی میں رہیں اور رسول اللہ نے دوسری شادی نہیں کی ان کا دوسرا اہم اعزاز یہ تھا کہ رسول اللہ کی اولاد انہی سے ہوئی اور یہ خاتون جنت فاطمہ زاہرا سیدۃ النساء العلمین کی والدہ ماجدہ بنیں..

    اسلام کی پہلی خاتون اول جو ورکنگ لیڈی تھیں ایک کامیاب بزنس وومن تھیں جب سمجھ گئیں کہ ان کے شوہر منجانب اللہ سچے پیغمبر ہیں تو پھر دل وجان سے ان کا ساتھ دیا اپنی دولت اسلام کی نشر واشاعت کے لیے خرچ کی ان کا اس حد تک ساتھ دیا کہ جب مکہ والوں نے بتوں کی عبادت سے منع کرنے پر محمد مصطفی کا سوشل بائیکاٹ کیا اور انہیں ایک تنگ گھاٹی شعیب ابی طالب میں محصور کردیا تو یہ اس وقت ان کے ساتھ محصور تھیں سب تکالیف برداشت کیں فاقے کئیے ، وفا داری کی اعلیٰ ترین مثال پیش کی

    اوائل اسلام کی تمام مشکلات میں پیغمبر کی پشت پناہ بنی رہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے زریعے ان کو سلام پہنچوایا جب رسول اللہ غارحرا میں عبادت میں مصروف تھے تو ان کے لیے کھانا لے کر پہنچی تھیں ، اس زمانے میں جب بڑے بڑے سردار حضور کے مخالف تھے سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا وہ ثابت قدم رہیں اپنے عالی مرتبت شوہر کا حوصلہ بڑھاتی رہیں ، ان کی زات مسلمان خواتین کے لیے رول ماڈل ہے بزنس کرنا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اور اپنا وقار قائم رکھنا یہ سب باہمت خواتین کر سکتی ہیں ،اعلان نبوت کے بعد جتنی بھی تکالیف اور مشکلات رسول خدا کو پیش آ ئیں ان سب میں وہ حضور کے ساتھ تھیں تبہی ان کی وفات کے سال کو انہوں نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا اس سال دو مخلص ترین ہستیوں سے جدائی ہوئی خدیجہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام حضور جب تک زندہ رہے خدیجہ طاہرہ کو یاد کرتے رہے ان کی سہلیوں کی عزت کرتے انہیں قربانی کا گوشت بھجواتے اور برملا کہتے مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی ۔

    اتنے قدیم زمانہ میں بھی عورت نہ صرف بزنس کر سکتی تھی بلکہ شادی کے لیے قوت فیصلہ اور اختیار بھی رکھتی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام تنگ نظری کا مذہب نہیں ہے بس اعلیٰ انسانی اقدار و اوصاف چاہتا ہے تاکہ انسان اچھے کردار اور وفا داری جیسے اعلٰی اوصاف سے مزین ہوں –

  • خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک طویل جدوجہد جاری ہے، جس میں نہ صرف قانون سازی بلکہ معاشرتی سطح پر آگاہی اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشرت میں خواتین کو ہمیشہ سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، مگر آج کی خواتین، خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جیسی باہمت اور توانا آواز رکھنے والے لیڈرز، اس جدوجہد کو ایک نیا موڑ دے رہی ہیں۔

    مریم نواز، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما ،وزیراعلیٰ پنجاباور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئی ہیں۔ وزارت اعلیٰ ملنے کے بعد مریم نواز کی شخصیت میں ایک نیا جوش، عزم اور حوصلہ ہے جو خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں اور ان کی آواز کو تقویت دیتی ہیں۔مریم نواز نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے حوالے سے اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی سیاسی اور سماجی تقریریں ہمیشہ خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی ترقی اور فلاح کیلیے سیاست میں موثر اور فعال کردار ادا کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرتی سطح پر برابری کی فضا قائم کی جا سکے۔پاکستان میں جہاں بہت سی خواتین کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں، مریم نواز ان کے حق میں کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ میں خواتین کے لیے زیادہ مواقع، تعلیم، صحت کی سہولتیں اور معاشرتی تحفظ شامل ہے۔ ان کی آواز نے نہ صرف سیاست کے میدان میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔

    مریم نواز کا وژن ہمیشہ ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کا ہے، جس میں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں، خاص طور پر خواتین کو۔ ان کا کہنا ہے کہ گڈ گورننس کی بنیاد عدلیہ، شفافیت، اور عوام کے ساتھ رابطے پر ہے۔ گڈ گورننس سے مراد وہ حکومتی پالیسیز ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، اور خواتین کی ترقی کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔مریم نواز کے مطابق، پاکستان میں خواتین کے لیے بہتر حکومت سازی کا عمل ہی ایک کامیاب پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے متعدد بار اپنے عوامی خطابوں میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کام عوام کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنا ہے اور عملی طور پر مریم نواز مسائل کو حل کر رہی ہیں۔ ان کا گڈ گورننس کا نظریہ اس بات پر مرکوز ہے کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    پاکستان میں مریم نواز کی گڈ گورننس اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ ان کی رہنمائی میں مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور ان کی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مریم نواز کی سیاسی مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں نے انہیں دنیا بھر میں ایک معتبر شخصیت بنا دیا ہے۔پنجاب میں مریم نواز پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں تو مریم اورنگزیب سینئر وزیر پنجاب بھی خاتون ہیں، عظمیٰ بخاری سیکرٹری اطلاعات بھی ایک خاتون ہیں.مریم نواز کی آواز اور اقدامات نے پاکستانی خواتین کے اندر ایک نئی روح پھونکی ہے، اور وہ اس بات پر قائل ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی کے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی اور گڈ گورننس کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے اور ان کے نظریات کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    مریم نواز کی سیاسی سفر میں خواتین کے حقوق اور گڈ گورننس کے اصولوں کا مرکزی کردار ہے۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف خواتین کے حقوق کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کی سیاست میں بھی ایک نئی سمت دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کردار ایک رہنما کے طور پر ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا رہے گا اور دنیا بھر میں ان کی آواز سنائی دے گی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور ان کی ترقی کے لیے مریم نواز کا کردار بے مثال ہے اور وہ یقیناً ایک تاریخ رقم کر رہی ہیں جسے مستقبل میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تحریر.
    قارئین آج جو تحریر جب آپ پڑھ رہے اب یہ چھپنے اور آپ کی نگاہوں میں آنے تک ہوسکتا ہے عورتوں کا عالمی دن 8 مارچ ہو، یا گزر چکا ہو یا ایک آدھا دن باقی ہو۔ آج تمہید موقوف، تاریخی حوالہ جات سے ابتدا۔ 1857 جب ایک جانب برصغیر میں جنگ آزادی (بغاوت ہند) کو پینتالیسواں دن تھا۔ تو وہیں 5 جولائی 1857 کو جرمنی کے شہر کونیگشین میں ایک لڑکی نے جنم لیا جو آگے چل کر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد سے معروف ہوئی۔
    جرمن مارکسی تھیوریسٹ، کمیونسٹ کارکن، اور خواتین کے حقوق کی وکیل کلارا زیٹیکن کے نام سے معروف اس عورت نے جرمنی میں سماجی جمہوری خواتین کی تحریک کو فروغ دینے میں مدد کی۔ 1891 سے 1917 تک، اس نے SPD خواتین کے اخبار ڈائی گلیچیٹ (مساوات) میں ترمیم کی۔ 1907 میں وہ SPD میں نئے قائم کردہ "خواتین کے دفتر” کی رہنما بن گئیں۔ اس نے خواتین کے عالمی دن (IWD) میں بھی حصہ ڈالا. 19 مارچ 1911 کو باقاعدہ پہلا عالمی دن برائے خواتین منایا گیا۔ 1913 میں اس کو انعقاد 8 مارچ ہو جو اب بھی ہر سال نہ صرف منایا جاتا ہے بلکہ اب تو منوایا جاتا ہے۔ میڈیا تک رسائی، گیٹ کیپکنگ ( میڈیا ٹرم معنی شائع یا نشر کرنے سے پہلے اخلاقی و قانونی پہلو کا خیال رکھنا) نددار سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا اور ریٹنگ کی دوڑ میں اندھا دھند دوڑتے میڈیا کی دانستہ بند آنکھوں نے عورتوں کے عالمی دن پر عورت مارچ کو اتنا اچھالا اور موضوع بنایا کہ اب یہ مذہبی ، لبرل اور درمیانے درجے کے ذہن رکھنے والوں میں ضد اور چڑ بن گیا۔ 2018 میں کراچی سے ایک این جی او ” ہم عورتیں” نے اس مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تحریر کا رنگ اصل میں قاری کا مزاج تو پرکھتا ہی ہے لیکن لکھاری کو جس امتحان میں ڈالتا ہے وہ بھی عجیب ہے۔ بات کو سمجھانا بھی کے اور قارئین کے معیار، استعداد ذہنی و مذہبی رجحان بھی دیکھنے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنا ایسا ہی ہے جیسے 100 گز کے 20 فٹ بلند رسے پر ہاتھ میں گیند پکڑ کر چلنا۔ سازش، عالمی ادارے، خواتین کی سمت کا غلط تعین اس طرف قلم چلے گا تو دلائل کی کمزور سڑک قلم کی افادیت کو ختم کر دے گی۔ بس تاریخ اور اعداد و شمار کی پکڈنڈی سے محفوظ راہ لیتے ہیں۔ قران کریم کی چوتھی سورۃ (النساء) میں وراثت کے جو اصول وضع ہیں۔ ان کے مطابق والد کی وراثت سے بیٹی کا حصہ دیکھیں ۔ترجمہ :اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے( کنزالعرفان) یہی بیٹی بیوی بنتی ہے تو خاوند کی جائیداد میں اللہ حصہ مقرر کر رہے ہیں” اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔ بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے۔اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہو) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔ النساء -12

    عورت کو بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں اللہ تعالیٰ نے جن حقوق سے نوازا ہے۔اس میں جائیداد کا حصہ کم کہنے والوں کو پہلے مطالعہ کرنا پھر بولنا چاہیے۔ مرد شادی کرتا ہے تو اپنی جائیداد میں بھی عورت کو حصہ دیتا ہے۔ بیٹی کا باپ اپنی جائیداد سے حصہ دیتا ہے اور بہن کا بھائی اگر بے اولاد ہو تو اس شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں ایک بیوی اور باپ کی طرف سے ایک بھائی اور ایک بہن ہیں تو بیوی کو چوتھائی حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 75000 روپوں کے تین حصے ہوں گے۔ بھائی کو دو حصے یعنی 50000 اور بہن کو ایک حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے ۔ سڑکوں پر نکلنے والے لبرل مکتبہ فکر کو دعوتِ مطالعہ و تحقیق ہے ۔ بنتا تو مردوں کا احتجاج ہے جو ہر روپ میں عورت کو جائیداد میں شامل کر رہے صبح سے رات تک کام، گھر کے اخراجات پر اضافی محنت، ادھار لینے بیوی کے میکے تک میں مصروفیات کا وقت نکالنا۔ باہر کے حالات خود پر جھیل کر گھر کا ماحول خوشگوار رکھنا پھر یہ بھی سننا کہ اپنے موزے خود دھو لو، اپنا کھانا خود گرم کرو، میرا جسم میری مرضی۔ پہلی بات کہ موزہ ہو یا کچھ بھی گھر میں کام عورت اس لیے کرتی کہ وہ اس گھر کی مالکہ ہوتی مرد جب باہر حالات کے تھپیڑوں کی ذد میں ہوتا تو ایک بند مکان میں فکر معاش سے آزاد محفوظ خاتون کھانا بنانا، گھر کی دیکھ بھال نہیں کرے گی تو پورا دن کیا کرے گی؟ اب چونکہ تحریر کے دشت میں سیاحی کی دہائی مکمل کیے بیٹھے لہذا بھانپ لیتے کہ اعتراض ہونے نہیں لگا ہو چکا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کیوں گھر سنبھالیں؟ تو جواب شکوہ ملازمت میں ہم نے بھی اوائل 2011 سے کرایہ پر رہ کر حصول علم کے لیے سفر بھی کیا روز، پڑھا، نوکری کی گھر کا کام کپڑے دھونا وغیرہ سالن بنانے تک کیا دو تین دوست تھے مل کر سب کام مکمل لہذا ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت نے پہلے ہی ملازم بعوض تنخواہ رکھے ہوتے یا پھر مشترکہ خاندان میں رہنے سے کام کی تقسیم دوسروں میں ہو جاتی ایک مرد اور عورت کے الگ رہنے پر مرد اکثر کام میں مدد کرتے اور اس میں کوئی عار نہیں۔ جو بیوی ماں، باپ بہن بھائی چھوڑ کر خاوند کو سب کچھ مانے ہوئے اس کی دل جوئی اور ہر ممکن سہولت خاوند کی ذمہ داری ہے۔

    واپس عورت مارچ پر چلتے ہیں ان کے نعرے بہت دلفریب ہوتے لیکن عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق مانگنے والی خواتین سے احتراماً عرض ہے کہ ہم تو گاڑی میں بیٹھنے کی جگہ چھوڑ دیتے قطار میں خواتین کو آگے بھیج دیتے سر راہ کسی خاتون سے کوئی حادثہ یا غیرمعمولی صورتحال پر قریب موجود مرد سب سے پہلے اس کے سر اور جسم پے چادر ڈالتے۔ آپ نے مردوں کے برابر حقوق لے کر کیوں الٹا گئیر لگانا ہے۔ جب عورت کو دیکھ کر ہم مرد نگاہ جھکا لیتے بڑے سے بڑا تنازعہ ایک بیٹی بہن کے سامنے آنے پر حل ہوجاتا اور زندگی موت کا مسئلہ بنا کر کسی معاملے میں ایک دوسرے کی جان کے درپے فریقین بھی خواتین کی موجودگی میں انا پس پشت ڈال کر سر جھکا دیتے تو کیوں عورتوں کو عورت مارچ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی کسی ماں کے سفید بال کسی بہن کے آنسو اور پھیلا دوپٹا دیکھ کر کسی مقتول کے ورثا جب خود روتے ہوئے قاتل کو معاف کرتے اور عورت کا تقدس وہ کروا دیتا جو قابل سے قابل وکیل نہ کرسکا تو کیوں عورت مارچ کرنا۔

    فارسی کا ایک محاورہ ہے کہ( ترجمہ) بھرا ہو پیٹ فارسی بولتا ہے۔ بڑے شہروں کی بظاہر الٹرا ماڈرن اور مغرب کے فلسفے سے متاثر ایلیٹ کلاس کی ایک اقلیت کے پیچھے چلنے سے پہلے رکیں، سوچیں، پڑھیں، تحقیق کریں اکثر سانپ بھی خوشنما ہوتا اور نادان بچے چلتا انگارہ کھلونا سمجھ کر پکڑ لیتے۔
    اختتام پر ضروری اعلان۔ ریپ کیسز، مردوں کی جانب سے عورتوں پر تشدد اور دیگر تمام منفی حوالے میرے بھی ذہن میں ہیں اس تحریر پر اعتراض کرنے سے پہلے جو کچھ لکھا ہے اس پر دوبارہ سوچیں اگر تو وہ درست ہے تو یہ مسائل ہم نے ہی حل کرنے ہر ایک خود کو درست کر لے معاشرہ خود ہی درست اور اگر میری بات غلط ہے تو اصلاح کے لیے مرتے دم تک تیار۔۔۔۔۔
    خواتین کے تحفظ اور حقوق کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے لیے ہر مثبت کام کی حوصلہ افزائی ضروری ہے لیکن عورت مارچ کے مخصوص نعروں اور پہلے سے طے مقاصد کے تحت عورت کو بے وقعت کرنا دیکھ کر خاموش رہنا جرم ہے

  • لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    پہاڑوں کے پیالوں میں یہ وہ درسگاہ ہے جہاں ابو نے ایک استاد کے طور پر اپنے فرائض سنبھالے تو یہ ویرانے میں جلتی بجھتی لو کی طرح تھا ، جس کی مدھم روشنی کو کوئی ٹھہر کر نہیں دیکھتا
    ابو نے پہلے دن سے اسے گھر کی طرح سنبھالا
    یہ سکول ایک ڈھوک میں موجود ہے۔ ڈھوک گاؤں سے بھی مختصر ، جنگلوں میں بسیرے کے مقام کو کہتے ہیں۔یہاں بجلی ، پانی کی سہولت موجود نہیں اور جن گھروں سے بچے یہاں آتے ہیں وہاں ابھی تک شعور کی خوشبو نہیں آئی اور وہاں کے مکین بھیڑ بکریاں چرا کر زندگی گزار جاتے ہیں۔یہاں کے بچے بہت ذہین ہیں ، ایک طالب علم جو قوتِ گویائی سے محروم ہے اسے دور سے آنے والوں کی آہٹ کا ادراک ہوجاتا تھا اور وہ سارے اسباق سب سے جلدی یاد کرلیتا تھا۔یہی نہیں کچھ بچوں کے ساتھ ان کا پالتو کتا سکول تک آتا اور دروازے پر بیٹھا رہتا اور پھر انہی کے ساتھ واپس چلا جاتا تھا ، جب یہ بچے اس ڈھوک سے کچھ دور ہمارے گاؤں کے ہائی سکول میں داخل ہوئے تب بھی وہ کتا اس اس سکول تک آتا ہے اور دروازے پر بیٹھ جاتا ہے، جب بچے واپس آتے تو ان کے ساتھ گھر کو لٹتا ہے۔

    جس قدر ان بچوں میں خواب اور شوق کی تازگی بھری ہے ، اتنا ہی وہاں کے والدین کو اپنا پرانا طرزِ حیات بدل کر بچوں کو پڑھنے کے لیے سکول بھیجنے پر قائل کرنا ایک مشکل کام رہا ہے۔
    ایسے میں پڑھنے والوں کو یاد نہ ہو ، ہم نے اس سکول کے لیے فنڈز اکٹھے کیے ، اس کارخیر میں آپ میں سے ایک مخصوص شخصیت نے پوری دلجمعی سے حصہ لیا اور سمندروں پار بیٹھ کر اس کچی مٹی میں خواب بونے والوں کا ساتھ دیا
    اسی فنڈ سے ہم نے یہاں ایک کمرہ تعمیر کروایا تھا جس پر سرکار کا کوئی دھیان نہ تھا ، اپنی مدد آپ کے تحت یہاں اونٹوں پر بھر بھر پانی لایا جاتا اور سخت موسموں میں بھی کسی طرح اس کام کو مکمل کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مدھم لو اپنی پوری آب و تاب سے چمکی۔

    یہاں درخت لگائے گئے ، کلاس رومز کو شاندار انداز میں مزین کیا گیا اور کوئی سہولت نہ ہونے کے باوجود یہاں علم کی حرارت اور خوابوں کی روشنی بجھنے نہ دی۔یہ ابو نے اکیلے نہیں کیا ، آپ سب نے اس وقت ساتھ دیا جب اس ویرانے میں زندگی کے کرنے کو کوئی امید نہ ملتی تھی۔جب ابو کو اس کارکردگی پر appreciation letter دیا گیا تو میرا دل شدت سے چاہا کہ میں اسے آپ سب کے نام بھی کروں ، ہر وہ انسان جس نے کچھ برس پہلے ہماری مدد کی اور ان بچوں کو دعا دی تھی یہ حُسن کارکردگی آپ سب کے نام ہے اور ایک یاددہانی ہے کہ خیر کا ایک پل بھی کبھی ضائع نہیں جاتا
    اور کوئی خواب چھوٹا یا عام نہیں ہوتا ، ابو کو بہت لوگوں نے کہا کہ یہاں اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے یہ کہہ کر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان بچوں تک کسی مقصد سے بھیجا ہے۔ابو نے اس درسگاہ میں ہمیشہ نہیں رہنا مگر یہ درسگاہ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ کسی نے اپنی حیات کا ایک وسیع حصہ اس درسگاہ کو محبت دینے میں خرچ کردیا تھا۔
    میں نے ابو سے سیکھا ہے جہاں پانی بھی نہ ہو ، اس مٹی پر بھی پھول پیڑ خوشبو اگائے جاسکتے ہیں۔خوابوں کے ویرانوں میں شوق کی ایک بوند بھی کافی ہوجاتی ہے۔
    پڑھنے والی آنکھ مسکرائے
    سائرہ اعوان
    وادی سون سکیسر
    school

  • موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن یہ ذرائع ہمیشہ محدود اور مشکل ہوتے تھے۔ اگر کسی کا رشتہ دار گھر سے طویل سفر پر نکلتا تو ہفتوں یا مہینوں تک اس کی خبر نہیں ملتی تھی، جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے۔ اس دور میں خط و کتابت کا آغاز ہوا، جس سے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے، لیکن پھر بھی خط بھیجنے کا عمل وقت لیتا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے ذرائع سامنے آنا شروع ہوئے۔ ٹیلیفون کا استعمال اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس سے لوگ فوراً ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔ لیکن آج کل موبائل فون نے ٹیلیفون کی جگہ لے لی ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب پاکستان میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بزرگ، ہر عمر کے افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا بھر سے جڑ سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، اور مختلف کاموں کو آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ موبائل فون کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں،موبائل فون پر پیغام بھیجنا ایک انتہائی آسان عمل ہے۔ وٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے ہم تیزی سے پیغامات ارسال کر سکتے ہیں۔موبائل فون کی بدولت ہم نہ صرف آواز، بلکہ کسی دوسرے شخص کی شکل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔موبائل میں مختلف گیمز، موویز، اور ویڈیوز کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے لوگ اپنے فارغ وقت میں تفریح حاصل کرتے ہیں۔موبائل فون میں کیلکولیٹر، کلینڈر، موسم کی معلومات، اور سڑکوں کے نقشے جیسی بہت سی سہولتیں شامل ہیں، جو ہمیں روزانہ کی زندگی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

    اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے، مگر ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچے موبائل پر گیمز کھیلنے، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر تفریحی مواد میں غرق ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ بعض لوگ آن لائن کام کے جھانسے دے کر لوگوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں اور بڑوں دونوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے ذہنوں کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال فیملی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ والدین اور بچے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، اور اس کا برا اثر گھریلو ماحول پر پڑ رہا ہے۔آج کل ٹک ٹاک جیسی ایپس نے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سارا دن ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے ان کی پڑھائی اور دیگر ضروری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

    موجودہ حالات میں حکومت کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو آنے والے سالوں میں ہماری قوم کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مناسب قوانین بنانا ضروری ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کو بے حد سہولت بخشا ہے، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان ٹیکنالوجیز کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ ان کا فائدہ اٹھا سکیں، نہ کہ ان سے نقصان پہنچے۔

  • ترقی کا دوسرا نام ،نواز شریف اور مسلم لیگ ن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا دوسرا نام ،نواز شریف اور مسلم لیگ ن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پرویز رشید جیسے کہنہ مشق سیاستدان مریم کی ٹیم کا حصہ،پنجاب ترقی کوئی نہیں روک سکتا
    پرانا دور گیا،قوم باشعور ہوچکی ،اب وہی سیاسی اکھاڑے کا ہیرو بنے گا جو ڈیلیور کرے گا
    اسحاق ڈار کے ترقی کرتی معیشت پر بیان سے قوم کو حوصلہ ملا،مستحکم پاکستان زیادہ دور نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہ ہو ،میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنی حکومت اور وسائل کا رخ خلق خدا کی طرف موڑ دیا ہے ،عام لوگوں کے مسائل انکی دہلیز پر حل ہو رہے ہیں، پنجاب میں تعمیراتی کام شروع ہو چکے ہیں ،مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں شامل بعض سیاسی قوتوں کی طرف سے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ کیا مسلم لیگ ن کو تعمیری کام چھوڑ کر توجہ سیاسی تماشوں پر دینی چاہیے؟ یاد رکھیے! آج قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ صرف اس بات پر متحد اور متفق ہےکہ اب وہی ان کا قائد ہوگا جو تعمیر وطن کا جذبہ رکھتاہوگا، جو اس گلشن کی ترقی کا علمبردار ہوگا عوام کا ہمدرد، مخلص اور باکردار ہوگا کون کس سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، آج کے نوجوان کو اس سے کوئی غرض نہیں، اب جذبوں ،کردار، اخلاق اور حب الوطنی کو میزان اور کسوٹی بنایا جائے گا، ستھراپنجاب سمیت دیگر عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں سے مسلم لیگ ن مضبوط اور اسکی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، مقبولیت کا سبب میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کا جذبہ حب الوطنی ہے اور اس کے ساتھ پنجاب میں درویش صفت سینیٹر پرویز رشید اور دیگر کہنہ مشق سیاستدان شامل ہیں جن کی محنت اور لگن سے مسلم لیگ ن بحرانوں سے باہر نکلی ہے، آمدہ قومی انتخابات اور سیاسی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہے ،مسلم لیگ ن کی توجہ کا مرکز عوامی مسائل کا حل اور معیشت کی طرف ہے، مستحکم معیشت کے حوالے سے نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا بیان سامنے آیا ہے انہوں نے کہا کہ دفاعی لحاظ سے پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے اب معاشی طاقت کی کمی ہے جس کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، 2017ء میں ملکی معیشت مستحکم تھی کوشش ہے، ملکی معیشت مستحکم ہو ،سینیٹر اسحاق ڈار کے اس بیان کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، جب بھی مسلم لیگ ن کو اقتدار ملا تعمیر وطن میں اہم کردار ادا کیا.

  • فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں توانائی کی کمی اور مہنگی بجلی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر پنجاب کے صوبے میں جہاں عوام کو بجلی کے بلز کی بھاری ادائیگی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کا ایک انقلابی حل سامنے آیا ہے جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعارف کرایا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کی باضابطہ ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے اس اہم منصوبے کا آغاز کیا۔ اس سکیم کا مقصد نہ صرف توانائی کی فراہمی کے نئے ذرائع کو فروغ دینا ہے بلکہ عوام کو مہنگے بجلی کے بلز سے نجات دلانا بھی ہے۔اس سکیم کے تحت ہزاروں گھروں کو مفت سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔ سولر توانائی ایک قدرتی اور ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے، جو نہ صرف توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سکیم کی بدولت لوگوں کو کم قیمت اور مستقل بجلی مل سکے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بجلی کے بلز میں بھی کمی محسوس کریں گے۔

    اس سکیم کے ذریعے ہزاروں افراد کو سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے، جس سے وہ بجلی کی مہنگی قیمتوں سے بچ سکیں گے۔ سولر توانائی سے گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا اور صارفین کی مالی حالت میں بہتری آئے گی۔سولر توانائی ایک صاف ستھری توانائی ہے جو ماحول پر کم سے کم اثر ڈالتی ہے۔ اس سکیم کے ذریعے صوبے میں آلودگی کم ہو گی اور قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے گا۔ سولر پینلز کی مدد سے گھروں کو بجلی کی مستقل فراہمی ہوگی، جس سے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف افراد کو توانائی کی بچت ہوگی بلکہ اس کے ذریعے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سولر پینلز کی تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ماہر افراد کی ضرورت ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود مختلف نمبر بتا کر اسکیم کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجے میں خوش نصیب صارفین کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور سولر پینل انسٹالیشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے بچانے کے لیے اس سکیم کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری انرجی نے بتایا کہ مارچ کے آخر تک اسکیم کے تحت فزیکل ویری فکیشن مکمل کر لی جائے گی، جبکہ جولائی کے آخر تک پہلے فیز میں انسٹالیشن مکمل ہوگی۔سیکرٹری انرجی کے مطابق، پہلے مرحلے میں 94483 سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ سکیم خصوصی طور پر ان گھریلو صارفین کے لیے ہے جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکیم کے تحت 0.55 کلوواٹ کے 47182 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔1.1 کلوواٹ کے 47301 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ان سسٹمز میں جدید ترین انورٹرز اور بیٹری سٹوریج کا نظام بھی شامل ہوگا تاکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔سولر پینلز کی تنصیب میں معیاری آلات اور مستند تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔فری سولر پینل سکیم کے لیے 861000 صارفین نے درخواست دی تھی، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد کو منتخب کیا گیا۔ یہ تمام عمل اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے تحت مکمل کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اسکیم کے تحت منتخب صارفین کو فزیکل ویری فکیشن کے بعد سولر پینل سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ان صارفین کو تربیتی مواد بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔صارفین کی ویری فکیشن ان کے بجلی کے بل پر درج ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے کی جائے گی۔اسکیم کے تحت صارفین کو ہیلپ لائن کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔سولر پینلز اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لیے انہیں صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ہر ضلع میں خصوصی سروس سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں صارفین کو اپنی شکایات اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا جائے گا جہاں صارفین اپنے درخواست کی حیثیت جانچ سکیں گے اور کسی بھی مسئلے کی رپورٹ درج کروا سکیں گے۔

    پنجاب میں ایک لاکھ سولر سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم کے تحت 57 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی۔وفاقی حکومت پر سبسڈی کے بوجھ میں کمی آئے گی۔متبادل توانائی کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جس سے ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔بجلی کی طلب اور رسد میں توازن پیدا ہوگا، جس سے لوڈ شیڈنگ کے مسائل میں کمی آئے گی۔گھریلو صارفین کو بجلی کے بل میں 50-60 فیصد تک کمی کا امکان ہوگا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ اسکیم توانائی بحران کے حل کے ساتھ ساتھ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کا ایک عملی اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم سے پاکستان میں صاف اور متبادل توانائی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ سکیم ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف توانائی کے بحران کا حل پیش کرے گی بلکہ عوام کی زندگی میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔ اگر یہ سکیم کامیابی کے ساتھ چلتی ہے تو پنجاب میں توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ سولر توانائی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے پورے ملک کی توانائی کی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔یہ سکیم نہ صرف صوبہ پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ پاکستان کی توانائی کی پالیسی میں بھی ایک اہم پیشرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

    اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

    اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

  • یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ  ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ارض وسماں کا مالک صرف اللہ،ہماری اکڑ کیسی؟جمہور کے نام نہاد علمبردار قوم کو تقسیم سے بچائیں
    ترقی کا راز قانون کی حکمرانی،متکبر افسر یادرکھیں ،آخر موت ہے،عوام کےخادم بنیں،حاکم نہیں
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    عالمی قوتیں ایک دوسرے کو دھوکہ دے ر ہی ہیں یا امریکہ ا پنے اتحادیوں کو دھوکہ دے رہا ہے ؟ یہ دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ کیا امریکی صدر دنیا کے لئے کچھ نیا کرنے جا رہے ہیں۔ کیا امریکہ فسٹ امریکی صدر کا نعرہ کوئی نئی پالیسی دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ یو کرین سے الگ ہونے کے لئے بے چین کیوں ہے ؟ کیا یہ بین الاقوامی سیاسی ڈرامہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے؟ کیا دنیا امریکی پالیسی کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے امریکی پالیسی کے خلاف جانا دنیا کے لیے ایک غلطی ہو سکتی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک امریکی پالیسی کے حامی ہیں ۔ تاہم امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے اثرات جلد ہی دنیا میں نظر آنا شروع ہو جائیں گے ۔

    پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر تبصرہ کیا کرنا بس قوم سے التجا ہی ہے کہ و طن انسان کی پہچان اور اس کا وقار ہوتا ہے ۔وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اسکی ترقی ، اس کی خوشحالی ، امن وامان میں ہر ممکن تعاون کرے ۔ وطن کی املاک ، سڑکیں ، گلیاں ، اسکول ، ہسپتال ، دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری ہر شہری کی ہے ۔ ملک وقوم کی سربلندی ہر شہری کا خواب ہونا چاہیئے ۔ منتشر اور خستہ حال ملک کے شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔پوری دنیا کی سرزمین اللہ تعالی کی ملکیت ہے پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس زمین پر فتنہ فساد پھیلانے والوں کی بھی باز پرس ہو گی اس زمین پر جتنی بھی نعمتیں ہیں آسمانی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں اس سرزمین کی آغوش میں نہ جانے کتنی نسلیںسو گئیں یہ کائنات صدیوں سے تھی اللہ تعالٰی کے حکم سے رہے گی ہم سب راہ گیر ہیں اور حقیر ہیں آج ہیں کل نہیںہوں گے ۔ نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ دنیا کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی ہے ۔ انصاف ہے ۔ ہمارے اقربا پروری کی انتہا ہے رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فقدان ہے۔ یہ میرا افسر یہ تیرا افسر ، یہ میرا بیورو کریٹ ، یہ تیرا بیورو کریٹ ،تکبر و غرور کی انتہا کی بلندیوں کو چھونے والے سیاستدان ،بیورو کریٹ ، بیوروکریسی کے افسران پولیس کے افسران اوردیگر محکمہ جات میں بیٹھے افسران خدا کی زمین پر اکڑ کر چلنے والے اپنی موت سے بے خبر زمین بوس ہونے والے کب سدھریں گے؟ یاد رکھیئے امریکہ اور یورپ میں مفاہمت اور اتحاد کا پرانا ریکارڈہے دوسری جنگ عظیم کے بعدافغانستان کی جنگ تک یورپ اور امریکہ ہر قدم پر ساتھ رہے ۔ امریکہ یورپ روس یو کرین کی سیاست سے باہر نکلیں ،اسلامی ممالک کے لیے موجودہ عالمی سیاست میں سعودی عرب کا کردار انتہائی اہم ہوگااپنی پالیسیوں پر توجہ دیں.

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی