Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    مﺅلف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    صفحات : 304
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات اپنے موضوع پر شاندار ، لاجواب اور خوبصورت کتاب ہے جسے دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد نے بڑی محبت ، محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے ۔کتاب میں اخلاق نبوی کے چیدہ چیدہ 100واقعات جمع کردیے گئے ہیں ۔ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کرنے ، پڑھنے اور سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ بیمثال ہدیہ ہے ۔بات یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام انسانوں کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے ۔سیرت النبی ﷺ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے ۔ فی زمانہ اس کی ضرورت اس اعتبار سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ معاشرے میں رواداری، تحمل اور برداشت کا فقدان ہے ۔بدتہذیبی اور بداخلاقی حد سے بڑھتی جارہی ہے اس کاحل صرف ایک ہی ہے کہ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کیا جائے ۔ پیش نظر کتاب اس موضوع پر رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اخلاق کے معنی بے حد وسیع ہیں ۔ تمام اچھی صفات کے مجموعے کا نام اخلاق ہے ۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام خوبیاں اللہ کے رسول ﷺ کی ذات با بر کات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کیونکہ آپ کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ ﷺ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔ سیرت کے حوالے سے قرآن و حدیث اور کتب سیرت و تاریخ میں بے شمار معلومات اور واقعات ملتے ہیں ۔ ان واقعات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جن سے ہمیں آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے ۔ سیرت سرور عالم ایک سدا بہار موضوع ہے ۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے کبھی مسلمان سیر نہیں ہوتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا ۔ ہر مﺅلف اپنے انداز میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہارکرتا ہے اور ان کی سیرت پاک کے مختلف پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلاشبہ سیرت پاک پر مختلف زبانوں پر آج تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ہر پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ آپ کی مبارک زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہو ۔

    یاد رکھیے ! کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننا ہوکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاﺅ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، رشتہ داروں ، دوستوں ، گھر والوں ، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا ہے ۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کا تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کے لیے زیر تبصرہ کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ “ کے سنہرے واقعات “ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی من گھڑت ، موضوع ، ضعیف یا خود ساختہ واقعہ درج نہ ہونے پائے ۔ دارالسلام کی اعلیٰ روایات کے مطابق یہ کتاب دیدہ زیب سرورق اور عمدہ جلد بندی کے ساتھ شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین ، بچوں اور جوانوں کےلئے لاجواب تحفہ ہے ۔کتاب کی اہمیت کااندازہ کتاب میں دیے گئے موضوعات سے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب میں شامل کئے گئے چند ایک واقعات کے عنوانات درج ذیل ہیں : ” پیارے بچے ! جاﺅ میرا یہ کام تو کر آﺅ ، جاﺅ بہن ! تمہاری خاطر ان مجرموں کو معاف کیا ، دشمن جاں پر مہربانی ونوازش ، پیارے ساتھی تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ، جب بیٹا باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا ، انھیں جب بھی دیکھا آنکھیں بے اختیار بہنے لگیں ، بھٹکا ہوا خوش قسمت راہی ، غزوہ احد سے بھی زیادہ مشکل دن ، امام الانبیاءکی پاکیزہ جوانی ، میں تو نبوت کی نشانیاں تلاش کررہا تھا ، بچوں پر شفقت اعلیٰ اخلاق کی علامت ، معمولی چرواہے کے لیے منصب جلیل ، گھر میں آکر گالی دینے والوں کے لیے بھی معافی ، بہن کااکرام واحترام ، وہ جو اللہ کے رسول ﷺ کو قتل کردینا چاہتی تھی ، باوفااہلیہ کی یادیں ، غلاموں ، یتیموں اور مسکینوں کے والی “ ۔ کتاب میں دیے گیے باقی موضوعات بھی اسی طرح دلچسپی کے حامل ہیں ۔ موضوع اور واقعاتی اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور ہرفرد کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔
    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

  • پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    ہمارے پیارے ملک کانام ’’ پاکستان ‘‘ ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر دانشمدانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ’’ مسائلستان ‘‘ بن چکا ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو بیشمار اور لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت اور کثرت کا ہے ۔ موسم گرما میں جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور موسم برسات میں جب بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں پاکستان کی ندیاں نالے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو بھارت اپنی طرف کا پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان میں شدید سیلاب آجاتا ہے اور ہرسال لاکھوں ایکڑزرعی اراضی بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے ۔اس وقت بھی یہی صورت حال درپیش ہے جس وجہ سے بے پناہ جانی مالی نقصان ہورہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارت نے اپنی طرف کا پانی ہماری طرف آنے والے دریائوں چھوڑ دیا ہے ۔

    اس کے علاوہ کئی سالوں سے ہمارا ملک لوڈشیڈنگ کے شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے دوسری جانب ہماری حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے صنعتی پہیہ تیز تر گھمانے کے لیے سستی بجلی کی پیدوار کا بڑھایا جانا از حد ضروری ہے۔

    سستی بجلی بنانے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے ۔ پانی نعمت خداوندی ہے ۔ پانی سے زندگی ہے ، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے جہاں پانی نہیں وہاں موت ہے ۔ ماضی میں پانی کی خاطر خون ریز جنگیں ہوئیں۔ مستقبل میں عالمی افق پرجنگوں کے خطرات کے جواسباب منڈلا رہے ہیں، ان میں ایک بڑاسبب پانی ہوگا۔ جنوبی ایشیا۔۔۔ جہاں دنیا کی نصف آباد رہائش پذیر ہے اور پاکستان بھی اسی جنوبی ایشیا میں واقع ہے، یہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب پانی کے ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جتنے بھی ممالک واقع ہیں ان میں سے سب سے سنگین صورت حال پاکستان کو درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھارت کی پاکستان سے ابدی دشمنی ہے۔ بھارتی نیتاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ کی طرح بنجر بنا دیں گے۔ بھارت نے اس مقصد کے لئے 50ملین ڈالر Rotating fund مختص کر رکھا ہے۔ اس سے مراد ایسا فنڈ ہے کہ مجموعی رقم سے اگر دس پندرہ ارب ڈالر نکال بھی لئے جائیں تو اسی وقت حکومت کی طرف سے اس میں اتنے ڈالر جمع کروا دیئے جا تے ہیں۔ بھارت یہ رقم عرصہ دراز سے خرچ کر رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑے آبی ذخائر نہ بن سکیں ۔

    سندھ طاس معاہدہ ایوب خان کے دورمیں ہوا تھا اس معاہدے کی شقیں طے کر نے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان سے جس بیوروکریٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ا س کا نام جی معین الدین تھا چونکہ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن تھا، لہٰذا جی معین الدین دو اڑھائی سال امریکہ میں رہے۔ اسی دوران بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایک خوبرو امریکی دوشیزہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔جی معین الدین امریکی دوشیزہ کی زلف گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ بڑھاپے میں اس سے بیاہ رچا لیاا س طرح جی معین الدین کے تمام کام کی دیکھ بھال اس خاتون نے سنبھال لی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف اپنی مرضی کی شقیں داخل کروالیںبلکہ ان شقوں پرجی معین الدین سے دستخط بھی کروالئے جن میں ایک شق یہ بھی تھی کہ بھارت سندھ، جہلم اور چناب میں سے پینے کا پانی، آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں چاہئے تو یہ تھا کہ جی معین الدین بھارت سے یہ شقیں بھی منواتے کہ پاکستان کو بھی ستلج، بیاس اور راوی سے پینے کے لئے ،آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی ملے گالیکن امریکن خاتون کاسحر اور Rotating Fundاپنا کام کرگیا۔ آج بھارت انہی شقوں کی بنا پر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے ہمارا پانی روک رہا ہے اور ہمارے حصے کے دریاوں پر ڈیم بنارہا ہے۔اس معاہدے سے قبل پانی کی صورت حال کچھ اس طرح سے تھی کہ راوی میں سارا سال پانی بہتا تھااس کی وجہ سے لاہور میں زیر زمین پانی دس فٹ پر دستیاب ہو جاتا تھا، اب راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تشویشناک گر چکی ہے۔ لاہور میں واسا کے جتنے بھی ٹیوب ویل لگے ہیں وہ کم وبیش 800فٹ گہرائی سے پانی کھینچ رہے ہیں۔

    ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے کشن گنگا کا کیس جیتا اور وہاں ڈیم بنا لیا۔ بھارت نے عالمی عدالت میں ہمارے دریاؤں پر حق جتانے کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ پاکستان تو ڈیم بنانا ہی نہیں چاہتااور پاکستان کی ڈیموں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لاکھوں بلین گیلن پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیںا ن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، یعنی ان ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ بھارت کے پاس 120 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی نسبت جاپان کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے سے آدھا ہے اور آبادی بھی بارہ کروڑ ہے۔ جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہنا چاہئیں گے کہ خدارا اب تو بیدار ہو جاؤ مجرمانہ غفلت اور منافقت ترک کرکے اس ملک کی بقا کا سوچو۔ ڈیموں پر سیاست کی بجائے کچھ عملی اقدامات کرو سب سے اہم ترین کالاباغ ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں 6.1 ملین فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرے گا۔ 5000 میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ جب ضیاء الحق کے دور میں ڈیم کی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی تو پھر بھارت کا Rotating Fundحرکت میں آگیا۔ چند لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا، چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ میانوالی جہاں یہ ڈیم بننا ہے، سطح سمندر سے 668 فٹ بلند ہے اور نوشہرہ کی سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ ہے۔کچھ قوم پرستوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی ڈکار جائے گا اور سندھ بوند بوند کو ترسے گا۔ کاش انہیں یہ بات اب بھی سمجھ آ جائے کہ اگر بھارت نے سندھو دریا کا رخ بھی موڑ دیا تو پھر سندھ کہاں سے پانی لے گا، اس تباہ کن صورت حال سے بچنے کا حل کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب کوئی بڑاڈیم تعمیرنہ ہوسکے۔ اس طرح دشمن بغیرجنگ کے پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ملک کا مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے نئے ڈیموں کی تعمیر ۔۔۔۔پاکستان کی قومی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے ضروری ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ہمارے تمام سیاستدان اور سٹیک ہولڈر یک دل ویک جان ہوجائیں اور کالاباغ ڈیم سمیت جہاں جہاں بھی ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بنائے جائیں ۔

  • ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    عمران خان کی سزا کو لے کر قوم کے کچھ دانشور اس کو مکافات عمل قرار دے رہے ہیں اگر یہی سچ ہے کہ ہر ایک کے زوال کو اس کیلئے مکافات عمل کا نام دیا جائے تو عرض ہے کہ اس کا اطلاق محض ہٹلر‘ مسولینی اور چنگیز خان پر ہی نہیں ہوا بلکہ اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلاً اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیحدہ ہوجانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسیس ہے کہ اس دنیائے فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اس کی جگہ کسی دوسرے نے لینی ہے لہذا اس پراسیس کو مکافات عمل دینا ہرگز مناسب نہیں۔
    بقول شاعر
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے وہ عبرت کا نشان بنے۔ ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ بڑی دردناک ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جامعتوں میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ہی ختم ہوتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ سیاست میں جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے نہیں ہیں لیکن ان کی آوازیں دب چکی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ریلوے کیرج فیکٹری کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ
    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ
    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
    پی آئی اے کی لینڈنگ کی وجہ سے سالانہ 71 ارب کا نقصان ہو رہا ہے،اسحاق ڈار
    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا،سعد رفیق

    سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست طبقے کی اکثریت ہے۔ موقع پرست مفاد پرست سیاستدانوں کا تجربہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کو ہے بالخصوص نواز شریف کو بہت زیادہ ہے اور اب عمران خان بھی اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ کسی زمانے میں سیاست نظریے کے گرد گھومتی تھی نظریاتی صحافی تھے اور شاعر بھی تھے آج ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا آج کی سیاست اقتدار اور صرف اقتدار کے گرد گھومتی ہے ۔ ملکی سیاسی جما عتوں کو بالخصوص لیڈر شپ کو دوبارہ نظریاتی سیاست کی پٹڑی پر جانا ہوگا یا اسی میں ملکی مسائل کا حل ہے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کا میں ایک راستہ ہے باقی تمام راستے غلط ہیں مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔ سیاست کے اندر اور سیاسی جماعتوں کو سینہ کوبی کرنے کی بجائے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست کا دروازہ بند کر نا ہوگا ہے۔

  • باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک میں ویسے تو ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک اور دہشت گردی اور انتہا پسندی تک پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں نے اور پولیس نے جس طرح قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا ہے اس کی مثال نہیں ،امریکہ سمیت عالمی دنیا بھی اس کی تعریف کرتی ہے۔ حال ہی میں محرم کے دوران پاک فوج، پولیس نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا عاشورہ بخیر و عافیت سے گزرا۔ لیکن باجوڑ کے دلخراش واقعہ نے ہلاکر رکھ دیا ہے ملک میں حالیہ دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے۔ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان کے عین وقت پر باجوڑ میں دہشت گردی کا واقعہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشمن نے کروایا ہے۔ اسلام آباد کو افغانستان کی حکومت سے احتجاج کرنے کے بجائے امریکہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہئے دو برس قبل دوجہ معاہدے میں طالبان نے ضمانت دی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

    پاکستان نے افغانستان کے قیام امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ایک عالم گواہ ہے کہ پاکستان نے جانی اور مالی قربانیاں دے کر اس خطے میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈر شپ کا چونکہ فقدان ہے اس سلسلے میں وہی پاک فوج اور جملہ ادارے اپنا کردار ادا کریں جنہوں نے لازوال قربانیاں دے کر ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا، ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں لیڈر شپ نہیں ہے پیپلزپارٹی میں نہ بھٹو ہے اور نہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید۔ مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف نہیں اسی طرح باقی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے ملک کی سیاسی فضا الیکشن کو لے کر شکوک و شبہات کے غبار سے آلودہ ہیں۔ الیکشن ہوں گے وقت مقررہ پر ہوں گے یا نہیں ہوں گے کی بحث میں لگے ہیں جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو آئین میں لکھا صاف نظر نہیں آتا انہیں بین الاقوامی سیاسی اتار چڑھائو کیسے نظر آئیں گے ملک میں الیکشن 2023ء میں ہوں یا 2024ء میں امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ، پاکستان میں عمران خان اور بھارت میں راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ عوام کریں ٹرمپ ،راہول گاندھی اور عمران خان کی مشکلا ت میں اضافہ ہو گا یا کم یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تاہم امریکہ بھارتی وزیراعظم مودی کو پہچان گیا ہے مودی چین کی دشمنی میں کبھی امریکہ اور کبھی روس دوڑتے ہیں مودی دوست نہیں دوست نمادشمن ہے۔

  • آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز  ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اتحادی حکومت نے بوقت رخصت بہت سے ترمیمی بل منظور کئے ہیں ۔ ان ترامیم میں کچھ کے ساتھ یقینا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔۔ایک ایسا بل ہے جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔اس بل کے ذریعے صرف فوج کے ڈسپلن کو ہی بہتر نہیں بنایا گیا بلکہ پاک فوج کے وقار اور احترام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔اس بل کی چند اہم ترامیم یہ ہیں :
    کسی بھی دوہری شہریت والے کو فوج میں کمیشن نہیں ملے گا۔ پاکستان اور افواج کی سیکیورٹی اور مفاد سے متعلق معلومات افشا کرنے پر 5 سال قید ہوگی۔راز افشا کرنے والے شخص سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ، برطرفی یا استعفے پر فوجی افسر 2 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔حساس اداروں سے ریٹائرڈ افسران 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شق کی خلاف ورزی پر 2 سال تک قید کی سزا ہوگی۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی افسر بغیر اجازت پاک فوج کے مفادات سے ٹکراﺅ کرنے والے ادارے میں ملازمت نہیں کرسکے گا ۔ کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی الیکڑانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا پر پاک فوج کو اسکینڈلائز نہیں کرے گا،اسکینڈلائز کرنے پرآرمی ایکٹ کے تحت کارروائی اور پیکا قوانین کے تحت سزا ہوگی۔پاک فوج کو بدنام کرنے، نفرت ابھارنے یا نیچا دکھانے پر 2 سال تک سزا، جرمانہ یا دونوں ہو سکیں گے۔

    امر واقعی یہ ہے کہ یہ تمام ترامیم بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں ۔ خاص کر موجودہ حالات میں جبکہ کچھ عناصر ایک منظم طریقے سے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔لہذا ایسے ملک دشمن افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنا بے حد ضروری تھا ۔ اسلئے کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ءکی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کو دندان شکن جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ” سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ان کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت ہے اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔

    9مئی کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار وں، ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ ہو ۔

  • سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    میاں محمد نواز شریف نہایت ہی زیرک مدبراور سیاسی دائو پیچ کے ماہر سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کے زمانہ وزارت عظمٰی کے دوران نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مستحکم کئے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی ۔ لیکن بدقسمتی سے اُن کی حکومت کو ہر بار کسی نہ کسی بہانے گرا دیا گیا۔ عوام کے منتخب وزیراعظم کو کبھی خاندان سمیت جلا وطن کردیا گیاکبھی اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا۔ کبھی راولپنڈی سے لاہور جیلوں میں بند کردیا گیا ۔ جواں سال بیٹی کو بھی والد کے ساتھ جیل میں بند کردیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کون سمجھائے سیاست کے معیار بدل گئے ۔سیاست کے آداب بدل گئے۔ مسلم لیگ(ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت نہ جانے کن لوگوں کے پاس چلی گئی ۔ قوم ایک ہنگامے کا نام بنتی جا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر سے نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آنے لگیں۔ نواز شریف کے دور اقتدار کی حکومتی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے تاہم نواز شریف شرم وحیا والے حکمران تھے آج بھی نواز شریف کے حسن سلوک کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی گلیاروں میں ہنگامے کی ایک وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور اس فقدان کا سامنا مسلم لیگ(ن) کو بھی ہے۔ معاشی بحران اتنا بھی بے قابو نہیں جسے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کیا پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہیں بچایا؟

    لیکن نواز شریف کی ہی جماعت کے کچھ لوگوں نے اسحاق ڈار کو نشانے پر رکھا۔ جس طرح پورے ملک میں خوراک ملاوٹ شدہ دستیاب ہے اسی طرح سیاست میں بھی ملاوٹ ہو چکی ہے ۔ ملاوٹی سیاستدانوں نے عوام کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے ۔ پنجاب میں یکے بعد دیگرے واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے بہاولپور یونیورسٹی اور دوسرا گھریلو معصوم بچی پر وحشیانہ تشدد، یونیورسٹی کی بچیاں اور گھریلو ملازمہ گلشن وطن کا سرمایہ ہیں ۔ ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے مگر افسوس 75 سال ہو گئے ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انسانیت سوز وحشیانہ پن کے سدباب کے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔

  • ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    دوستو آپ نے انڈین فلم کا ایک گانا تو ضرور سُنا ہوگا ”
    پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا” اور اسی گانے کو چھانگا مانگا چوکی کوڑے سیال پیٹرولنگ پوسٹ کی کانسٹیبل سمیرا صدیق نے سچ کر دیکھایا سمیرا صدیق نے پاکستان کی تاریخ میں فرض شناسی کی انوکھی مثال قائم کردی۔

    خبر کے مطابق پنجاب ہائی وے پیٹرول پولیس کی ہیڈ کانسٹیبل سمیرا صدیق ناکے پر کھڑی چیکنگ کررہی تھیں کہ اسی دوران اچانک ان کے والد صاحب موٹر سائیکل پر رونما ہوئے سمیرا نے دیکھا کہ والد صاحب نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تو اُس کے دماغ میں پاسنگ آوٹ پریڈ پر اُٹھایا حلف گونج اُٹھا کہ "قانون کی راہ میں سگا باپ بھی آجائے تو اُسے معاف نہیں کرنا "چناچہ سمیرا نے فرض کی راہ میں سگے باپ کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا اُس نے ساتھ کھڑی ساتھی کانسٹیبل کو کہا ویڈیو بناو میں زرا ابا جی کا چالان کر لوں اور پھر ہیلمٹ نہ پہننے کی پاداشت میں سمیرا نے اپنے والد کا چالان کردیا اس پر بھی سمیرا کا دل نہ بھرا ساتھ جرمانہ کی رقم مبلغ دو سو روپے بھی اباجی سے وصول کرلی جو صدیق والد سمیرا نے ہنسی خوشی بیٹی کو ادا کردی

    سمیرا صدیق کے والد نے کہا کہ میری بیٹی نے میرا چالان کیا اور 200 روپے بھی وصول کیے، مجھے خوشی ہوئی ہے میری بیٹی نے ایسا کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ باپ ہو یا ماما ہو سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے میں آئندہ میں رات کو بھی ہیلمٹ پہن کر سوں گا اور قانون کبھی نہیں توڑوں گا

    لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر والے بھی قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے توان کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

    میں لیڈی کانسٹیبل سمیرا کی فرض شناسی اور قانون پر عملدرامد کے اس جزبہ کی قدر کرتا ہوں اور ایک مشورہ بھی دیتا ہوں بیٹا یہ غریب تو آپ کا اپنا ابا تھا جس نے خاموشی سے چالان کروایا اور جرمانہ بھی ادا کردیا لیکن اگر تُم نے اسی طرح کی فرض شناسی میں کبھی کسی مریم نواز کے ابا،بلاول کے ابا،قاسم کے ابا،مولانا مسعود کے ابا یا اُنکی پارٹی کے دیگر اباوں کا چالان کرنے کی کوشش بھی کی تو نہ یہ چالان بک رہے گی اور نہ چالان کرنے والی سمیرا صدیق

  • ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    پیش نظر کتاب”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ محض بیان سیرت نہیں بلکہ امت کوبیدارکرنے اور ہمیں خانوادہ بنوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔یہ دونوں روضہ¿ نبوت کے خوشنما پھول ہیں جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے ۔سبط رسول جناب حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول ﷺ چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔ پیش نظر کتاب” سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ اپنے موضوع پرنہایت ہی عمدہ کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں ۔ وہ سید سادات میں سے ہیں۔ مملکت بحرین کے نامورسکالرہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ”یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعہ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

    اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ”دارالسلام “ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز بڑا آسان اور عام فہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ان شاءاللہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے بڑا سکون اور روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔ میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھے جناب سیدناحسن اورجناب سیدناحسین رضی اللہ عنھما کے گھرانے کے ساتھ محبت کرنے والوں میں شمار کرے۔“

    حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کوخاندان اہل بیت اور سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکی زندگی کے تمام گوشوں سے متعارف کراتی ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،دادا ،نانی دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 890روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سرگودھا میں ایک غریب گھریلو ملازمہ بچی کو معاشرے کے پڑھے لکھے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے والوں نے جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس پر لکھیں توکیا لکھیں؟ انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا لکھا جائے۔ دست قلم لرز رہا ہے۔ عقل و دماغ مائوف، ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ بھلا ہو پولیس کا،جنہوں نے تشدد کرنے والی ایک سول جج کی بیگم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پنجاب پولیس میں ڈی پی او سرگودھا جیسے ایماندار فرض شناس آفیسر موجود ہیں بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا جنہوں نے اس محکمہ میں مداخلت اتنی کی کہ یہ اپنی آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس میں قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنے والے افسران موجود ہیں۔

    عرب نیوزمیں ڈاکٹر علی عواد اسیری جو پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف ایک مشکل لیکن نتیجہ خیز مدت کے اختتام کے قریب ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات جس میں اہم پالیسی فیصلے کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں جی سی سی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری بحران سے دوچار معیشت کو جی سی سی پائیدار ترقی کی جانب مستحکم راستے پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی عواد اسیری لکھتے ہیں شہبازشریف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا مالیاتی ڈیفالٹ کے دہانے پر موجود ملک کو وراثت میں ملا تاہم پاکستان اتنا مستحکم ہے کہ نگران سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں اختتام پذیر ہوا۔ چائنا پاکستان کو ریڈور بحال ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔ سب سے بڑی قابل ذکر بات سول ملٹری تعاون نے جی سی سی اقتصادی میدان میں توسیع کی ہے جس سے سرکردہ معیشتوں کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں شہبازشریف نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اچھا کام کیا ہے امید ہے مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی خاص طور پر ترقی پذیر جی سی سی شراکت داری کے حوالے سے، قارئین ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کے بیورو کریٹ سول انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

  • کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سینیٹر اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہ صرف بچایا بلکہ مایوسی کا شکار ہونے والی بزنس کمیونٹی کو معاشی اعتماددیا اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کو اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب بھی کیا ۔ جس کی ملک وقوم کو شدید ضرورت تھی۔ وزارت خزانہ کے اختیارات سنبھالتے ہی ملکی معیشت کو بے یقینی کے منجدھار سے نکالنے کے لئے ایک انتھک ملاح کیط رح وطن عزیز کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا۔ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی صدائوں کے شور میں اسحاق ڈار ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔ ایک ہی جوا ب تھا اللہ کی مدد سے پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ اب اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو اُس کے پیچھے بھی ملکی معیشت کا مستقبل ہے ۔ اسحاق ڈار موجودہ اور مستقبل کے معاشی درپیش چیلنجز سے مکمل باخبر ہیں موجودہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بحث جاری ہے ۔ الیکشن کب ہوں گے اگر ہوں گے تو وزیراعظم کون ہوگا مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں تاہم ابھی تک اس موضوع پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت محمد نواز شریف کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتی ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم کرسی ایک اور اُمیدوار دو ہیں۔ا لیکشن ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لیں گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ غیر جانبدار سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ ہو گاتاہم کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی اور مذہبی جماعتیں بھی سیٹیں حاصل کریں گے۔ آمدہ قومی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی وہ پی ڈی ایم طرز کی ہی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی اور افواہ سازی سے کام نہ لیا جائے صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن اپنے مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔