قصور
الہ آباد میں نوجوان موٹرسائیکل سوار ٹرالی کی ٹکڑ سے جانبحق ڈرائیو موقع سے فرار
تفصیلات کے مطابق الہ آباد ارزانی پور کا رہائشی محمد پرویز موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر کی طرف جا رہا تھا کہ مین روڈ پر تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آ گیا جس سے پرویز کو کافی چوٹیں آئی اور وہ موقع پر ہی جانبحق
نوجوان پرویز عمر اسامہ سٹور پر کام کرتا تھا
ٹریکٹر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا
پولیس نے مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کر دی
Author: غنی محمود قصوری

موٹر سائیکل سوار ٹرالی کی ٹکر سے جانبحق

تیز بارش جاری،رات کا سماں
قصور اور گردونواح میں کالی گھٹاؤں تیز ہواءوں کیساتھ بارش جاری دن میں رات کا سماں
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں آج صبح سے گرج چمک کیساتھ تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے بہت گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں جس سے دن میں رات کا سماں بن گیا ٹھنڈی تیز ہواءوں کی بدولت موسم مذید سرد ہو گیا ہے تیز بارش کی بدولت لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جس سے سکولوں میں حاضری کم ہی ہو گی اور چھٹیوں کے بعد آج سکول پہلے دن ہی کھلے ہیں
امن امان کی بحالی کیلئے صحافیوں کا دورہ
قصور اور گردونواح میں وارداتیں عروج پر صحافیوں کی تھانہ راجہ جھنگ میں ایس ایچ او سے ملاقات
پریس کلب راؤخانوالا اور پریس کلب راجہ جنگ کے نمائندگان نے تھانہ راجہ جنگ کے گردونواح میں ہونی والی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کے پیش نظر ایس ایچ او تھانہ راجہ جنگ سے ملاقات کی اور تشویش کا اظہار کیا
تھانہ راجہ جنگ کے مطابق مختلف مقامات پر ناکہ بندی کا اہتمام کیا گیا ہے اس سلسلے میں آج مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں اور کچھ لوگوں کو تفتیش کے لیے زیرحراست لیا گیا ہے
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ہر صورت حالیہ وارداتوں کے پیچھے متحرک ڈاکوؤں کو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے لائیں گے اور میڈیا کو بھی لمحہ بہ لمحہ تمام صورتحال سے باخبر رکھیں گے
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جلد آپ کو اچھی خبر بھی دی جاۓ گی
ڈسٹرکٹ بار کے نتائج،مہر سلیم کامیاب
قصور
کل ہوئے ڈسٹرکٹ بار کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار مہر محمد سلیم کامیاب
تفصیلات کے مطابق ڈسرکٹ بار قصور کے الیکشن میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار محمد سلیم مہر کامیاب ہو کر صدر بار ایسوسی ایشن منتخب ہو گئے
۔محمد سلیم مہر نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے حمایت یافتہ مرزا نسیم الحسن سے 29 ووٹ زائد حاصل کئے جبکہ
جنرل سیکرٹری کی نشت پر مہر عمران منتخب ہوئے ہیں اس موقع پر تاجر ،صحافی و سیاسی شحضیات نے مہر محمد سلیم کو کامیابی کی مبارکباد دی
مہنگائی کے مارے شہری برس پڑے
قصور
لوگ پی ٹی آئی گورنمنٹ سے سخت مایوس امید کی کوئی کرن نہیں
تفصیلات کے مطابق نمائندہ باغی ٹی وی نے قصور کے شہریوں سے ان کے مسائل کے متعلق بات چیت کی تو گفتگو کرتے ہوئے شہریوں محمد عامر جٹ،شفیق سیال ،غلام رسول گجر و دیگر نے بتایا کہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے ہماری مشکلات میں شدید ترین اضافہ ہوا ہے مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ضروریات زندگی کی اشیاء پہلے کی طرح نہیں خرید سکتے اس مہنگائی کے دور میں ہمیں دو وقت کی روٹی ہی مل جائے یہی غنیمت ہو گی شہریوں نے مذید کہا کہ پچھلی حکومت میں کچھ خوشحالی تھی جو کہ اب عمران خان کے آنے سے بدحالی میں تبدیل ہو گئی ہے اور عمران خان کو اللہ سے ڈرنا چاہے کل روز قیامت اپنی وعدہ خلافیوں کے متعلق کیا جواب دینگے لوگوں نے کہا کہ اب تک کوئی نئی سڑک تو دور کی بات کسی منصوبے کی ایک اینٹ تک نہیں لگی لہذہ ہمارے حال پر رحم کیا جائے اور عمران خان صاحب اپنے وعدے پورے کریں ورنہ اگلی بار پھر کوئی اور ہی آئے گا یہ جیت نا سکینگے
"تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری
اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے
محمدیہ تھیلیسمیا فاءونڈیش مدد کی منتظر
قصور
کنگن پور و گردونواح کے تھیلیسمیا میں مبتلا 23 معصوم بچے حکومتی توجہ کے منتظر مقامی این جی او محمدیہ تھیلیسمیا فاؤنڈیشن کنگن پور بچوں کی زندگیوں کی سانسیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم
تھیلیسمیا ایک خطرناک بیماری ہے جس کا مریض بچہ دوسرے لوگوں کے خون کا منتظر رہتا ہے ایسے مریض کو کم سے کم ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہتا ہے زیادہ تر ان مریض بچوں کی عمریں 20 سے 25 سال تک ہی ہوتی ہیں پھر یہ افراد خالق حقیقی کے پاس چلے جاتے ہیں یوں تو قصور میں تھیلیسمیا کے مریضوں کی کافی تعداد ہے مگر قصور کے شہر کنگن پور میں مقامی لوگوں پر مشتمل تنظیم محمدیہ تھیلیسمیا فاؤنڈیشن اپنی مدد آپ کے تحت ایسے بچوں کو بغیر رنگ و نسل و مذہب کے خون پہنچا رہی ہے ان بچوں کو ہر ہفتے کنگن پور سے لاہور لیجایا جاتا ہے اس تنظیم کی ذاتی گاڑی نہیں پھر بھی یہ تنظیم بچوں کو گاڑی کرایہ پر حاصل کرکے لاہور لے کر جاتی ہے اور باقاعدہ خود سے ان بچوں کیلئے خون کا انتظام بھی کرتی ہے مگر افسوس کہ حکومتی سطح پر ان بچوں کیلئے قصور میں کچھ خاص نہیں تنظیم کے کارکن احسن جمال نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ عرصہ 4 سال سے ہم یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ مقامی لوگ تعاون کرتے ہیں پھر ہم ان غریب بچوں کو ہر ہفتے قصور سے لاہور لے کر جاتے ہیں اور ان کو خون لگواتے ہیں تنظیم کو مالی مدد کے علاوہ خون عطیہ کرنے والے افراد کی سخت ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی سانسیں بحال رہ سکیں تنظیم نے مخیر حضرات سے تعاون کی بھی اپیل کی ہے
سپیشل برانچ قصور کی بڑی کاروائی
قصور
سپیشل برانچ قصور کی بڑی کاروائی کرپشن میں ملوث اہلکار معطلتفصیلات کے مطابق قصوراسپشل برانچ کی رپورٹ پر کرپشن میں ملوث سیکورٹی انچارج معطل سب انسپیکٹر محمد فیاض کو معطل کر دیا گیا
ایس آئی محمد فیاض کئی سالوں سے سیکورٹی برانچ کی اہم پوسٹ پرتعینات تھا اور کرپشن کر رہا تھا
فیاض کی کرپشن بارے اسپشل برانچ قصور نے بڑی جستجو اور لگن سے تحقیق کی پھر آر پی او کو رپورٹ بھیجی جس پر آر پی او شیخوپورہ ریجن نے فیاض کو معطل کر کے پولیس لائن بھیج دیا
ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن
قصور
چونیاں میں سرکاری زمین کو واگزار کروانے کے لئے آپریشن جاریتفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں قبضہ مافیا کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں سرکاری زمین پر با اثر افراد کا قبضہ تھا جسے واگزار کروانے کیلئے آپریشن کیا جا رہا ہے
470 کنال سرکاری زمین کو واگزار کروا لیا گیا ہے
کاروائی تحصیل چونیاں موضع مانک میں کی گئی ہے
زمین کی کل مالیت 11 کروڑ 75 لاکھ روپے ہے
21 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کروا دیا گیا ہے
اشتہاری ملزمان گرفتار شہری پر سکون
قصور
تھانہ صدر چونیاں پولیس کی کاروائی، تین مجرمان اشتہاری گرفتار
تفصیلات کے مطابق ملزمان چوری ڈکیتی و قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے جن سے تفتیش جاری ہے عرصہ دراز سے پولیس کے لئے سر درد بنے ان ملزمان کی گرفتاری پر لوگوں نے سکون کا اظہار کیا ہے ملزمان پولیس کو کئی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے مگر ہر بار چکمہ دے کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے تھے ڈی ایس پی چونیاں شمش الحق درانی اور ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے پولیس ٹیم کو خطرناک اشتہاری ملزمان پکڑنے پر شاباش دی ہے









