قصور
نواحی گاؤں مہالم کلاں میں بچیوں کے سکول کے سامنے تالاب معصوم بچیاں گندے پانی سے گزر کر سکول جانے پر مجبور اے سی و ڈی سی قصور اپنے کمروں میں بیٹھ کر دعوے کرنے تک محدود
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مہالم کلاں میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مہالم کلاں کی معصوم بچیاں سکول کے سامنے بنے گندے جوہڑ کے پانی سے گزر کر سکول جانے پر مجبور ہیں جب بھی بارش ہوتی ہے جوہڑ کا گندہ پانی سکول میں بھی داخل ہو جاتا ہے جس سے طالبات کے علاوہ ٹیچروں کو بھی سخت پریشانی ہوتی ہے مگر افسوس کہ ڈی سی و اے سی قصور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اس سکول کی حالت ان تک شاید پہنچی نہیں یا پھر انہیں اپنے دفتروں میں بیٹھ کر بلند و بالا دعوے کرنے کی عادت ہے
اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور سے استدعا کی ہے کہ ہمارے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ہمارے بچوں کو بیماریوں سے بچائیں اور سکول کے سامنے سے جوہڑ کو ختم کروائیں
Author: غنی محمود قصوری
-

سکول کے سامنے جوہڑ ،پانی گلیوں کے علاوہ سکول میں
-

لیسکو قصور اہلکاران سمجھے سخت زبان
قصور
لیسکو قصور کوٹ رادہاکشن کا ستایا شہری عدالت پہنچ گیا ایس ای قصور ،اسسٹنٹ مینیجر آپریش کوٹ رادہاکشن اور ایس ڈی او سب ڈویژن راجہ جنگ کہتے تھے ہم کچھ نہیں کر سکتے مگر عدالت کے ایک ہم حکم پر سب کرنے پر مجبور ہو گئے
تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن راجہ جنگ کے صارف محمد شہباز نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ میری آٹا چکی کے میٹر حوالہ نمبر 46117531326100 کو نومبر 2019 میں 133855 روپیہ بل آیا جس میں 78000 روپیہ بل ایڈجسٹ انسٹالمنٹ تھا جو کہ سراسر غیر قانونی اور بے بنیاد طور پر ڈالا گیا تھا جس پر صارف ایس ڈی او سب ڈویژن راجہ جنگ کے پاس گیا تو موصوف نے کہا قسط کروا لو اس کے علاوہ کوئی حل نہیں جس پر اس کے بل کی قسط 56000 روپیہ کر دی گئی جو اس نے ادا کر دی مگر اگلی بار پھر بل 126567 روپیہ آگیا جس پر صارف ایس ای لیسکو قصور کے پاس گیا تو موصوف نے کہا ہمارے بس میں کچھ نہیں لحاظہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تنگ آ کر شہری جناب سعید اختر سول جج درجہ اول قصور کی عدالت پہنچ گیا جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اسسٹنٹ مینیجر لیسکو کوٹ رادہاکشن کو حکم جاری کیا کے صارف کو ناجائز ڈالی گئی رقم بل سے نکالے جائے جس پر وہی واپڈا اہلکاران جو کہتے تھے ہم کچھ نہیں کر سکتے وہ 126567 بل کو 44610 روپیہ کرنے پر مجبور ہو گئے -

جاز ہٹ دھرمی میں سب سے اگے
قصور
لوگ تنگ آ کر کہنے پر مجبور ہو گئے کہ
جاز کمپنی ہٹ دھرمی بے شرمی میں سب سے آگے دنیا کو بتا دو
تفصیلات کے مطابق نمائندہ باغی ٹی وی سے قصور کے نواحی علاقے راءو خان والا میں پچھلے 12 دن سے جاز نیٹ ورک بہت سلو ہے لوگ گھر کی چھتوں پر جا کر کال کرنے اور سننے پر مجبور ہیں جس کی بدولت لوگوں نے بیسیوں بار جاز ہیلپ لائن پر شکایات بھی کیں مگر ہر بار تسلیاں ہی ملیں جبکہ ایریا سیل فون جاز کے نمبر پر 03006598666
پر رابطہ کرکے بھی شکایات کی گئیں مگر ہر بار تسلیاں اب تو مطلوبہ موبائل نمبر نے بھی کال سننا چھوڑ دیا ہے لوگ انتہا کی حد تک پریشان ہو چکے ہیں مگر کمپنی کو کوئی پرواہ نہیں
لوگوں نے کہا ہے کہ ہم سمیں دوسرے نیٹ ورک پر منتقل کروانے پر مجبور ہو چکے ہیں لہذہ پی ٹی اے اس کمپنی کے خلاف کاروائی کرے اور ان کا لائسنس معطل کیا جائے -

تالاب سے گزر کر سکول جانے والا راستہ
قصور
چونیاں کے علاقے میں سکول کو جانے والا انوکھا راستہ
بچے پانی سے گزر کر سکول جانے پر مجبور
تفصیلات کے مطابق گورںنمنٹ ہائی سکول الہ آباد راستہ تالاب میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سے گزر کر تقریباً 2000 کے لگ بھگ طلباء اور اساتذہ سکول جاتے ہیں
یہ شہر کے سیوریج کا گندہ پانی ھے جو کہ میونسپل کمیٹی الہ آباد کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
ویسے تو پورے ضلع قصور کی حالت بہت خراب ہے مگر الہ آباد کے شہری ہر قسم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں
اے سی چونیاں عدنان بدر کو شہر الہ آباد میں سیوریج کی نکاسی کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر کروانے کے لئے فورا ایکشن لینا ہو گا ورنہ یہ مستقبل کے معمار سکول جانے سے جان چھروائینگے -

ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری
اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
(سنن نسائی 5495)
پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں -

ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد
قصور
کوٹ رادھا کشن میں ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد
گھر کے مکین شدید خوف زدہ
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادہاکشن میں نہر کنارے آباد ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد ہوئے ہیں گھر کے مکینوں نے اتنے سانپ دیکھ کر شور مچایا تو اہل علاقہ نے چیخ پکار سن کر متعلقہ گھر کی طرف دوڑ لگا دی اور دیکھا کہ
گھر کے مکین سہمے ہوئے ہیں لوگوں نے فوری ریسکیو 1122 کو کال کی
ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تمام سانپوں کو زندہ پکڑ کر ڈبے میں بند کر دیا اور ساتھ لے گئے -

اڑھائی سالہ بچے پر کتے کا حملہ
قصور
الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھرمار اڑھائی سال کے بچے کو منہ اور ہاتھ پر کاٹ کر لہو لہان کر دیا ہسپتال میں ویکسین موجود نہیں ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچے کو چیک کرنا بھی گوارا نا کیا تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھر مار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے گزشتہ روز بھی بچوں کو کاٹنے کے تین کیس سامنے آئے ہیں مولا پور روڑ کے رہائشی اڑھائی سالہ اذان گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ آوارہ کتے نے منہ اور ہاتھ بری طرح نوچ ڈالا جسے فوری طور پر آر ایچ سی الہ آباد میں لیجایا گیا یہاں ڈاکٹرز نے چیک کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور ویکسین نا ہونے کا کہہ کر چونیاں ریفر کر دیا والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سی قصور اور دیگر باعلی حکام سے فوری ویکسین کی دستیابی اور آر ایچ سی الہ آباد میں تعینات بدتمیز عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

پرائیوٹ ٹیسٹ 350 جبکہ سرکاری ہسپتال 630
قصور
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں مریضوں کی کھال اتاری جانےگی باہر سے 350 روپیہ کے ٹیسٹ سرکاری ہسپتال سے 630 میں
تفصیلات کے مطابق شہری محمد رفیق نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے چند سالوں سے جوڑوں کی درد کا مسئلہ ہے جس کے علاج کیلئے میں پچھلے سال ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور گیا جہاں پر میرا کمپلیٹ یورین ٹیسٹ اور ای سی جی ٹیسٹ کرکے مجھ سے 210 روپیہ وصول کئے گئے تھے اب چند دن پہلے وہی مسئلہ بنا تو پھر میں ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور گیا جہاں وہی ٹیسٹ پھر کئے گئے مگر اب مجھ سے 630 روپیہ لئے گئے جبکہ میں نے باہر لیبارٹری سے ان ٹیسٹوں کے متعلق پوچھا تو مجھے ان دونوں ٹیسٹوں کی فیس 350 روپیہ بتائی گئی اور مجھے ایک بلسٹر پیک 10 گولی کالپول دے کر فارغ کر دیا گیا
اس سے قبل بھی لوگوں نے میڈیا نمائندگان کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں پرائیویٹ لیبارٹریز سے زیادہ پیسے ٹیسٹ فیس کی مد میں لئے جا رہے ہیں جوکہ سراسر نا انصافی ہے لحاظہ وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت نوٹس لیں اور غریب لوگوں کو ان کا حق دلوائیں کیونکہ گورنمنٹ عوام سے ٹیکس انہی سہولیات کیلئے لیتی ہے -

اے سی کوٹ رادہاکشن کی زبردست کاوش
قصور
اے سی کوٹ رادہاکشن کی بدولت شہر میں صفائی کا نظام بہتر ہوا
تفصیلات کے مطابق اسٹنٹ کمشر کوٹ رادہاکشن نازیہ موہل صاحبہ کی کوششوں سے شہر کوٹ رادھاکشن میں صفائی ستھرائی کا کام نہایت کم عملے کے ساتھ تبدیلی ہو چکا ہے شہر کے بازاروں و پارکوں اور ںبس اڈا میں ہر جگہ صفائی کے حوالے سے تبدیلی نظر آ رہی ہے
لوگوں نے مس نازیہ موہل کو شہر کی صفائی ستھرائی کا نظام بہتر کرنے پر شاباش دی ہے -

کوٹ رادہاکشن میں ڈاکو بے لگام ،پریشان عوام
قصور
کوٹ رادھا کشن میں ﮈکیتیوں کی بدولت خوف و ہراساندرون شہر میں مختلف مقامات پر ﮈکیتی کی تین وارداتیں
مسلح ﮈاکوؤں نے پولیس چوکی سے چند گز کے فاصلےپر فرحان نامی نوجوان سے گن پوائنٹ پرگیارہ ہزار روپے لوٹ لئے
3 عدد مسلح ﮈاکو کالے رنگ کی ہنڈا سی جی 125 پر سوار تھے
واردات کے بعد شہریوں کی جانب سے ﮈاکوؤں کو پکڑنے کی کوشش میں مسلح ﮈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی
دوسری جانب اعظم پلازہ میں بھی مسلح ﮈاکوؤں نے ایک موٹرسائیکل شو روم اور میڈیکل سٹور مالکان کو لوٹ لیا
مسلح ﮈاکوؤں نے شو روم مالک سے دو لاکھ 75 ہزار جبکہ میڈیکل سٹور مالک سے پندرہ سو روپے لوٹے
تینوں وارداتوں میں ﮈاکو شہریوں سے لوٹ مار کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے