Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریرجویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • راجہ داہر کے پیروکار ۔۔  جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔ تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)
    سندھ کے کٹر قوم پرست مقامی رہنما عطا بھنبھرو کی وصیت کے مطابق انکی تدفین انوکھے انداز میں کی گئی
    وصیت کے مطابق جنازہ نماز ادا نہیں کی گئی اوندھے منہ دفن کر کے انکی قبر کو زنجیروں سے باندھا گیا
    عطا محمد بھنبھرو نے وصیت میں لکھا تھا کہ وہ اسلام کو ایک فریب سمجھتے ہیں اسلئے انکا جنازہ نہ پڑھا جائے اور جب تک سندھ آزاد نہ ہو انکی قبر کے اطراف زنجیریں باندھکر انہیں قید رکھا جائے اور قبر میں اوندھے منہ لٹایا جائے ۔۔ ان کی تدفین میں ان کے خیالات کے حامی کئی نام نہاد دانشور بھی شریک ہوئے جن میں شاہ عبد الطیف بھٹائی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ساجد سومرو بھی شامل تھے جنہوں نے زنجیریں باندھیں ۔۔
    کچھ عرصہ قبل راجہ داہر کو دھرتی کا بیٹا ثابت کرنے ۔ محمد بن قاسم کو ظالم و جابر قرار دینے اور راجہ داہر کا مجسمہ نصب کرنے کا تماشہ لگایا گیا ۔
    اور اب یوں سرعام شعائر اسلام کی توہین و انحراف ۔ سندھ کو مقبوضہ قرار دینے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ اس انوکھے واقعے کی خوب تشہیر بھی کی گئی ۔
    سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے ۔ کیا یوں شعائر اسلام کی توہین کرنا اور ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا آسانی سے قبول کر لیا جائے گا ۔ ایک سرکاری ملازم پروفیسر سندھ کے مقبوضہ ہونے کی اس ساری کارروائی کا روح رواں ہے ۔۔ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کے بڑے عہدے کن ہاتھوں میں ہیں ۔ یہ اپنے طلبہ و طالبات کو کیا سیکھا رہےہیں۔۔ کیسی نسل تیار کی جا رہی ہے۔۔ یہ ایک بڑا سوال ہے ؟؟
    اگر کسی داڑھی والے دیندار نے ایسی حرکت کی ہوتی کہ ایک حصے کو مقبوضہ قرار دیکر علامتی احتجاج کرے تو اب تک ادارے حرکت میں آ چکے ہوتے ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا چیخ چیخ کر گلے پھاڑ چکا ہوتا ۔۔۔ لیکن چونکہ وہ قوم پرست اور لبرل و سیکولر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سب جائز ہے اور کوئی ایکشن نہیں ہو گا ۔۔۔

  • سنتھیا کی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش،جنرل حمید گل امریکہ میں کیا آفر ہوئی؟ عبداللہ گل کا تہلکہ خیز بیان سامنے آگیا

    سنتھیا کی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش،جنرل حمید گل امریکہ میں کیا آفر ہوئی؟ عبداللہ گل کا تہلکہ خیز بیان سامنے آگیا

    سنتھیا رچی نے 10سال بعد خاموشی کیوں توڑی، بھارت کی دنیا میں جگ ہنسائی کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش، جنرل حمید گل رح کو امریکہ میں کیا آفر ہوا ؟محمد عبداللہ حمید گل کا تہلکہ خیز بیان سامنے آگیا

    محمد عبداللہ حمید گل کا کہنا ہے کہ سنتھیا کے پی پی پی کے رہنماؤں پر لگائے گئے تمام الزامات تحقیقات ہونی چاہیئں جو اس سب میں ملوث ہیں جن کے خلاف ثبوت ہیں اور ان کی سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہیئے اور اگر اس کے اندر کوئی اور بات نکلی تو یہ ہے سوال ہےکہ کیا پھر سنتھیا کو سزا ملے گی؟

    باغی ٹی وی : سنتھیا کو ضرور انصاف ملنا چا ہئے اس میں کوئی دوراہے نہیں کہ اس کے اوپر ظلم ہوا ہے اور کسی بھی خاتون کی عزت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ پاکستان میں مہمان بھی ہیں اور ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کا بہت افسوس ہے انہوں جو شواہد لوگوں تک پہنچائے ہیں اپنی عدلیہ اور حکومت پاکستان کے اوپر پورا بھروسہ ہے کہ ان کو وہ انصاف ضرور دلائیں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خاموشی دس سال کے بعد کیسے ٹوٹی ؟
    https://www.youtube.com/watch?v=u6J1y7hkQ0U
    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں وہ پاکستان میں سیاح بن کے آئیں جس وقت بم اور دھماکے ہو رہے تھے اور حالات دگر گوں تھے تو پھر کیا وہ ایک ایسے ملک میں سیاحت کرنے آئیں تھیں تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دس سال سے پاکستان میں مقیم ہیں ان کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ وہ اپنا ذریعہ آمدن بتائیں چوتھا کہ انہوں نے بہت سینئیر لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈالی ہوئی ہیں تو وہ کس حیثیت میں ملاقاتیں کر رہیں ہیں ایک ایسے ملک میں وہں آئیں سیاحت کرتی رہیں پھر اچانک ایوان بالا تک پہنچ گئیں ہم اور آپ بھی بیرون ملک جاتے ہیں تو کیا وہاں کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں اور یہ خواہش بیدارتو ہم خود کرتے ہیں نا

    محمد عبداللہ نے بتایا کہ میرے والد جنرل حمید نے مجھے بتایا کہ وہ جب 1980ء کی دہائی میں کوبرا ہیلی کاپٹر کی خریداری کے لئے فورناکس امریکہ گئے تو انہوں نے باقاعدہ وہاں بیک مین کے طور پرانتہائی خوبرو خاتون کوملازمہ کے طور پر بھیجا انہوں نے کہا کہ وہ مجھے کہیں سے بھی فوجی عورت نہیں لگ رہی تھی انہوں نے اس عورت کو یہ کہتے ہوئے واپس بھیج دیا کہ ہماری اسلامی روایات کے مطابق اور خاندانی اقدار کے مطابق میں اس خا تون سے کوئی مدد نہیں لینا چاہتا انہوں نے بتایا کہ دنیا کی تمام مغربی انٹیلی جینس ایجنسیاں عورتوں کا سہارا لے کر کام کرتی ہیں اور بڑی بڑی جگہوں تک رسائی کرتی ہیں

    ای مارکر بھی ایک صحافی تھیں جب نواز شریف صاحب وزیراعظم تھے تو انہوں نے ان کے حوالے سے کچھ معیوب باتیں کہی تھیں اس طرح رشینا العین تھیں-

    انہوں نے بتایا کہ 40 فائن کرسٹین فئیر نے کتاب لکھی جن کی پہلے بہت آؤ بھگت کی گئی اور وہ افواج پاکستان کے سب سے بڑے آفیشل سے ملیں اور اس کے بعد پاکستان کے لئے اخبارات کی حد تک اچھے بیانات دیئے لیکن جب کتاب لکھی تو بالکل الٹ اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان پر انتہائی غلط قسم کے الزامات لگائے اسی طریقے سے کری شیفل نے بھی بڑی گھناؤنی کتاب پاکستان کے خلاف لکھی جبکہ پاکستان نے ہمیشہ سب کو عزت دی اور تعظیم کی لیکن لوگوں نے اس کا غلط مطلب نکالا

    انہوں نے امریکی جاسوس کے بارے میں بتایا کہ ریمن ڈیوس نے یہاں آکر قتل کئے وہ جاسوس تھا پوری دنیا کو یہ معلوم ہے اور اس کے بعد وہ نکل گیا اور اس نے کتاب لکھی جو پاکستان کے خلاف اور ٹوٹل جھوٹ کی بنیاد ہے اس کتاب کے اندر ایک روپے کی بھی حقیقت نہیں –

    عبداللہ حمید گل نے کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پوری دنیا پر ہندوستان کی بے عزتی ہو رہی ہے اور پوری دنیا پر ان کا ایک مکروہ اور ایک دہشت گردانہ چہرہ ہے وہ ان کا سامنے آگیا ہے بی جے پی کا سب کو معلوم ہے اس کے کیا عزائم ہیں بی جے پی دنیا جہان کے اندر بے نقاب ہوئے اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر اور پاکستان کی کرسی کو بدنام کرنے کی کوشش تو نہیں ہو رہی کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان کو ایک ریپسٹ ریاست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ وہ تمام سوالات دلوں میں اٹھتے ہیں اور وقت آنے پر بہت ساری جوابات ہمیں ملیں گے –

    انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ ان سوالات کے جوابات نہ صرف ہماری انٹیلی جنس ایجنسی کو حکومت وقت کو بلکہ اعلی عدلیہ کمیشن مقرر کیا جائے –

    محمد عبداللہ کے مطابق ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر سنتھیا کی عزت اس ملک میں محفوظ نہیں تھی تو پھر اس ملک سے ان کو بھاگ جانا چاہیئے تھا وہ وہاں رہتیں کیوں رہیں جہاں ان کی جان کو خطرہ تھا عزت کا خطرہ تھا ایک بات بہت ضروری ہے کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہیئں جو اس سب میں ملوث ہیں جن کے خلاف ثبوت ہیں اور ان کی سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہیئے اور اگر اس کے اندر کوئی اور بات نکلی تو کیا پھر سنتھیا کو سزا ملے گی یہ ہے سوال ہے؟

    انہوں نے کہا دشمن کے پراپیگنڈہ کا شکار ہو کر صرف تماش بینیوں کی طرح گردن نہیں ہلانی چاہیئے بلکہ خود اس کے اندر خاص طور پر ملک کے نوجوان صحافی حقائق تلاش کرنے کی کوشش کریں

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

    امریکی خاتون سنتھیا کے رحمان ملک پر ریپ کے الزامات ، رحمان ملک کے بیٹوں نے بڑا اعلان کر دیا

    رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے الزامات جھوٹے قرار دے دیئے

  • علامہ اقبال ٹویٹر پر ٹرینڈنگ میں کیوں؟

    علامہ اقبال ٹویٹر پر ٹرینڈنگ میں کیوں؟

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر شاعر اسد معروف کی ایک نظم کو علامہ اقبال سے منسوب کرتے ہوئے شیئر کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دلچسپ اور تنقید بھرے تبصرے کئے جا رہےہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر شاعر اسد معروف کی ایک نظم کو علامہ اقبال سے منسوب کرتے ہوئے شیئر کیا ہے جس کے بعد جہاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دلچسپ اور تنقید بھرے تبصرے کئے جا رہےہیں وہیں معروف شخصیات بھی وزیراعظم کی اس غلطی پر تنقید کر رہی ہیں-

    چند ماہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قناعت پسندانہ زندگی بسر کرنے کا ایک نسخہ شیئر کیا تھا۔

    انھوں نے لکھا تھا کہ جس کو مشہور شاعر اور فلسفی ’خلیل جبران‘ کا یہ زریں قول سمجھ آ گیا سمجھئے اس کے ہاتھ قناعت پسند زندگی بسر کرنے کا گُر آ گیا۔

    یہ عبارت ٹوئٹر پر لکھ کر عمران خان نے مشہور بنگالی شاعر اور ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک قول اپنی ٹویٹ کے ساتھ چسپاں کر دیا۔

    وزیر اعظم کی اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا صار فین نے ٹیگور کا قول خلیل جبران سے منسوب کرنے پر عمران خان کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا-

    تاہم وزیر اعظم نے اس معاملے میں اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو شاید سنجیدہ نہیں لیا اور اپنے اس ٹویٹ کے بعد کبھی یہ وضاحت نہیں کی کہ ٹیگور کا قول خلیل جبران سے منسوب کرنا ان کی غلطی تھی۔

    لہذا اب حال ہی میں وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر صارفین کو اپنے اوپر تنقید کرنے کا ایک اور موقع اُس وقت فراہم کیا جب انہوں نے ایک شاعر اسد معورف کی نظم علامہ اقبال سے منسوب کرتے ہوئے اسے ٹوئٹر پر شیئر کر دیا۔


    یہ نظم شئیر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے لکھا کہ ’اس نظم سے وہ انداز جھلکتا ہے جسے میں سلیقہ حیات بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ نوجوانوں کو میری تلقین ہے کہ وہ اس نظم کو سمجھیں، اپنائیں اور یقین کر لیں کہ اس سے ان خداداد صلاحیتوں میں خوب نکھار آئے گا جو بطور اشرف المخلوقات اللہ تعالی نے ہم سب کو عطا کر رکھی ہیں۔

    اس کو شئیر کرنے کے بعد صارفین نے وزیراعظم صاحب کو خون تنقید کا نشانہ بنایا اور مزاحیہ اور دلچسپ تبصرے کئے جس کے بعد وزیر اعظم نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹ کیا انہوں نے لکھا کہ میری درستگی کر دی گئی ہے یہ علامہ اقبال کی نظم نہیں ہے مگر اس میں جو پیغام دیا گیا ہے میں اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔

    وزیر اعظم کی ٹویٹ کے بعد کہ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’اقبال‘ ٹرینڈ کرنے لگا۔


    صحافی اشعر رحمان نے تبصرہ کیا کہ ’آئی کے بالیات‘ یعنی یہ اقبالیات نہیں بلکہ عمران خان کی کہی ہوئی بات ہے۔


    خواتین کی حقوق کی علمبردار ماروی سرمد نے لکھا کہ ماروی سرمد نے ٹویٹ کی ’وزیر اعظم نے کسی بہروپیے کی نظم کو ڈاکٹر محمد اقبال سے منسوب کیا ہے ہو سکتا ہے کہ وازیراعظم کو یہ نظم واٹس ایپ کے ذریعے ان کے کسی ساتھی نے بھیجی ہو گی۔ ایسا ساتھی جو وزیر اعظم کی نظر میں نوٹس ہونے کے لیے بہت زیادہ بےقرار ہو گا وزیر اعظم کے آفس کو تضحیک کا مرکز نہ بنائیں۔


    ماروی سرمد نے عمران خان کی کچھ عرصہ پہلے کی ٹویٹ پر ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ایم خان مسلط اشعار کا سیریل پوسٹر ہیں۔ انہوں نے چار سال پہلے یہ ٹویٹ کیا تھا جو یقینا اقبال کی شاعری نہیں ہے۔ اندازہ لگائیں کہ انہوں نے اقبال کو جعل سازوں کے ذریعے سمجھا ہے-


    مراوی سرمد نے ایک اور ٹویٹ میں ٹرک کے پیچھے لکھے ہوئے اشعار کی تصویر شئیر کرتے ہوئے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا-


    صحافی سیدہ عائشہ ناز نے لکھا کہ یہ نظم اسد معروف نامی شاعر کی ہے نہ کہ علامہ اقبال کی۔
    https://twitter.com/SyedaAyeshaNaaz/status/1269313871015182336
    عائشہ ناز نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا کہ میرا کپتان اقبال کو قبر میں کروٹ بدلنے پر مجبور کرتے ہوئے۔یقین کریں۔ یقین نہ آیا کہ یہ سکرین شاٹ ایک وزیر اعظم کی ٹویٹ ہے۔ جلدی کپتان کو وزٹ کیا۔ دلِ بےتاب میں ایک امید کی کرن جگمگا رہی تھی کہ یہ فیک آئی ڈی ہوگی۔ مگر ایسا نہ تھا۔۔کپتان پورے ہوش و حواس میں اقبال کا بھی وہی 1/2

    2/2 حال کرنے پر تٔلا ہوا تھا جو پورے ملک کا کیا ہے۔ عمران خان اپنی تقریروں میں اکثر نوجوانوں کو وعظ کرتا کہ وہ اقبال کو پڑھیں۔ غالباً ان کا مطلب اسی طرح کی اقبال سے منسوب شاعری ہے۔ کیونکہ وہ اصل والی کافی مشکل ہے۔ نہ کپتان کے پلے پڑنے والی ہے اور نہ یوتھیان کرام کے.


    صحافی طلعت اسلم نے لکھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ اقبال نہ ہوں لیکن ہم کون ہوتے ہیں کسی ایسے شخص سے سوال کرنے والے جو ٹرکوں کے پیچھے لکھی شاعری کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہو؟


    میر محمد علی خآن نے لکھا کہ سننے کے لیے "میں کھڑا ہوں” پاکستان میں بیٹھے وزیر اعظم کانوں تک موسیقی خاص طور پر پاکستان میں ہے۔
    https://twitter.com/Umar_Arshed/status/1269347634512384000?s=19
    عمر اسد نامی صارف نے لکھا کہ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے اور ماننے والا بڑا ہوتا ہے.چلو اس بہانے، کئی خواتین و حضرات نے اقبال کی شاعری کو گوگل، مختلف کتب سے کھنگالا تو سہی…

    اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا
    ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا


    جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے لکھا کہ ہم وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں انکی وجہ سے آج قوم کو علامہ اقبال کی شاعری یاد ہو گئ-


    نیوز اینکر رمیشا علی نے جرنلسٹ جویریہ صدیقی کی ٹویٹ پر رد عمل دیتے ہوئے لکھاکہ ضروری نہیں کہ وہ اقبال کی شاعری ہو یا نہیں لیکن قوم کو شاعر مشرق کی یاد تو آگئی-


    تجزیہ نگار عمار مسعود نے علامہ اقبال کا ایک شعر ٹویٹ کیا کہ اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز، ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز


    سلیم صافی نے تجزیہ نگار عمار مسعود کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے ایک شعر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ
    لگاکے رکھا ہے مشق غلط بیانی پر
    وہ ہو مراد کہ گل ہو یا کہ ہو شبلی فراز
    کہیں خسرو، کہیں زلفی، کہیں علی محمد
    ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و آیاز
    اور تو اور ہے اقبال کا پوتا خاموش
    کہ دبائی گئی ہے اٹھنے والی ہر آواز
    ( اقبال اور عمار بھائی سے معذرت کے ساتھ)


    سیلم صافی نے ٹویٹ کیا کہ ذرا سوچئے کہ زاغ کو شاہین بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا گیا تھا یا پھر شاہین بچہ زاغوں کی صبت میں خراب ہو گیا۔۔۔۔


    معروف اینکر حامد میر نے بھی تصحیح کرتے ہوئے لکھا کہ پی ایم صاحب یہ نظم اسد معروف کی ہے نہ کہ علامہ اقبال کی-


    جرنلسٹ طارق متین نے لکھا کہ خان صاحب ، اللہ کا واسطہ چیک کر والیا کریں۔ اقبال کا کلام نہیں ہے یہ


    دی نیوز کے تحقیقاتی جرنیو عمر چیمہ نے لکھا کہ انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ اسی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں

  • معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ ابو یحییٰ زکریا زاہد انتقال کرگئے

    معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ ابو یحییٰ زکریا زاہد انتقال کرگئے

    معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ ابو یحییٰ زکریا زاہد انتقال کرگئے..

    لاہور :معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ و مترجم ابو یحییٰ زکریا زاہد انتقال کرگئے. ان کی نماز جنازہ 2 بجے بی وینس ھاؤسنگ سکیم لاہور میں ادا کی جائے گی.

    مولانا زکریا زاہد ضلع قصور کے گاؤں بازید پور میں 1953ءمیں پیدا ہوئے. مارچ 1965ء تک گاؤں ہی میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی .1968ء میں مختلف دینی مدارس میں دینی تعلیم کے لئے رخ کیا. اسی دوران میٹرک اور ادیب عربی کے امتحانات پاس کئے. 1974ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ثانویہ عامہ کی سند حاصل کی.

    2 جنوری 1982 ء میں مملکت سعودیہ عرب کے اشاعتی و تبلیغی ادارے مکتب الدعوۃ والارشاد میں ملازمت اختیار کرلی. اسی دوران بی اے, وفاق المدارس اور عربی فاضل کا امتحان پاس کیا. اپریل 1987 ء تک اسی ادارے سے وابستہ رہے. اس کے بعد سعودی وزارت عدل میں بحیثیت مترجم تعینات ہوگئے .

    8 سال بعد 1994 ء میں وطن واپس لوٹے اور 1995ء میں جنوبی لاہور میں وی آئی پی سکول کی بنیاد رکھی. مصروفیات کے باعث ادارے کو تین سال ہی وقت دے سکے بعد میں ادارہ سٹاف کے سپرد کرکے ترجمہ و تصنیف میں مشغول ہوگئے. 2007 ء میں تجارتی ویزٹ کے لئے سعودیہ تشریف لے گئے اس دوران بہت سی کتب کے تراجم کیے ,اسی دوران سعودی وزارت الشئون الاسلامیہ کے تحت کام کرنے والے ادارے محافظ ینبع /منطقۃ المدینہ المنورۃ کے المکتب التعاونی للدعوۃ الارشاد وتوعیۃ الجالیات کے مدیر و نائب تعینات ہوگئے .

    20 ستمبر 2012 ء میں دوبارہ وطن واپس لوٹ آئے. لاہور کی لیڈز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی. مولانا زکریا زاہد نے تفسیر السعدی, موطأ امام مالک, جامع الترمذی اس درجہ کی دیگر کتب کے تراجم کیے اور 50 سے زائد کتب تصنیف کیں جن میں سے بعض کے انگلش تراجم بھی شائع ہوئے .

    مولانا زکریا زاہد کی وفات پر مولانا سیف اللہ خالد, مولانا امیر حمزہ, مولانا مفتی مبشر احمد ربانی,ممتاز محققین و مترجمین مولانا محمد اجمل بھٹی فاضل مدینہ یونیورسٹی ،مولانا حافظ محمد اقبال صدیق فاضل مدینہ یونیورسٹی ، مولانا نعمان ادریس فاروقی ، مولانا مدثر یوسف حجازی ریسرچر بیت القرآن ،مولانا عبدالرشید حجازی ، ابو الہاشم ربانی, مولانا محمد یونس آزاد ، مولانا محمد ابرار ظہیر ، ودیگر علماء نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے-

  • کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    *سرکاری مفتی؟ ***

    موجودہ وبا کے ہنگام،ایک آئینی اسلامی ریاست کے متفقہ اجتماعی نظام رہنمائی (فتوا، شرعی رائے ) کی جس قدر ضرورت محسوس ہو رہی ہے ـــــــ شاید قریب قریب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی….! ایک ایک مسلک میں ایک سو اسی درجہ کی رائے سامنے آتی رہی اور پورے تیقن کے ساتھ…. مخالف رائے کو قریب قریب ردی قرار دے کر… حتی کہ لوگوں کو منبر سے شرم تک دلائی گئی احتیاط کرنے پہ.. قسمیں کھلائی گئیں احتیاط سے دور رہ کر "پختہ” ایمان کے مظاہرے کی…. یقیناً جید علماء کرام نے اس کے برعکس انتہائی ذمہ داری اور شرعی بصیرت کا مظاہرہ بھی کیا…لیکن وہ کنفیوژن اور عوامی سطح پر میسج اس حلقے سے ہمیں پہنچا، کیا وہ ایک اور حقیقت پسندانہ تھا؟؟

    لیکن مجھے تو جو کمی محسوس ہو رہی ہے ـــــــ وہ اوپر عرض کر دی ہے…. ہم لوگوں نے "سرکاری مفتی” کے لقب اور عہدے کو، جو موجود ہی نہیں ہے کہیں…. خود ہی اس قدر نیچ بنا دیا ہے اپنی نجی گفتگو اور کتب و رسائل میں… کہ کل کو اس کی کوئی گنجائش نہ رہے… پیدا ہو جائے، تو credible نہ ہو…
    خلافت، سیاسی اجتماعیت اور کیا کیا کچھ چاہنے والوں میں سے کتنے ہیں، جنہوں نے اپنے ہاتھوں یہ” خیر” کمائی ہے!

    فرد واحد کی ایسے کسی عہدے پر تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے پانچوں وفاقوں سے علماء کی نمائندگی لے کر سرکاری "مجلسِ کبار علماء” بنانی چاہیے، جو شرعی امور میں متفقہ رائے پیش کرے، جو ریاست کا مؤقف ہو… یوں اسے سلطہ بھی میسر ہو جائے گا اور حالیہ وبا کے دنوں میں مذہبی مواقف میں باہم فاصلے اور کنفیوژن سے بچا جا سکے گا…. اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے….

    اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی مذکورہ بالا شکل میں تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے

  • وینا ملک کی سنتھیا کو تھپکی، "کم چک کے رکھو ہم تمہارے ساتھ ہیں” کی یقین دہانی

    وینا ملک کی سنتھیا کو تھپکی، "کم چک کے رکھو ہم تمہارے ساتھ ہیں” کی یقین دہانی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ وینا ملک نے سنتھیا رچی کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کم چک کے رکھو ہم تمہارے ساتھ ہیں –

    باغی ٹی وی : اداکارہ و میزبان وینا ملک پی پی پی رہنماؤں نے ساتھ جھگڑے میں سوشل میڈیا پر سینتھیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی دکھائی دے رہی ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں ویان ملک کا سینتھیا کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ پی پی پی کے خلاف اپنا مش ن جاری رکھیں وہ ان کا ساتھ دیں گی-
    https://twitter.com/iVeenaKhan/status/1269229378015281153?s=19
    وینا ملک نے سنتھیا کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ زیادہ طاقت کے ساتھ لڑکی مضبوط رہو ہم تمہارے ساتھ ان لوگوں کو بخشنا نہیں
    https://twitter.com/CynthiaDRitchie/status/1269249952271785984?s=19
    وینا ملک کی اس ٹویٹ کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے سنتھیا نے وینا ملک کا شکریہ ادا کیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں وینا ملک نے سنتھیا کو تنقیا کا نشانہ بنانے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا تھاکہ بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ھے یا جس کو ریپ کیا گیا؟

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

  • ‏سنتھیا رچی نے کچھ لوگوں پر الزام پاکستان میں رہتے ہوئے لگایا ہے باقیوں پر واپس امریکہ جا کر لگائے گی، عمر چیمہ

    ‏سنتھیا رچی نے کچھ لوگوں پر الزام پاکستان میں رہتے ہوئے لگایا ہے باقیوں پر واپس امریکہ جا کر لگائے گی، عمر چیمہ

    دی نیوز کے تحقیقاتے جرنیو عُمر چیمہ کا کہنا ہے کہ سنتھیا رچی نے کچھ لوگوں پر الزام پاکستان میں رہتے ہوئے لگایا ہے باقیوں پر واپس امریکہ جا کر لگائے گی-

    باغی ٹی وی : سنتھیا رچی نے پاکستان پیپیلز پارٹی کے سنئیر رہنما سینیٹر رحمن ملک پر سنتھیا کا اپنے گھر بلا کر نشہ آور ڈرگز کھلا کر ریپ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ سنتھیا کے مطابق وہ اور بھی پی پی پی کی رہنماؤں کو بے نقاب کریں گی سنتھیا کے ان بیانات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمر چیمہ اپنے ایک ٹویٹ میں سنتھیا کی طرف سے الزامات لگانے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سنتھیا رچی نے کچھ لوگوں پر الزام پاکستان میں رہتے ہوئے لگایا ہے باقیوں پر واپس امریکہ جا کر لگائے گی-


    عمر چیمہ کی ٹویٹ سے قبل سینئیر صحافی سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا تھا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ یہ خاتون کس مشن پرپاکستان میں ہے ، کس پارٹی اورادارے کے ساتھ کام کیا اور اب کس کی شہہ پر یہ خاتون سیاسی لوگوں کی عزت اچھال رہی ہے ،سلیم صافی نے کہا تھا کہ قبل اس کے کہ وہ کتاب لکھ کر سب کو ننگا کردے اس خاتون کو روکنے کے لیے عملی اقدامات ہونے چاہیں

    سلیم صافی نے کہا تھا کہ امریکی خاتون صحافی کے الزامات کی عدالتی تحقیق ہونی چاہییے تاکہ اس خاتون کے مزید تند وتیز حملوں سے آنے والے وقت میں بچا جاسکے

    قبل اس کےکہ سینتھیا کتاب لکھ کرپوری پاکستانی قیادت کورسواکرے، ریپ کےالزام کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے،سلیم صافی

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

  • بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نے سنتھیا پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نے سنتھیا پر پی پی پی کے رہنماؤں پر الزامات لگانے پر اسےتنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا- سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستان کی معروف اداکارہ وینا ملک نے لکھا کہ وہ پوچھنا تھا بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا۔۔۔؟؟؟


    وینا ملک نے مزید لکھا کہ جواب پوری دیانت داری سے دیں!!!

    واضح رہے کہ سنتھیا اور پی پئی پی کے رہنماؤں کے درمیان اس مسئلہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سنتھیا نے گذشتہ 48 گھنٹوں سے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز پر اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ بی بی (بینظیر) اس وقت کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر انھیں دھوکہ دیتے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین "جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے” کی عصمت دری کرواتی تھیں۔

    اپنی ٹویٹ میں سنتھیا کا مزید کہنا تھا کہ خواتین عصمت دری کے ایسے کلچر کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کبھی مردوں کو جوابدہ نہیں کیا جاتا؟ انصاف کا نظام کہاں ہے

    سنتھیا کی ٹویٹ کے بعد پیپلز پارٹی رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ایف آئی اے میں درخواست بھی جمع کروا دی ہے

    اپنے خلاف ایف آئی اے کو دی گئی درخواست پر ردِعمل دیتے ہوئے سنتھیا نے ٹویٹر پر کہا کہ برائے مہربانی پی پی پی کے نام نہاد جمہوریت پسند لوگوں کی طرف سے مجھے دی جانی والی موت کی دھمکیوں پر بھی کارروائی کی جائے

    پی پی پی کارکنان و قیادت کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی  ہیں علاوہ ازیں سنتھیا نے پی پی پی کے سنئیر رہنما رحمن ملک پر ریپ کے الزامات کے بھی الزامات لگائے جن کی سینیٹر رحمن ملک کے ترجمان نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے خلاف پراپیگنڈہ ہے سنتھیا کسی کے کہنے پر سب کر رہی ہے

    رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے الزامات جھوٹے قرار دے دیئے

    قبل اس کےکہ سینتھیا کتاب لکھ کرپوری پاکستانی قیادت کورسواکرے، ریپ کےالزام کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے،سلیم صافی

    امریکی خاتون سنتھیا کے رحمان ملک پر ریپ کے الزامات ، رحمان ملک کے بیٹوں نے بڑا اعلان کر دیا

    ماروی سرمد اگر آپ کا ریپ کیا جاتا تو میں آپ کا ساتھ دیتی،سینتھیا

  • صنم سعید کی عوام سے کورونا سے بچاؤ کے لئے بنائی گئی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

    صنم سعید کی عوام سے کورونا سے بچاؤ کے لئے بنائی گئی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صنم سعید کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں جگہ کی کمی کی شکایت نہ کریں احتیاط کریں اور کورونا سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آغا خان اور انڈس ہسپتالوں میں انتظامیہ کی جانب سے کورونا کے مزید مریض داخل کرنے سے معذرت کے نوٹس کی تصویریں شیئر کیں۔


    تصویریں شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ انڈس ہسپتال اور آغا خان ہسپتال نے کورونا کے مزید مریض داخل کرنے سے معذرت کرلی ہے دونوں ہسپتالوں میں کوویڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لئے جگہ اور سہولیات ختم ہوچکی ہیں عوام ہسپتال میں جگہ کی کمی کی شکایت کرنے کی بجائے کورونا سے بچاؤ کے لئے بنائی گئی ایس او پیز پر عمل کریں-

    واضح رہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مقرر کئے گئے بستر ،آئی سی یو اور ایچ ڈی یو میں بستر ختم ہو گئے ہیں۔انڈس ہسپتال نے کورونا کے مزید مریض لینے سے معذرت کرلی ہے اور اس سلسلے میں اسپتال کے باہر نتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر بینر بھی آویزاں کردیا گیا ہےہسپتال کا کووڈ وارڈ مکمل طور پر بھر چکا ہے۔

    گلوکار سلمان احمد سارک مالک کے لئےعالمی وبا کوویڈ 19 کےخیر سگالی سفیر مقرر

    کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس

    کورونا وائرس : معلوم نہیں مستقبل قریب میں سینما کا کیا ہو گا صنم سعید