Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ تنقید کی زد میں

    ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ تنقید کی زد میں

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ حلیمہ سلطان مغربی لباس پہننے پرمداحوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بن گئیں

    باغی ٹی وی : ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا ’’گیم آف تھرونز‘‘ بھی کہا جاتا ہے کو ویسے تو متعدد ممالک میں نشر کیا جا چکا ہے لیکن اس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں پاکستان میں اس ڈرامے کولوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں اور لوگ اس ڈرامے کو لے کر اپنے جذبات اور محبت کا اظہار کررہے ہیں تاہم جہاں سوشل میڈیا پر ڈرامے کے کرداروں کی خوب پذیرائی ہورہی ہے وہیں کچھ مداح ڈرامے کے مرکزی کردار کے ذاتی زندگی پر تنقید بھی کررہے ہیں

    ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی تُرک ادکارہ اسرا بلجیک نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر مغربی لباس میں تصاویر شیئر کیں تو اداکارہ کے پاکستانی مداحوں کو شدید ھچکا لگا جس پر انہوں نے اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اسرا کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا-
    https://www.instagram.com/p/B5VkhGInS0Y/?igshid=1gz0ly3q28qgi
    مداحوں نے اسرا بلجیک کی بولڈ تصاویر پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد یہ لباس کیسے پہن سکتی ہیں جو حلیمہ سلطان کی شخصیت کے خلاف ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/B-KNVOMD7nr/?igshid=umjzjgtbole3
    https://www.instagram.com/p/B-kAumyDzbz/?igshid=1pw7txarw8z3w



    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اسے نہ صرف مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ یہ پاکستانیوں کا پسندیدہ ڈرامہ بن گیا ہے

    اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’ ارطغرل غازی‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں سوشل میڈیا ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے

  • ’’ارطغرل غازی‘‘ میں ارطغرل کی بیوی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کون ہیں؟

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں ارطغرل کی بیوی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کون ہیں؟

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ ویسے تو متعدد ممالک میں نشر کیا جا چکا ہے لیکن اس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں پاکستان میں اس ڈرامے کولوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں

    باغی ٹی وی : دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے جب کہ ارطغرل کی بیوی حلیمہ سلطان کا سلطنت عثمانیہ کے قیام میں بہت اہم کردار ہے

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں ارطغرل کی بیوی کا کردار ادا کرنے والی کون ہیں؟

    حلیمہ حاتون کا کردار اس ڈرامے میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسے ترک اداکارہ اور ماڈل اسرا بیلگیج نے ادا کیا حلیمہ سلطان ترک قبیلے قائی کے سردار غازی ارطغرل کی زوجہ تھیں اور سلطنت عثمانیہ کے بانی غازی عثمان کی والدہ تھیں آپ ایک سنجوگ شہزادی تھیں حلیمہ سلطان سنجوگ سلطنت کے شہزادہ نعمان کی بیٹی تھیں

    تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر حائمانا اور حلیمہ حاتون کے نام سے ہوا ہے حائمانا لفظ غازی ارطغرل کی والدہ اور بیوی دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ارطغرل غازی کے مصنف مہمت بزداغ تاریخ کے طالبعلم ہیں ان کے مطابق صحیح نام حلیمہ سلطان ہے اسی وجہ سے ڈراموں میں حلیمہ حاتون کے نام سے پٔکارتے ہیں

    ارطغرل کے ساتھ شادی کے لئے حلیمہ سلطان نے شہزادی کے ٹائٹل کی قربانی دی اور اس کے بعد غازی ارطغرل کے ساتھ وفا دار رہیں اور انہوں نے غازی ارطغرل اور ان کے قبیلے اور تمام مسلمانوں کی مدد کی

    جب غازی ارطغرل کو اپنے والد کے بعد قبیلے کی سرداری ملی تو انہیں حاتون کا ٹائٹل ملا جس کے بعد انہوں نے تمام زندگی آخر دم تک وفاداری کی اور اس ٹائٹل کی لاج رکھی حلیمہ حاتون کی وفات کے بعد انہیں سوغوت کے مقام پرغازی ارطغرل کے ساتھ دفنایا گیا-

    حلیمہ حاتون کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسرا کی پیدائش 14 اکتوبر 1992 کو انقرہ میں ہوئی اور انہوں نے استنبول کی ایک یونیورسٹی سے بین الاقومی تعلقات میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے جبکہ ابھی قانون کی تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔


    اداکاری کا آغاز 2014 میں ارطغرل سیریز سے ہی کیا تھا اور ارطغرل کے علاوہ مزید 2 ڈرامے اور ایک فلم میں کام کرچکی ہیں۔

    2017 میں انہوں نے ایک فٹبالر گوکخان تورے سے شادی کی تھی اور جون 2019 میں طلاق ہوگئی۔

    واضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

    ارطغرل میں کلہاڑے والا ترگت الپ کون ہے ؟

    ارطغرل میں بامسی کا کردار ادا کرنے والے اداکارکون ہیں؟

  • ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ ویسے تو متعدد ممالک میں نشر کیا جا چکا ہے لیکن اس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں پاکستان میں اس ڈرامے کولوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں

    باغی ٹی وی : دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

    ’’ارطغرل‘‘ تُرک زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ ’’ار‘‘ اور ’’طغرل‘‘ سے بنا ہے اور اس کا مطلب ’’جنگجو ہیرو‘‘ ہے-

    ’’ارطغرل غازی‘‘ سلیمان شاہ کے بیٹے تھے جو مشرقی ایران سے اناطولیہ آگئے تھے تاکہ منگولوں کے حملوں سے بچ سکیں-

    ’’ارطغرل غازی‘‘ ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا نام انجین التان دوزیتان ہے جو 26 جولائی 1979ء کو ترکی کے شہر ازمیر میں پیدا ہوئے اور وہ بتاتے ہیں کہ والدین نے ان کا نام ترک اداکاروں انجین کاگلر اور التان اربولک پر رکھا تھا، یعنی والدہ نے انجین اور والد نے التان-

    انجین التان دوزیتان نے سلیمان شاہ اور حلیم ہاتون کے تیسرے بیٹے ارطغرل غازی کا کردار ادا کیا ہے وہ غینڈز الپ ، سیوسی بے ، اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی اول کے والد بھی ہیں۔ یہ سیریز کا مرکزی کردار ہیں ، جسے شائقین نے سب سے زیادہ پسند کیا ہے۔

    انجین کے دادا دادی یوگوسلاویہ سے ترک تارکین وطن اور پرسٹینا سے البانی باشندے ہیں۔ انہوں نے تھیٹر کی تعیم حاصل کرنے کے بعد ایک ٹی وی سیریل رخسار سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور متعدد فلموں اور ڈراموں میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ انہوں نے لاس اینجلس مووی ایوارڈز میں موشن پکچر بر اووک ڈینیز میں اپنی شاندار کارکردگی سے بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی جیتا مگر 2014 سے 2019 تک ارطغرل کے کردار نے انہیں دنیا بھر میں مشہور کردیا ہے۔

    انہوں نے 2014 میں Neslişah Alkoçlar سے شادی کی تھی جوڑے کی شادی کو 5 سال ہوچکے ہیں ان کے 2 بچے ہیں۔

    ارطغرل کی تاریخ پیدائش کے بارے میں معلوم نہیں اور وفات بھی 1280 کے بعد ہوئی ارطغرل کا مقبرہ سوغوت کے مقام پر ہے جو مختلف عثمانی حکمرانوں کے عہد میں شکل بدلتا رہا

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل میں کلہاڑے والا ترگت الپ کون ہے ؟

    ارطغرل میں بامسی کا کردار ادا کرنے والے اداکارکون ہیں؟

  • بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے  از قلم: مشی حیات

    بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے از قلم: مشی حیات

    بچھڑے ہوئے کبھی نہیں آتے

    از قلم: مشی حیات

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خوشیاں ہوں یا غم چھوڑ کر چلے جانے والے ضرور یاد آتے ہیں۔ غم کے لمحات میں ان کا آخری دیدار رلا دیتا ہے اور خوشیوں کے موقع پر ان کی زندگی کے حسین لمحے۔۔۔۔

    یہی کہانی میری ہے جو ایک حقیقت ہے، سچائی ہے اور وہ ہستی ہیں ۔۔
    میرے بابا

    میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو خود کو ماں کی گود کی جنت اور بابا کے شفقت بھرے سائے میں پایا۔۔

    بابا دن رات محنت کر کے ہم بہن بھائیوں کی پرورش کر رہے تھے اور ہم نادان بچپن میں کھوئے اپنی ہر ضرورت پوری کر رہے تھے ہمیں اس عمر میں کیا معلوم کہ ابو جی کیسے روپیہ پیسہ کماتے ہیں ۔۔
    سب تایا جی اور چچا جان صاحب حیثیت تھے مگر میرے بابا بیماری کے سبب کمزور تھے زیادہ سخت کام نہیں کر سکتے تھے۔۔ اس لیے روزانہ کا فروٹ کا کام کرتے اور رات کو ایک جیب میں پیسے لے کر گھر آ جاتے کھانا کھاتے اور پیسوں کی گنتی کرنے کے لیے بیٹھتے تاکہ دیکھا جائے بچت کتنی ہوئی اور بچوں کے ارمان پورے کرنے کے لیے پیسے ہوں گے یا نہیں۔۔۔
    جیسے ہی ابو جی نے پیسے گننے شروع کرتے میں اور بڑی آپا ساتھ بیٹھ کر مدد کرتے۔ ایک دفعہ تو کافی پیسے دیکھ کر خوش ہو جاتے کہ آج کتنے زیادہ پیسے ہیں ابو کے پاس۔۔باپ تو اپنی بیٹی پر ہر خوشی وار دیتا ہے۔۔
    صبح جاتے ہوئے ابو جی کھلے پیسے یعنی سکے کپ میں رکھ جاتے جو ہمیں امی جی سکول جاتے دیتی تھیں ۔۔بڑی آپا کو 5 روپے ملتے تھے مجھے اور بھائی کو دو، دو روپے۔۔ وہ پیسے بھی ہم بہت خوشی سے خرچ کیا کرتے تھے۔۔
    ابو جی نے ہماری ہر خوشی پوری کی۔ خوشی کے موقع پر کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ امی جی بہت کم خرچ کرتی تھیں شاید وہ سمجھتی تھیں کہ ابو کی جیب میں موجود سارے پیسے کھانے کیلئے نہیں بلکہ کسی کی امانت ہیں۔۔
    دادی جان ہمارے پاس رہتی تھیں اس لیے عید کے موقع پر سب چاچو اکٹھے ہو جاتے تھے اور سبھی عیدی دیتے تھے۔ ابو جی کے پاس جیب میں موجود سکے کم ہوتے تھے ہم چھ بہن بھائی اور باقی سب کزنز مل کر زیادہ ہو جاتے تھے۔سبھی نے دیکھنا کہ اب دیکھو شفیق کیسے پورا کرتا ہے بچوں کو۔ بابا جانی کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی اور کہتے کہ میں سارے سکے آسمان کی طرف پھینکوں گا جس کے ہاتھ میں جتنے آ گئے وہ اس کے۔ سبھی اپنے اپنے اٹھا لینا۔ جیسے ہی آسمان کی طرف پیسے جاتے سب مل کر اٹھا لیتے اور سبھی بچے بہت خوش ہوتے اور دادی جان نے کہنا ایک منٹ میں سب بچوں کو خوش کر دیا۔

    خوشیاں باٹنے والے اور ہمارے گھر کے محافظ ہمیں یتیمی میں بہت جلد چھوڑ گئے۔۔
    ان کا اس دنیا سے چھوڑ کے چلے جانا ہمارے لیے کسی بہت بڑے سانحے سے کم نہ تھا۔۔ ماں کے سر سے سرتاج کا سایہ اور بچوں کے سر سے سایہ شفقت ۔۔۔۔۔
    27 مئی 2014 کو میری تائی امی وفات پا گئیں جو سب سے بہت پیار کرتی تھیں۔سبھی ان کے غم میں مبتلا تھے 28 مئی کو جو کہ اگلے ہی دن ابو جی سب کو ناشتہ کروا رہے تھے کہ اچانک دل کی درد شروع ہوئی وہاں پر موجود لوگوں سے کہہ کر آ گئے کہ میں تھوڑی دیر تک آیا باقی بعد میں کروں گا۔۔

    جیسے ہی گھر آئے بڑی آپا کام میں مصروف تھی اور میں لیٹی تھی۔ ابو جی کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے کہنے لگے سائیڈ پہ ہو جاؤ ابو جی کی آنکھیں مکمل سفید تھیں میں چونکہ چھوٹی تھی تبھی ڈر گئی اور تائی امی کے جانے کا غم بھی تھا مجھ سے بولا نہیں گیا جلد ہی آپی کو آواز لگائی کہ ابو کو پتہ نہیں کیا ہوا امی جی دوڑ کر آئیں۔ابو جی کا رنگ سفید پڑ چکا تھا قے شروع ہو گئی تھی امی جی نے کہا کہ جلدی سے ہمسائے والے انکل کو بولو کہ گاڑی نکالیں۔اماں تو ابو جی کو لے کر چلی گئیں مگر آنکھوں میں ابو کی حالت تھی۔ پھر سوچا ٹھیک ہو جائیں گے۔ واللہ کیا خبر تھی کہ بابا آج کے بعد کبھی نہیں آئیں گے۔ ڈاکٹر جواب دیتے گئے امی جی کی گود میں سر رکھے ابو مسلسل استغفار اور کلمہ پڑھتے جارہے تھے اور امی جی سر میں ہاتھ پھیرتی جا رہی تھیں۔ جیسے ہی شہر میں پہنچے ہسپتال داخل کیا چاچو بھی پہنچ گئے چاچو اپنے شہر کے مشہور حکیم تھے۔ واقفیت کی وجہ سے جلد علاج شروع ہو گیا ڈاکٹر نے بولا کہ آپ بھائی کو ملتان لے جائیں۔ امی جی امید لگائے اپنے رب سے باہر بیٹھی دعا میں مصروف تھی پتہ چلا کہ ملتان جانا ہے تو تیار ہو گئیں مگر چاچو جی نے ڈاکٹر کو بولا کہ مشکل ہی پہنچ پائیں بھائی۔۔۔۔

    ابو جی مسلسل کلمہ پڑھ رہے تھے دعائیں کر رہے تھے۔ اللہ سے محبت کرنے والے تھے اور ساری زندگی اپنی ماں کی خدمت کرنے والے ۔۔
    چاچو ابو جی کے پاس ہوئے شاید سانس رک رہی تھی چچا جی کہتے کہ میں نے کلمہ پڑھا اور بھائی نے فوراً کلمہ پڑھتے ہی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔وہ آپ نے خالق حقیقی سے جا ملے مگر امی جی کو نہیں بتایا کہ وہ ایسی جگہ چل دیے ہیں کہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔

    امی جی ملتان جانے کے لیے تیار تھیں ایمبولینس میں ابو جی کو لٹایا اور امی جی ساتھ بیٹھ گئیں۔جس شوہر کو ایک امید کے ساتھ لائی تھی وہ اب بس چند ساعتوں میں ماضی بن گیا تھا۔۔
    ملتان کی بجائے جب گاڑی نے اپنے شہر کا رخ کیا تو امی جی حیران ہو گئیں کہ جانا ملتان ہے اور جا کہاں رہے ہیں۔چاچو جی
    انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے۔
    ہائے میرے اللہ کیا سما ہو گا۔ میری ماں کے دل کا کیا حال ہو گا کہ انکا سربراہ انکے گھر کا بادشاہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔۔۔۔۔
    میں اور بہن دعا میں مصروف تھی فون کیا کہ ابو کیسے ہیں؟ گاڑی والے انکل کہتے وہ فوت ہوگئے۔۔
    جیسے ہی آواز کان میں پڑی آسمان تاریک ہوتا نظر آیا۔ اللہ یہ کیا کر دیا میرے بابا اب نہیں رہے۔ کیوں نہیں رہے؟سب کے بابا ہیں میرے کیوں نہیں؟؟
    چھوٹا بھائی 4 سال کا تھا وہ میت کے پاس بیٹھا مسلسل کہہ رہا تھا اب ابو جارہے ہیں میں موٹر سائیکل پر جا کر لے آؤں گا۔۔۔
    مگر وہ کیا سمجھتا پھول کہ اب ابو جی کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔

    ہماری زندگی ایک گھنٹے کے اندر یتیمی میں بدل کر رہ گئی ابو جی ماضی بن گئے۔۔۔

    مگر ابو جی بہت یاد آتے ہیں ہر عید پر اب بہت پیسے مل جاتے ہیں مگر خوشی نہیں ملتی۔۔اب تو یہی بول کے سبھی دے دیتے ہیں کہ یتیم ہیں کمانے والا نہیں ۔۔۔

    میں کہتی ہوں دنیا کی ساری دولتیں لے لی جائیں مگر ابو واپس آجائیں واللہ ہر دن عید سا لگے۔۔۔

    باپ بہت بڑا تحفہ ہے رب کا۔ اللہ کے لیے اس تحفہ کی قدر کر لیں جب یہ تحفہ یہ پھول مرجھا جاتے ہیں ناااا پھر کوئی خوشی سکھ نہیں دیتی ۔۔۔

    ہر تہوار آ جاتا ہے مگر بچھڑے ہوئے نہیں آتے اور نہ ان سے وابستہ خوشیاں۔۔۔۔۔۔۔

    ممکن اگر ہوتا کسی کو عمر لگا دینا

    میں زندگی کی ہر سانس اپنے بابا کے نام لکھ دیتی

  • ارطغرل میں بامسی کا کردار ادا کرنے والے اداکارکون ہیں؟

    ارطغرل میں بامسی کا کردار ادا کرنے والے اداکارکون ہیں؟

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ ویسے تو متعدد ممالک میں نشر کیا جا چکا ہے لیکن اس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں پاکستان میں اس ڈرامے کو لوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں

    باغی ٹی وی : دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    ارطغرل غازی اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے اس ڈرامے ہر کردار ہی اپنے آپ میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے

    ارطغرل میں بامسی کا کردار ادا کرنے والے اداکارکون ہیں؟

    ارطغرل غازی میں بامسی بئیریک ارطغرل کا انتہائی قریبی دوست ہے ،ارطغرل غازی سیریز کا ایک انتہائی پسند کیا جانے والاکردار ہے۔ جسے تُرک اداکار نورالدین سونمیر نے ادا کیا – سیریز میں یہ ارطغرل کا انتہائی وفادا ساتھی اور سلیمان شاہ ، حائم ہاتون اور اطغرل بی کے چیف گارڈ بھی ہیں۔

    بامسی ارطغرل کے قریبی دوستوں میں سے ایک ایسے دوست کا کردارہے جس کا ذکر ترکی، آذربائیجان اور کئی خطوں کی لوک کہانیوں میں ملتا ہے

    نورالدین سونمیر 24 جولائی 1978 کو استنبول میں پیدا ہوئے انہوں نے استنبول کی مائننگ انجنیئرنگ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل اداکار نے ڈائیلاگ کی ادائیگی، ایکٹنگ اسکول اور یدیٹیپپ یونیورسٹی تھیٹر ڈیپارٹمنٹ سے بھی تعلیم حاصل کی-

    تُرک اداکار 2011 سے ٹی وی کی دنیا میں مصروف ہیں مگر شہرت بامسی کے کردار سے ہی ملی انہوں نے ارطغرل غازی میں بامسی بئیریک کے کردار کو بہت خوبصورتی سے نبھایا ، اب وہ قوریلش عثمان میں بھی یہی کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے ونس اپون آ ٹائم عثمانی سیریز میں بھی اداکاری کی –

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل میں کلہاڑے والا ترگت الپ کون ہے ؟

  • ارطغرل میں کلہاڑے والا ترگت الپ کون ہے ؟

    ارطغرل میں کلہاڑے والا ترگت الپ کون ہے ؟

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں۔ اس ڈرامے کو نہ صرف یوٹیوب پر لوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں بلکہ یہ ٹوئٹر اوریوٹیوب پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے اورپاکستانی سوشل میڈیا تو اس ڈرامے کے کردار و مکالموں سے بھرا پڑا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    ارطغرل غازی اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے

    ارطغرل غازی میں کلہاڑے والا ترگت الپ کا کردار ادا کرنے والا اداکارکون ہے ؟

    ارطغرل غازی میں کلہاڑے والا ترگت الپ ارطغرل کا اہم ترین ساتھی ہے اس کا کردار ڈرامے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے تورگت الپ کا کردار ارطغرل کے بہت قریبی ساتھی کا ہے جسے اداکار جنگیز جوشقون نے ادا کیا جو 29 اپریل 1982 کو استنبول میں پیدا ہوئے۔

    انہوں نے 2008 میں تعلیم مکمل کی مگر ماڈلنگ دوران تعلیم ہی شروع کردی تھی ماڈلنگ میں تو خاص مقام حاصل کیا ہی ساتھ دنیا کے پرکشش مردوں کے ایک مقابلے میں چوتھے نمبر پرآنے کا اعزاز بھی حاصل کیا علاوہ ازیں بچپن میں باسکٹ بال کھیلتے رہے-

    انہوں نے اداکاری کا باقاعدہ آغاز2005 میں ایک ٹی وی ڈرامے سے کیا اور ارطغرل میں گورگت الپ کا کردار نبھایا۔


    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    پاکستانی فنکار بھی’ ارطغرل غازی‘ کے سحر میں مبتلا ہو گئے

    تُرک ڈرامہ ارطغرل غازی کی دھن بنانے والے موسیقار انتقال کر گئے

  • تُرک ڈرامہ ارطغرل غازی کی دھن بنانے والے موسیقار انتقال کر گئے

    تُرک ڈرامہ ارطغرل غازی کی دھن بنانے والے موسیقار انتقال کر گئے

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامی سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا ’’گیم آف تھرونز‘‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں اس ڈرامے کو نہ صرف یوٹیوب پر لوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں بلکہ یہ ٹوئٹر اوریوٹیوب پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے اورپاکستانی سوشل میڈیا تو اس ڈرامے کے کردار و مکالموں سے بھرا پڑا ہے اور اس کی اس کی دلوں کو چھُو لینے والی دُھنوں نے لوگوں کو الگ سے اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے

    باغی ٹی وی : ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامی سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا ’’گیم آف تھرونز‘‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں نہ صرف کرداروں اور مکالموں نے لوگوں لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے بلکہ اس کی موسیقی کا جادو بھی شائقین کے سر چڑھ کر بول رہا ہے دُھن سسنے والے پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتی ہے

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مجموعی طور پر 18 دُھنیں استعمال ہوئی ہیں یہ دُھنیں دنیا بھر میں مقبول ہوئی ہیں لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان دلکش دُھنوں کے خالق موسیقار Alpay Goltekin اڑتالیس (48) سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں جس کی تصدیق ترکی اردو نام سے بنے ٹویٹر ہینڈلر میں ایک ٹویٹ کے ذریعے کی گئی-


    11 مئی 2020 کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تُرکی اردو کے نام سے بنائے گئے ٹویٹر ہینڈلر سے ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میں اعلان کیا گیا کہ ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی دھن بنانے والے موسیقار Alpay Goltekin انتقال کر گئے۔

    ارطغرل کی دھن دنیا بھر میں مقبول ہوئی، کروڑوں لوگوں نے سنا اور پسند کیا، لاکھوں نے موبائل رنگ ٹون لگائی۔ دھن سننے والے پر عجب کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ سیریل میں مجموعی طور پر 18 دُھنیں استعمال ہوئی ہیں

    یاد رہے اداکار حمزہ علی عباسی نے بھیحال ہی میں انتہائی منفرد انداز میں ارغرل غازی کی دُھنیں بجا کر شو سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔سوشل میڈی اپر جاری ایک ویڈیو میں عباسی گٹار پر شو کا تھیم سانگ نہایت خوبصورتی اور مہارت سے بجاتے دکھائی دیئے تھے-

    واضح رہے کہ ارطغرل غازی اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ڈرامہ ہے جو ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے

    رطغرل غازی کی سیریز کو تقریباً دنیا بھر میں پچاسی ممالک میں دیکھا جا چکا ہے اور اسے بین الاقوامی شہرت اور پذیرائی حاصل ہو ئی ہے

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    پاکستانی فنکار بھی’ ارطغرل غازی‘ کے سحر میں مبتلا ہو گئے

  • آپ کو ارطغرل غازی کیوں دیکھنا چاہئے؟

    آپ کو ارطغرل غازی کیوں دیکھنا چاہئے؟

    ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں اس ڈرامے کو نہ صرف یوٹیوب پر لوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں بلکہ یہ ٹوئٹر اوریوٹیوب پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے اورپاکستانی سوشل میڈیا تو اس ڈرامے کے کردار و مکالموں سے بھرا پڑا ہے

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ٹویٹر ہینڈلر پر ارطغرل غازی کی ایک ویڈیو شئیر کی لوگوں کی بتایا کہ ارطغرل غازی کیوں دیکھنا چاہیئے؟ ویڈیو مین بتایا گیا کہ یہ کائی قبیلے کے سردار ارطغرل غازی کی زندگی کی کہانی ہے -عثمان غازی کے والد جس نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی یہ اوغوز ترکوں کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے


    یہ ڈرامہ تیرھویں صدی کے خانہ بدوش تُرک قبیلوں کے رہن سہن کی تصویر کشی کرتا ہے یہ دیکھنا اس لئے ضروری ہے کیوں کہ یہ اسلامی اقدار اور تعلیمات کو فروغ دیتا ہے جیسے کہ برداشت بزرگوں کا احترام اور مظلوموں کی مدد-

    ارطغرل غازی کی سیریز کو تقریباً دنیا بھر میں پچاسی ممالک میں دیکھا جا چکا ہے اور اسے بین الاقوامی شہرت اور پذیرائی حاصل ہو ئی ہے اب اسے پاکستان میں اردو ڈبنگ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے

    یہ ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ آپ کو ارطغرل غازی کیوں دیکھنا چاہیئے؟
    https://twitter.com/sonyraajput/status/1259915172828909569?s=20
    اس کے جواب میں سونی رانا نامی صارف نے لکھا کہ اس لیے کہ ہماری موجودہ نوجوان نسل کو اسلامی تاریخ کا بالکل بھی نہیں معلوم
    مسلمانوں نے دنیا میں کیسے عروج حاصل کیا مسلمانوں پر زوال کیوں آیا مسلمانوں کی شکست کی کیا وجوہات تھیں اور مسلمانوں کی کامیابی کا راز کیا تھا ان سب کا جواب ارتغرل میں ملے گا

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر یکم رمضان المبارک سے ڈرامے کی نشریات شروع کی تھی دیریلیش ارطغرل‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی خصوصی پیغام جاری کیا تھا اور انہوں نے ترک ڈرامے کو نہ صرف اسلامی بلکہ پاکستانی ثقافت و تاریخ کے بھی قریب قرار دیا تھا

    پاکستانی وزیراعظم نے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو نشر کیے جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا کہ یہ لازم ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نئی نسل اپنی تاریخ سے وابستہ ہو

    ارغرل غازی اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ڈرامہ ہے جو ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے

    خلیل الرحمن قمر کا ’ارطغرل غازی‘ جیسا ڈرامہ پاکستان میں بنانے کا اعلان

    پاکستانی فنکار بھی’ ارطغرل غازی‘ کے سحر میں مبتلا ہو گئے

    ارطغرل لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گا ؛ شاہیر سیالوی

  • سونیا حسین نےمداحوں کو دھوپ کے فائدے بتا دیئے

    سونیا حسین نےمداحوں کو دھوپ کے فائدے بتا دیئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سونیا حسین نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو صبح کی دھوپ کے فوائد بتا دئیے

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سونیا حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر دھوپ میں لی گئی اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وبائی بیماری ہو یا نہیں لیکن آپ صبح کی دھوپ لینا مت بھولیں
    https://www.instagram.com/p/B_91AbfjuSw/?igshid=xecinfhzm401
    سونیا حسین نے لکھا کہ اگرچہ میں نہیں جانتی کہ دھوپ متعددی وائرس کا خاتمہ کرسکتی ہے یا نہیں تاہم عالمی ادارہ برائے صحت بھی اِس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ از خود تنہائی قرنطینہ کے دوران اگر ہم صبح اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی دھوپ لیں تو اس سے ہم پر مندرجہ ذیل مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں

    صبح کی دھوپ سے ہمارے جسم میں خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے

    صبح کی دھوپ ہمارے جسم سے نقصان پہنچانے والے جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے

    وٹامن ڈی مہیا کرتی ہے جوآپ کو پُر سکون نیند فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے

    ذہنی دباؤ سے نجات دلاتی ہے

    کمزور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے

    صبح کی دھوپ آپ کا امیون سسٹم مضبوط کرتی ہے

    یاد رہے کہ سونیا حسین ڈراموں کے علاوہ کئی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں جبکہ ان کی نئی آنے والی فلم’ٹچ بٹن ہے جس میں وہ مرکزی کردار میں نظر آئیں گی

    کبھی کبھی خود کے لئے جینا اور خود کا خیال رکھنا اچھا لگتا ہے ؛ عائزہ خان

    شنیرا اکرم کے مطابق ذہنی و قلبی پریشانی کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے

  • فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان  تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    Terminal Velocity in Quran
    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.


    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار مندرجہ ذیل(کمنٹ میں) بیان کی گئی ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31
    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!