فتح مکہ…!!!
[بقلم:جویریہ بتول].
مری تاریخ کے ماتھے کا جھومر…
سدا دنیا کو رہے گا جس پہ فخر…
وہ جنہوں نے گھروں سے تھا نکالا…
ہر دُکھ اور اذیت سے تھا گزارا…
لُٹا کر تھے آئے یہ سب مال و زر…
چلے یہ مسافر جب ہجرت کی راہوں پر…
آنکھوں میں چمکتا تھا کوئی سہانا خواب…
فتح مبین کی تعبیر کو تھے سب بے تاب…
وہ صحابہ کے جلو میں مکہ کی جانب…
چلی تھی جب سواری نبی محترم کی…
وہ سورۂ فتح کی مبارک لبوں سے تلاوت…
وہ کعبہ میں پڑے بتوں پہ جآء الحق کی آہٹ…
وہ سب باطل و غرور جب خاک ہو گئے…
وہ بغیر تلوار کے جب زیرِ دھاک ہو گئے…
پوچھا نبی محترم نے کیا خیال ہے تمہارا؟
اب کیا اُمید ہے، تمہارا کیا ہو گا اب چارہ؟
ستانے والے بولے شفیق و کریم ہو تم…
ہلے لب اور بولے لاتثریب علیکم…!!!
نگاہیں نیچی تھیں سب کی نیچی ہی رہیں…
تھے سوچتے سب کہ کہیں تو کیا کہیں؟
یہ کیسا ہے فاتح عالم جو آج ہم پر…
پا کر غلبہ بھی ہے،کیسا پیکرِ عفو و صبر…؟
مکان لیا ہم سے،نہ کوئی مال و زر …
نا انصافی کا بدلہ،نہ گنوایا کوئی ستم…
واں بھی خیمہ بنایا اپنا مسکن، سلام اے فاتح عالم…!!!
[صلی اللّٰہ علیہ وسلم]
==============================
Author: عائشہ ذوالفقار
-

فتح مکہ…!!! بقلم:جویریہ بتول
-

ماں کی زندگی کا سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول
ماں کی زندگی کا سفر…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
تری محبتوں کے بحر وبر…
تری اداؤں کے سب ثمر…
تری وفاؤں کا یہ سفر…
کیسے ہو مجھے اس سے مفر…؟
تیرا ضبط و ربط کمال ہے…
ترا لہجہ حُسن و جمال ہے…
افکار بلند،ارفع خیال ہے…
ترے مقام کو نہ کوئی زوال ہے…!!!
ترے گزرتے پَل زندگانی کے…
اور مٹتے آثار جوانی کے…
ترے لڑھکتے قدموں میں مگر…
رنگ عزم کی جولانی کے…!!!
ہر سانس کے سنگ تو…
دے دعاؤں کی خوشبو…
ترے کپکپاتے ہونٹوں پہ…
لکھی ہے تحریرِ آرزو…!!!
تو اولاد کے درد کی درماں…
تو بلاؤں کی زد سے اماں…
ترے لہجہ کا ہے انداز ہی اور…
تو بدلے سے بے پرواہ "ماں”…
اپنی حیات کو کھپا گئی…
تو ہمیں توانائیاں تھماگئی…
ترے بدن کا جو اب ضعف ہے…
مری جوانی کا جو رعب ہے…؟
کھڑے ہیں یہ آمنے سامنے…
فرض کیا ہیں اب نبھانے؟
یہ سوال ہی تو گراں ہے…؟
ماں ہم اولاد اور تو ماں ہے…!!!
ماں تری وفاؤں کا صلہ…
کوئی کیسے بھلا چکائے؟
تری سب محنتوں کا…
بدلہ کوئی کیسے لوٹائے…؟
ماں تری وفاؤں کا چاہیئے ساتھ…
ماں کیسے کٹے سفر یہ خالی ہاتھ؟
ترے مشوروں کی جاری رہی گر برسات…
تو ماں یقیں ہے سدھر جائے گی ہر بات…!!!
ترے دامن کو جو جھٹک کر چلیں…
سچ ہے کہ ہر گام وہ ہاتھ ہی مَلیں…!!!
ماں ترے نام ہو کیسے صرف اک دن؟
ماں ترے بِن تو تڑپیں یہ روح وبدن…!!!
ماں مری زندگی کا ہر لمحہ ہو ترے نام…
ماں بس ترے ہی سنگ گزریں زندگی کے صبح و شام…
ماں بس تری دعاؤں کی پونجی میری ہم سفر ہو…
ماں یقیں ہے کہ پھر کسی بَلا کا نہ گزر ہو…!!!
کٹ جائے پھر یہ سفر راحت و کلفت کا…
اور ممکن ہو جائے داخلہ جنت کا…!!!!!(ان شآ ءَ اللّٰہ)
============================== -

بگٹی بلوچ سردار کا بھارت کو منہ توڑ جواب
بگٹی قبیلے کے سردار اور MPA کا بھارت کو بہترین جواببگٹی قبیلے کے سردار اور MPA کا بھارت کو بہترین جواب کہا ” پاکستان ہماری رگوں میں خون کی مانند دوڑتا ہے”
باغی ٹی وی : بگٹی قبیلے کے سردار اور MPA کا بھارت کو بہترین جواب کہا ” پاکستان ہماری رگوں میں خون کی مانند دوڑتا ہے”ایم پی اے ڈیرہ بگٹی سردار گہرام بگٹی کے انڈین میجر گوراو کےجواب میں ویڈیو پیغام سے انڈیا کو خبردار کیا ہے انہوں نے کہا انڈیا کے میڈیا نے یہ دعوی کیا ہے کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے خلاف آزادی کی تحریک کروا رہے ہیں اس کا جواب دینے کے لئے پیغام دینا چاہتا ہوں 20 سال بعد بلوچستان کے حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ بلوچستان میں آنے کے لئے پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت پڑے گی اور وہ شخص جو پراپیگنڈا چلا رہاتھا اپنا فون اٹھا کر با ربا ر کہہ رہا تھا کہ میں آپ کو ڈیرہ بگٹی کا نمبر دوں گا بلوچستان کے سرداروں کا نمبر دوں گا تو میں ان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ یہ کہہ کر کیا ثبوت دینا چاہتے ہیں
بگٹی سردار کا بھارت کو منہ توڑ جواب کہا پاکستان کا خون ہمارے خون میں شامل ہے بلوچ اپنی سرزمین پاکستان سے محبت کرتے ہیں pic.twitter.com/z1wAzxMjo7
— Ayesha (@Ayesha701900053) May 10, 2020
بُگٹی سردار کا بھارت کو جواب کہا بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا ہے اور رہے گا بلوچستان پاکستان سے ہے پاکستان بولچستان سے ہے pic.twitter.com/RLLeNhOkXb
— Ayesha (@Ayesha701900053) May 10, 2020
سردار گہرام بگٹی نے کہا میں اپنے پیغام میں آپ کو میں یہ بات بتادوں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا ہے اور رہے گا کہ ہم غیرت مند بلوچ اپنی سرزمین پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ اور پاکستان کا خون ہمارے خون میں شامل ہے ۔ہم تمام بلوچ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں پاکستان کے لئے اور دیں گے کیونکہ پاکستان ہماری جان ہے اور ہماری شان ہیںگہرام بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان سے پاکستان بلوچستان سے ہے ۔ ابھی تو ہم بگٹی قوم کشمیر کا حساب تم سے لیں گے ۔ کبھی غلطی سے بلوچستان اور سرزمین پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے سے پہلے میرے سامنے لے آؤ ۔ میں دنیا بھر کے تمام ملکوں کو تیرا اور تیرے کرائے دار غداروں کا چہرہ عیاں کروں گا.
انہوں نے کہا کہ اگلی مرتبہ کسی ایسے پراپیگنڈے میں کسی بلوچ کو ساتھ بٹھا کر کوئی بات کرنا سارے بلوچوں کا بگٹیوں کے نمبرز ہیں آپ کے پاس میرا نمبر بھی تو ہو گا مجھے فون کر کے اپنے ساتھ بٹھا لینا میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں میرا جواب آپ کو مل جائے گا
سردار گہرام بگٹی نے بھارت کو للکارتے ہوئے کہا کہ ان شاءاللہ بہت جلد بگٹی اور بلوچ قوم کے جوان کشمیر کے اندر تیری بربادی کا جشن منا کر کشمیر آزاد کرئیں گے اورکشمیر بنےگا پاکستان۔
پاکستان زندہ باد ۔
زندہ باد محب وطن بلوچبھارت کا بلوچستان میں دہشت گرد کارروائی کا اعتراف،خطرناک عزائم سن کررونگٹے کھڑے ہوگئے
میجر ندیم عباس بھٹی کی نماز جنازہ ادا،فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین
میجر ندیم اور دیگر نوجوانوں کی شہادت کا بدلہ لیں گے جمال خان رئیسانی
-

تیسری شادی کے متعلق صنم ماروی کا بیان سامنے آ گیا
پاکستان کی معروف لوک گلوکارہ صنم ماروی نے اپنی تیسری شادی سے متعلق افواہوں تردید کردی
باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف گلوکارہ صنم ماروی نے اپنی تیسری شادی سے متعلق افواہوں تردید کردی اپنے ایک ویڈیو بیان میں گلوکارہ نے کہا کہ ان کی زندگی میں دیگر بھی کئی مسائل ہیں تاہم تیسری مرتبہ شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر ایسا کچھ ہو گا تو سب سے پہلے اپنے مداحوں کو آگاہ کریں گی
صنم ماروی نے اپنے سابقہ شوہر سے درخواست کی کہ وہ ان پر رحم کریں اور انہیں جینے دیں
واضح رہے کہ صنم ماروی نے اپنے شوہر حامد علی سے خلع لینے کے لیے رواں سال 7 فروری کو لاہور کی فیملی کورٹ میں اپنے وکیل ایڈووکیٹ حامد مقبول کے توسط سے درخواست دائر کی تھی انہوں نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ ان کے تین بچے ہیں اور ان کا شوہر بچوں کے سامنے انہیں گالیاں دیتا اور مارتا پیٹتا ہے
گلوکارہ نے عدالت میں اپنا موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے 2009 میں حامد علی سے شادی کی تھی شادی کی کچھ عرصے بعد شوہر کا رویہ تبدیل ہو گیا تھا جبکہ وہ اپنے بچوں کی خاطر11سال شوہر کا ظلم برداشت کرتی رہی ہیں لیکن اب اور زیادہ تشدد اور گالی گلوچ برداشت نہیں کر سکتیں
گولیاں کھا کر مرنے سے بہتر ہے علیحدگی اختیار کر لی جائے صنم ماروی
-

”اُمید کا دیا“ تحریر : سید عتیق الرحمن
”اُمید کا دیا“
تحریر : سید عتیق الرحمن
موجودہ ایک عرصے سے پوری دنیا جس مشکل،پریشانی یا جس ناگہانی آفت کا سامنا کر رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔اٹلی،سپین،ایران، فرانس اور چین کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔اگر ان تمام حالات اور اس صورتحال کا جائزہ لیجیے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان باقی تمام ممالک کی نسبت محفوظ ہیں یعنی ہم اس تباہی و بربادی سے دوچار نہیں ہوئے جسکا سامنا دیگر ممالک کو کرنا پڑا۔وجوہات پر اگر غور کی جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہم نے اللہ اور اسکے رسول پہ توکل کیا،ہم نے اپنے حالات کا واقعات کا اپنے اپنے نفس کا محاسبہ کیا۔ہم لوگوں نے اللہ اور اسکے رسول کے سامنے خود کو پیش کیا۔یعنی یہ مصیبت ہمارے لیے آزمائش بنی۔وجہ یہ ہے کہ اس نے ہمیں باغی نہیں بنایا بلکہ اپنے رب سے اور اپنے آپ سے ملنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ہم نے سنت اور احادیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنایا۔اللہ کے ذکر کو فروغ دیا۔ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت دے جو بھی معاشی یا سماجی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہیں ہم نے انہیں پورا کرنے اور اس حوالے سے بھر پور تعاون کرنے کی حتی الوسع کوشش کی۔میں نے ایک بار پہلے جس ایمان،اتحاد اور تنظیم کا ذکر کیا تھا۔ہم نے بھر پور کوشش کی کہ ان تین چیزوں کا احیا کیا جائے۔اب صورتحال یہ ہے کہ الحَمْدُ ِللہ حالات بہتری کیطرف جانے،معمولاتِ زندگی رواں دواں ہونے اور اللہ کے خاص کرم کی پوری اُمید ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہمیں اللہ کی رحمت پر پورا یقین ہے، حکومت نے بھی آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کچھ ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو مایوسی کو ہوا دیتی ہیں، سنسنی خیز ماحول کو جنم دیتی ہیں۔تو یاد رکھیں ایک مومن ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم خیر کی خبر دیں۔اسلیے خدارا مایوسی مت پھیلائیے،خوشگوار گفتگو کیجیے، ماحول کو پر امن اور پر امید بنائیے۔ہماری زندگی میں بلکہ ایک ملک و ملت کی بہتری اور ترقی میں اہم کردار جس چیز کا ہوتا ہے وہ ہے ”امید کادیا“ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ واحد دیا ہے جسے کبھی کبھار ایک مومن پوری قوم کے لیے روشن کرسکتا ہے اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ یہ کسی ”ایک“کہ ہاتھوں کی گُل ہوجائے۔یعنی کوئی ایک اپنی گفتگو اپنے دلائل اور اپنے لفظوں کے مرہم کے ذریعے پوری قوم کو پر امید کر سکتا ہے اور کوئی ایک سنسنی خیز گفتگو کا اہتمام کر کے سب کہ ہمت کو کمزور کر سکتا ہے۔کیاآپ جانتے ہیں کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں ہسپتال میں مریضوں کی سیر و تفریح کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔میوزک سسٹمز نصب کیے گئے ہوتے ہیں۔تاکہ مریضوں کو زندگی اور دنیا کے رنگ دکھا کر آخری سانس تک ایک روشن امید کے سہارے زندہ رکھا جاسکے جس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر دونوں کی Will power ہمیشہ مضبوط رہتی ہے اور انہیں ناموافق صورتحال میں بھی دفاع کرنا آسان ہوتا ہے۔حالانکہ اس چیز پر ہمارا ایمان سب سے کامل ہونا چاہیے کیونکہ ہماری کتاب میں ہم سے ہمارا مالکِ حقیقی یہ وعدہ کرتا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔آج موجودہ صورتحال پریشان کن ہے مگر اتنی نہیں کہ ہمارے ایمان کو کمزور کر دے، ہمارے توکل کو مسمار کردے۔وہ و پتھر کے سینے میں موجود کیڑے کا رازق ہے وہ ان حالات میں ہمارے گھروں میں بھی رزق کا انتظام کر سکتا ہے۔وہ خالقِ کل ہر چیز پر قادر ہے۔دنیا میں کوئی بھی چیز انسان کو اتنی جلدی کمزور نہیں کرتی جتنی جلدی مایوسی کھوکھلا کر دیتی ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلا تحقیق و تصدیق ایسی خبریں نہ پھیلائیں جو ڈر، مایوسی اور کمزوری کو جنم دیتی ہیں یاد کھیں مومن بھلائی کی خبر دیتا ہے خیر کی دعوت دیتا ہے۔ہمیں اللہ اور اسکے احکام پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو نیکی، بھلائی اور خیر کو فروغ دے سکے۔اپنے اپنے گھروں کو پر سکون آمجگاہ بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کارساز حقیقی پر توکل کرتے ہوئے مستقل مزاجی سے مصروفِ عمل رہیے۔ -

کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ؛ تحریر: پیر فاروق بہاولحق شاہ۔
کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ۔
تحریر۔پیر فاروق بہاولحق شاہ۔
اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے۔دنیا کے تقریبا تمام ملک اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔اس وبا نے دنیا سے اس کی روشنیاں چھین لی ہیں اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ ہی تبدیل کر دیے ہیں۔بدترین دشمن بھی ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ایسے ممالک جن کی کبھی صلح ممکن نہ تھی وہ بھی ایک دوسرے کی مدد کو دوڑے جا رہے ہیں۔چین اور امریکہ جیسے حریف بھی ایک دوسرے کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔لیکن اس دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے کہ جہاں کے عوام کے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہاں ایک طرف تو کرونا وائرس نے اس خطے میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں دوسری طرف بھارتی افواج کے ظلم و ستم بھی اسی تسلسل سے جاری ہیں۔
مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کا وہ خطہ ہے جو اس وقت پوری دنیا میں فلیش پوائنٹ بن کر سامنے ہے۔ دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن کا سامنا کیا جارہا ہے۔ کرونا وائرس سے قبل ہی یہاں کے لوگوں پر زندگی عذاب کر دی گئی تھی لیکن اس وائرس نے بھی آکر ان کے عذاب میں اضافہ کیا ہے۔ایک طرف تو کرونا وائرس نے موت کے ڈیرے ڈال دیے ہیں دوسری طرف بھارتی افواج کے مظالم میں بھی کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ان حالات میں بھی بھارتی افواج کے ہاتھوں مظالم قتل وغارتگری، خواتین کی بے حرمتی اور ان کے گھروں کی بے حرمتی مسلسل جاری ہے۔ان برے حالات میں جبکہ پوری دنیا کی توجہ صرف اس وبا سے نمٹنے پر مرکوز ہے مقبوضہ کشمیر یہ واحد خطہ ہے جہاں پر آج بھی ظلم و ستم کا سلسلہ کم ہونے میں نہیں آرہا۔جموں کشمیر فورم کے صدر آصف جرال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کشمیر کے علاقے سوپور میں بھارتی افواج نے کئی رہائشی گھروں کو آگ لگا دی وہاں پر داخل ہوکر مال و اسباب لوٹ لیا خواتین کی بے حرمتی کی نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا بوڑھوں کو گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا۔لیکن اس کے باوجود کشمیری لوگوں کے حوصلہ میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔وہ ظلم و ستم کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر کو بھارتی حصہ ماننے پر تیار نہیں۔
دوسری طرف ایک اور بڑا انسانی المیہ جنم لینے کو تیار ہے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے انتہائی تعصب اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طبی سامان کی فراہمی اور عملہ کی کمی کو بھی پورا کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انسانی حقوق کی چھ بین الاقوامی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔انسانی حقوق کی ان تنظیموں کے مشترکہ بیان میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگست 2019 سے گرفتار شدہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو جیل میں نہ تو انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی سہولت کا کوئی خیال رکھا جا رہا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کرونا وائرس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے جبکہ پوری دنیا کی توجہ کرونا وائرس سے نمٹنے پر مرکوز ہے تو بھارت اسٹیشن پوشیدہ ہے کشمیر میں اپنے مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور ہے خاموشی کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ جن کے ساتھ بیرونی آبادکاروں کو کشمیر کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اس عالمی صحت کے حوالے سے بحرانی صورتحال کے دنوں میں کسی بھی قسم کی قانون کی تبدیلی انسانی حقوق اور اخلاقی تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی دبانے کے لیے قانون میں تبدیلی کی کوششوں کا آغاز کیا تھا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔بھارت کی ماضی کی تمام جماعتوں کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 377 کے تحت کشمیر کے متنازع حیثیت کو چھیڑنے کی کبھی کوشش نہیں کی البتہ یہ اپنے طور پر ایک الگ حقیقت ہے کہ تمام بھارتی حکومتوں نے اپنی مسلح افواج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔گزشتہ سال پانچ اگست کو اسی لاکھ سے زائد آبادی کا یہ متنازع خطہ اس کو تقسیم کر کے رکھ دیا گیا یہاں کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔جدید دنیا کی اس طویل ترین نظر بندی میں نہ صرف لوگوں کے انسانی حقوق متاثر ہورہے ہیں بلکہ ان کی جان و مال کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں غذائی اجناس کی صورتحال تشویشناک حد تک خطرناک ہے ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں مقامی طور پر علاج کرنے کی کوشش کی جائے تو بھارتی افواج کی طرف سے ایسے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا 5اگست 2019 سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور بھارتی ظلم و استبداد کے اندھیرے نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔بھارتی آئین میں حیران کن تبدیلیوں کے بعد بھارتی حکومت نے دس ہزا رضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ پچیس ہزار سے زائد اضافی نفری کو کو متبادل کے طور پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔وادی کے تمام اضلاع میں بلاتفریق مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کو گمنام عقوبت خانوں میں منتقل کردیا گیا اور آج کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی ان کا نام و نشان نہیں مل سکا۔کرونا وائرس کے خطرات کے باوجود آج بھی بھائیوں کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہیں جوان نے اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں اور سہاگنیں اپنے خاوندوں کے انتظار میں دہلیزوں پر جمی بیٹھی ہیں معصوم بچے مسکرانا بھول چکے ہیں۔بچوں کے قہقہوں سے یہ فضائیں نہ آشنا ہو چکی ہیں ایک جبر کی کیفیت ہے ایک سکوت طاری ہے اور تمام دنیا مہر بلب ہے۔میں تمام عالمی دنیا کے ضمیر پر یہ دستک دینا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس نے بے شک پوری دنیا کو ایک حد تک مفلوج کر دیا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر آج بھی آپ کی توجہ کا منتظر ہے۔آج کشمیر کے باسی کرونا کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج سے بھی جنگ لڑ رہے ہیں دونوں طرف سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے اگر گھر کے اندر رہتے ہیں تو کرونا ان کی جان لیتا ہے اور گھر سے باہر نکلتے ہیں تو بھارتی فوجوں کی سنگینیں انکی جانوں کے درپہ ہیں نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی مثال ان دنوں مقبوضہ کشمیر پر بخوبی صادق آتی ہے۔لیکن میں یہ بات یقین سے کہنا چاہتا ہوں کہ جبر کی یہ رات ختم ہونے والی ہے ظلم کی اندھیر نگری زیادہ دیر نہیں چل سکتی ظلم کا نظام ایک حد سے زیادہ آگے نہیں چل سکتا۔امی داسو ہونے والی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے باسی کرونا سے بھی نبرد آزما ہو کر فتح یاب ہونگے اور بھارتی افواج کے سامنے بیچین اس پر رہ کر ان کو شکست فاش سے دوچار کریں گے۔انشاء اللہ
-

بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے تحریر حلیم عادل شیخ ایم پی اے
کالم : حلیم عادل شیخ ۔ ایم پی اے
بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو ماضی کے بھٹوازم کا سہارالیکر حال اور مستقبل میں زندہ رہنا چاہتی ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی نئی سوچ ہے اور نہ ہی عوام کے لیے قربانی اورخدمت کا کوئی جزبہ ہے ۔ اس لیے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگاکر ایک جزباتی اپیل کے زریعے اپنے سیاسی کاروبار کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں ،یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اندرون سندھ میں چند ایک مقامات تک مخصوص ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے غریب آدمی کے لیے نہ تو کبھی کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اس قسم کی غلطی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے کیونکہ ان لوگوں کے انداز سیاست سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ انسانی خدمت کویہ لوگ کسی گناہ سے کم نہیں سمجھتے،آجکل سندھ حکومت والے کروناوائرس کے معاملے کو ایک منافع بخش کاروبار بناکر نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دھندہ چلارہے ہیں ، بلکہ اس کروناکی آڑ میں وہ اپنی نا اہلی کے درجنوں قصے بھی دبا کر بیٹھے ہیں یعنی کرنا کرانا کچھ نہیں بس میڈیا میں آئے اور عوام کوڈرایا دھمکایا خوف دلایا اورچلے گئے اور ان تمام باتوں میں کوئی ان سے پوچھے تو کہتے ہیں کہ گھروں میں ڈری سہمی عوام کو ہرایک چیز ان کی دہلیز پر پہنچائی جارہی ہے اور اصل حقیقت اس قدربھیانک ہے کہ جس کا چندلفظوں میں موازنہ کرنا ناممکن ہوگا یہ ہی وجہ ہے کہ بھٹو کے نام کو بیچنے والے اب عوام کی نظروں میں اس قدررسواہوچکے ہیں کہ جس کا اندازہ انہیں بہت جلد معلوم ہونے والا ہے ۔ اب یہ کہنا بھی مناسب ہوگاکہ پیپلزپارٹی اپنے سیاسی امور کو زیادہ دیرتک خاندانی وراثت کے طور پر یا بھٹو کے نام کے بل بوتے پر نہیں چلاسکتی اس کی تمام تر وجوہات عیاں ہوچکی ہے یعنی نہ تو پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت عوام کو گزشتہ پندرہ سالوں سے کچھ دے سکی ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے نوجوان چیئرمین کے پاس کسی قسم کی کوئی سیاسی بصیرت موجود ہے جواپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور جو اپنے منہ سے تعمیری اور مثبت باتیں کہنے سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں جن کو مشورہ دینے والے وہ ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کے مشوروں سے ان کی والدہ محترمہ کی حکومتیں وقت سے پہلے زوال کا شکار ہوتی رہی ہیں دوسری جانب بھٹو کے نام سے چلنے والی اس خاندانی وراثت کازور آنے والے کچھ دنوں میں مزید کم ہوجائے گا، میں اس کی مثال ہندوستان اور سری لنکا کی ایک مشہور خاندانی سیاست سے دینا چاہونگا،جس میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاندانی وراثتیں اس وقت تک ہی چل سکتی ہیں جب تک وارثین عوام کی خدمت کرتے رہے اور عوام کے دلوں میں اپنا مقام اور مرتبہ قائم رکھ سکے یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نہرو اور گاندھی فیملی کے سیاستدان جبکہ سری لنکا میں بندارناءکے فیملی کا زور کم ہوگیاہے جس کی بنیادی وجہ عوام کے دلوں سے نکل جاناہے ،جس طرح ہندوستان میں نہرو نے اپنی بیٹی اندراگاندھی کے لیے وزرات عظمیٰ کی راہیں ہموار کی اور جس طرح سے سری لنکا میں بندار ناءکے کی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی وجہ سے وزیراعظم بنی کچھ اسی طرح کی ملتی جلتی کہانیاں پاکستان کی موروثی سیاست میں بھی واضح طورپر دیکھی جاسکتی ہیں مگر ان ممالک میں ہونے والی موروثی سیاست کا جوحال ہورہاہے وہ بھی اب تاریخ کا حصہ بنتاجارہاہے یعنی کہیں بن چکاتو کہیں یہ تاریخ رقم ہونے والی ہے کہ لوگ خاندانی سیاست کو نہیں بلکہ عوام خدمت والی سیاست کو ہی ترجیح دے رہے ہیں ۔ یہاں تک میاں نوازشریف نے بھی بھٹو صاحب اور سری لنکا سمیت ہندوستان کی اس موروثی سیاست کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلہ نصب کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہواہے جس کی گونج آج کل پارٹی پر اقتدار کے حوالے سے مسلم ن میں چاچا بھتیجی کا جھگڑاہے جسے میڈیا سے چھپایا جارہاہے اورآجکل مسلم لیگ ن دوحصوں میں بٹی دکھائی دیتی ہے ، آج اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہ میں اندازہ ہوجائیگا کہ پاکستان میں معاشی تباہی کے اصل ذمہ دار یہ دو گھرانے ہی ہیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جنھوں نے ملکی اقتدار پر قبضہ کیے رکھا اور کبھی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کا منہ تک نہ دیکھنے دیا جن کے ہردور میں ملک کرپشن اور لاقانونیت کی دلدلوں میں دھنستا رہا،یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار پنجاب جو کہ مسلم لیگ ن کا قلعہ تھا آج اس میں تحریک انصاف یعنی ایک نئی سوچ کی حکمرانی ہے جبکہ سندھ میں اب بھٹو کا نعرہ اندرون سندھ کے کچھ جانے انجانے علاقوں تک محدودہوکر رہ گیاہے اور وہاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس ناگہانی نعرے کے نقش مٹتے چلے جارہے ہیں کیونکہ سندھ کے لوگ اب مزید موٹر ساءکلوں پر لاشیں نہیں لے جاسکتے اپنے بچوں کو سیاسی بھیڑیوں کے بعد گلی محلوں میں پھرنے والے کتوں سے نہیں کٹواسکتے، آج پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین جو ہر وقت ایجی ٹیشن کے انداز میں بات کرتے ہیں جنھیں دیکھ کر لگتاہے کہ یہ نوجوان جان بوجھ کر حقیقت کی دنیا میں نہیں آنا چاہتاجس کی شخصیت دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ ان موصوف میں کوئی نئی اور مثبت سوچ ہوہی نہیں سکتی جس کے پاس دوہزاربیس اور اکیس میں الجھی ہوئی قوم کو منجھدار سے نکالنے کے کسی سوال کا جواب ہی نہیں ہے جو صرف بھٹو کا نام بیچ کر اس ملک میں وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہاہے جس نے اپنے چندوزرا کوٹی وی پروگراموں میں بٹھاکر اسے عوامی خدمت قرار دیاہواہے جنھوں نے باتیں تو بہت کی مگر کبھی کسی نے انہیں عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا،آج اس موروثی سیاست کا سہارا لینے والوں نے اٹھارویں ترمیم کو بلاوجہ کا ایشو بنارکھاہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اٹھارویں ترمیم پیپلزپارٹی کا کند ہتھیارہے جو کہ کسی بھی طرح سے ان کے زوال کو نہیں روک سکتا جب ان لوگوں کے پاس کسی سوال کاجواب نہیں نکل پاتاتووہ اٹھارویں ترمیم کے دفاع کی بات شروع کردیتے ہیں اور میں یہ سمجھتاہوں کہ اٹھارویں ترمیم کو اگر کوئی خطرہ ہے تو خود پیپلزپارٹی سے ہی ہے ان کی خراب کارکردگی سے ہے کوئی ان سے پوچھے کے اس اٹھارویں ترمیم کے تحت جو پاوران کے صوبے کو ملی اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچایا گیا پچھلے پندرہ سالوں میں ایک شعبہ صحت کا یہ حال ہے کہ معصوم بچے آئے روز کتے کے کاٹنے سے مرجاتے ہیں مگر کسی ایک سرکاری ہسپتال میں اس کی ویکسین نہیں ملتی پھر کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے کوئی ان سے پوچھے کہ صحت کے شعبے میں تین اداور میں ساڈھے پانچ کھرب کی بھاری رقم کہاں لگی تو یہ کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے، کوئی ان سے پوچھے سندھ میں تعلیم کا اربوں روپے کا بجٹ کس سرکاری اسکول پر لگا تو کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے یہ ہی ایک نعرہ باقی بچا ہے ان لوگوں کے پاس یہاں تک ان سے یہ تک پوچھ کے دیکھ لے کے زرداری صاحب کے دور میں بہت اچھے کام ہوئے تو کہیں گے بہت شکریہ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ بے نظیر کا قاتل کون ہے اور کہاں ہے;238; تو کہیں گے بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔ ختم شد
تحریر;حلیم عادل شیخ ۔ ممبر سندھ اسمبلی ۔ پارلیمانی لیڈر تحریک انصاف سندھ
-

لاوڈ سپیکر پر اذان دوسروں کیلئے تکلیف دہ، بند ہونی چاہیے
بالی وڈ کے معروف شاعر ،مصنف،اور ملحد جاوید اختر کا کہنا ہے کہ لاوڈ سپیکر پر اذان دوسروں کیلئے تکلیف دہ، بند ہونی چاہیے
باغی ٹی وی : بالی وڈ کے معروف شاعر ،مصنف،اور ملحد جاوید اختر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اذان کے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہند میں تقریبا 50 سال تک اذان بلند آواز سے کہنا حرام تھی پھر یہ حلال ہو گیا کہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہوگا لیکن اس کا خاتمہ ہونا چاہئے اذان ٹھیک ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر دوسروں کو تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
In India for almost 50 yrs Azaan on the loud speak was HARAAM Then it became HaLAAL n so halaal that there is no end to it but there should be an end to it Azaan is fine but loud speaker does cause of discomfort for others I hope that atleast this time they will do it themselves
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) May 9, 2020
جاوید اختر کی اس ٹویٹ پر صارفین نے امختلف تبصرے کئے اور ایتھیسٹ جاوید اختر کو تنقید کا نشانہ بنایاDisagree with your opinion.
Plz. Don't pass such comments which is related to Islam & beliefYou must know that we are not running high volume songs every time & playing in hands of evil
Adaan is the most beautiful invitation for coming to prayer & walk on right track of life.
— Mohamed Abdul Azhar (@AzharJeddah2003) May 9, 2020
اظہر نامی صارف نے لکھا کہ میں اپ کی رائے سے متفق نہیں ہوں پلیز اس طرح کے تبصرے مت کریں جو اسلام اور عقیدہ سے وابستہ ہیں
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ہر بار اونچی آواز میں گانے نہیں چلا رہے ہیں اور برائی کے راستے چل رہے ہیں اذان نماز کے لئے آنے اور زندگی کے صحیح راستے پر چلنے کے لئے سب سے خوبصورت دعوت ہےSo are you suggesting that those Islamic scholars who had declared the loud speaker haraam for almost fifty years were all wrong and didn’t know what they are talking about . If you have the guts then say so then I will tell you names of those scholar .
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) May 9, 2020
صارف اظہر کے جواب میں ایتھیسٹ جاوید اختر نے لکھا کہ تو کیا آپ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اسلامی اسکالرز جنہوں نے لگ بھگ پچاس سالوں سے لاؤڈ اسپیکر کو حرام قرار دیا تھا وہ سب غلط تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو پھر اتنا کہہ دیں میں آپ کو ان عالم کے نام بتاؤں گا۔He is very shrewd.. he realised that his atheist ploy has failed.. he was getting exposed.. its just a balacing act.
— Raj T (@dr_tewari) May 9, 2020
راج ٹی نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ وہ بہت باشعور ہے .. اسے احساس ہوا کہ اس کا ملحد چل چکی ناکام ہوچکی ہے ..وہ بے نقاب ہو رہا تھا .. اس کی طرف سے یہ ٹویٹ صرف ایک توازن عمل ہے۔
https://twitter.com/ArnabGoswame/status/1259135184999514122?s=20
ارنب گوسوانی نامی صارف نے لکھا کپ دنیا میں کون سے ملک کے شہری اپنے ہی فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں؟اگر انھیں غدار کہا جاتا ہے تو پھر دین کا چراغ لہرانے لگتا ہے ، خطرے میں آجاتا ہے !!Liberals are like.. pic.twitter.com/Z7mt3M8Poi
— Crime Master Gogo (PARODY) 🇮🇳 (@vipul2777) May 9, 2020
ایک صارف نے مزاحیہ میم شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ لبرل ان کے جیسے ہوتے ہیںWhy would we care about your opinion ??
Recently in Spain almost after 500 years, Azaan was called on loudspeaker in the mid of this crisis… even they are starting to acknowledge the importance…..
I feel so pity for you "Atheist "!!!!!— Shoaib raj (@Shoaib14raj) May 9, 2020
شعیب راج نامی صارف نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ ہم آپ کی رائے کی پروا کیوں کریں گے؟حال ہی میں اسپین میں لگ بھگ 500 سال بعد اذان کو لاؤڈ اسپیکر پر اس بحران یعنی کورونا وائرس کے وقت اس بحران کے خاتمے کے لئے دی گئی تھی … یہاں تک کہ وہ اس کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر رہے ہیں …..مجھے آپ کے "ملحد” ہونے پر بہت ترس آتا ہے !!!!!
https://twitter.com/izubairansari/status/1259141633293070342?s=20
زبیر انصاری نامی ایتھیسٹ جاوید اختر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کا مقصد لوگوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے کے لئے بلانا ہے۔ اور اذان دنیا کی خوبصورت آواز ہے۔ یہ کسی بھی قیمت پر نہیں رکے گی- اور آپ اور سونو نگم نے اور بہت سے لوگ سمجھ لیں جو یہ سوچتے ہیں کہ اذان کے دوران وہ پریشان ہوتے ہیں توپھر اپنے کانوں کوبند رکھیں۔
https://twitter.com/ron_naber/status/1259136333320200193?s=20
ایک صارف نے لکھا کپ یہ ملحد ہے۔ آدھے ہندوستان کو یہ تصور نہیں ملتا ہے اور وہ اس کے نام پر گندگی پھینکتے رہتے ہیں۔ میرے لئے یہ حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہ آدمی مذہب سے نفرت کرتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھارتی معروف گلوکار سونو نگم نے تین سال قبل 2017 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اذان کی آواز کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا سونو نگم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ خدا آپ سب کا بھلا کرے میں مسلمان نہیں ہوں اور مجھے اذان کی آواز سن کر صبح اٹھنا پڑتا ہے انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی گلوکار کی اس ٹویٹ پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا تھا
بھارتی گلوکار سونو نگم کو 2017 میں کی گئی ٹویٹس پر پھر تنقید کا سامنا
بھارت وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کررہا ہے مہوش حیات
-

میرا پہلا کرکٹ بیٹ اماں نے بچت کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا، عظیم بلے باز کا ماں کو خراج تحسین
پہلا بیٹ جو میں نے خریدا تھا وہ 1500 پاکستانی روپے کا تھا : پاکستانی معروف بلے باز بابر اعظم
باغی ٹی وی : نامور قومی کرکٹر بابر اعظم کا مدر ڈے کے حوالے سے اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کہ آج جو کچھ ہوں والدہ کی وجہ سے ہوں میرا پہلا کرکٹ بیٹ اماں نے بچت کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا بابر اعظم نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر شئیر کی اور اوپر مدر ڈے کے موقع پر اپنی والدہ کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ جو پہلا بیٹ میں نے خریدا تھا وہ 1500 پاکستانی روپے کا تھا

انہوں نے اپنی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ آپ کی وہ تمام بچت تھی جو آپ نے مجھے دے دی تھی آپ نے مجھ پر یقین کیا جب دوسروں نے نہیں کیا میرا پور پور آپکا قرض دار ہےواضح رہے کہ آج 10 مئی 2020 کو پاکستان میں مدر ڈے منایا جا رہا ہے جس میں تمام لوگوں سمیت معروف شخصیات بھی اپنی عظیم تریم ہستی ماؤں کے نام خوبصورت پیغام اور دعائیں شئیر کر کے انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں
-

وینا ملک نے آصف زرداری اور نواز شریف کے متعلق وزیر تعلیم کو درخواست لکھ دی
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سپورٹر وینا ملک سوشل میڈیا پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) پراکثر طنزومزاح اور تنقید کرتی اور طرح طرح کے القابات سے نوازتی نظر آتی ہیں
باغی ٹی وی :معروف اداکارہ وینا ملک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں ن لیگ کے چئیرمین نواز شریف اور پی پی پی کے صدر آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر تعلیم سے درخواست کی لکھا کہ میں وزیر تعلیم سے درخواست کرتی ہوں نصاب میں لفظ چور حذف کرکے نواز جبکہ ڈاکو کی بجائے زرداری لکھا جائے تاکہ آنے والی نسل پاکستان کو لوٹنے والوں کو نا بھولے
وزیر تعلیم سے درخواست کرتی ہوں نصاب میں لفظ چور حذف کرکے نواز جبکہ ڈاکو کی بجائے زرداری لکھا جائے تاکہ آنے والی نسل پاکستان کو لوٹنے والوں کو نا بھولے
— VEENA MALIK (@iVeenaKhan) May 10, 2020
وینا ملک کی اس ٹویٹ پر ہمیشہ کی طرح صارفین نے پی ٹی آئی اور وینا ملک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا یا جبکہ کچھ صارفین نے وینا کی ٹویٹ پر مثبت جواب دیتے ہوئے ادکارہ کی بات سے اتفاق کیاسندھ میں اگر ان کھدڑوں،کھسروں کی حکومت مزید رہی تو آدھی عوام بھوک سے آدھی کرونا سے اور باقی کتے اور سانپوں کے کاٹنے سے مر جائے گی اور پھر صرف بھٹو رہ جائے گا۔۔۔۔
— Saad Bin Tariq (@SaadTariqb) May 10, 2020
وینا ملک کی ٹویٹ پر ا تفاق کرتے ہوئے سعد بن طارق نے پی پی پی کو تننقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ سندھ میں اگر ان کھدڑوں،کھسروں کی حکومت مزید رہی تو آدھی عوام بھوک سے آدھی کرونا سے اور باقی کتے اور سانپوں کے کاٹنے سے مر جائے گی اور پھر صرف بھٹو رہ جائے گا۔۔۔۔اور لفظ نااہل کے بجائے عمران لکھا جائے تاکہ لوگ اہل کو ووٹ دے۔
— Naveed Azam Kakar #ISLAM (@naveedazambabar) May 10, 2020
نوید اعظم ککڑ نے عمران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اور لفظ نااہل کے بجائے عمران لکھا جائے تاکہ لوگ اہل کو ووٹ دے۔Zakat chor selab fund chor mask chor adwiyat chor ata cheni chor ki bajye imran khan ki tesver laga di jaye #ARYSindhDushman #LanatARY #WeWillExposeARY
— Kashif Ali Abbasi (@Kashifabasi1987) May 10, 2020
کاشف علی عباسی نامی صارف نے لکھا کہ زکوۃ چور، سیلاب فنڈ چور ،ماسک چور،ادویات چور،آٹا ، چینی چور کی بجائے عمران خان کی تصویر لگا دی جائےشان شاہد اور جواد احمد کے مابین حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے لفظی جنگ