Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • صحافی کی بدتمیزی پر خلیل الرحمن کا جواب

    صحافی کی بدتمیزی پر خلیل الرحمن کا جواب

    مصنف و ہدایت کار خلیل الرحمان قمر کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ آپے سے باہر ہوکر صحافی پر برس پڑے لیکن اس واقعے کے عینی گواہ سید باسط علی جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے کہا ہے خلیل الرحمن کی کوئی غلطی نہیں تھی

    باغی ٹی وی : خلیل الرحمن قمر اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے درمیان عورت مارچ کے حوالے سے تنازع کی شروعات ایک نجی ٹی وی میں ہوئی تھی خلیل الرحمن قمراس شو میں اس وقت غصے میں آگئے جب ماروی سرمد انہیں بولنے نہیں دے رہی تھیں اور ان کی بات کے درمیان باربار میرا جسم میری مرضیکا نعرہ لگائے جارہی تھیں

    ماروی سرمد کی اس حرکت ہر خلیل الرحمن قمر نے اس پر چلانا شروع کردیا اور لائیو شو میں ماروی سرمد کو نا زیبا باتیں سنا دیں ان کے اس عمل پر متعدد شخصیات کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن عوام نے ان کو بھر پور سپورٹ کیا اور پھر خلیل الرحمن قمر کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ انٹرویو کرنے والے رپورٹر پر چلارہے تھے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خلیل الرحمن قمر رپورٹر کو چلاتے ہوئے کہہ رہے ہیں ایک سوال کیجئے میں نے جواب دے دیا آگئے چلیے رپورٹر نے سوال بدل کر پوچھا خلیل صاحب آپ کے چاہنے والے جو آپ کے ڈائیلاگز پسند کرتے ہیں تو آپ کو نہیں لگتا جب آپ کا طرز عمل یہ ہو خلیل الرحمن قمر نے صحافی کی بات کاٹ کر کہا کیا طرز عمل اس کے بعد انہوں نے رپورٹر کو گالی دی اور چلاتے ہوئے کیمرہ بند کرنے کا کہا

    تاہم اب ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں سید باسط نے کہا کہ میں عینی شاہد ہوں اس بات کا میں وہیں موجود تھا اس نے کہا میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اس میں خلیل صاحب کا کی کوئی غلطی نہیں ہے


    انہوں نے کہا جب صحافی فرخ شہباز نے جب یہ ویڈیو بنایہ میں وہیں بیٹھا ہوا تھا سید باسط نے کہا انٹر ویو وقت سلام دعا بھی نہیں ہوئی صحافی نے آتے ہی پوچھا کہ آپ نے ماروی سرمد کوگالی کیوں دی

    اس سوال پر خلیل رحمن نے کہا یہ میں پہلے کافی مرتبہ بتا چکا ہوں بہت ہو چکا ہے کوئی نئی بات نیا سوال کرو اگر تیاری کر کے آئے ہو تو نئی بات کرو ماروی سرمد اور اس انٹر ویو کی کوئی بات نہیں ہو گی خلیل صاحب نے دو تین بار منع کیا

    لیکن فرخ شہباز نے یہی ایک سوال بار بار اور بدتمیزی سے پوچھا جیسے کسی مجرم سے پوچھا جاتا ہے جس پر خلیل صاحب طیش میں آگئے

    سید باسط نے کہا وہاں پر موجود سب لوگوں نے صحافی فرخ کو ہی کہا کہ ان کی غلطی ہے ان کو ایک سوال بار بار نہیں کرنا چاہیئے تھا

    خلیل الرحمن کی عورت مارچ کے بیان پر حامد میر پرشدید تنقید

  • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خواتین کے عالمی دن پر پیغام

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خواتین کے عالمی دن پر پیغام

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین کے لیئے روشنی کا مینار ہے میں اپنے ملک کی ماؤں اور بیٹیوں کو یقین دلاتا ہوں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند کی حیثیت سے ہمیشہ آپ کے حقوق کے لئے کھڑا رہوں گا بلاول بھٹو زرداری

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی خواتین اب عورتوں سے نفرت کرنے والوں کی دھونس دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے والی نہیں شہید بی بی نے خواتین کے لئے راستے روشن کئے تاکہ ان کی محنت اور جان پر فقط ان کا اختیار ہو شدید مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی نے خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین و پسماندہ طبقات کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی سازشیں کرنے والوں کے خلاف لڑیں گے پاکستان کی عوام نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے حق میں ووٹ دیا اسی وزیراعظم نے مردوں کے زیرتسلط نظام حکومت میں خواتین کے لئے راستے ہموار کئے

    پی پی پی کے چئیر مین نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس امر کو یقینی بنایا کہ وہ اپنے ساتھ دیگر تمام خواتین کو بھی آگے لائیں
    پی پی پی حکومت نے خواتین کسانوں کو زمینیں دیں اور خواتین محنت کشوں کے لیئے یکساں اجرت کا قانون بنایا آج، لیڈی ہیلتھ ورکرز ملک کے کونے کونے میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور قابل احترام زندگی گزار رہی ہیں

    بلاول نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی کا آغاز کرکے شہید محترمہ کے وژن کی تکمیل کی جبکہ اس پروگرام کو بین الاقوامی سطح پربھی سراہا گیا

    انہوں نے کہا عمران خان کی حکومت نے بی آئی ایس پی کارڈز سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر اور نام ہٹا دیا لیکن بڑے منصب پر بیٹھے چھوٹے لوگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو ختم نہیں کرسکیں گے وہ اقدام جن کے نتیجے میں صنفی امتیاز پر قائم پدرانہ شاہی نظام اقتدار کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں

    بلاول بھٹو نے مزید کہا ہر عورت اب جانتی ہے کہ وہ بھی بینظیر بن سکتی ہے

    چئیرمین پی پی پی نے کہا یونین کونسل کی سطح پر شروع کیے گئے پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام کے تحت 15 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں مذکورہ خواتین کو بلا سود قرضے فراہم کیئے گئے، جن سے انہوں نے اپنے چھوٹے موٹے کاروبار شروع کئے

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں اپنے ملک کی ماؤں اور بیٹیوں کو یقین دلاتا ہوں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند کی حیثیت سے ہمیشہ آپ کے حقوق کے لئے کھڑا رہوں گا پیپلز پارٹی خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوات کے لئے اٹھنے والے ہر قدم کی حمایت کرے گی

    کسی بھی فورم پر عورت کی تذلیل ناقابل قبول رویہ ہے فردوس عاشق اعوان

  • نہیا ککڑ کے نئے گھر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    نہیا ککڑ کے نئے گھر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارتی معروف گلوکار ہ نیہا ککڑ نے اپنے نئے بنگلے اور پُرانے گھر کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں

    باغی ٹی وی : معروف بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے تصویر اور سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے نئے بنگلے کی اور ایک کمرے پر مشتمل اپنے پرانے گھر کی کچھ تصاویر شیئر کیں

    گلوکارہ نے کیپشن میں لکھا کہ ان تصاویر میں نظر آنے والے اس بنگلے کی مالکن میں ہو اور تصویر میں نظر آنے والا دوسرا گھر بھی میرا ہے جہاں میں پیدا ہوئی


    بھارتی گلوکارہ نے لکھا کہ میرے پرانے گھر میں صرف ایک کمرہ تھا جس میں میری والدہ نے ایک میز کو باورچی خانے کی شکل دی ہوئی تھی اور وہ گھر ہمارا اپنا نہیں تھا بلکہ کرائے کا تھا ہم اس کا کرایہ ادا کرتے تھے

    انہوں نے لکھا کہ میں جب اسی شہر میں اپنے بنگلے کو دیکھتی ہوں تو جذباتی ہو جاتی ہوں

    نیہا ککڑ نے اس پوسٹ میں اپنے بھائی ٹونی ککڑ بہن سونو ککڑ، والدین اور اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    نیہا ککڑ نے نئے اور پرانے گھر کی تصویر انسٹا گرام سٹوری پر بھی شیئر کی اور لکھا کہ غریبی بھی دیکھی ہے اور امیری بھی دیکھی ہے کبھی غریبی پر افسوس نہیں کیا اور اب امیری پر ناز نہیں کرتی

    واضح رہے کہ نیہا ککڑ بالی ووڈ کی معروف گلوکارہ ہیں ان کے مشہور گانوں میں یاد پیا کی آنے لگی ،تو ہی یار میرا ،ملے ہو تم اور اس کے علاوہ دیگر گانے شامل ہیں

    نیہا ککڑ کے بھائی ٹونی ککڑ اور بہن سونو ککڑ بھی بالی وڈ کے بہترین گلوکار ہیں

  • وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی فلم انڈسٹری  اور سینما کی بحالی کی تجاویز کے لئے اجلاس طلب

    وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی فلم انڈسٹری اور سینما کی بحالی کی تجاویز کے لئے اجلاس طلب

    حکومت ملک کے اصل تشخص اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرے گی وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فلم انڈسٹری اور سنیما کی بحالی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح پاکستانیت کو اجاگر کرنا اور ہمارے معاشرے کی ثقافت اور اقدار کا تحفظ کرنا اور انہیں فروغ دینا ہے

    اجلاس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری، سیکریٹری اطلاعات اکبر حسین درانی، فراز چوہدری، پیر سعد احسن الدین اور زوریز لاشاری نے شرکت کی

    اجلاس کے شرکا نے وزیراعظم کو ملک میں فلم انڈسٹری اور سنیما کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں

    اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے زوریز لاشاری نے کہا کہ اس حوالے سے دوسرا اجلاس آج لاہور میں سیکریٹری ثقافت فلم پروڈیوسرز ڈائریکٹرز اور سنیما مالکان کے ساتھ ہوگا جس میں فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی

  • فلمی صنعت کی بحالی کے لئے حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی فردوس عاشق اعوان

    فلمی صنعت کی بحالی کے لئے حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی فردوس عاشق اعوان

    وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے فلم اور سینما کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے

    باغی ٹی وی :لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں فردوس اعوان نے کہاکہ نئی فلم پالیسی سے متعلق اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ہوئی ہےجس میں فلم ،سینما کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد مختلف صوبوں نے سینسر بورڈ قائم کیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر نہ کوئی پالیسی بن سکتی ہے نہ اس پر عمل ہوسکتاہے

    فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ نئی فلم پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز شامل کی جائیں گی فلم صنعت کی بحالی کےلیے حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی آج نوجوانوں کے پاس تفریح کے مواقع نہیں ہیں معیشت کو چلانے کےلیے فلم پروڈیوسرز بھی اپنا کردار ادا کریں

    معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ پاکستان کا روشن چہرہ عالمی سطح پر لانے کیلئے سینما کی بحالی ضروری ہےفلمی صنعت کے ذریعے تہذیب اقدار اور ثقافت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں حکومت ملک کے اصل تشخص اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرے گی

    فردوس اعوان نےمزید کہاکہ فلم کو سینسر کرنےکا اختیار فیڈرل سینسر بورڈ کےپاس ہوگا صوبائی حکومت کی مشاورت سے فیڈرل سینسر بورڈ تشکیل دیاجائےگا

  • خلیل الرحمن کی عورت مارچ کے بیان پر حامد میر پرشدید تنقید

    خلیل الرحمن کی عورت مارچ کے بیان پر حامد میر پرشدید تنقید

    ڈرامہ نگار اور مصنف خلیل الرحمن قمر نے معروف اینکر پرسن حامد میر کو عورت مارچ کے حوالے سے کی گئی ٹویٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے میڈل لیتے دیکھ چکی ہے

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خلیل الرحمن قمر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے حامد میر کے عورت مارچ کے حوالے سے ریمارکس لکھے ،بیٹی کے ہمراہ میرا جسم میری مرضی ،، مارچ میں شرکت کرونگا حامد میر
    https://twitter.com/KrqOfficiaI/status/1236289658054529024?s=19
    حامد میر کے ان ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے ڈرامہ نگار نے لکھا انتظار کروں گا بیٹی کے ہمراہ وہی گھٹیا بینرز اٹھا کر تصویر لگانا جو ایک غیور باپ نہیں لگا سکتا مگر آپ کچھ بھی کر سکتے ہو

    انہوں نے مزید حامد میر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے گولڈ میڈل لیتے دیکھ چکی ہے

    خلیل الرحمن قمر نے ٹویٹر صارفین اور اپنے چاہنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا صاحبان محبت ان کو ٹیگ کر کے بینرز دکھا دیں

    واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے آج یعنی 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی تھی عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا

    عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا

    جس پر متعدد معروف شخصیات نے خلیل الرحمن قمر کو اس رد عمل پر شدید تنقید کا نشانہ بنا یا اور ٹی وی چینلز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کا سکرین پر بائیکاٹ کریں ان شخصیات میں حامد میر سمیت کئی معروف شخصیات شامل ہیں

    عامر لیاقت نے خلیل الرحمن قمر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے انداز کو جاہلانہ قرار دیدیا

  • عورت مارچ کے حوالے سے اسلام پسندوں کا نمائندہ موقف

    عورت مارچ کے حوالے سے اسلام پسندوں کا نمائندہ موقف

    عورت مارچ کے بارے میں اسلام پسندوں نے اپنے موقف میں کہا کہ یہ مارچ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے اور نہ ہی اس کو شریعت کی پشت پناہی حاصل ہے

    باغی ٹی وی: عورت مارچ کے بارے میں علامہ حشام الہی ظہیر نے اپنے موقف میں کہا کہ میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے ہونے والے مارچ میں یہ نعرہ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے نہ ہی اس کو شریعیت کی پشت پناہی حاصل ہے عام فہم بات یہ ہے کہ انسان کا اپنے جسم اور اپنے اوپر اختیار کتنا ہے

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی


    انہوں نے کہا جن لوگوں کے گھر آپ پیدا ہوئے کیا آپ کو اختیار دیا گیاتھا کہ آپ کے والدین کون ہوں گے یہ اختیار ہے کہ آپ اپنی مرضی سے والدین بہن بھائی بلڈ گروپ وطن کنبہ خاندان قبیلہ چن لیں یہ اب انسان کے پاس اللہ کی امانت ہیں

    علامہ حشام نے کہا جبکہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ عورتیں علماء اور مولویوں کو ایسے ایسے القابات سے نوازتی ہیں اور کہتی ہیں یہ ہمیں گھروں میں بند کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ پاک فرماتا ہے تو تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے کسی مولوی کا نہیں اگر عورتوں کے بارے میں یہ قول ہے تو ہمارا تعلق اس مذہب اور شریعت سے ہے جس میں ہمارے نبی پاک نے ایک صحابی سے کہا کہ گھروں میں قرار پکڑو مردوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا چوکوں اور چوراہوں پر نظریں جھکانے کا حکم دیا

    مسلمان کے پروٹوکول کے بارے میں تو اللہ نے آسمان سے ناذل کیا ہے کہ عورت کیسے رہے گی اس کے حقوق کیا ہوں گے

    یہ عورتیں چاہتی کیا ہیں میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر مردوں کے برابری کے حقوق کے نعرے لگا کر کیا یہ مردوں کی برابری کر سکتی ہیں کیا یہ مردوں جتنی مشقت والی مزدوری کر سکتی ہیں یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں

    مذہبی سکالر نے کہا یہ جو مافیا یہ تو عورت بریگیڈ ہے اس قبیلے کی عورت کو الو کی پٹھی جیسا خطاب ایک صاحب نے ٹی وی پر بیٹھ کر دیا اس تہذیب کے منہ پر ایک چانٹا رسید کر کہ اس الو کی پٹھی کا حلیہ بگاڑ دے، یہ کونسی سوچ اور فکر ہے یہ کونسا فلسفہ اور منطق ہے میں آپ کو شرح صدر یہ بات کہتا ہوں کہ ان عورتوں کا کردار ان عورتوں کا کلچر اُن عورتوں کی طرح جو بازار میں نچیوں کی جسم فروشی کر کے اپنے گھروں کی دال روٹی اور روزی کماتی ہیں یہ درندہ صفت عورتیں ہیں

    مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے


    علامہ صاحب نے کہا ملک کے اندر ریپ کی سزا کے اوپر اسلامی طبقہ جب بھی سزائے موت کی بات اٹھاتا ہے تو یہی لبرل مافیا موم بتی مافیا جو عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے درمیان میں آجاتا ہے تب ان کو عورتوں کے حقوق کا یہ حق نظر نہیں آتاکہ ان کی عصمت دری نہ ہو ریپ نہ ہو یہ اپنی زیرنگرانی جسم فروشی کے اڈے چلانے والی عورتیں ہیں

    مذہبی سکال نے کہا آج یورپ کی مسلمان بیٹی حجاب کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ پاکستان کی مغرب زدہ عورتیں ہیں یہ بے نقابی اور بے حجابی کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں اسلامی شعور کا تمسخر اڑاتی ہیں اگر یہ عورتوں سے مخلص ہوں تو یہ ایمنداری سے ریپ کے سلسلے میں سزائے موت دینے پر ہم آواز نہ ہوں یہ جسم فروشی کے اڈے بند کرنا چاہیں یا نہ چاہیں یہ اصل میں عورتوں کی آزادی کی جنگ نہیں ہے یہ عورتوں تک آزادی کی جنگ ہے عورتوں تک رسائی کا کلچر ہے یہ ان عورتوںً کو پروموٹ کر کے اپنا کاروبار چلانا چاہتی ہیں

    امر باالمعروف میں ہے کہ کسی ظلم یا برائی کو ہاتھ سے روکیں اگر نہ روک سکتے ہوں تو زبان سے روکیں یہ بھی نہ کر سکتے ہوں تو دل میں بُرو کہہ لیں افسوس کے ساتھ آج اگر ہم ایمان کی کمزوری میں ہیں اگر اپنے ہاتھ سے اس قسم کے مارچ کو روک نہیں سکتے تو آواز تو اٹھا سکتے ہیں

    یہ قانون دان یہ منصف کیسے قانون پڑھے ہوئے لوگ ہیں پاکستان کا آئین اسلامی اقدار کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے اسلامی اقدار کو پروموٹ کرنے کی گارنٹی دیتا ہے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی حوصلہ افزایی کرتا ہے کیا یہ ملک سیکولرزم کے نام پر بنایا گیا تھا اگر اس ریاست کو سیکولر ریاست بنانا تھی تو ہنوستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا اسلامی قوانین کے مطابق زندگیاں گزارنے کے لئے حاصل کیا ہے

    علامہ حشام الہی ظہیر کے مطابق کچھ قانون دانوں اور منصف دانوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے گا آپ کو چاہیئے تھا آپ اس مارچ کو رکوانے کے لئے آرڈر جاری کرتے یہ اسلام کے ساتھ مذاق ہے یہ اسلام کا تمسخر اڑا رہی ہیں یہ کسی مولوی کا قول نہیں کہ گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے یہ اسلامی اقدار اسلامی معاشرت اور اسلامی شریعیت کے بنیادی قوانین ہیں آپ ان پر پابندی لگانے کی بجائے ان کو اجازت دے رہے ہیں

    عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

  • عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

    عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

    میں عورت مارچ کے مخالف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا لینا دینا پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو

    باغی ٹی وی: عورت مارچ کے‌حوالے سے پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا ایک ویڈیو پیغام شئیر کیا


    انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں ایک عزت دار عورت آپ کا بالکل ساتھ نہیں دے گی پی ٹی آئی کارکن نے کہا کہ ہمارے والد صاحب ہمارے فخر ہیں پمارا بھائی ہمارا غرور ہیں ہمارا شوہر ہمارا مسیحا ہے یہ ہیں تو ہم ہیں ہم ہیں تو یہ ہیں

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کس طرح کی آزادی چاہتے ہیں? اور اس کو میں سپورٹ کیسے کروں گی ?ہاں آپ نکلیں آپ پر تیزاب پھینکا جاتا اس کے لئے نکلیں آپ جہیز کے لئے نکلیں جہیز کے لئے مارا جاتا ہے زیادتی کی جاتی ہے ظلم کئے جاتے ہیں ایسے سلوگنز لکھیں تو ہر عورت آپ کا ساتھ دے گی میں آپکا ساتھ دوں گی

    انہوں نے کہا ہر سیاسی عورت ہر طبقے کی عورت آپ کا ساتھ دے گی ایسے ظلم کے لئے آپ آواز اٹھاتے ان کو آپ ٹاپ ٹرینڈ رکھتے لیکن اگر آپ بے حیائی کو تاپ ٹرینڈ رکھیں تو آپکا بالکل بھی کوئی ساتھ نہیں دے گا

    دعا بھٹو نے کہا کہ ہمارے ملک میں اور بہت بڑی بڑی مثالیں ہیں جن کو آزادی دی گئی جو آزاد ہیں جو آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں تو اگر آپ ایسے سلوگنز لے کر آزادی مانتے ہیں تو کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں یہ سب جانتے ہیں کہ آپ کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں عزت دار عورت اس چیز میں کبھی بھی آپکا ساتھ نہیں دے گی اور میں تو بالکل بھی نہیں دون گی

    انہوں نے ویڈیو پیغام کے کیپشن میں لکھا کہ میں عورت مارچ کے خلاف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے کھان خود گرم کرو اور میرا جسم میری مرضی فحش سلوگنز نہیں عورت کا باپ اس کا مان ہے اس کا بھائی اس کا رکھوالا اور اس کا شوہر اس کی عزت ہے اور عورت کے حقوق وراثت میں حصہ ہے معاشرے میں مقام ہے

    انہوں نے ہیش ٹیگ ووئی ریجیکٹڈ میرا جسم میری مرضی استعمال کیا

    واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی ہے عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا

    مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی


    عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہےاور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی رائے کے مطابق اس مسئلے پر بات کر رہا ہے

    کسی بھی فورم پر عورت کی تذلیل ناقابل قبول رویہ ہے فردوس عاشق اعوان

  • مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے

    مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے

    معروف مذہبی سکالر اور عالم دین علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ خلیل الرحمن ان مولوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے

    باغی ٹی وی : گذشتہ چند روز قبل میرا جسم میری مرضی نعرہ لگانے پر خلیل الرحمن قمر نے مارقی سرمد کو نجی ٹی وی چینل کے لائیو شو میں کھری کھری سناتے ہوئے ان کے جسم پر تنقید کی تھی اور نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے جس کے بعد عورت مارچ اور ان کی لڑائی کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا ہے

    کچھ لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا ٹی وی چینلز پر بائیکاٹ کرنےے کا مطالبہ کیا جبکہ اکثر لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کو سپورٹ کیا اور ان کے اس رد عمل کو سراہا ان میں معروف عالم دین علامہ خا دم رضوی بھی ہیں جو خلیال الرحمن قمر می حمایت میں سامنے آ گئے ہیں

    عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں خلیل الرحمن کے اس ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے مذہبی علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ خلیل قمر ان لاکھوں مولویوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کے نام کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے لیکن خلیل قمر کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام کے لئے اس بات پر اس عورت سے الجھ پڑا وہ دین کی خاطر الجھا

    انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور دشمنی دونوں اللہ کے لئے ہیں ایک عورت ہمارے معاشرے میں کیچڑ پھیلانا چاہتی ہے اور گھروں میں بیٹھی ہوئیں اسلامی بچیاں اس عورت مارچ کے لئے اپنے والدین یہ کہیں گی کہ ہمارا جسم ہماری مرضی جو اس نے بات کی ہے وہ ٹھیک کہی ہے کہ تم ہمارے معاشرے میں کیوں گندگی پھیلا رہی ہو تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے

    انہوں نے کہا کہ برض دفعہ ایک جملہ بھی انسان کو بہت اوپر لے جاتا ہے جو کہ خلیل قمر نے کیا اس نے اسلام کے لئے جو بات کی اللہ اس پر دنیا و آخرت میں ضرور رحم فرمائے گا

    انہوں نے اسلامی جماعتوں اور علماء کو تنقید کا نشںانہ بناتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے جبہ دستاروں اور بڑی بڑی اسلامی جماعتیں بنا کر ساٹھ ساٹگھ لاکھ مرید بنا کر بھی یہ اسلام کی غیرت کی بات نہیں کرتے ا ن کو اخلاقیات کی پڑی ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ بزدلو کبھی غیرت کی بات نہیں کی اور اپنی اس بے شرمی کو اخلاقیات کا نام دیتے ہو

    انہوں نے کہا کہ جن حضور کی غیرت اور دین کی بات کی جائے تو خلیل قمر کی طرح ہی بات کرنی چاہیئے اس نے اس موزوں پر بالکل اسی مزوں کے مطابق ہی بات کی ہے علامہ خادم رضوی نے کہا کہ میں نے آج مسھم بات کی کیونکہ خلیل الرحمن قمر نے سب کی طرف سے قرض اتار دیا ہے بات وہ ہوتی ہے جو وقت پر کی جائے اور جیسا خلیل قمر نے کیا

    انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کے سربراہ صاحب کو پتہ ہی نہیں کیا ہو رہا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست مدینہ میں یہ سب کچھ ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے کیا وہاں کی عورتیں مدینے کی سڑکوں پر نکل کر ایسے نعرے لگاتی ہیں انہوں نے کہا ریاست مدینہ سے تمہاری مراد کونسی ریاست ہے

    مذہبی سکالر نے مزید کہا کہ کسی نے بتایا ہو گا کہ مدینہ کا مطلب شہر ہوتا ہے تو جونسا مرضی شہر لگالو اگر اس سے مراد مدینہ پاک ہوتا تو کیا عورتیں آپکے ملک میں میرا جسم میری مرضی نعرے لگا سکتیں کیا ایک مسلمان ایسی بات کر سکتا ہے نہیں یہ سوال ہی پیدا نہیں پوتا اسلام میں ان سب چیزوں کی اجازت نہیں

    اسلام نے ساڑھے چوہ سو سال پہلے ہمیں عورت کا احترام سکھا دیا تھا ویسٹ سے کوئی نئے وظیفے لا کر نہ سکھائے علی محمد خان


    انہوں نے کہا کہ عورت کو تو صفا مروہ کے درمیان بھاگنے کی اجازت اسلام نہیں دیتا اتنی پاکیزہ جگہ پر جہاں حضرت ہاجرہ دوڑیں وہاں پر خواتین کو بھاگنے کی اجازت نہیں تو سڑکوں پر عورتوں کو نکلنے کی بھاگنے کی اسلام اجازت کیسے دیتا ہے

    انہوں نے کہا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو مزید اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو اللہ بے نیاز ہے انہوں نے کہا جب انسان کھلم کھلا ننگا ہو جائے تو اللہ معاف فرما دیتا ہے لیکن جب بے باک ہو جائےتو اس کی گرفت بہت بُری ہے

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی


    انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ جب بھی مسلمان خواتین کی نگاہ اٹھے تو مغرب کے میدانوں تہذیب و تمدن اور یورپ کی جدیدیت کی طفر نی اٹھے بلکہ سیدہ فاطمہ الزاہرہ کے اسوہ حسنہ کی طرف جائے

  • مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد  احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی

    مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی

    معروف ملٹی میڈیا جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے کہا انہیں اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں

    باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ مونا خان نے عورت مارچ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا جہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب وہ مجھے ٹھنڈک لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ اپن احق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری ہو


    ان کی اس ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے نادیہ مرزا نے لکھا تھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب ای ٹی ایم یا بینک کی لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں

    ان کے اس ٹویٹ کا کمنٹ مونا خان نے کچھ اس طرح کیا تھا کہ جی بالکل اکثر ایسا ہوا ہے بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ہو جاتا ہے بغیر انتظار کئے


    اب جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے بھی نادیہ مرزا کی ٹویٹ کا ری ٹویٹ کیا اور عورت مارچ اور آزادی کے بارے میں اور مردوں کا عورتوں کو معاشرے میں دیئے جانے والے احترام کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں

    ان کے اس ٹویٹس پر لوگوں نے بھی مخلتف کمنٹس کئے ان کو سراہا اور بعض صارفین نے اس حوالے سے اپنے اپنے تجربات بھی لکھے

    ایک صارف نے لکھا کہ ہم پنجاب پولیس سے اپیل کرتے ہیں وہ عورت مارچ کے دوران خواتین پر لاٹھی چارج کر کے انہیں مردوں کے برابر ہونے کا پہلا حقوق دیا جائے

    جرنلسٹ نادیہ مرزا کا عورت مارچ کے بارے میں رائے کا اظہار

    معروف جرنلسٹ مونا خان کا عورت مارچ کے حوالے سے خوبصورت پیغام

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی