Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مجھے قوالی گانے سے کیوں روکا گیا منجاری چتر ویدی نے بتا دیا

    مجھے قوالی گانے سے کیوں روکا گیا منجاری چتر ویدی نے بتا دیا

    گذشتہ دنوں نامور کتھک ڈانسر منجاری چترویدی کولکھنوکے ہوٹل میں ہونے والے ایک کلچر شو میں سرکاری طور پر قوالی گانے سے روک دیا گیا

    منجاری کے مطابق ایسے وقت میں انہیں شدید حیرانی کا سامنا کرنا پڑا ان کاکہنا تھا کہ ’’ میں نے عشق کے رنگ کے عنوان سے 45 منٹ کی پرفارمنس دینی تھی مگرجب میں تیسرے مرحلے میں تھی اور قوالی گانے لگی تو میوزک بند ہو گیا پہلے پہل تو میں یہ سمجھی کہ میوزک میں کوئی خرابی ہے مگر کچھ ہی لمحوں بعد تین سرکاری افسرآئے اور مجھےکہا یہاں قوالی نہیں چلےگی

    فنکارہ کے مطابق میں سوچنے لگی کہ یہ وہ لکھنونہیں جو اپنے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے میں یہاں پلی بڑھی ہوئی یہاں کی تہذیب سے واقف ہوں وہ تہذیب مجھ میں رچی بسی ہے مجھے اس رویے سے بہت دکھ پہنچا میوزیشین نے انتظامیہ کو بتایا کہ ابھی دو سیگمنٹ باقی ہیں مگر انہوں نے کچھ نہیں کہا وہ چپ رہے

    بھارتی فنکارہ کوصوفی رقص سے زبردستی روک دیا گیا


    کتھک ڈانسر کا کہنا تھا کہ جو قوالی میں گانے جارہی تھی اس کے بول تھے ایسا بننا سنورنا مبارک ہو تمہیں جو کہ نصرت فتح علی نے گائی ہےاس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا بھارت قوالی کی جنم بھومی ہے

    منجاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعد مجھے سرکاری افسر کی کال موصول ہوئی جنہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کے ساتھ ہونے والے واقعہ پر سرکاری افسران کا رویہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں تھا اور ان کا رویہ بھی ٹھیک نہیں تھا

    تاہم سرکاری افسر نے مجھے 27 جنوری کو ایک پروگرام میں پرفام کرنے کو کہا جس میں وزیر اعلیٰ بھی موجود ہونگے

  • کیرالہ میں ہندو مسلم یکجہتی کی مثال

    کراچی: کیرالہ میں 100سال پرانی مسجد میں ہندو جوڑے کی انوکھی شادی کا انعقاد کیا گیا ہندو جوڑے کو تحفے کے طور پر سونا اور 2لاکھ روپے دیئے گئے ہیں

    تفصیلات کے مطابق کیرالہ کی ایک 100 سال پرانی مسجد میں مذہبی ہم آہنگی کا ایک یادگار واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مسجد کے ذمہ داروں نے ہندو دلہا ، دلہن کو ہندو رسومات کے مطابق شادی کی اجازت دی دلہن کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے تھا اسی لیے جذبہ خیر سگالی کے طور پر ایسا کیا گیا ساراتھ ساسی اور انجو اشوک کمار کی شادی ہندو مذہب کے مطابق ہوئی

    وزیراعلیٰ کیرالہ پنارائے وجیان نے کے مطابق یہ یکجہتی کی مثال ہے

    جبکہ شیراوالی مسلم جماعت کمیٹی کے سیکرٹری نجم الدین الوموتل کا کہنا تھا کہ انجو وہ پہلی خاتون ہیں جو 100 برس پرانی مسجد میں داخل ہوئی اس ہندو جوڑے کو تحفے کے طور پر سونا اور دولاکھ روپے نقد ، گھریلو استعمال کی چیزیں ٹی وی ، فریج وغیرہ شادی کے تحفے کے طور پر بھی دیئے

  • شاہی خاندان کے اعلان پر شہزادہ ہیری کا دکھ کا اظہار

    شاہی خاندان کے اعلان پر شہزادہ ہیری کا دکھ کا اظہار

    شاہی خاندان کے شہزادہ ہیری اور میگھن کا شاہی درجہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد شہزادہ ہیری نے کہا ہے کہ مجھے دکھ ہے کہ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی، امید تھی پبلک فنڈنگ کے بغیر ملکہ کی خدمت اور فوجی تعلق جاری رکھوں بدقسمتی سے یہ ممکن نہیں

    ہفتے کو شاہی خاندان کے تاریخی معاہدے کے بعد ہیری کا حامیوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ آپ کی خدمت جاری رکھیں گے دادی اور اپنی کمانڈر ان چیف کا بےحد احترام ہے ان کا اور خاندان کا شکر گزار ہوں

    خطاب کے دوران ایک موقع پر شہزادہ ہیری اشک بار ہو گئے تھے شہزادہ ہیری کی علیحدگی پر شاہی خاندان کے معاملات طے پاگئے معاہدے کے مطابق شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگھن مرکل پبلک فنڈ استعمال نہیں کرسکیں گے

    معاہدے کے تحت جوڑے کو اپنے گھر کی تزئین و آرائش پر خرچ کیے گئے 31 لاکھ ڈالر واپس کرنے ہوں گے اور ہیری کو افغانستان میں خدمات پر دیے گئے فوجی اعزازات بھی واپس کرنے ہوں گے

  • ہندو خاتون صحافی کا سوال کیا شبانہ اعظمی کا صرف روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ?

    ہندو خاتون صحافی کا سوال کیا شبانہ اعظمی کا صرف روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ?

    گزشتہ روز بھارتی ریاست مہارا شٹر سے خبر سامنے آئی تھی کہ بولی وڈ کی لیجنڈری اداکارہ شبانہ اعظمی روڈ حادثے میں سخت زخمی ہوگئیں

    اداکارہ و فلم ساز کی گاڑی کو حادثہ پونے اور ممبئی کے درمیان پیش آیا اور حادثہ اس قدر شدید تھا کہ شبانہ اعظمی کی کار کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا

    حادثے کے دوران شبانہ اعظمی سخت زخمی ہوگئیں تاہم خوش قسمتی سے جاوید اختر اور ان کے ڈرائیور محفوظ رہے اور بعد ازاں اداکارہ کو ممبئی کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا

    جہاں اب اداکارہ کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کی تمام رپورٹس کلیئر آئی ہیں اداکارہ کو کوئی بڑی اندرونی چوٹ نہیں لگی

    تاہم دوسری جانب شبانہ اعظمی کے حادثے کے بعد بھارتی خاتون صحافی، فوٹوگرافر، تنقید نگار اور بلاگر سنجکتا باسو نے اداکارہ کے حادثے سے متعلق سوالات اٹھا کر کئی لوگوں کی سوچ کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا

    بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کار حادثے میں زخمی


    سنجکتا باسو جو بالی وڈ فلموں سمیت شوبز، فیشن، سیاست، ہندو انتہا پسندی، بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مظالم اور حال ہی میں بنائے گئے متنازع شہریت قانون پر کھل کر لکھتی ہیں انہوں نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کی جانب سے اداکارہ کے حادثے سے متعلق کی جانے والی ٹوئٹ پر سوال اٹھاکر کئی لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا

    اے این آئی نے گزشتہ روز سب سے پہلے شبانہ اعظمی کے روڈ حادثے سے متعلق ٹوئٹ کی تھی جس پر سنجکتا باسو نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا واقعہ شبانہ اعظمی کی گاڑی کے ساتھ محض روڈ حادثہ پیش آیا؟

    سنجکتا کی جانب سے اے این آئی کی ٹوئٹ پر سوالیہ ٹوئٹ کرنے پر لوگوں نے یں جہاں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ افراد نے ان کی بات سے اتفاق بھی کیا اور کہا کہ واقعہ کی ا نکوائری ہونی چاہیے

    تاہم سنجکتا باسو نے خود اپنے سوال کے بعد خود کو ملنے والے جوابات کے حوالے سے ٹوئٹ کی اور بتایا کہ ان کے سوال 500 کمنٹس آئے جن میں صرف ان کے سوال پر 409 کمنٹس ہیں جن میں سے 400 کمنٹس میں ان پر تنقید کی گئی اور گالیاں دی گئیں سنجکتا نے الزام عائد کیا کہ انہیں ہندو انتہا پسندو نے سوال اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا

    دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد ممبئی پولیس نے شبانہ اعظمی کے ڈرائیور کے خلاف ٹیک اوور اور تیز رفتاری سمیت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ بھی دائر کردیا

  • خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن ہوتی ہیں خوبصورتی کے ساتھ بنی گھنی اور گہرے رنگ کی بھنویں چہرے کو جاذب نظر بناتی ہیں بھنویں مختلف طریقوں سے بنائی جاسکتی ہیں مثلاً ٹوئیزنگ چمنی نماٹول کی مدد سے بالوں کے کھینچنے کے عمل کو ٹوئیزنگ کہتے ہی تھریڈنگ ،ویکسنگ ، یا پھر مشین کے ذریعے لیکن بھنویں بنانے کا سب سے آسان عمل تھریڈنگ ہی ہے جسے ہر دور میں خواتین اپناتی ہیں تھریڈنگ چہرے سے غیر ضروری بال ہٹانےکے عمل کو کہتے ہیں مثلاً بھنویں، اَپر لپ، فور ہیڈ وغیرہ پرموجود بال

    آئی برو تھریڈنگ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دھاگے کو بل دے کر آئی برو کے اضافی بالوں کو اس کے درمیان میں رکھ کر انھیں جڑ سے اُکھاڑ لیں یہی نہیں بیوٹیشن بھی خواتین کو آئی بنانے کے لیے تھریڈنگ کا ہی مشورہ دیتی ہیں

    آنکھوں کی کمزوری اور بینائی کے لئے انتہائی مجرب عمل


    ٹرینڈ کے پیش نظر توآج کل گھنی اور موٹی بھنووں کا فیشن ہے لیکن بیوٹی ایکسپرٹ کی رائے کے مطابق آ ئی برو ہمیشہ آنکھوں کی یا چہرہ بناوٹ کے مطابق ہوں تو زیادہ مناسب ہے، کیونکہ پلکوں اور آئی برو كے درمیان خاصہ خلا موجود ہوتا ہے گر آپ بھی اس سلسلے میں پریشان ہیں کہ کون سا آئی برو شیپ آپ کی آنکھوں کے لیے بہترین ہے تواس سلسلے میں ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ اگر آپ کی وہ ہڈی، جس پر آئی برو موجود ہوتی ہیں بہت باریک ہے تو اِس پر قدرے موٹی آئی برو موزوں رہیں گی اگر آپ اِس سے غیر مطمئن ہیں تو آئی برو کے نیچے موجود چند ایک بل نکال دیجئے اِس میں کوئی مزائقہ نہیں ہے

    یہی نہیں آپ آئی برو پنسل اور تکنیک کے ذریعے بھی اپنی پسند کا شیپ حاصل کر سکتی ہیں گھنی آئی برو کی خواہش مند خواتین اکثرآئی برو پنسل سے آئی برو کوموٹا کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    اسی طرح اکثر ایکسپرٹ چہرے کی ساخت کے مطابق بھی آئی برو کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں مثلاً

    بیضوی چہرے والی خواتین کے لیے curve کے بجائے راؤنڈ شیپ زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے

    گول چہرے والی خواتین کے لیے ایکسپرٹ تیر کی کمان کی مانند آئی بروشیپ بنانے سے منع کرتی ہیں ان کے لیے پرفیکٹ شیپ آئی برو کے عین درمیان میں واضح موڑیا گھماؤکا ہے

    لمبے چہرے والی خواتین کی بھنوں کے لیے فلیٹ شیب بہترین ہے اس سے چہرہ کم لمبا اور تھوڑا بیضوی محسوس ہوتا ہے

    خطرناک بیماریاں جن کی تشخیص آنکھوں سے ہوتی ہے


    احتیاطی تدابیر اور فوائد:
    اس کے فوائد پر بات کریں تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنانااہم ہیں

    نفاست سے بنی ہوئی آئی برو شیپ آنکھوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے

    آئی برو کو زیادہ نیچے تک سنوارنے سے چہرہ رعب دار لگتا ہے

    کانوں کی طرف زیادہ اونچی آئی برورکھنے سے چہرے پر حیرت کا تاثر پیدا ہوتا ہے

    آئی برو تھریڈنگ کے لیےبہت زیادہ مہارت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہمیشہ کسی ماہر بیوٹیشن سے آئی برو تھریڈنگ کروائیں اگر ایک بال بھی غلط نکل جائے تو شیپ خراب ہوجاتی ہے کوشش کریں کہ بھنویں زیادہ باریک نہ ہوں خواتین بھنووں کو سیدھا کرنے کے لئے برش استعمال کرتی ہیں لیکن وہ برش اتنی زور سے پھیرتی ہیں کہ اس سے بال ٹوٹ جاتے ہیں کچھ چہرے بے انتہا سادہ ہوتے ہیں جبکہ بعض انتہائی کمپلیکس نقوش رکھتے ہیں کمان دار آنکھوں کی بناوٹ سے مطابقت رکھتی ہوئی بھنویں خوبصورت لگتی ہیں

    بھنویں گھنی کرنے کے چند طریقے:
    بھنویں گھنی کرنے کےلیے خواتین مختلف گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرتی ہیں کچھ ایسے ٹوٹکے شیئر درج ذیل ہیں جن سے ممکنہ طور پر آپ کی بھنویں گھنی ہوسکتی ہیں

    ہیئر اسٹائلسٹ بال لمبے کرنے کے لیے ناریل کا تیل لگانے کا مشورہ دیتے ہیں آپ اس تیل کو بھنویں گھنی کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکتی ہیں ناریل کے تیل کو ہلکاگرم کرکے اسے بھنوں پر لگائیں اور اسے رات بھر لگا رہنے دیں

    ایک روئی کا ٹکڑا لیں اسے پیاز کے عرق میں بھگوئیں اور بھنوں پر لگا کر پندرہ سے بیس منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ایسا کرنے سے بھی بھنویں گھنی ہوں گی

  • بینگن کے حیران کن فوائد

    بینگن کے حیران کن فوائد

    بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں کیلوری کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور اِس سبزی میں قُدرتی طور پر فائبر، وٹامنز اور معدنیات کی تعداد کثرت سے پائی جاتی ہے بینگن دیگر غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈینٹ کی خصوصیات سے بھی مالامال ہوتا ہے عام طو ر پر بینگن کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں ایک قسم کے بینگن لمبے اور پتلےہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے چھوٹے اور گول ہوتے ہیں بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں بہت سی بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں یہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے

    آلو کھانا صحت کے لیے مفید آلو کے حیرت انگیز فائدے


    بینگن میں وافر مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے جو ہمارے کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ایک تحقیق کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ اور کلورجینک ایسڈ ہمارے کولیسٹرل کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اِس کے علاوہ جگر کے مرض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے اگر آپ کو کولیسٹرول کی بیماری ہے تو اِس کے لیے ضروری ہے آپ اپنی غذا میں بینگن کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

    بینگن امراضِ قلب سے بچنے کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے بینگن میں پائے جانے والے فائبر، وٹامن سی، وٹامن بی، پوٹاشیم اور دیگر اینٹی آکسیڈینٹ دل کی بیماریوں کے خطرے سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق بینگن دل کے فعال کو بہتر بناتا ہے اور اِس کے علاوہ کولیسٹرول کی بڑھتی ہوئی سطح کو بھی کم کرتا ہے لہٰذا آپ دِل کی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے آپ اپنی غذا میں بینگن کو لازمی شامل کرلیں

    بینگن میں فائبر اور پولیفینول کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بینگن کو شوگر کے مریضوں کے لیے ایک صحت مند غذا سمجھا جاتا ہے لہٰذا گر آپ شوگر کے مریض ہیں تو آپ اپنی غذا میں بینگن کا استعمال ضرور کریں لیکن ایک بار اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلیں

    بینگن میں کینسر سے بچاؤ کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں، بینگن ہمارے جسم کو کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاتا ہے اور اگر کسی کو کینسر کا مرض ایک بار لاحق ہوگیا ہے تو یہ سبزی اُس مرض کی دوبارہ نشونما بھی روکتی ہے۔

    بینگن ایک صحت بخش سبزی ہے ہمیں اپنی غذا میں اس کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ اس کے فوائد سے مستفید ہوا جاسکے

  • وزن کم کرنے کے لئے کھچڑی ایک مفید غذا

    وزن کم کرنے کے لئے کھچڑی ایک مفید غذا

    آج کل کی تیز رفتار زندگی میں وزن میں کمی کے خواہشمند افراد ورزش کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے ایسے میں وزن میں کمی کے لیےسلاد یا ڈیٹاکس واٹر کا سہارا لیا جاتا ہے مگر غذا پر کچھ خاص توجہ نہیں دی جاتی مختلف غذائیں بھی اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر کے وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے ماہرین غذائیت و فٹنس کے مطابق مناسب وزن اور پتلی کمر میں ورزش کے ساتھ غذا کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر ورزش کر رہے ہیں اس کا 30 فیصد آپ میں تبدیلی لاتا ہے جبکہ 70 فیصد دارومدار آپ کی غذا پر ہے یعنی آپ چاہے روزانہ ورزش کریں مگر آپ کیا کھا پی رہے ہیں یہ بہت معنی رکھتا ہے اگر آپ اضافی وزن ختم کرنے کے خواہشمند ہیں اور زیادہ خرچہ بھی نہیں کرنا چاہتے تو گھر میں بنی ہوئی کھچڑی آپ کے لیے بہترین غذا ہے

    وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کا ماننا ہے کہ چاولوں کا استعمال وزن میں کمی کے بجائے وزن بڑھا دیتا ہے مگر ایسا نہیں ہے اگر آپ اپنی غذا میں چاولوں کا متوازن استعمال رکھیں تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے پروٹین کا زیادہ سے زیادہ استعمال تجویز کیا جاتا ہے

    مزیدارچکن بریانی ریسیپی


    کھچڑی میں دالوں کا استعمال آپ کو زیادہ دیر تک بھوک کا احساس نہیں ہونے دے گ، کھچڑی فائبر سمیت پروٹین بھی فراہم کرے گی جبکہ اس سے کولیسٹرول لیول بھی متوازن رہے گا

    چاول، مختلف دالیں، ہلکے مسالوں سے تیار کردہ کھچڑی آپ کو مکمل غذائیت کے ساتھ وزن میں کمی میں مدد فراہم کرے گی جس سے آپ کمزور ہونے کے بجائے صحت مند طریقے سے اضافی وزن میں کمی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

    کچھڑی میں سفید کے بجائے براؤن رائس اور سبزیاں بھی استعما ل کی جا سکتی ہیں کھچڑی بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے

    اجزاء:
    چاول ایک کپ
    کوئی بھی دال ایک کپ
    کٹی ہوئی سبزیاں دو کپ اپنی پسند کے مطابق
    نمک حسب ذائقہ
    پانی 5 سے 6 کپ
    زیرہ ایک کھانے کا چمچہ
    ہینگ ایک چٹکی
    ہلدی ایک چٹکی

    ترکیب:
    پتیلی میں ایک کھانے کا چمچ تیل یا گھی گرم کریں، اب اس میں زیرہ، ہینگ، ہلدی شامل کر یں اور 10 سے 15 سیکنڈ کے لیے بھون لیں اب اس میں سبزیاں شامل کر کے 3 سے 4 منٹ تک پکائیں اب اس میں دالیں چاول اور پانی ڈال کر ڈھانپ دیں ، دالیں اور چاول پکائیں یہاں تک کہ گل جائیں پانی خشک ہونے کے بعد چند منٹوں کا دم دیں لیں یا کھچڑی کو گیلا ہی رہنے دیں مزیدار گرما گرم صحت بخش کھچڑی تیار ہے

  • ہالی وڈ پروڈیوسر  ہاروی وائنسٹن کے خلاف ریپ ٹرائل  کے لئے جیوری منتخب

    ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف ریپ ٹرائل کے لئے جیوری منتخب

    ہالی وڈ پروڈیو سر 67 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف ’ریپ‘ کے اہم ترین کیس کا ٹرائل کرنے کے لیے 12 رکنی جیوری کا انتخاب کرلیا گیا

    ہالی وڈ کے بدنام زمانہ اور کم سے کم 100 خواتین کے جنسی ہراسانی، جنسی استحصال اور ’ریپ‘ کے الزامات پر قانونی کیسز کا سامنا کرنے والے پروڈیوسر کے لیے جیوری کا انتخاب نیویارک کی عدالت نے کیا اور ارکان میں 7 مرد اور 5 خواتین کو شامل کیا گیا ہے جب کہ تین اضافی ارکان کو بھی منتخب کیا گیا ہے جنہیں اس وقت جیوری کا حصہ بنایا جائے گا جب جیوری کے 12 ارکان میں سے کوئی بھی رکن غیر جانبدار فیصلہ کرنے میں ناکام ہوگا

    نیویارک کی عدالت نے یہ جیوری اس وقت بنانے کا فیصلہ کیا جب ہاروی وائنسٹن نے عدالت میں اپنے خلاف لگے ’ریپ‘ اور جنسی استحصال کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا

    جب کوئی ملزم اپنے اوپر الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے توپھر عدالتیں امریکی قوانین کے تحت خصوصی جیوری کا قیام کرتی ہیں اور ملزم مذکورہ جیوری کے سامنے یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے الزامات کو کیوں ماننے سے انکار کیا اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے

    اب ہاروی وائنسٹن بھی جیوری کے ارکان کے سامنے اس بات کو ثابت کریں گے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے اور اگر وہ یہ ثابت نہ کرپائے تو ان پر جرم عائد کرکے انہیں سزا سنائی جائے گی اور انہیں کم سے کم 28 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے

    جیوری کے لیے نیویارک کی عدالت نے 600 نامور شوبز، سیاسی و سماجی شخصیات کو دعوت نامے بھجوائے تھے جس میں سے 120 شخصیات نے جیوری کا رکن منتخب ہونے کے دعوت نامے قبول کیے تھے عدالت میں پیش ہونے والے ان لوگوں میں فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل جی جی حدید بھی تھیں

    پاکستانی نژاد گلوکار زین ملک اور سپر ماڈل جی جی حدید کے درمیان تعلقات بحال ہو گئے ?

    جی جی حدید رواں ماہ 14 جنوری کو عدالت میں پیش ہوئیں تھیں اور انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ہاروی وائنسٹن کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور ان سے ملاقات بھی کر چکی ہیں تاہم اس کے باوجود وہ بطور جیوری رکن غیر جانبدار رہیں گی جی جی حدید کی جانب سے ہاروی وائنسٹن سے ملاقات کے اعتراف کے بعد ان کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کےفیصلے پر لوگ حیران رہ گئے تھے

    عدالت نے 2 ہفتوں تک 120 شخصیات سے درجنوں سوالات کے بعد 12 افراد کو جیوری کے رکن کے طور پر منتخب کیا ہے تاہم عدالت کو نوجوان ارکان منتخب نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے جبکہ ججز نے اس تنقید کو بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ جیوری میں کسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا

    اس بارےججز کا کہنا تھا کہ جیوری میں نوجوانوں کو اس لیے منتخب نہیں کیا گیا کیوں کہ وہ 1990 سے قبل یا اس وقت کے مرد و خواتین کے درمیان تعلقات کے معاملات کو درست انداز میں سمجھ نہیں پائیں گے اور ہاروی وائنسٹن کے خلاف لگے الزامات کا تعلق بھی پرانے وقت سے ہے

    ججز نے جیوری ارکان کے انتخاب پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جیوری آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی

    متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا گیا لیڈی گاگا کا انکشاف

    جبکہ دوسری جانب ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے بھی جیوری ارکان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ عین ممکن ہے کہ ارکان غیر جانبدار نہ رہیں کیوں کہ منتخب کیے گئے اور ارکان میں ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو عمر رسیدہ طاقتور شخص کی جانب سے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے حوالے سے ایک ناول بھی لکھ رہی ہیں

    تاہم عدالت نےوکلا کے تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرائل کے دوران کوئی بھی رکن غیر جانبدار پایا گیا تو اس کی جگہ دوسرے رکن کو بٹھایا جائے گا اسی لیے ہی تین اضافی ارکان کو بھی منتخب کیا گیا ہے ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری آئندہ ہفتے سے ٹرائل کا آغاز کرے گی

    ہاروی وائنسٹن پر جیوری میں اہم ترین الزامات میں 2006 میں ایک خاتون کے جنسی استحصال کرنے اور 2013 میں ایک خاتون کے ’ریپ‘ کا ٹرائل ہوگا جن کو ملزم نے مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ یہ کام دوسرے فریق کی باہمی رضامندی سے ہوئے تھے

    ہاروی وائنسٹن پر ابتدائی طور پر 2017 میں 3 درجن کے قریب خواتین نے جنسی ہراسانی اور ریپ کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد دیگر خواتین بھی ان کے خلاف سامنے آئی تھیں ہاروی وائنسٹن کے خلاف خواتین و اداکاراؤں کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد ہی دنیا بھر میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا اور ان کے خلاف نیویارک اور لاس اینجلس کی عدالتوں سمیت دیگر امریکی عدالتوں میں بھی مقدمات درج ہیں

  • ادکار سدھیر کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    ادکار سدھیر کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    پاکستان فلم انڈسٹری میں 40 سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے ’جنگجو ہیرو‘ کا لقب پانے والے لیجنڈری لالہ سدھیر کو مداحوں سے بچھڑے 23 سال بیت گئے ہیں آج 19 جنوری کو ان کی 23ویں برسی منائی جا رہی ہے

    پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کے نام سے پہچان بنانے والےلالہ سدھیر کا اصل نام شاہ زمان تھا اداکار پنجاب کے شہر لاہور میں 25 جنوری 1922ء کو پیدا ہوئے

    ادکار معاملہ فہم اور درد مند انسان تھے اوسر ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے انہیں فلم انڈسٹری میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگ انہیں لالہ سدھیر کہہ کر پکارتے تھے وہ اداکاروں کی تنظیم کےچیئر مین بھی رہے

    قیام پاکستان کے بعد لالہ سدھیر کی پہلی فلم ہچکو لے تھی اسی دور میں ان کی فلم دوپٹہ مقبول ہوئی جس میں وہ نورجہاں اور اجے کمار کے مقابل جلوہ گر ہوئے جبکہ 1956ء میں فلم ’ماہی منڈا‘ اور ’یکے والی‘ نے اداکار کی شہرت عروج پر پہنچا دی لالہ سدھیر کو جنگ و جدل پر مبنی فلموں میں بہترین پرفارمنس پر’جنگجو ہیرو‘ کا خطاب بھی دیا گیا

    اس دور کی ہیروئین شمی کو سدھیر نے اپنا شریکِ حیات چنا

    سدھیر نے 200 سے زائد فلموں میں کام کیا اور اپنے وقت کی معروف ہیروئینوں کے مقابل مختلف کردار ادا کیے جن میں نورجہاں، صبیحہ خانم، مسرت نذیر، یاسمین، آشا بھوسلے، لیلیٰ، راگنی، زیبا، دیبا، شمیم آرا، ریحانہ، نیئر سلطانہ، حسنہ، نیلو، نجمہ، فردوس، نغمہ، سلونی، شیریں، بہار بیگم اور رانی نمایاں ہیں

    ان کی مقبول فلموں میں دوپٹہ، سسی، کرتار سنگھ، بغاوت، یکے والی، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، ابا جی، چٹان، جانی دشمن، لاٹری اور ان داتا شامل ہیں جبکہ 1970ء میں پنجابی فلم ماں پتر اور 1974ء میں ایک اور پنجابی فلم لاٹری پر بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ اپنے نام کیا

    لالہ سدھیر 19 جنوری 1997ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے

  • مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے7برس بیت گئے

    مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے7برس بیت گئے

    دلکش،مدھر اور سریلی آواز رکھنے والی پاکستان کی نامور گلوکار ہ مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے7 برس بیت چکے ہیں اور آج ان کی برسی منائی جارہی ہے

    مہناز کااصل نام کنیز فاطمہ تھا 1958ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہیں مہناز کا نام ان کے استاد امراؤ بندوخان کے بھتیجے نذیر نے دیا گلوکارہ نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی

    جبکہ انہیں پاکستان ٹیلیوژ ن کے پروگرام نغمہ زار کے ذریعے عوام سے متعارف کروانے والے امیر امام ہیں جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی

    ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم حقیقت مہناز کی بطور گلوکارہ ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد کم وقت میں ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کا ہر موسیقار مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز سمجھتا تھا

    گلوکارہ نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازاعلاوہ ازیں انہیں ان کی گائیگی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا

    جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کر کے ایک منفرد اعزاز اپنے نام کیا

    مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کے لیے پاکستان سے امریکا جارہی تھیں کہ اچانک راستے میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتا ل پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور اپنے خالق حقیقی سے جاملیں