Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • نریندر مودی خود کبھی شاگرد نہیں رہےانہیں طلبہ پر تشدد کا کیااحساس ہوگا  بھارتی اداکار

    نریندر مودی خود کبھی شاگرد نہیں رہےانہیں طلبہ پر تشدد کا کیااحساس ہوگا بھارتی اداکار

    بالی وڈ کے معروف اور لیجنڈری اداکار نصیر الدین شاہ نے بھارت کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 سال بعد اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے

    69 سالہ یوارڈ یافتہ اداکار نے بھارتی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازع شہریت قانون اور اس کے خلاف مظاہرے کرنے والے افراد اور طلبہ پر تشدد کیے جانے پر پہلی باربات کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ حالات سے خوفزدہ تو نہیں مگر انہیں غصہ ضرور ہے

    دی وائر کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ 70 سال بعد بھی انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت پڑے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ بھارتی بھی ہیں اور پھر بھی ان کے ثبوتوں کو نہ مانا جائے تو وہ کہاں جائیں اور کیا کریں؟

    اداکار نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے آج تک یہ نہیں سوچا تھا کہ بھارت میں مسلمان ہوکر رہنا کوئی مشکل ہے تاہم اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر ہندوستان میں نہیں رہ سکتے

    اداکار نے کہا اب انہیں ہر وقت اپنی شناخت اور اپنے مسلمان ہونے کا خوف لگا رہتا ہے اور ساتھ ہی وہ فکرمند رہنے لگے ہیں

    متنازع شہریت قانون پر بات کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اس حساس معاملے میں بالی وڈ کے کامیاب ترین اور بااثر ترین اداکاروں کی خاموشی پر حیران ہیں لہذا انہوں نے کسی بھی اداکار کا نام لیے بغیر کہا کہ شاید وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ وہ اس معاملے پر بات کریں گے تو وہ بہت کچھ کھو دیں گے

    اداکارہ دیپیکا کے مظاہروں میں شرکت کے بارے میں اداکار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اداکارہ دپیکا پڈوکون بھی تو اس معاملے پر سامنے آئیں اور اب وہ بھی تو بہت کچھ کھوئیں گی

    متنازع شہریت قانون پر احتجاج کرنے والے جے این یو طلبہ پر بھارتی پولیس اور حکومت کی جانب سے تشدد کیے جانے پر نصیر الدین شاہ نے کہا کہ انہیں اس عمل پر زیادہ حیرانگی نہیں کیونکہ نریندر مودی خود کبھی شاگرد نہیں رہے اور نہ ہی وہ کبھی یونیورسٹی گئے ہیں تو انہیں طلبہ پر تشدد کا کیا احساس ہوگا

    سدھارت بھاٹیہ کے ایک سوال کے ایک اور سوال کے جواب میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود ٹوئٹر پر نفرت پھیلاتے ہیں اور نفرت پھیلانے والوں کی سرپرستی کرتے ہیں

    نصیر الدین شاہ نے بھارت میں ’مسلمان‘ ہوکر رہنے پر پریشانی کا اظہار پہلی مرتبہ نہیں کیا وہ اس سے قبل بھی متعدد بار اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے متنازع شہریت قانون پر کھل کر بات کرتے ہوئے حکومت کی مخالفت کی ہے ان سے پہلے فلم ساز جاوید اختر اور اداکارہ شبانہ اعظمی جیسی معروف مسلمان شوبز شخصیات کھل کر متنازع قانون کے خلاف بات کر چکی ہیں اداکار فرحان اختر اور جاوید جعفری سمیت دیگر ہندو اداکار بھی متنازع قانون کے خلاف بات کرنے سمیت اس قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں

    شاہ رخ کو مداحوں نے تنقید کا کیوں نشانہ بنایا ?


    بہرحل بالی وڈ کے سب سے بااثر اور مقبول اداکاروں سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان نے متنازع قانون اور اس قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے طلبہ پر کیے جانے والے تشدد پر بات تاحال نہیں کی جبکہ شاہرخ کو ان کے مداح اس پر تنقید کا نشانہ بھی بنا چکے ہیں

  • خواتین کو اپنے حقوق مانگنے کی ضرورت نہیں وہ حقوق لے کر پیدا ہوئی ہیں

    خواتین کو اپنے حقوق مانگنے کی ضرورت نہیں وہ حقوق لے کر پیدا ہوئی ہیں

    معروف سماجی کارکن و خواتین کے حقوق کی علمبردار طاہرہ عبداللہ نے کہا ہے کہ خواتین آزاد پیدا ہوئیں انہیں بطور والدہ، بہن، بیٹی یا بیوی اپنے حقوق مرد سے کشکول لے کر مانگنے کی ضرورت نہیں

    طاہرہ عبداللہ نے نجی ٹی وی سما کے پروگرام ’نیوز بیٹ‘ میں ڈراما نگار خلیل الرحمٰن قمر اور معروف صحافی اویس توحید کے ساتھ شرکت کی اور پروگرام کے دوران صنفی مساوات اور خاص طور پر ڈراموں میں خواتین کو کمزور دکھانے کے مسئلے پر بحث کی

    پاکستانی ڈراموں میں خواتین کو ہی کیوں قصووار ٹھہرایا جاتا ہے?
    پروگرام میں خلیل الرحمٰن قمر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہمیشہ ہی مضبوط خواتین کے کردار تشکیل دئیے ہیں وہ خواتین کی خودمختاری کے سب سے بڑے عملبردار ہیں ان کے مضبوط عقائد ہیں عورتوں کے بارے میں تاہم انہوں نے صرف ایک ہی ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ میں خاتون کو کچھ منفی انداز میں دکھایا

    خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ کئی واقعات میں مرد خواتین کو ذلیل کرتے ہیں اور ایسے واقعات میں ہم مرد حضرات کو برا بھلا بھی کہتے ہیں اور ایسے ہی واقعات بھی ہوتے ہیں جن میں خواتین بھی مرد حضرات کے ساتھ غلط کرتی ہیں تاہم ایسے واقعات پر ہم نہیں بولتے

    معروف مصنف خلیل الرحمن نے کیسے طے کیا خلیل الرحمن قمر تک کا سفر ?


    خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ انہوں نے ’منجلی، انوکھی اور پیارے افضل‘ جیسے ڈراموں میں ان کے خاتون کردار کبھی کمزور نہیں ہوتے اور نہ ان کے ڈراموں میں خاتون کو روتا ہوا دکھایا جاتا ہے

    ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمرنے کہا کہ وہ مرتبے میں خواتین کو مرد سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں بلکہ مرد پر یہ حکم بھی ہے کہ وہ اپنی خاتون کو کما کر کھلائے ہاں البتہ جسمانی طور پر مرد کچھ زیادہ طاقتور ہے اور وہ اسی وجہ سے اپنی طاقت کا اظہار بھی کرتا ہے

    خلیل الرحمٰن قمر کے مرد کے جسمانی طور پر طاقتور ہونے اور اس طاقت کے اظہار کے کمنٹس پر پروگرام نیوز بیٹ کے اینکر نے طاہرہ عبداللہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ’فیمزم‘ ایک انقلابی نطریہ ہے جس کے تحت عورت بھی ایک انسان ہے

    خلیل الرحمن قمر نے اپنی دوسری شادی کے بارے میں بتا دیا


    اس سوال کے جواب میں طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ عورت کی عزت کسی مرد کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے اندر ہوتی ہے اور اسے اپنے حقوق کسی مرد سے مانگنے کی ضرورت نہیں اور وہ اپنے حقوق لے کر پیدا ہوتی ہے

    انہوں نے مزید کہاکہ خواتین کی عزت، وقار اور ان کی خودمختاری و آزادی کو آئین پاکستان میں بھی تحفظ دیا گیا ہے اور خواتین حقوق اپنے وجود میں ساتھ لے کر پیدا ہوئی ہیں انہیں کسی بھی مرد سے حقوق کشکول میں لینے کی ضرورت نہیں ماں، بہن، بیٹی، بیوی اور دوست ایک خاتون ہونے کے ناطے انسان ہے اور اسے انسان تسلیم کیا جائے

    طاہرہ عبداللہ نے مزید کہا کہ عورت کے حیا اور وفا سے متعلق پیمانے بھی مرد حضرات نے ہی طے کر رکھے ہیں اور یہ پیمانے طے کرنے والا وہ شخص ہے جسے خود عورت نے جنم دیا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہی مرد اس کے ساتھ ظلم کرکے اسے ’کوٹھے‘ پر بٹھا دیتا ہے اور وہاں بھی اس کے پاس ’مرد‘ ہی جاتے ہیں

    طاہرہ عبداللہ کی جانب سے ’فیمزم‘ پر بات کرنے اور ’مرد‘ حضرات کے ذکر پر طویل بحث کرنے پر خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ’مرد‘ کے ذکر پر سماجی رہنما کو غصہ آ جاتا ہے

    خلیل الرحمٰن قمر نے جذباتی انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر خواتین کو مرد حضرات سے حقوق نہیں چاہئیں تو پھر خواتین پلے کارڈز اٹھا کر حقوق کیوں مانگتی ہیں؟

    ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی آخری قسط تاخیر کا شکار


    انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرے کرنے والی خواتین ہاتھی اور گھوڑوں سے نہیں بلکہ مرد حضرات سے ہی حقوق مانگتی ہیں اور وہ ایک بار پھر کہہ رہے کہ خواتین کو پتا ہی نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں

    خلیل الرحمٰن قمر نے جذباتی انداز میں کہا کہ خواتین، مرد حضرات سے ہی حقوق مانگ رہی ہوتی ہیں اور ان کے حصے سے ہی حقوق مانگ رہی ہوتی ہیں اور وہ انہیں ملیں گے

    خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ اس حساس موضوع پر ایک گھنٹے کا پروگرام ناکافی ہے اس لیے اس معاملے پر بحث کرنے کے کئی گھنٹوں کا پروگرام ہونا چاہیے اور وہ ٹی وی پر نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ٹی وی پر سب باتیں نہیں کہی جا سکتیں

    پروگرام میں صحافی اویس توحید نے بھی خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات پر بات کی اور کہا کہ آج بھی جدید دور میں پاکستان میں خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور ابھی تک خواتین کاروکاری میں قتل کی جا رہی ہیں

    اویس توحید کی جانب سے اپنے ڈراموں اور حالیہ انٹرویوز میں دیے گئے بیانات پر تنقید کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ صحافی اور سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے ان کے ڈرامے نہیں دیکھے اور نہ ہی انہوں نے انہیں پڑھ رکھا ہے

    واضح رہے کہ حالیہ چند مہینوں میں خلیل الرحمٰن قمر کو ’میرے پاس تم ہو‘ ڈرامے میں خاتون کو منفی کردار میں دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خود بھی وہ انٹرویوز میں قدرے متنازع بیانات دے چکے ہیں

    انہوں نے ایک انٹرویو میں متنازع بیان دیا تھا کہ وہ ہر عورت کو عورت نہیں کہتے ان کی نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے، اگر وہ نہیں تو ان کے لیے وہ عورت ہی نہیں جبکہ ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام کے انٹر ویو میں بھی انہوں نے یہی بات دہرائی تھی

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر خواتین برابری کی بات کرتی ہیں تو وہ بھی مل کر مردوں کا گینگ ریپ کرلیں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عورتوں نے مل ملا کے مردوں کو ذلیل کر رکھا ہے جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا

  • بھارتی اداکار کی پاکستان آمد

    بھارتی اداکار کی پاکستان آمد

    بھارتی پنجابی فلموں کے معروف اداکار گپی گریوال واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے اور ننکانہ صاحب پر حاضری دی


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے اپنے مداحوں کو پاکستان آنے کی اطلاع دی اپنے دورہ پاکستان کے دوران اداکار ٹوئٹر پر کافی فعال نظر آرہے ہیں وہ اپنی تمام ویڈیوز اور تصویریں اپنے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر بھی  کر رہے ہیں


    بھارتی پنجابی فلم ’کیری آن جٹا‘ سے شہرت پانے والے گپی گریوال نے خوشی کا اظہارکیا اور عمران خان کو ٹیگ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا
    واہگہ بارڈر لاہور پہنچ کر گارڈز سے ملتے ہوئے ایک ویڈیو بھی شیئر کی


    گپی گریوال نے سکھوں کے مذہبی مقام گردوارہ ننکانہ صاحب  میں ماتھا ٹیکا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ انہوں نے گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں لی گئیں تصویریں بھی شیئر کی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں گپی گریوال نے بتایا کہ بہت عرصے سے پاکستان آنے کا ارادہ تھا لیکن ان کا بلاوا نہیں آیا تھا اب انہیں بابا جی نے بلایا ہے تو وہ بابا جی کے گھر آئے ہیں


    انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں جس سے بھی ملے ہیں انہیں بہت پیار محبت ملا ہے سب اپنے ہی لوگ ہیں

    ان کے مداحوں نے بجی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خوشی کا بھر پور اظہار کرتے ہوئے انہیں پر جوش انداز میں خوش آمدید کہا اور ان ے لیے دعاؤں اور نیک کاتمناؤں کا اظہار کیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار فردوس جمال نے بھی ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے لکھا کہ امید ہے آپکا پاکستان میں لطف اندوز ہوں گے

    بھارتی اداکار نے کہا کہ وہ زلفی بخاری کے بہت زیادہ شکر گزار ہیں کیونکہ انہوں نے ہی یہ سب انتظامات کیے ہیں

    دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے بھی پاکستان آنے پر اداکار کا خیر مقدم کیا جس کے جواب میں انہوں نے شکریہ ادا کیا

  • صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    اکثرخواتین اپنی جلد کے حوالے سے بہت زیادہ حساس ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں دنیا جہاں کے ہر مشورے پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواتین کے پاس موجود کئی ٹوٹکے اور بیوٹی کریمیں یا تو ان کی جِلد کو مزید خراب کردیتی ہیں یا پھر ان کے اثرات محض عارضی ثابت ہوتے ہیں ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    ایلفا اور بیٹا ہائیڈروکسی ایسڈز
    اگر جِلد کی سائنس پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صحت مند جِلد کے لیے دو طرح کے ایسڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں ایک ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز(AHAs) اور دوسرے بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈز (BHAs)

    یہ دونوں طرح کے ایسڈز ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود انسانی جلد کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ان میں سے کسی ایک ایسڈ کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے مختلف ضروریات کو پورا کرتے ہیں

    مارکیٹ میں دستیاب کئی بیوٹی پراڈکٹس کے لیبلز پر آپ کو یہ ایسڈز نظر آئیں گے تاہم کوئی نہیں جانتا کہ یہ ایسڈز جلد کو کس طرح زیادہ صحت مند اور چمکدار بناتے ہیں

    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز(AHAs):
    یہ ایسڈزکیمیائی مرکبات کی ایک کلاس ہے جو جلد میں قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں اور انھیں بیرونی ذرائع سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزکو ویسے تو کئی ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم انھیں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ گنا اور دودھ ہے یہ ایسے پودوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے جو فروٹ ایسڈز کلاس میں شامل ہیں گنے میں گلائیکولک ایسڈ شامل ہوتا ہے سائنسی لحاظ سے گنے میں موجود ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزکا مالیکیول سائز سب سے چھوٹا ہوتا ہے اور اسکن کیئر پراڈکٹس میں اس کی یہی قسم سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے چھوٹے مالیکیول سائز کے باعث یہ جلد میں انتہائی انداز میں جذب ہو جاتا ہے

    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز کے فوائد:
    یہ جِلد کی بیرونی تہہ ایپی ڈرمس اور گہرائی والی تہہ ڈرمس کے لیےمفید ہیں تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جلد کے مردہ خلیے اکثر جلد کی بیرونی تہہ پر ٹھہر جاتے ہیں جنھیں ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزاپنی اکیسفو لیٹیو اثرات کے باعث صاف کردیتے ہیں یہ جلد میں کولاجن کی پیداوار بھی بڑھاتے ہیں جس سے جلد تروتازہ اور جھُریاں دور رہتی ہیں

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول


    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزجلد کی بیرونی تہہ کو ہموار اور رنگت کو صاف رکھتے ہیں جبکہ جلد پر سخت کیمیائی صابن فیس واش اور لوشن وغیرہ کے اثرات کو زائل کرتے ہیں یہ جلدسے جھریوں، گہرے نشانات اور ایکنی کے زخموں کو بھی ختم کرتے ہیں ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزمیں شامل گلائیکولیک ایسڈ بالخصوص چکنی اور ایکنی والی جِلد پر بہت اثر دکھاتا ہے

    حساس جِلد رکھنے والی شخصیات کی جلد پر ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزسے جلن کا احساس ہوسکتا ہے اس لیے ایسی شخصیات کو اس کی کم شرح تقریباً4فی صد کے قریب کی حامل مصنوعات کو استعمال کرنا چاہیے ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزفیس واش، ماسک، سیرم، کریم اورپِیلزمیں موجود ہوتے ہیں

    بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈBHAs:
    انھیں سیلائی سیلیک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے اور انھیں ایسپرین سے حاصل کیا جاتا ہےسائنس بتاتی ہے کہ بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ نامیاتی (آرگینک) کاربوکسی لیک ایسڈز ہیں اور یہ بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ سے اس لیے مختلف ہیں کیونکہ کاربوکسیل گروپ کی بِیٹا پوزیشن کے ساتھ ایک ہائیڈروکسیل گروپ جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک خاصیت اسے بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ سے مختلف بناتی ہے بصورت دیگر دونوں ایسڈز کی بناوٹ ایک جیسی ہے

    آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟


    بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ کے فوائد:
    اس کی سب سے عام مثال ایکنی کے خلاف استعمال ہونے والا سیلائی سیلیک ایسڈ ہے۔اس ایسڈ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چربی اور تیل کو جلد میں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے یہ چکنی جلد پر بہت مؤثر رہتا ہے سیلائی سیلیک ایسڈاپنی انہی خصوصیات کے باعث اوور دی کاؤنٹرایکنی پراڈکٹس میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے

    اس میں مساموں میں شامل ہوجانے والے سیبم اور مٹی کو صاف کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے اس طرح یہ مساموں میں پیدا ہونے والے بیکٹیریاز کو بے اثر کرکے جلد پر نشانات نہیں پڑنے دیتا بصورت دیگر یہ بیکٹیریاز آگے چل کر جلد کو خراب کرنے اور قبل از وقت جھریوں کی وجہ بنتے ہیں

    سیلائی سیلیک ایسڈ بیکٹیریا کے خلاف بھی مدافعت پیدا کرتا ہے اور جلد کے سخت پڑجانے والے حصوں کے علاج میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔جن پراڈکٹس میں اس ایسڈ کی شرح زیادہ ہو، وہ مسوں کے علاج میں مفید رہتی ہیں

  • شہزادی میگھن اپنی ساس جیسا بننا چاہتی ہیں?

    شہزادی میگھن اپنی ساس جیسا بننا چاہتی ہیں?

    برطانوی شہزادی میگھن مارکل کی ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے بلکل اپنی آنجہانی ساس لیڈی ڈیانا کی طرح ہی تصویر بنوائی ہوئی تھی

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مشہور ہونے والی اس تصویر کو کچھ صارفین مستقبل کی پلاننگ جبکہ کچھ اتفاق قرار دے رہے ہیں

    یہ تصویر ڈاکٹر جیمز کینٹ نامی صارف نے ٹوئٹر پر شیئر کی جس کے بعد صارفین کے تبصروں کی بھر مار ہوگئی بعض لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی والدہ شہزادی ڈیانا جیسی بننا چاہتی ہیں

    میگھن کی شیئر کی گئی تصویر ان کے فوٹو شوٹ کی ہیں جبکہ شہزادی ڈیانا کی تصویر ایک میگزین کے سرورق کی ہے

    سرورق کی عبارتٕ دیکھیں توپتہ چلتا ہے ہے کہ لیڈی ڈیانا کی یہ تصویر اس وقت لی گئی تھی جب وہ براعظم افریقا کے دورے پر تھیں

    ان دونوں ساس اور بہو کی ان تصاویر میں بہت معمولی ہی فرق ہے جبکہ ان کی اسٹائل اور کپڑوں کو دیکھا جائے تو وہ بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں

    شاہی خاندان کے اعلان پر شہزادہ ہیری کا دکھ کا اظہار


    میگھن نے وائٹ قمیض اور سیاہ رنگ کا اسکرٹ زیب تن کیا ہوا ہے جو شہزادی ڈیانا کے کپڑوں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں نے عینک بھی ایک ہی جیسی لی ہوئی ہے جبکہ دونوں شہزادیوں نے اپنی کمر پر ہاتھ بھی ایک ہی اسٹائل سے رکھا ہوا ہے تاہم میگھن کی ایک ہتھیلی مڑی ہوئی ہے جبکہ شہزادی ڈیانا کی دونوں ہتھیلیاں کھلی ہوئی ہیں

    تقریباً ایک جیسی مشابہت رکھنے والی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جبکہ اس تصویر کو شیئر کرنے والے شخص نے لکھا کہ ’میگھن آپ بہت اچھی اداکار ہیں اپنے نے یہ پوز لینے کے لیے کتنے آئینوں کا سہارا لیا؟

    اس پوسٹ پر ایک شخص نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت پریشان کن ہے وہ اپنے شوہر کی ماں جیسا بننا چاہتی ہیں؟ جبکہ کچھ لوگوں نے تو اس تصویر کو عجیب و غریب قرار دیا

  • میک اپ برش صاف کرنے کے مختلف طریقے

    میک اپ برش صاف کرنے کے مختلف طریقے

    میک اپ کرنا ایک آرٹ ہے میک اَپ کے لیے رنگوں کا انتخاب اور پھر ان کا استعمال موقع کی مناسبت سے کرنا ضروری ہے گزرے وقتوں میں میک اَپ صرف کاجل، سرمہ، دنداسہ اور پاؤڈر کو ہی سمجھا جاتا تھا یا پھر خواتین گھر کی کچھ اشیا جیسے ملائی، لیموں، دودھ اور اسی قسم کی دیگر قدرتی اشیا کو اپنے حسن وآرائش کیلئے استعمال کرتی تھیں اور سب سے دلچسپ بات تو یہ کہ ان کو بغیر کسی دوسری چیز کی مدد سے انگلیوں اور ہاتھوں سے لگالیا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں میک اَپ کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا وہیں میک اپ لگانے کے ٹولز کی بے شماراقسام بھی سامنے آئیں

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن


    صرف آنکھوں کے میک اپ کے لیے ہی تین سے چار قسم کے برش استعمال ہوتے ہیں اسی طرح بلش آن، لپ اسٹک، فاؤنڈیشن، پرائمر اور بیس وغیرہ کے لیے بھی ایک کے بجائے کئی قسم کے برش استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ایک اہم مسئلہ ان برشز اور اشیا کی صفائی کا ہے گھرسے باہرنکلنے سے پہلے میک اپ ٹچ لازمی ہوتا ہے اوروقت کی کمی کے سبب جلد بازی میں میک اپ لگانے کے بعد برش کی صفائی رہ جاتی ہے اس کی وجہ سے جلدی بیکٹیریا، ڈیڈ سیل اور آئل برش میں افزائش پاتے ہیں اورفوراً جلد پراس کے اثرات نظرآجاتے ہیں

    میک اپ برش میں پائے جانے والے بیکٹیریاپہلے دوہفتوں میں ہی تیزی سے افزائش پاتے ہیں یہ بیکٹیریا مساموں کے ذریعے جلد میں داخل ہوکرداغ دھبوں اورایکنی کاسبب بنتے ہیں

    میک اپ برش کسی بھی خاتون کیلئے قیمتی ہتھیار کی مانند ہوتے ہیں کیونکہ انہی کی مدد سے وہ میک اپ کرکے اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں لیکن عام طور پر بیشتر خواتین اپنے میک اپ سیٹ اور میک اپ پراڈکٹس کو تو بہت سنبھال کر رکھتی ہیں مگر میک اپ لگانے والے برشز کو لاپرواہی سے ایک جانب ڈال کر بھول جاتی ہیں اور ان کی صفائی ستھرائی پر دھیان نہیں دیتیں جبکہ میک اپ برشز کو جراثیم سے پاک رکھنے کیلئے ان کی باقاعدگی سے صفائی کرنا بہت ضروری ہے

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول


    اس طرح نہ صرف آپ کی جلد بیماریوں سے محفوظ رہے گی بلکہ میک اپ برشز بھی کافی عرصے تک چلیں گے جلدی امراض کے ماہرین کی رائے کے مطابق میک اپ برشز کی ہفتہ وار صفائی ضروری ہے لیکن اگر کسی ہفتہ آپ برش دھونا بھول جائیں یا آپ کا خیال ہے کہ جلدی جلدی دھونے سے آپ کے برش خراب ہو سکتے ہیں تو ہر پندرہ دن میں کم از کم ایک بار انہیں ضرور دھوئیں

    آج کل مارکیٹ میں بہت سی اچھی کمپنیوں کے تیار کردہ میک اپ برش کلینرز دستیاب ہیں جو قدرے مہنگے تو ضرور ہیں مگر ان کی کارکردگی یقینا ًبہت اچھی ہے تاہم اگر آپ یہ برش کلینر خریدنا نہیں چاہیں تو گھر میں موجود صابن یا شیمپو سے بھی برش کو دھویا جا سکتا ہے میک اپ برش دھونا زیادہ مشکل کام نہیں تاہم آپ کی سہولت اور رہنمائی کیلئے یہاں میک اپ برش دھونے اور صاف کرنے کا طریقہ مختصراً درج ذیل ہے جس سے آپ کی معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہوگا

    یوں تو آپ منہ دھونے کے صابن یا عام شیمپو سے بھی میک اپ برشز دھوسکتی ہیں لیکن بے بی شیمپو اس کام کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے فیس پائوڈر اور بلش آن لگانے والے بڑے برشز کو ہمیشہ علیحدہ دھوئیں جبکہ لپ لائن یا آئی شیڈز لگانے والے چھوٹے برشز کو آپ ایک ساتھ بھی دھوسکتی ہیں

    سب سے پہلے تیز دھار پانی سے برش کو دھوئیں پھر ضرورت کے مطابق بے بی شیمپو اس پر لگائیں اگر برش، میک اَپ میں زیادہ لتھڑا ہوا ہے تو شیمپو کے کئی قطرے اس پر ڈالنے ہونگے لیکن اگر یہ زیادہ خراب نہیں تو اس کی صفائی کیلئے ایک ہی قطرہ کافی رہے گا ناب شیمپو کو اچھی طرح برش کے اوپر ملیں اس طرح جھاگ بن جائے گا پھر برش کو دبا کر میک اپ کے ذرات اس میں سے نکالیں

    بالوں میں ہیئر برش کس طرح کرنا چاہیئے؟


    جھاگ کے ساتھ میک اپ کی باقیات بھی باہر نکل جائیں گی اگر برش بالکل صاف ہوگیا ہے تو اسے پانی سے اچھی طرح دھولیں برش دھونے کے بعد اس کے ریشو ں کو دبا کر پانی نکالیں اور پھر اسے جھٹک کر کسی مناسب جگہ پر صاف تولیہ کے اوپر رکھ دیں

    اگر آپ کو لگے کہ برش میں اب بھی خاصا پانی موجود ہے تو دوسرے تولیہ کی مدد سے یا اسی تولیہ کو فولڈ کرکے برش کو تھپتھپائیں اور اسے اچھی طرح خشک ہونے کیلئے کسی ہوادار جگہ پر رکھ دیں برش کو مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے کبھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی اسے جلدی خشک کرنے کی خاطر ہیئر ڈرائیر استعمال کریں کیونکہ ان سے برش کے ریشے خراب ہو جاتے ہیں

    برش کو سُکھانے کیلئے اسے تولیہ کے اوپر ہمیشہ سیدھا رکھیں اگر آپ نے برش کو کسی چیز سے ٹکا کر کھڑا کیا ہے تو ایسا کرنے سے برش کے ہینڈل میں پانی جمع ہونے سے اس کے ریشے گل جائیں گے

    برشز دھونے کیلئے رات کا وقت بہترین ہے کیونکہ رات بھر میں برشز اچھی طرح خشک ہوجائیں گے اور آپ صبح انہیں استعمال کرسکیں گی اس بات کا خیال بھی رکھیں کہ برش دھونے کیلئے آپ جو پانی استعمال کریں وہ بالکل صاف ستھرا ہو اگر پانی کے شفاف ہونے پر آپ کو شبہ ہو تو برش دھونے کے بعد آخر میں اس کے اوپر تھوڑا سا پینے کا صاف پانی بہالیں

  • سکرین گلڈ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی کورین فلم

    سکرین گلڈ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی کورین فلم

    امریکا میں ہونے والے معروف ’اسکرین ایکٹرس ان گلڈ ایوارڈز‘ (ساگ) میں گزشتہ 26 سال میں پہلی بار جنوبی کورین فلم نے بہترین فلم کا ایوارڈ جیت کر نئی تاریخ قائم کر دی

    گزشتہ 26 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسکرین گلڈ ایوارڈز میں انگریزی کے علاوہ کسی دوسری زبان کی فلم کو ’بہترین فلم‘ کا ایوارڈ دیا گیا

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ برس ریلیز ہونے والی جنوبی کورین فلم ’پیراسائیٹ‘ کو بہترین فلم کا ایوارڈ دیا گیا

    حیران کن بات یہ ہے کہ اس فلم نے دیگر بڑے فلمی ایوارڈز میں بہترین فلم کی کیٹیگری کے لیے نامزدگی بھی حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی فلم کی کاسٹ کو کسی بڑے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا

    ہالی وڈ سٹار نے اللہ اکبر کہہ کر ایوارڈ وصول کیا


    فلم فیسٹیول میں اس بار ہالی وڈ اداکار براڈ پٹ اور ان کی سابق اہلیہ اداکارہ جینیفر آئنسٹن نے بھی معاون اداکار و اداکارہ کا ایوارڈ جیتا

    ایکشن ہیرو براڈ پٹ کو گزشتہ برس ریلیز ہونے والی رومانٹک ہارر کامیڈی فلم ’ونس اپن ٹائم ان ہولی وڈ‘ میں شاندار اداکاری دکھانے پر معاون اداکار جب کہ ان کی سابق اہلیہ جینیفر آئنسٹن کو ایپل ٹی وی کے ریئلٹی شو ڈراما ’مارننگ شو‘ میں معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا

    فلموں میں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ’میریج اسٹوری‘ کی اداکارہ لارا ڈیرن کو دیا گیا اور ’اوینجرز اینڈ گیم‘ کو بہترین اسٹنٹ فلم کا ایوارڈ دیا گیا

    بہترین اداکار کا ایوارڈ ایک بار پھر ’جوکر‘ کا کردار ادا کرنے والے جیکوئن فیونکس نے اپمے نام کر لیا جبکہ بہترین اداکارہ کا ایوارڈ برطانوی اداکارہ رینی زیلویگرنے اپنے نام کیا

    ٹی وی کے شعبے میں 9 کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے گئے اور اور برطانوی ڈرامہ سیریز ’دی کراؤن‘ کو بہترین ڈرامے کا ایوارڈ دیا گیا

    بہترین ٹی وی اسٹنٹ ڈرامہ کا ایوارڈ گزشتہ برس ختم ہونے والے شہرہ آفاق ڈرامہ ’گیم آف تھرونز‘ کو دیا گیا

    بہترین ڈرامہ اداکار کا ایوارڈ گیم آف تھرونز کے پیٹر ڈنکلیج کو دیا گیا جب کہ بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ’ایپل ٹی وی‘ کے مارننگ شو کے لیے اداکارہ جینیفر آنسٹن کو دیا گیا

  • یاسر حسین نے اقراء کو چھوٹی لڑکی قرار دیا

    یاسر حسین نے اقراء کو چھوٹی لڑکی قرار دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقراء عزیز اور یاسر حسین کی جوڑی مداحوں کی پسندیدہ ترین جوڑی ہے

    ان کے بارے میں جاننے کے لیے ان کے مداح متجسس رہتے ہیں جبکہ مداحوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کے لیے یہ جوڑی بھی سوشل میڈیا خصوصاً انسٹاگرام پر کافی متحرک نظر آتی ہے 28 دسمبر کو شادی کے بندھن میں بندھنے والی اقراء اور یاسر کی جوڑی آپس میں نوک جھونک اور دلچسپ تصویری کیپشن کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہے

    یاسر حسین نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں سے سوال جواب کا ایک سیشن رکھا جس میں انہوں نے مداحوں کے سوالوں کے جواب مزاح سے بھر پور انداز میں دیئے سوال جواب کے اس سیشن میں یاسر سے زیادہ شادی کے حوالے سے ہی سوال کئے گئے

    ایک صارف نے سوال پوچھا کہ اقراء کی کس اچھی عادت کی وجہ سے آپ نے سوچا کہ اقراء آپ کے لیے زندگی کی بہترین ساتھی ہیں
    اس کا جواب دیتے ہوئے یاسر نے لکھا کہ سب کی بہت عزت کرتی ہے

    اک صارف نے پوچھا کہ شادی سے پہلے کی زندگی اچھی ہے یا بعد کی؟

    یاسر حسین نے اس سوال کا انتہائی دلچسپ جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سچ کہوں گا تو ایک چھوٹی لڑکی سے مار کھاتا اچھا نہیں لگوں گا

    ایک صارف نے حالیہ ڈراموں میں سب سے پسندیدہ ڈراموں کا پوچھا تو یاسر نے اپنی شادی اور ’میرے پاس تم ہو‘ کا نام لیا جبکہ انہی سوالوں کے جواب میں انہوں نے اپنی شادی کو بھی ایک ڈرامہ کہہ دیا

  • سرمد کھوسٹ کا فلم زندگی تماشا ریلیز نہ کرنے پر غور

    سرمد کھوسٹ کا فلم زندگی تماشا ریلیز نہ کرنے پر غور

    فلم ساز سرمد سلطان کھوسٹ نے نامعلوم افراد کی جانب سے آن لائن دھمکیاں ملنے کے بعد اپنی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز نہ کرنے پر غور شروع کردیا

    سرمد سلطان کھوسٹ نے اپنے مداحوں کومذکورہ فلم کی ریلیز میں رکاوٹوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ کیا انہیں فلم ریلیز کرنے سے باز رہنا چاہیئے؟

    سرمد کھوسٹ نے پہلے ہی بتایا تھا کہ ان پر فلم کو ریلیز نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہیں جہاں دھمکیاں دی جارہی ہیں وہیں ان کے خلاف تھانوں اور عدالتوں میں شکایتیں بھی درج کروائی جارہی ہیں

    سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘ کا ٹریلر گزشتہ برس ریلیز کیا گیا تھا جب کہ اس فلم کو بیرون ملک میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا تھا جہاں اس فلم کو ایوارڈز بھی ملے

    تاہم چند ہفتے قبل سرمد سلطان کھوسٹ نے اچانک یوٹیوب سے فلم کا ٹریلر ہٹاتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے ٹریلر کو ہٹایا جا رہا ہے تاہم فلم کو 24 جنوری 2020 کو ریلیز کیا جائے گا

    سرمد کھوسٹ نے وزیر اعظم عمران خان سے مدد مانگ لی

    تاہم بعد ازاں سرمد کھوسٹ نے خود کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف کرتے ہوئے رواں ماہ 17 جنوری کو صدر پاکستان عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کے نام کھلا خط لکھ کر ان سے مدد طلب کی تھی

    اب فلمساز نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پاکستانیوں کے نام ایک خط شیئر کیا ہے جس میں اپنی فلم کی ریلیز میں درپیش مسائل پر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے ان حالات میں فلم ریلیز نہ کرنے پر غور شروع کردیا ہے

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دوستوں کی جانب سے مشورہ دیا جارہا ہے کہ چھوڑ دو اس فلم کو اور دوسری بنالو تو کیا میں فلم کو بنانے میں کی گئی اپنی دو سال لگائے ہیں اور وہ اب کس طرح اتنے مہینوں کی محنت کو رائیگاں کردیں؟

    اپنے طویل خط میں سرمد کھوسٹ نے فلم کی کہانی پر بھی بات کی اور بتایا کہ فلم کی کہانی ایک اچھے مسلمان اور اسلام کی کہانی ہے فلم میں ایک اچھے مولوی کو دکھایا گیا ہے انہوں نے لکھا کہ فلم میں کسی بھی مذہبی فرقے کی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی فلم کسی مذہب اور فرقے کے خلاف ہے فلم معاشرے کی عکاسی کرتی ہے

    فلم زندگی تماشا کی تشہیر کے لئے میوزک کنسرٹ


    سرمد کھوسٹ نے خط میں لکھا کہ ’زندگی تماشا‘ پر فلم سینسر بورڈ کو کوئی اعتراض نہیں تھا فلم بورڈ کو جن الفاظ پر اعتراض تھا وہ نکال دیے گئے ہیں باقی سینسر بورڈ کو فلم کی کہانی سے کوئی اعتراض نہیں تھا تاہم دوسرے سینسر بورڈ کو فلم پر اعتراض ہے

    سرمد کھوسٹ نے خود کو آن لائن ملنے والی دھمکیوں میں سے ایک دھمکی کا اسکرین شاٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا،جس میں اردو میں فلم ساز کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی

    اسکرین شاٹ میں دھمکیاں دینے والے شخص نے لکھا کہ انہیں ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز نہ کرنے کا کہتے ہوئے فلم کو اسلام مخالف قرار دیا ہے

    سرمد کھوسٹ نے دھمکی کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے دھمکی دینے والے شخص کا فون نمبر چھپا دیا تھا

    سرمد کھوسٹ نے عوام اور دوستوں سے سوال کیا کہ دھمکیوں کے بعد کیا انہیں فلم روک دینی چاہیے؟ ساتھ ہی انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان کا خیال ہے کہ انہیں فلم روک دینی چاہیے

    خط میں سرمد کھوسٹ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے دوران تعلیم ہمیشہ اچھے نمبر حاصل کرنے سمیت تین گولڈ میڈل بھی جیتے

    سرمد کھوسٹ کو سپورٹ کرنے مشہور و معروف شوبز شخصیات بھی میدان میں آگئے ہیں اور اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رائے دے رہے ہیں

    اداکار ہمایوں سعید نے ٹویٹر پر پیغام لکھا کہ حکومت کو جلد از جلد اس بارے میں نوٹس لینا چاہئے پاکستان میں فلم سازی ایک مشکل کام ہے جو لوگ یہ کام کرنے کی ہمت کرتے ہیں انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے

    اداکارہ و گلوکارہ میرا سیٹھی نے لکھا کہ آفیشل سینسر بورڈ نے فلم کو کلئر کر دیا ہے جبکہ ان آفیشل سیسنر بورڈ مسائل کھڑے کر رہے ہیں

    جبکہ اداکارہ نے فلم کو ریلیز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے تسلی آمیز الفاظ لکھے کہا کہ مشکل کو بتاؤ اللہ کتنا بڑا ہے


    علاوہ ازیں ماہرہ خان، آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے، گلوکار علی گل پیر اور صنم سعید سمیت کئی دیگر اہم شخصیات نے سرمد کھوسٹ کو کسی بھی حال میں فلم کو نہ روکنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ انہیں ’زندگی تماشا‘ ضرور ریلیز کرنی چاہیے

    رمل بانو کی تحریر کردہ اور سرمد کھوسٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’زندگی تماشہ ‘اردو اور پنجابی زبان میں بنائی گئی ہے فلم میں عارف حسن کے علاوہ اداکارہ سمعیہ ممتاز، ماڈل ایمان سلیمان اور علی قریشی نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں

    فلم "زندگی تماشا” کا ٹریلر ریلیز سے قبل۔یو ٹیوب سے ہٹا دیا گیا

  • انٹر نیشنل ایوارڈ میں حرامانی کا نام بہترین اداکارہ کے لئے نامزد

    انٹر نیشنل ایوارڈ میں حرامانی کا نام بہترین اداکارہ کے لئے نامزد

    حرا مانی کا شمار پاکستان کی کامیاب اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے جنہیں اپنے ڈرامے ’دو بول‘ کی وجہ سے پاکستان بھر میں خوب شہرت ملی

    اداکارہ گزشتہ سال اے آر وائے کے ڈرامے ’دو بول‘ میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جس میں ان کے مقابل عفان وحید نے مرکزی کردار نبھایا

    اس ڈرامے میں حرا مانی کی اداکاری کو بےحد سراہا گیا جبکہ یہ گزشتہ سال کا کامیاب ڈراما بھی ثابت ہوا اور اب حرا مانی کو اپنے اسی ڈرامے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل اسکرین ایوارڈ پیسا میں بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا گیا

    جہاں اداکارہ کو ان کے ساتھی اور مداح اس نامزدگی کے لیے مبارکباد دے رہے ہیں وہیں حرا کے شوہر اداکار سلمان شیخ عرف مانی نے بھی ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

    انسٹاگرام پر مانی نے ایوارڈ سے لی گئی ایک تصویر شیئر کی جس پر انہوں نے لکھا کہ ’پاکستان میں شاید ہی کوئی ہو جس نے ایک میزبان کے طور پر شروعات کی کامیڈی کی، شوبر میں آنے سے پہلے شادی کی، دو بچوں کے بعد سنجیدہ اداکاری میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی

    مانی نے مزید لکھا کہ بہت کم وقت میں تم نے بہت کچھ حاصل کرلیا، تم ایک بہترین اداکارہ ہو اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ایکشن سے پہلے اور کٹ کے بعد تم دل کی اچھی، عام سی گھریلو سی حرا ہو، ایسے ہی سر جھکا کر چلتی رہو

    مانی کی اس پوسٹ پر حرا نے کمنٹ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ وہ ان سے محبت کرتی ہیں

    حرا مانی نے خود بھی ایوارڈ کی یہ تصویر شیئر کی جس پر انہوں نے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ایوارڈ ملے نہ ملے ان کے لیے یہ نامزدگی ہی بہت بڑی بات ہے میں بھی آپ سے سے دل سے اور دل سے بہت پیار کرتی ہوں

    ادکارہ نے مزید لکھا کہ مجھے پسند کرنے کا میرے ڈرامہ دیکھنے کا بے حد شکریہ خوش رہیں آپ سب آمین

    اداکارہ کا ڈراما ’دو بول‘ رومانوی کہانی پر مبنی تھا جس میں حرا مانی نے امیر گھر کی لڑکی جبکہ عفان نے ان کے گھر کے ملازم کا کردار نبھایا پیسا ایوارڈز کی تقریب رواں سال فروری میں دبئی میں منعقد ہوگی

    ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی آخری قسط تاخیر کا شکار


    واضح رہے حرا پاکستان کی تاریخ کے بہترین ترین اور سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ڈرامے میرے پاس تم ہو میں بھی جلوہ گر ہیں جس میں وہ ہانیہ نامی ٹیچر کا کردار ادا کر رہی ہیں