Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کراچی: منور چورنگی انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

    کراچی: منور چورنگی انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

    کراچی: گلستان جوہر کے علاقے میں منور چورنگی پر بنایا گیا نیا انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

    صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے افتتاح کیا،منور چورنگی انڈر پاس کی لمبائی 500 میٹر ہے جبکہ انڈر پاس کے دو طرفہ ٹریفک کی چوڑائی 24 فٹ ہے،کے ڈی اے نے منصوبہ 16 ماہ میں مکمل کیا جس پر 2 ارب روپے کی لاگت آئی۔
    https://login.baaghitv.com/wp-admin/post-new.php
    اس موقع پر، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ آج منور چورنگی انڈر پاس کو عوام کے لیے کھول رہے ہیں، باقاعدہ افتتاح چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ کریں گے، تمام شاہراہوں کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں،تمام ٹاؤن چیئرمینز اپنا کام کر رہے ہیں البتہ کچھ جگہوں پر شکایات ہیں کہ کام نہیں ہوا جس کی تحقیقات جاری ہیں، ہم ہی کراچی کو بنائیں گے۔

    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے دوست نئے صوبے کا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں لیکن سندھ کبھی تقسیم نہیں ہو سکتا، کہا جاتا ہے کہ کراچی برباد ہوگیا، بے شمار انڈر پاسز اور پل ہم نے بنائے ہیں، کراچی کے میدانوں میں شادی ہالز بنے تھے جسے ہمارے میئر نے ختم کیا، کہا جاتا ہے کراچی بدترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، اگر ایسا ہوتا تو لوگ یہاں رہنے کے لیے نہیں آتے۔

  • سابق بھارتی کرکٹر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    سابق بھارتی کرکٹر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    سابق بھارتی کرکٹر راجیش چوہان مبینہ فراڈ کے الزام میں قانونی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق راجیش چوہان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اسٹیل کمپنی میں ٹرانسپورٹ کا ٹھیکہ دلوانے کا وعدہ کرکے اس سے 15 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی،یہ پورا معاملہ گووند ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام پر کیے گئے ایک معاہدے سے جڑا ہوا ہے دنکر وشوامترا نامی ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ راجیش چوہان نے خود کو ایک معروف بین الاقوامی کرکٹر بتا کر اور بڑے صنعت کاروں سے تعلقات کا حوالہ دے کر ان سے رابطہ کیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی کو ایک بڑی اسٹیل کمپنی سے لوہا اور دیگر سامان منتقل کرنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے۔ انہوں نے اچھے منافع کا لالچ دے کر متاثرہ شخص کو کاروبار میں ٹرک لگانے اور شراکت دار بننے کی ترغیب دی۔

    متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ راجیش چوہان نے انہیں کچھ دستاویزات دکھائیں جنہیں سچا سمجھ کر انہوں نے جولائی 2021 میں معاہدہ کر لیا اور 15 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم دو قسطوں میں بینک کے ذریعے منتقل کر دی،کچھ عرصے بعد جب راجیش چوہان نے تسلی بخش جواب دینا بند کر دیا تو متاثرہ شخص نے خود اسٹیل کمپنی سے رابطہ کیا، وہاں معلوم ہوا کہ راجیش چوہان یا ان کی کمپنی کو ایسا کوئی ٹھیکہ دیا ہی نہیں گیا تھا اور دکھائی گئی تمام دستاویزات جعلی تھیں۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق دنکر وشوامترا نے پہلے موہن نگر پولیس اسٹیشن اور بعد ازاں ضلع درگ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو تحریری شکایات بھی دیں، تاہم مقدمہ درج نہ ہونے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا16 جولائی کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس ایشوریہ دیوان نے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    عدالت نے اپنے ابتدائی مشاہدے میں کہا کہ دستیاب مواد سے قابلِ دست اندازی جرم کا اشارہ ملتا ہے اور شکایات کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت کے مطابق بظاہر ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ سے دھوکے سے رقم حاصل کی گئی، جس کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔

    دوسری جانب راجیش چوہان اس معاملے کو کاروباری تنازع قرار دے چکے ہیں انہوں نے اس سے قبل پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہا تھا، ”شکایت کنندہ کی کچھ رقم پہلے ہی واپس کی جا چکی ہے، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی ذاتی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی بھی فریق کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

  • کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی

    کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی

    کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے-

    کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے ایک فرمانِ قانون جاری کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے قانونی فریم ورک باقاعدہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔

    کویتی سرکاری گزٹ کویت الیوم میں شائع ہونے والے فرمان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا اور فوجی تربیت، عسکری تعلیم، مسلح افواج کے باہمی تعاون اور دیگر دفاعی شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔

    معاہدے میں فوجی تربیت، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور ماہرینِ دفاع کے تبادلے، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس اور باہمی اتفاق سے طے پانے والے دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہےمعاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک سالانہ منصوبے اور ایگزیکٹو پروٹوکول مرتب کریں گے، جبکہ مختلف سطحوں پر سرکاری وفود کے تبادلوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    اس مقصد کے لیے پاکستان اور کویت پر مشتمل ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ہوگی۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے نامزد نمائندے اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ کمیٹی سال میں ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔

    معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات، معلومات یا مواد کو تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے، یہ رازداری معاہدے کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہے گی،مالی امور سے متعلق معاہدے میں باہمی مساوات کے اصول کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری دوروں کے دوران میزبان ملک مہمان وفود کے اندرونِ ملک سفری اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔

    معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کی کسی شق سے دونوں ممالک کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل حقوق اور ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ معاہدے کی تشریح یا عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اسے کسی ملکی یا بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو کویت میں طے پایا تھا۔

  • وینزویلا کی ٹانک حملے کی مذمت، پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار

    وینزویلا کی ٹانک حملے کی مذمت، پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشتگرد حملے پر اظہارِ تعزیت اور یکجہتی پر وینزویلا کا شکریہ ادا کیاہے-

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسینسیا گونزالیز کے تعزیتی پیغام کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے کہا کہ ٹانک میں ہونے والے بزدلانہ دہشتگرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کے لیے وینزویلا کے شکر گزار ہیں، وینزویلا کی جانب سے حمایت کا یہ جذبہ پاکستان کے لیے حوصلے اور تسلی کا باعث ہے، جسے ہم دل کی گہرائی سے سراہتے ہیں۔

    اس سے قبل وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسینسیا گونزالیز نے اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، وینزویلا اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی قائم رہے۔

  • قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت،تجزیہ شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت،تجزیہ شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت

    دنیا میں کم، پاکستان میں زیادہ قومی اداروں پر مسلسل بحث کے اثرات اور چیلنجز

    قومی اداروں کا وقار اور ریاستی استحکام عالمی تجربات پاکستان کو کیا سبق دیتے ہیں؟

    دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قومی سلامتی کے دیگر ادارے ریاست کے بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں ان اداروں کا بنیادی مقصد سرحدوں کا دفاع، داخلی و خارجی خطرات کی نگرانی، اور قومی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، بھارت، ترکی اور دیگر ممالک میں بھی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں، لیکن وہاں عمومی طور پر ان اداروں کو روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا مستقل موضوع نہیں بنایا جاتا۔

    بین الاقوامی سطح پر سول و عسکری تعلقات (Civil-Military Relations) کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ حیثیت اور سیاسی غیرجانبداری کسی بھی ریاست کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں قومی سلامتی کے معاملات پر بحث ضرور ہوتی ہے، مگر یہ بحث عموماً پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، بجٹ، یا آئینی و قانونی دائرہ کار تک محدود رہتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس ادارے سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات کا حصہ نہ بنیں، کیونکہ اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد قومی سلامتی کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔

    پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایٹمی طاقت ہے، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے، اور دنیا کے حساس ترین جغرافیائی خطوں میں واقع ہے۔ ایسے ماحول میں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید، سوال یا احتساب کی گنجائش اپنی جگہ موجود رہتی ہے، لیکن جب یہ موضوع مسلسل سیاسی محاذ آرائی، سوشل میڈیا مہمات، یوٹیوب مباحث اور جماعتی بیانیوں کا مرکز بن جائے تو اس کے اثرات ریاستی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، بین الاقوامی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب فوج یا قومی سلامتی کے ادارے شدید سیاسی پولرائزیشن کا حصہ بن جائیں تو سول و عسکری تعلقات پر دباؤ بڑھتا ہے اور قومی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کئی جمہوری ممالک میں فوج کی غیرجانبداری اور اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کو ایک بنیادی قومی اصول سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق گفتگو ذمہ دارانہ، حقائق پر مبنی اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ایسا طرزِ گفتگو جو اداروں کو مستقل سیاسی تنازعات کا مرکز بنا دے، وہ قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے سودمند نہیں سمجھا جاتا، قومی سلامتی کے ادارے کسی فرد، جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست اور قوم کے ادارے ہوتے ہیں، اور ان کے بارے میں رائے دیتے وقت قومی مفاد، ادارہ جاتی وقار اور ریاستی استحکام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

    مختصراً، دنیا کی کامیاب ریاستوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط جمہوریت، مستحکم قومی سلامتی اور باوقار ادارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قوتیں، میڈیا اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں تو قومیں مضبوط اور ریاستیں مستحکم بنتی ہیں۔

  • مون سون بارشیں:متعدد سڑکیں بند ، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع

    مون سون بارشیں:متعدد سڑکیں بند ، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں سے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں دریا، ندی نالے بپھر گئے، متعدد سڑکیں بند ہو گئیں، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر، مواصلاتی رابطے منقطع اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے میانوالی میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ بند کی مرمت کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔

    دوسری جانب دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق دریا میں پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہےسندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں طغیانی کے باعث 10 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، کئی علاقوں میں لوگوں کو آمدورفت کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

    ادھر تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ دو روز کے دوران 150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، تاہم مقامی افراد نے بارش کو صحرائی علاقے کے لیے رحمت قرار دیا ہےگلگت بلتستان میں چلاس اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، استور ویلی روڈ گزشتہ 6 روز سے بند ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں اشیائے خورونوش اور ضروری سامان کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے سڑک بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آج سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور بالائی علاقوں کے بعض مقامات پر مزید تیز بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی ندی نالوں اور سیلابی ریلوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • افغانستان فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    افغانستان فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز صوبہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے 2 ڈرون مار گرائے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق فریڈم فرنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی ہفتے کی دوپہر کے وقت کی گئی،اس نے واقعے کی تصاویر دیکھی ہیں جن میں پہاڑی علاقے میں تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ دکھائی دیتا ہےاگرچہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے تاحال باضابطہ طور پر ڈرون مار گرانے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے ضلع زِیبک میں اس کے جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

    فریڈم فرنٹ نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے زِیبک میں طالبان کی چوکیوں پر حملوں کے دوران کم از کم 21 طالبان جنگجوؤں، جن میں کئی کمانڈر بھی شامل تھے، کو ہلاک جبکہ 37 دیگر کو زخمی کر دیا،تنظیم کے مطابق اس نے سرحدی بٹالین کے اطراف بلند پہاڑی علاقوں میں واقع طالبان کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

    دوسری جانب طالبان کی 219 عمرِ ثالث ڈویژن نے جمعہ کی شب زِیبک میں طالبان مخالف جنگجوؤں کے حملے کی تصدیق کی،ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی 15ویں بارڈر بریگیڈ کے ساتھ جھڑپوں میں 5 مخالف جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے،تاہم طالبان نے اپنے جانی نقصانات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

    یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب چند روز قبل قائم ہونے والے سپاہِ میہن فرنٹ نے بھی بدخشاں کے ضلع یفتلِ سفلی پر حملہ کیا تھا،تنظیم نے 17 جولائی کو مختصر وقت کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلیجنس دفتر پر قبضہ کر کے اپنی تنظیم کا پرچم سرکاری عمارت پر لہرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    شدید لڑائی کے بعد افغانستان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور آزادی کی فیصلہ کن جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا اختتام افغانستان کی آزادی اور عوام کی کامیابی پر ہوگا۔

  • پاکستان کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعظم

    پاکستان کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کو ناکام بنانے اور 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، حکومت اور سکیورٹی فورسز آپریشن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے-

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے چوکی پر دہشت گرد حملہ ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی کے دوران خودکش بمبار سمیت چار خوارج کو ہلاک کر دیا تھا۔

  • دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبا تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے کامیاب احتجاج کے بعد بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔

    بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دیا، جس کے بعد کئی ہفتوں سے جاری طلبہ کا احتجاج اختتام پزیر ہوگیااس پیش رفت کو طلبہ اور احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں بھی حیرت پیدا کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جمعے تک اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ بھارتی حکومت اپنے ایک سینئر وزیر سے استعفا لینے پر آمادہ ہوجائے گی، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی،وزیرِ تعلیم نے استعفا دے دیا، حکومت نے طلبہ کے نمائندوں سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے اور احتجاجی تنظیم نے کئی ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ یہ مذاکرات میڈیکل امتحانات نیٹ کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد کیے گئے تھے، لیکن یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں بھارتی وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیر جتیندر سنگھ اور سی جے پی کے رہنما شریک تھے اجلاس میں احتجاجی قیادت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی،ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے، دھرمندر پردھان کا استعفا۔

    سی جے پی نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو طلبہ دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، جیسا کہ 20 جولائی کو کیا گیا تھا، جہاں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی ہوئی تھی،احتجاجی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومت نے مقررہ وقت میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو وہ اس ڈیڈ لائن کا عوامی اعلان بھی کر دے گی۔

    جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ حکومتی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ آگاہ کریں گے،مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں وزرا نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو صورتحال سے آگاہ کیا،اسی دوران وزارتِ تعلیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 اہلکاروں کو برطرف کیا، جسے احتجاج کرنے والے طلبہ کو سخت پیغام دینے کی کوشش قرار دیا گیا اس کے ساتھ این ٹی اے کی تنظیمِ نو کے تحت نئے عملے کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا گیا۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف قوانین مزید سخت بنانے کے لیے ایک ترمیمی بل کی بھی منظوری دی حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، سیکریٹری تعلیم کے تبادلے اور پرچہ لیک کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود احتجاجی طلبہ اپنے مؤقف پر قائم رہے اور انہوں نے کہا کہ ان کا فوری مطالبہ صرف وزیرِ تعلیم کا استعفا ہےپھر ہفتے کی صبح سی جے پی کے داخلی اجلاس سے پہلے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے ایک بار پھر امت شاہ سے ملاقات کی، اسی دوران دھرمندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوا، جس کے بعد فضا مکمل طور پر بدل گئی،بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں سی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر رہی ہے اور جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر موجود طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

    حکومت نے اس موقع پر دو اہم یقین دہانیاں بھی کروائیں حکومتی وزرا نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی،حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو حکومتی قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ یہ احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے حکام کا خیال تھا کہ یہ تحریک شہریت ترمیمی قانون یا کسانوں کے احتجاج سے مختلف ہے کیونکہ اس کی قیادت نوجوان طلبہ کر رہے ہیں، اور حکومت مستقبل کی نسل کے ساتھ طویل محاذ آرائی نہیں چاہتی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس دوران کئی اقدامات کیے، جن میں این ٹی اے میں اصلاحات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی شامل تھا، تاہم حکومت کو ایک طرف پارلیمنٹ میں متحد اپوزیشن اور دوسری طرف ملک بھر میں پھیلتی نوجوانوں کی تحریک کا سامنا رہا، جسے سیاسی طور پر زیادہ دیر تک برقرار رکھنا مشکل سمجھا جا رہا تھا۔

    حکومت پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کو بغیر رکاوٹ چلانا چاہتی ہے، خاص طور پر حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ دھرمندر پردھان کے استعفے سے اپوزیشن کا ایک بڑا اعتراض ختم ہو جائے گا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی یا نہیں۔

    رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابینہ میں ردوبدل تو کئی بار ہوئی، لیکن عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی وفاقی وزیر کا استعفا دینا انتہائی کم دیکھنے میں آیا ہے اس سے قبل 2018 میں ایم جے اکبر نے خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد #MeToo تحریک کے دوران وزارت سے استعفا دیا تھا۔

    حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھرمندر پردھان کے معاملے کی نوعیت ایم جے اکبر سے مختلف ہے کیونکہ ان پر ذاتی نوعیت کا کوئی الزام نہیں تھاتاہم کچھ حکومتی شخصیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر استعفا ناگزیر تھا تو اسے پرچہ لیک اسکینڈل سامنے آتے ہی قبول کر لیا جاتا تو کئی ہفتوں تک جاری احتجاج، عوامی غصہ اور سیاسی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

  • تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے  یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیاایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب،ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔