امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کا آپشن زیر غور لا سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز ایسے ممکنہ آپریشن کی تیاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کو قبضے میں لے کر ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے،بعض ماہرین نے اس مشن کو عسکری تاریخ کے سب سے پیچیدہ فوجی آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے، کیوں کہ اس کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات اور سخت سکیورٹی اقدامات درکار ہوں گے۔
رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے گرد سکیورٹی فراہم کرنے، رکاوٹیں اور دھماکہ خیز مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں قائم کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس کے بعد اسپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں غنی شدہ یورینیم تک رسائی حاصل کرکے اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہوگاسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز نے کہا کہ اگرچہ ایرانی فوجی صلاحیتوں میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم جنگی ماحول اور محفوظ جوہری تنصیبات کی وجہ سے یہ لاجسٹک اعتبار سے دنیا کے پیچیدہ ترین فوجی آپریشنز میں شمار ہو سکتا ہے،اس ممکنہ کارروائی میں سیل ٹیم 6، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک مواد اور بارودی مواد سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی کے اہلکار شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی غنی شدہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زائد غنی شدہ یورینیم موجود ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے جوہری تنصیبات کے گرد مضبوط سکیورٹی حصار قائم کرنا اور زمینی و فضائی انخلا کی راہداریاں محفوظ بنانا ضروری ہوگا، جبکہ امریکی فورسز کو ممکنہ ایرانی حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار اور ایران کے مہلک ہتھیاروں سے متعلق امور کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج محفوظ انخلا مکمل ہونے تک امریکی فورسز کی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوگی، انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے گرد اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے، اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں اور دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا گیا ہے اب اچانک کارروائی کا عنصر بھی پہلے جیسا نہیں رہا، کیوں کہ جوہری تنصیبات کے مقامات دونوں فریقوں کے علم میں ہیں۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ دراندازی کے پیش نظر اصفہان کی تنصیب کی سرنگوں میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے اسی طرح نطنز کے قریب واقع جبل بیکیکس گزشتہ ماہ سینکڑوں سینٹری فیوجز وہاں منتقل کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایک نئے ممکنہ ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ جبل بیکیکس کو نشانہ بنانے والے کسی بھی آپریشن میں یا تو اس تنصیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے یا فضائی حملے مؤثر نہ ہونے کی صورت میں خصوصی فوجی کارروائی کے ذریعے اسے ناکارہ بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے ان کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار تنصیب کے ڈیزائن اور اس کی کمزوریوں سے متعلق درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا،امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک کسی ایسے عملی منصوبے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
