ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیاایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب،ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
