افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز صوبہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے 2 ڈرون مار گرائے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق فریڈم فرنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی ہفتے کی دوپہر کے وقت کی گئی،اس نے واقعے کی تصاویر دیکھی ہیں جن میں پہاڑی علاقے میں تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ دکھائی دیتا ہےاگرچہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے تاحال باضابطہ طور پر ڈرون مار گرانے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے ضلع زِیبک میں اس کے جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
فریڈم فرنٹ نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے زِیبک میں طالبان کی چوکیوں پر حملوں کے دوران کم از کم 21 طالبان جنگجوؤں، جن میں کئی کمانڈر بھی شامل تھے، کو ہلاک جبکہ 37 دیگر کو زخمی کر دیا،تنظیم کے مطابق اس نے سرحدی بٹالین کے اطراف بلند پہاڑی علاقوں میں واقع طالبان کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
دوسری جانب طالبان کی 219 عمرِ ثالث ڈویژن نے جمعہ کی شب زِیبک میں طالبان مخالف جنگجوؤں کے حملے کی تصدیق کی،ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی 15ویں بارڈر بریگیڈ کے ساتھ جھڑپوں میں 5 مخالف جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے،تاہم طالبان نے اپنے جانی نقصانات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب چند روز قبل قائم ہونے والے سپاہِ میہن فرنٹ نے بھی بدخشاں کے ضلع یفتلِ سفلی پر حملہ کیا تھا،تنظیم نے 17 جولائی کو مختصر وقت کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلیجنس دفتر پر قبضہ کر کے اپنی تنظیم کا پرچم سرکاری عمارت پر لہرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
شدید لڑائی کے بعد افغانستان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور آزادی کی فیصلہ کن جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا اختتام افغانستان کی آزادی اور عوام کی کامیابی پر ہوگا۔
