Baaghi TV

امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

More posts