Baaghi TV

دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

usa

مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر، امریکی حکام، مشیروں اور حفاظتی عملے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپ واشنگٹن میں چھوڑ آئے،چینی سیکیورٹی اور سائبر جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر امریکی حکام نے اس دورے کے لیے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی اپنائی ہے۔

چینی حکام کی جانب سے نگرانی، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کے خدشات کے پیش نظر امریکی وفد "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کے تحت چین گیا اہلکار اپنے ذاتی فونز کی جگہ "صاف” (clean) یا عارضی فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں، جن میں حساس معلومات نہیں ہوتیں۔

امریکی سیکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ چین میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز، نیٹ ورکس اور ہوٹل کے کمروں کی نگرانی کی جا سکتی ہے، اور فون چارج کرنا بھی ڈیٹا چوری (جوس جیکنگ) کا خطرہ بن سکتا ہے یہ احتیاطی تدابیر صرف سرکاری اہلکاروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جانے والے ایپل ، بوئنگ اور کوالکوم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بھی لاگو تھیں۔

یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی ہے جس کے تحت چین (یا دیگر حساس ممالک) کے دورے پر جانے والے اہلکاروں کو اپنی معمول کی ڈیجیٹل ڈیوائسز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی

More posts