پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقہ سوپور میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کی ظلم وبربریت انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مہذب، انصاف، قانون اور انسانیت پر یقین رکھنے والے انسانوں کو بھارتی بربریت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین، امریکہ اور او۔آئی۔سی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بھارت کے خلاف جنگی جرائم کی کارروائی شروع کرائیں ۔ انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہداءکے درجات بلندی کی دعا کرتےہوئے کہا، اللہ تعالی شہداءکے اہلخانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین
Author: Khalid Mehmood Khalid

بھارت پاکستان کےصوبے بلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ شاہ محمودقریشی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت مسلسل کوشش کرتاچلاآرہاہےکہ پاکستان میں عدم استحکام ہو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کےصوبےبلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان میں امن کی کوششوں کوبھی متاثر کررہاہے جس کے بارے میں وہ امریکی نمائندہ خصوصی کوبھی آگاہ کرچکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پرحملےمیں دہشت گرد لوگوں کویرغمال بناناچاہتےتھے جب کہ پاکستانی جوانوں نےدہشت گردوں کےحملےکوناکام بنایا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت اندرونی انتشار سےتوجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کرارہاہے وہ دنیا کی توجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کےواقعا ت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرپرعالمی توجہ بڑھنےپربھارت نےپلوامہ کاڈرامہ رچایا-

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔خطے کی صورتحال، افغان امن عمل کے حوالے سے خصوصی تبادلہ ء خیال. امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ایمبیسڈر زلمے خلیل زاد نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشتگردی کے حملے پر، وزیر خارجہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بروقت کارروائی اور جوانوں کی مثالی جرات اور جرات کو سراہا.مخدوم شاہ محمود قریشی نےافغان امن عمل میں اب تک ہونیوالی پیش رفت کوانتہائی حوصلہ افزا قرار دیااور کہا کہ فریقین کی طرف سے بین الافغان مذاکرات پر آمادگی اور مذاکراتی ٹیموں کا اعلان خوش آئند ہے ان مذاکرات سے افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل، اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس موقع پر ہمیں ان عناصر سے خبردار رہنا ہو گا جو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، گذشتہ چالیس برسوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے جب کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانے کیلئے، عالمی برادری کو ہاتھ بڑھانا ہو گا – انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان قضیے کے مستقل اور پرامن سیاسی حل کیلئے، علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے جب کہ
پاکستان مشترکہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے کی تعمیر و ترقی کا انحصار افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق بھی اس موقع پر موجود تھے
اسلام آباد میں مندرکی تعمیرپرسی ڈی اے کو نوٹس جاری
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں مندرکی تعمیرکےخلاف درخواست پرسی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے مقامی وکیل چوہدری تنویراخترکی مندر تعمیر کے خلاف دائردرخواست پرسماعت کی۔درخواست گزار نے موقف اختیارکیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کی تعمیرکے لئے دی گئی زمین واپس لی جائے۔ہندو مندرکی تعمیرکے لئے تعمیراتی فنڈزبھی واپس لیے جائیں۔سید پورویلج میں پہلے سے مندرموجود ہے۔حکومت اس کی تزئین و آرائش کرسکتی تھی۔ایچ نائن میں مندرکو دی گئی زمین اسلام آباد کے ماسٹرپلان کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزارنے کہا کہ اسلام آباد کے ماسٹرپلان پرعمل درآمد کرایا جائے اور مندرمیں تعمیرپرحکم امتناع جاری کیا جائے۔ایچ نائن سیکٹرمیں حکومت نے مسجد کے لیے تو فنڈزکا اعلان نہیں کیا مندرکی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کر دیےہیں۔جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے بتائے کہ کیا ایچ نائن میں مندراسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ ہے یا نہیں؟اقلیتوں کے مکمل حقوق ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔

اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی
بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی،
لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج، بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیا کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا، بھارت کی طرف سے 29 اور 30جون کو ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں، بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے ایک شہری شہید اور پانچ زخمی ہوگئے.بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ننھے پوتے کے سامنے گولیاں مار کر دادا کو شہید کر دیا
یہآج صبح بھارتی مقبوضہ کشمیرکے علاقے سوپور میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے درندوں نے کیسے ایک عام شہری کو مار دیا.تین سالہ بچہ اسکی لاش پر بیٹھا ہے. صبح صبح جب وہ گھرسے اپنی فیملی کے ہمراہ نکلا تو اس وقت پولیس فورس کی گاڑی مجاہدین کے نرغے میں آگئی جس میں موجود ایک بھارتی تو مارا گیا لیکن فورس نے ایک نہتے شہری کے ساتھ جو کیا اس کی مثال صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی بھارتی فوج کے ہاتھوں مل سکتی ہے۔وادی میں عام شہری کو شہید کرنے کے بعد دیکھئے کیسے بھارتی فوج اس شخص کی لاش پر پاؤں رکھ کرکس طرح بے حرمتی کر رہے.

چینی ایپس پر پابندی کے باوجود بھارت چینی کمپنیوں سے چندہ لیتا رہا
بھارت میں پی ایم کیئرس فنڈ کا طرزعمل شفاف نہیں ہے اور اس کوآر ٹی آئی ایکٹ کے دائرے سے بھی باہر کر دیا گیا، جس کی وجہ سے پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ واقعی یہ فنڈ کس طرح سے کام کر رہا ہے، کون اس میں چندہ دے رہا ہے اور اس جمع رقم کو کن کن کاموں میں خرچ کیا جا رہا ہے؟ بھارتی میڈیا رپورٹس اور کمپنی کے بیانات کامطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کم سے کم پانچ چینی کمپنیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے پی ایم کیئرس فنڈ میں چندہ دیا ہے یا دیں گے۔چندےکی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ چینی نیٹ ورکنگ اور ٹیلی کام کمپنی ہواوےنے بھی فنڈ میں سات کروڑ روپے دینے کو کہا تھا۔ قبل میں ایسی کئی رپورٹس آئی ہیں جو یہ دکھاتی ہیں کہ ہواوے چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ چینی موبائل فون کمپنی شاؤمی، جس نے حال ہی میں یہ بتایا ہے کہ وہ ہندوستان میں فون بناتی ہے، اس نے کہا کہ اس نے پی ایم کیئرس فنڈ اورملک بھر کے مختلف وزرائے اعلی ریلیف فنڈز کو 10 کروڑ روپے دیے تھے۔ دو دیگر چینی موبائل فون برانڈ (اوپو اور ون پلس) جو کہ ایک ہی کمپنی کے ہیں، اس نے بھی وزیراعظم مودی کے پی ایم کیئرس فنڈ میں ایک ایک کروڑ روپے کاچندہ دیا ہے۔جیسا کہ نیچے دےگئےٹیبل میں دکھایا گیا ہے کہ تین مشہور ہندوستانی کمپنیاں، جس میں بہت زیادہ چینی سرمایہ نہیں ہے، انہوں نے بھی فنڈ میں چندہ دیا ہے۔ پی ایم کیئرس فنڈ میں چندہ دینے کے زیادہ تراعلانات اپریل 2020 میں کیے گئے تھے۔ اس کے کچھ ہی ہفتوں بعد چین اور ہندوستان کے بیچ حالات کشیدہ ہونے کی خبریں آئی تھیں۔

پاک بھارت سفارتی تعلقات آج تاریخ کی کم ترین سطح پر آجائیں گے
بھارتی مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور دنیا کی تاریخ کے بد ترین لاک ڈاون کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات آج تاریخ کی کم ترین سطح پر آجائیں گے جب بھارتی حکومت کے فیصلے کے مطابق نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے 140 کے قریب سفارتکاروں اور افسروں کی پاکستان واپسی ہو جائے گی۔ فیصلوں کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کےسفارتی عملے کے 8 ارکان سمیت 38 ملازمین پاکستان سے واپس بھارت روانہ ہو جائیں گے۔ دونوں ملکوں کے ہائی کمیشن کے ان افراد کی واپسی کے لئے لاہور کے قریب واہگہ اٹاری بارڈر خصوصی طور پر کھولا جائے گا۔ بھارتی سفارتی عملہ کرائے کی گاڑیوں میں سوار ہو گا اور واہگہ بارڈر پر رکے بغیر انہی گاڑیوں میں سرحد عبور کرے گا جب کہ یہی گاڑیاں عملے کو امرتسر ہوائی اڈے پر چھوڑ کر واپس لاہور پہنچیں گی۔ یہاں اہم امر یہ ہے کہ بھارتی سفارتی ملازمین اور عملہ کے ارکان کی اکثریت بھارتی خفیہ اداروں سے تعلق رکھتی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ سے ان کا براہ راست تعلق ثابت بھی ہو چکا ہے۔ مختلف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مظلوم عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے بھارتی عملے کی بھارت واپسی وقت کی اہم ضرورت تھی۔

بھارتی شہریوں کی وطن واپسی دوبارہ موخر
بھارت میں مسلسل لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث پاکستان میں پھنسے ہوئے 300 کے قریب بھارتی شہریوں کی بھارت واپسی کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں۔ بھارتی ہائی کمیشن کی ایک سینئر افسر نے بھارتی شہریوں کی اسی ہفتے واپسی کی نوید سنادی تھی تاہم اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جب کہ ابھی ان شہریوں کی واپسی کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ترجمان نے جنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت واپس جانے والے شہری بھارت کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ابھی مختلف شہروں میں لاک ڈاون ختم نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ جب تیاریاں مکمل ہو جائیں گی تو اس کے بعد پاکستانی دفتر خاجہ کو بھی مطلع کردیا جائے گا جو اپنا پروسیجر 5 ورکنگ دنوں میں مکمل کرنے کے بعد ہائی کمیشن کے حکام کو مطلع کریں گے جس کے بعد بھارتی شہری اپنے وطن روانہ ہو سکیں گے۔

300 بھارتی شہریوں کے لئے خوش خبری
بالآخر بھارت کو پاکستان میں پھنسے ہوے اپنے شہریوں پر ترس آہی گیا. بھارت نے لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحد بند ہونے کے باعث پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود 300 کے قریب بھارتی شہریوں کوہفتہ کے روز اپنے وطن جانے کی اجازت دے دی. ہفتہ کے روز پاک بھارت واہگہ اٹاری سرحد ایک بار پھر خصوصی طور پر کھولی جا رہی ہے جہاں سے 300 بھارتی شہری اپنے ملک روانہ ہوں گے. ان شہریوں میں پاکستان میں زیر تعلیم 80 کے قریب کشمیری شہری بھی شامل ہیں جو لاہور کی مختلف تعلیمی درس گاہوں میں زیر تعلیم ہیں. اس کے علاوہ 10 بھارتی شہری اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں جب 12 ننکانہ صاحب میں اپنے عزیزواقارب کے ہمراہ رہ رہے ہیں . باقی دو سو کے قریب بھارتی شہری کراچی اور سندہ کے مختلف شہروں میں موجود ہیں. یہ تمام شہری کورونا وائرس کی وجہ سے بھارت میں لاک ڈاون اور پاک بھارت سرضدیں بند ہونے وجہ سے پاکستان میں پھنس گئے تھے جنہوں نے کئی مرتبہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے اپنے وطن واپسی کے لئے رابطہ کیا لیکن بھارت نے نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہیں بھارت جانے کی اجازت نہیں دی. اس وقت بھارت نے اپنے 300 شہریوں سے انڈر ٹیکنگ فارمز پر دستخط کروائے ہیں جس کے بعد انہیں بھارت جانے کی اجازت دی جارہی ہے. پاکستانی حکام نے بھارت کے ان تمام شہریوں کو بحفاطت واہگہ بارڈر پہنچانے کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں جب کہ بھارتی شہری جمعہ کی رات تک لاہور پہنچ جائیں گے جہاں سے وہ ہفتہ کی صبح واہگہ بارڈر کے راستے اپنے ملک روانہ ہو جائیں گے.








