Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی صدر   کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    امریکی صدر کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران طویل عرصے سے میڈیا مینپولیشن اور جھوٹی معلومات پھیلانے میں ماہر ہے،

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران عسکری طور پر کمزور ہے مگر فیک نیوز میڈیا کو جھوٹی معلومات فراہم کرنے میں مہارت رکھتا ہے،ایران اے آئی کو نئی پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، سمندر میں امریکی جہازوں پر حملوں کے نام پر دکھائی جانے والی “کامی کازے بوٹس” جعلی ہیں، امریکی ری فیولنگ طیاروں کی تباہی سے متعلق رپورٹس غلط ہیں، تمام طیارے تقریباً مکمل طور پر سروس میں ہیں، آگ میں جلتے امریکی جہازوں اور عمارتوں کی تصاویر اے آئی سے بنائی گئی فیک نیوز ہیں، طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln (CVN‑72) کے جلنے کی خبریں مکمل طور پر جھوٹ ہیں،ایران اور فیک نیوز میڈیا مل کر جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں،جھوٹی معلومات پھیلانے والے میڈیا اداروں پر غداری کے الزامات لگنے چاہئیں،ایران میدان جنگ میں شکست کھا رہا ہے اور صرف اے آئی کے ذریعے پروپیگنڈا کی جنگ جیتنے کی کوشش کر رہا ہے، بائیں بازو کا میڈیا جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے، امریکی میڈیا کی ساکھ کمزور ہو چکی ہے اور عوامی اعتماد کم ہے،حکومتی اہلکار Brendan Carr میڈیا اداروں کے لائسنس کا جائزہ لے رہے ہیں، کچھ میڈیا ادارے مفت امریکی ایئر ویوز استعمال کر کے جھوٹ پھیلا رہے ہیں

  • بغداد ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، پانچ افراد زخمی

    بغداد ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، پانچ افراد زخمی

    بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق حملے میں ایئرپورٹ سیکیورٹی کے چار اہلکار اور ایک انجینئر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔عراقی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد راکٹ اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ دو سیکیورٹی عہدیداروں کے مطابق حملے کا اصل ہدف ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک سابق امریکی فوجی اڈہ تھا، جو اگرچہ اب فعال فوجی اڈہ نہیں ہے تاہم اب بھی امریکی آپریشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے "سنگین خطرہ” موجود ہے، جس کے باعث امریکی شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور جلد از جلد عراق سے نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق بغداد ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پراکسی جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف عراق بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    دولتالہ کے قریب ہولناک واقعہ گھر میں گیس بھرنے سے دھماکہ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جھلس گئے حالت تشویشناک
    قیامت خیز دھماکہ میں 24 سالہ دوشیزہ ملبے تلے دب کر جاں بحق، متاثرین کھاریاں برن سینٹر منتقل علاقے کی فضا سوگ

    گوجرخان (قمرشہزاد) موضع ٹھاکرہ داخلی نڑالی میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے زوردار دھماکے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 4 مکانات زمین بوس ہو گئے، ایک نوجوان خاتون جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 4 افراد شدید جھلس گئے۔

    تقریباً چھ بجے جب علاقہ مکین محوِ خواب تھے، موضع ٹھاکرہ میں گیس لیکیج کے باعث اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے طالب، فیصل، احمد اور صوبیدار ریاست کے مکانات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ واقعے میں باوا حمد کی 24 سالہ بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جبکہ فیصل کی اہلیہ اور اس کے تین معصوم بچے آگ کے شعلوں کی زد میں آکر بری طرح جھلس گئے۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جبکہ واقعے کی اطلاع پر ریسکیو کی امدادی ٹیمیں فوری جائے حادثہ پہنچیں اور زخمیوں کو کھاریاں برن سینٹر منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ کمرے میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔ ہولناک دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہے۔

  • گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    عبید علی ملک کی درخواست پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور اے سی گوجرخان کا ایکشن، تحقیقات شروع
    جعلسازی ثابت ہونے پر رجسٹری منسوخ اور ملوث افراد کو جیل بھیجیں گے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی جائیدادیں ہتھیانے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ موضع بھگانہ کے رہائشی عبید علی ملک نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو تحریری درخواست دے دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحصیل آفس کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ان کی آبائی زمین کی جعلی رجسٹری کروائی گئی ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق، مذکورہ پارٹی کے پاس زمین کا کوئی ملکیتی ثبوت، فرد یا قبضہ موجود نہیں، اس کے باوجود ملی بھگت سے کاغذات تیار کیے گئے۔ متعلقہ پٹواری نے بھی اس حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹری پر اس کے دستخط یا مہر موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور معاملے کی باریک بینی سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر رجسٹری جعلی ثابت ہوئی تو اسے فوری منسوخ کر دیا جائے گا اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کچہری میں متحرک اس جعل ساز گروہ کا قلع قمع کیا جائے جو سادہ لوح شہریوں کی جائیدادیں ہتھیا کر انہیں فروخت کرنے کے دھندے میں مصروف ہے، تاکہ لوگ اپنی جمع پونجی اور چھت سے محروم نہ ہوں۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سمیت دنیا بھر سے مدد کی جو اپیل کی تھی اس پر دنیا بھر سے خاموش ردعمل سامنے آیا ہے اور اب تک کسی ایک ملک نے بھی ٹرمپ کی اپیل پر خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔

    امریکا کے معاشی اتحادی جاپان نےبھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے،جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف نے کہا کہ خطے میں بہت بڑی دہلیز پار ہوئی تبھی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکیں گے،چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش ہوگیا،ادھر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔

    امریکی وزیر توانائی نے بھی چین سے امداد مانگ لی۔ کرس رائٹ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین آبنائے ہرمز کھلوانے میں تعمیری شراکت دار کا کردار ادا کرے گا۔برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے ہم بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرون بھیج دیں۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں،واضح رہے کہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایک ہزار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق ان جہازوں میں 20 تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں، آبنائے ہُرمُز دنیا بھر میں تیل کی فراہمی کرنے والے ٹینکروں کی گزرگاہ بھی ہے۔

  • خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس کی حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کی خراب حالت میں واپسی کی خبروں نے عالمی میڈیا اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے جدید جنگ میں طیارہ بردار جہازوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق خلیج فارس میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ طیارہ بردار جہازوں کا روایتی دور شاید اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی اور جدید دفاعی صلاحیتوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طیارہ بردار جہاز اب ناقابلِ تسخیر قلعے نہیں رہے بلکہ بڑے اور مہنگے اہداف بن سکتے ہیں۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے ایک “قومی صدمہ” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کے اس بحری جہاز کے چند ہی لمحوں میں غیر مؤثر ہونے کے دعووں نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں سخت سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس حالت میں جہاز کی امریکہ واپسی کو بعض تجزیہ کار ویتنام جنگ کے بعد امریکی فوجی ساکھ کو لگنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

    روسی خبر رساں ادارے ے اپنے تجزیے میں لکھا کہ “ایک زمانے میں سمندری طاقت کی علامت سمجھا جانے والا یہ جہاز اب اپنی پرانی حیثیت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔” رپورٹ میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جو جہاز خطے کو دھمکانے آیا تھا وہ اب “پانی میں تیرتے ملبے” جیسی حالت میں واپس جا رہا ہے۔

    اسی طرح فرانسیسی خبر ایجنسی Agence France-Presse نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ دفاع میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی واپسی سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں جھکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی اتحادی ممالک میں بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر امریکہ کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھی اپنے دفاع میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو خطے میں امریکی تحفظ کی ضمانت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اس صورتحال کو مغربی بحری بالادستی کے لیے ایک علامتی دھچکا قرار دیا۔ اخبار کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو تاریخ میں اسے وہ لمحہ سمجھا جا سکتا ہے جب مغربی بحری طاقت کی روایتی برتری کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج ملا۔

    مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں یہ واقعہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اسٹریٹجک مقابلے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

  • فیکٹ چیک، افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد قرار

    فیکٹ چیک، افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد قرار

    وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے نام نہاد نائب ترجمان کی طرف سے لگائے گئے الزامات حقیقت کے منافی اور گمراہ کن ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ دعویٰ دراصل افغان طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے اور اپنے ہی عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔حکومتی بیان میں کہا گیا کہ 15 مارچ 2026 کو تقریباً سہ پہر ساڑھے تین بجے افغان طالبان حکومت نے جان بوجھ کر خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے سالرزئی علاقے کے گاؤں تابستہ لیٹائی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں چار بے گناہ شہری شہید جبکہ پانچ سالہ ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے بارے میں ہمیشہ عوام کو شفاف اور بروقت آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان کے شہر قندھار میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں، بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی آلات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جنہیں افغان طالبان حکومت کا “ماسٹر دہشت گرد پراکسی” قرار دیا گیا۔ ان کارروائیوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان جھوٹے، پرانے یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز پر انحصار نہیں کرتا۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے بار بار جھوٹے دعوے اور جعلی معلومات پھیلانے سے ان کی ساکھ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی متاثر ہو رہی ہے۔حکومت پاکستان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ “سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔”

  • پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ، پاکستان کا قیام ماہ رمضان میں 27 ویں کی شب ہوا تھا اب ماہ رمضان میں پاکستان کا کردار عالمی دنیا میں اہم ہو چکا ہے۔ حکمران کلمہ کے پاکستان کی لاج رکھیں اور غریب عوام کو ریلیف دیں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    اس موقع پر مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم ،صدر وسطی پنجاب چوہدری حمید الحسن ،سیکرٹری جنرل فیصل آباد محمد احسن تارڑ ،ترجمان پنجاب احمد اجمل نے بھی خطاب کیا۔ خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان رب کا انعام ہے۔ مئی کی جنگ کے بعد اب مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کا کردار مزید نکھر کر سامنے آیا ہے ۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مابین مفاہمت کی پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے پاکستان مضبوط ہو گا تو امت مضبوط ہو گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کا سوچیں۔ فاتح پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے ۔ افغانستان رحیم کی جانب سے ڈرون حملے قابل مذمت ، پاکستان کی مسلح افواج نے بروقت جواب دے کر ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط و مستحکم ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے دفاع و استحکام کے لئے قوم کو متحد و بیدار کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے گی۔ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج ، انکے سہولت کاروں کی شکست یقینی ہے،مرکزی ترجمان تابش قیوم و دیگر نے صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں مثبت اور ذمہ دارانہ صحافت کی اہمیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی عوامی مسائل اجاگر کرنے اور معاشرے میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • یو اے ای کے فجیرہ پورٹ پر ڈرون انٹرسیپٹ، اردنی شہری زخمی

    یو اے ای کے فجیرہ پورٹ پر ڈرون انٹرسیپٹ، اردنی شہری زخمی

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون کے اوپر ایک ڈرون کی "کامیاب انٹرسیپشن” کے بعد گرنے والے ملبے کی وجہ سے لگنے والی آگ کو بجھانے کی کوششیں جاری ہیں،

    نیو یارک پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اوپر سے گاڑھا سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے جب فوجیرہ کی بندرگاہ پر آگ بھڑک اٹھی -متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے ہفتے کے روز ایران سے داغے گئے 9 بیلسٹک میزائل اور 33 ڈرون مار گرائے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، لیکن افراتفری کے درمیان تیل لوڈ کرنے کے کچھ آپریشن رک گئے۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک اردنی شہری معمولی زخمی ہوا ہے۔فجیرہ پورٹ خطے کا ایک اہم مرکز ہے جہاں روزانہ 1.7 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل اور ریفائنڈ فیول برآمد کیے جاتے ہیں۔ایران نے اس حملے کے جواب میں کہا ہے کہ یو اے ای میں امریکی مفادات، بشمول بندرگاہیں، جائز فوجی اہداف ہیں۔

  • مالدیپ میں شادی کا سفر بن گیا ہنی مون ڈیزاسٹر،پروازیں منسوخ،جوڑا پریشان

    مالدیپ میں شادی کا سفر بن گیا ہنی مون ڈیزاسٹر،پروازیں منسوخ،جوڑا پریشان

    مالدیپ کے مالے ویلانا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 22 فروری کو جنوبی افریقہ کے جوڑے سیمونا مسو اور ڈین شیپرز کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ یہ جوڑا، جو ایمسٹرڈیم میں رہائش پذیر ہے، مالدیپ کے سفر پر اپنی شادی کی تقریب کے لیے آیا تھا، جو بعد میں اس موسم گرما میں کورٹ ہاؤس میں ہونے والی رسمی شادی کی پیش رفت تھی۔

    سیمونا مسو نے سی این این ٹریول کو بتایا، "ہم بلکل خوشیوں کے بادلوں میں تھے۔ ہوائی اڈے سے سیدھا سیپلین کے ذریعے ریزورٹ پہنچایا گیا، جہاں ہمارا شاندار استقبال کیا گیا۔”ایک ہفتہ بعد، جب جوڑا واپس مالے پہنچا، تو خوشی کی جگہ پریشانی نے لے لی۔ ان کی اور دنیا بھر میں ہزاروں مسافروں کی پروازیں 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد منسوخ ہو گئیں۔ڈین شیپرز نے بتایا، "ہوائی اڈے پر ہر کوئی بالکل تھکا ہوا اور پریشان نظر آ رہا تھا، جیسے کسی نے ابھی چھٹی ختم کی ہو۔”

    اس تصادم کے دو ہفتے بعد بھی، عالمی ہوائی سفر شدید متاثر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں 52,000 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس سے تقریباً چھ ملین مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دبئی، ابو ظہبی اور ریاض کے قریبی کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جزوی طور پر فعال ہیں۔سیمونا اور ڈین کی پروازیں پانچ مرتبہ شیڈول ہونے کے بعد منسوخ ہوئیں، جس سے ان کا مہنگا اور شاندار ہنی مون تقریباً تین ہفتے طویل ہو گیا۔ جوڑے نے روزانہ آن لائن اور ایئر لائن کسٹمر سروس کے ذریعے متبادل پروازوں کی کوشش کی، لیکن زیادہ تر آپشنز مہنگے یا غیر معقول تھے، بعض رستے 56 گھنٹے طویل تھے۔شروع میں ریزورٹ نے متاثرہ مہمانوں کے لیے 50 فیصد رعایت دی، لیکن جوڑے کو طویل قیام کے لیے مزید سستے اختیارات تلاش کرنے پڑے۔ آخرکار انہوں نے ماافوشی جزیرے پر رہائش اختیار کی، جہاں انہیں متعدد ہوٹلوں میں رہنے کے بعد ایک "آرام دہ، صاف” بیچ فرنٹ ہوٹل ملا۔

    سیمونا اور ڈین نے دوسرے پھنسے ہوئے مسافروں سے تعلق قائم کیا، معلومات کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔ سیمونا نے کہا، "ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں، ‘آپ واپس کیسے جا رہے ہیں؟’ اور پھر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔”آخرکار، دو ہفتے بعد، ڈچ خاندان کی مدد سے انہوں نے سعودی ایئر لائن کی دو نشستیں بک کرائیں، جس سے ان کی واپسی کا امکان پیدا ہوا۔ سیمونا نے کہا، "میں محتاط پرامید ہوں۔ ہم کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ جنت سے نکل کر گھر پہنچ سکیں۔”

    مالدیپ کا یہ سفر جو شروعات میں خوشیوں بھرا تھا، عالمی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ایک "طویل ہنی مون ڈیزاسٹر” میں تبدیل ہو گیا، لیکن جوڑے کی ثابت قدمی اور مثبت سوچ نے انہیں مشکلات کے باوجود امید کے ساتھ واپسی کی جانب گامزن رکھا۔