Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلدیاتی انتخابات ،لیبر پارٹی وہ گئی، شدید سیاسی بحران کا سامنا

    بلدیاتی انتخابات ،لیبر پارٹی وہ گئی، شدید سیاسی بحران کا سامنا

    برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے، جبکہ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر پر مستعفی ہونے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں لیبر پارٹی کو کئی اہم علاقوں میں غیر متوقع نقصان اٹھانا پڑا، خاص طور پر ان حلقوں میں جو طویل عرصے سے پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ انگلینڈ کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں لیبر پارٹی کو بھاری نقصان، ریفارم 1350 سے زائد سیٹیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر ہے،انتخابی نتائج کے مطابق لیبر پارٹی انگلینڈ میں 868 سیٹوں کے سا تھ دوسرے نمبر ہے، جبکہ ریفارم یوکے نے شمالی انگلینڈ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں،ہارٹل پول میں ریفارم یوکے نے تمام 12 نشستیں جیت لیں، میڈیا رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر کی قیادت پر مزید سوال اٹھ گئے ہیں،لیبر کے کئی مضبوط گڑھ ریفارم یوکے کے ہاتھوں سے نکل گئے، جوناتھن بریش نے کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کردیا،ہیلٹن میں ریفارم یوکے نے 15 نشستیں اپنے نام کرلیں، Wigan میں لیبر کو بیس نشستوں کا نقصان ہوا، جبکہ ریفارم کو 23 نشستیں مل گئیں۔

    بلدیاتی انتخابات کے بعد ریفارم یوکے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ، ٹریڈ یونین رہنما اور سینئر شخصیات پارٹی قیادت میں تبدیلی پر کھل کر بحث کر رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی نے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ادھر ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ کیئر اسٹارمر بدستور وزیرِ اعظم رہیں گے اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق حکومت عوامی مسائل کے حل اور معاشی استحکام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

  • چین کا نیا J-35AE اسٹیلتھ فائٹر،پاکستان ممکنہ پہلاخریدار

    چین کا نیا J-35AE اسٹیلتھ فائٹر،پاکستان ممکنہ پہلاخریدار

    چین نے ایک ایسا اسٹیلتھ فائٹر تیار کیا ہے جو صرف اپنی افواج کے لیے نہیں بلکہ ان غیر ملکی خریداروں کے لیے بھی ہے جو مغربی جنگی طیاروں کے مقابلے میں سستا متبادل چاہتے ہیں۔ یہ طیارہ پانچویں نسل کے J-35 ملٹی رول اسٹیلتھ فائٹر کا ایک برآمدی (ایکسپورٹ) ورژن ہے، جسے اب امریکی ساختہ F-35 لائٹننگ II کے براہِ راست حریف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس کا پہلا ممکنہ خریدار بن سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت ایک اہم وقت پر سامنے آئی ہے، تقریباً ایک سال بعد جب آپریشن سندور کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید فضائی جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں۔اس سے پہلے J-35A کی جھلک صرف پیرس ایئر شو میں ایک ماڈل کی صورت میں دیکھی گئی تھی، لیکن نئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب پروٹوٹائپ مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ چینی سرکاری ٹی وی چینل نے حال ہی میں ایک مکمل تیار شدہ طیارے (سیریل نمبر 001) کی ویڈیو نشر کی، جو “2026 یومِ مزدور خصوصی پروگرام” کے دوران ہینگر سے باہر آتا دکھایا گیا۔

    اس طیارے پر چینی فضائیہ کے نشانات کے بجائے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا کی برانڈنگ موجود تھی، جو اس کے برآمدی کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب مکمل جنگی صلاحیت رکھنے والا برآمدی ورژن، جسے J-35AE کہا جا رہا ہے، عوام کے سامنے مکمل شکل میں پیش کیا گیا ہے۔J-35 پروگرام چین کی جانب سے J-20 کے بعد پانچویں نسل کا دوسرا اسٹیلتھ فائٹر متعارف کرانے کی کوشش ہے۔ اسے شینیانگ ایئرکرافٹ کارپوریشن نے تیار کیا ہے، جس میں دو انجن، اندرونی ہتھیار رکھنے کی صلاحیت، اور جدید ریڈار و انفراریڈ سسٹمز شامل ہیں۔

    زمین سے آپریٹ ہونے والا J-35A پہلی بار نومبر 2024 میں ژوہائی ایئر شو میں پیش کیا گیا تھا، جو پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ بنیادی J-35 ورژن بحریہ کے لیے طیارہ بردار جہازوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ فوج پہلے ہی J-35 فیملی کے 57 طیارے استعمال کر رہی ہے۔برآمدی ورژن J-35AE کی کارکردگی مقامی ورژن جیسی ہونے کی توقع ہے، اگرچہ چین نے اس کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ رپورٹس کے مطابق اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً Mach 1.8 ہے اور یہ AESA ریڈار سے لیس ہے جو بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اسلحے کے لحاظ سے یہ طیارہ اندرونی خانوں میں PL-15 جیسے ایئر ٹو ایئر میزائل لے جا سکتا ہے تاکہ اسٹیلتھ صلاحیت برقرار رہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر بیرونی ہتھیار بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں جدید ٹارگٹنگ ٹیکنالوجی، بشمول الیکٹرو آپٹیکل سسٹم، بھی شامل ہے جو لڑائی میں درستگی اور بقا کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

    چین کئی برسوں سے J-35 کو F-35 کے سستے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس کی قیمت 35 سے 80 ملین ڈالر فی طیارہ بتائی جاتی ہے۔ پیداوار کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے گئے ہیں، جن کے مطابق ہر 72 گھنٹوں میں ایک نیا طیارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ چین کا دعویٰ ہے کہ کئی ممالک اس طیارے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ معاہدہ نہیں کیا۔ تاہم J-35AE کی نمائش کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے، اور رپورٹس کے مطابق پاکستان اس کا سب سے مضبوط امیدوار ہے۔اسلام آباد کی جانب سے اشارے ملے جلے مگر مسلسل رہے ہیں۔ 2024 کے اوائل میں پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر صدیقو نے اس طیارے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جبکہ سال کے آخر تک 40 طیاروں کی خریداری کی منظوری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ 2025 میں پاکستانی پائلٹس کی چین میں تربیت کی رپورٹس بھی آئیں، اور بعد ازاں اعلان کیا گیا کہ آئندہ دو سال میں J-35A کو فضائیہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    چین کی جانب سے مکمل برآمدی ماڈل کی نمائش اور تربیت کے عمل کے آغاز کے بعد پاکستان اب بھی سب سے آگے نظر آتا ہے۔ اگر معاہدہ طے پا گیا تو اس میں 40 تک طیارے اور اضافی اثاثے، جیسے KJ-500 ائیر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیارے، شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ ترسیل کا آغاز 2026 کے آخر یا 2027 میں متوقع ہے.

  • وائٹ ہاؤس سے برتن غائب ہونے کا انکشاف

    وائٹ ہاؤس سے برتن غائب ہونے کا انکشاف

    امریکا کے صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس میں قیمتی کٹلری اور کھانے کے برتنوں کی مسلسل گمشدگی نے انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے چیف بٹلر ایڈون پی مارکھم کی جانب سے جاری کیے گئے ایک داخلی میمو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں چمچ، کانٹے، چھریاں اور دیگر اشیا لاپتا ہو چکی ہیں۔

    یکم مئی 2026 کو جاری کیے گئے میمو کے مطابق 29 اپریل کو ہونے والی انوینٹری میں معلوم ہوا کہ تقریباً 10 فیصد مجاز اشیا اپنی جگہ سے غائب ہیں اور ان کا سراغ نہیں مل سکا۔میمو میں بتایا گیا کہ 148 ڈنر فورکس، 96 سلاد فورکس، 119 چائے کے چمچ، 84 ڈنر نائف، 63 بٹر نائف اور متعدد قیمتی سلور سرونگ آئٹمز لاپتا ہیں۔ اس کے علاوہ کافی کپ، ساسرز، وائن گوبلٹس اور شیمپین فلُوٹس بھی غائب پائے گئے۔انتظامیہ کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال سلاد فورکس کی ہے، جو دو مرتبہ مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ ایک موقع پر متبادل ایئر فورس ون سے سلاد فورکس منگوانے پڑے جبکہ دوسری بار مقامی اسٹور سے پلاسٹک فورکس خرید کر کام چلایا گیا۔

    میمو میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ اشیا کو یادگار کے طور پر جیب میں ڈالا جا رہا ہے، غلطی سے ذاتی درازوں میں منتقل کیا جا رہا ہے یا کچھ افراد نے “عوامی خدمت” کو “مفت گھریلو سامان” سمجھ لیا ہے۔وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے تمام عملے کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر کسی بھی غیر واضح کمی کی رپورٹ کریں، برتنوں کو منظور شدہ مقامات سے باہر نہ لے جائیں اور اگر کسی کے پاس وائٹ ہاؤس کی کوئی چیز موجود ہے تو اسے واپس کر دیا جائے۔میمو کے اختتام پر سخت الفاظ میں کہا گیا کہ “یہ سب اب فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔”

  • ایران نے خلیج فارس میں “اوشین کوئی”  نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا

    ایران نے خلیج فارس میں “اوشین کوئی” نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا

    ایران نے خلیج فارس میں “اوشین کوئی” نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق قانونی بل بھی تیار کر لیا گیا ہے جسے اوپن سیشن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی بحریہ نے خصوصی آپریشن کرتے ہوئے آئل ٹینکر “اوشین کوئی” کو اپنی تحویل میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی تیل برآمدات اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے ردعمل میں کی گئی۔ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھا جو ایرانی اقتصادی مفادات کے خلاف سمجھی جا رہی تھیں، اسی بنیاد پر اسے قبضے میں لیا گیا۔دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے، جس میں ایرانی بحریہ کے اہلکاروں کو کارروائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل منڈی پر اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ یہ بحری گزرگاہ دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    وطن عزیز پاکستان اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز و محور ہے۔ہمارے ملک کی قومی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد اور یک جہتی کی بدولت ایک سال کے اندر پاکستان کو وہ اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل حاصل نہیں تھا۔پاکستان "معرکہء حق” میں دنیا کے سامنے اپنی حکمت عملی ، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری طاقت کے جوہر دکھا چکا ہے ۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی سرکار نے انتہا پسند ” ہندوتوا” کےزیر اثر ،اپنے تئیں ریاست پاکستان کو غافل سمجھ کر حملہ کردیا ،شہری آبادیوں میں ڈرون بھیجے گئے اور لڑائی کا ماحول بنادیا۔ بھارت کا دفاعی بجٹ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن پھر بھی پاکستان اپنے دشمن کے خلاف چوکنا تھا چنانچہ ساری قوم سبز ہلالی پرچم تلے متحد ، یک جان ہوکر ” بنیان مرصوص ” ( سیسہ پلائی دیوار) بن گئی ۔شہریوں نے بھی اپنے ہتھیار نکالے اور فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر حملہ آور ڈرون گرانے لگے۔ پاک فورسز نے بھارت کا 400-S دفاعی نظام بھی اڑا کے رکھ دیا ۔ دشمن کے سات طیارے مار گراۓ بلکہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے اندر جاکے گجرات اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا۔پاکستانی سوشل میڈیا واریئرز اور لکھاریوں نے اپنے قلم اور کی بورڈز کے ساتھ دفاع پاکستان کے بیانیے کی جنگ لڑی اور اپنی حب الوطنی ، دلیری و مضبوط مؤقف کو دنیا کے سامنے ثابت بھی کر دکھایا،آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں نے سائبر فورس کے طور پر مورچہ سنبھالا اور بھارت کے سائبر سسٹم کو ہیک کرلیا۔ جب فرانس سے خریدے گئے طیاروں رافیل کو پاکستانی پائلٹوں نے بفضلِ الہی مار گرایا تو پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، پاکستانی پائلٹوں کو ” کنگز آف دا سکائیز ” کا لقب دیا گیااور بھارتی وزیراعظم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کرکے جنگ رکوانا پڑی۔

    بھارت کے ” آپریشن سیندور” کو پاکستان کے ” معرکہء حق” نے ” آپریشن تندور” میں بدل دیا ۔ بھارت کو یہ شکست ہضم کرنا مشکل ہوگئی کیوں کہ پوری دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے جب بیان دیا کہ دریاؤں میں پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے تو ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت جواب دیا کہ اگر تم ہمارا پانی بند کروگے تو ہم تمہارا سانس بند کردیں گے!۔ مؤثر حکمت عملی سےعالمی سطح پر پاکستان کا نہ صرف وقار بلند ہوا ہے بلکہ دیگر ممالک پاکستان سے جنگ سیکھنے کی درخواست کر رہے ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر وزراء کے ساتھ مسلمان برادر ممالک کے کئی دورے کیے ہیں ،سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا دفاعی معاہدہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ” محافظ _حرمین شریفین” کے اعلی مقام کے لئے چن لیا ہے۔

    ‏ بھارتی وزیراعظم مودی کا بیان ہے کہ آپریشن سندور بند نہیں ہوا ۔ممکنہ طور پر وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں ہے ۔بھارتی جنگ تین اقسام کی ہوسکتی ہے
    1: نفسیاتی و اعصابی جنگ، سفارتی سطح پر لابنگ یا پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن وغیرہ-
    2: دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے قومی اداروں، فوج اور عوام پر حملے ،دھماکے یا خودکش حملے کروانا-
    3: غلط خبروں ، فیک پروپیگنڈہ اور کردار کشی کی میڈیا وار کے ذریعے بحران برپا کرنا-
    ان حالات میں پاکستانی عوام کو دشمن کی پراکسیز سے ہوشیار رہنے ،حالات حاضرہ سے باخبر رہنے اور اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی برقرار کی ضرورت ہے۔ سنی سنائی باتوں ،افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈہ سے اپنا دامن بچانا ہوگا تاکہ بے خبری میں کسی اپنے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔

    آج سے 78 برس قبل ہمارے آباؤ اجداد نے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے کتنے دریا عبور کئے اور پھر کہیں جا کر وہ اس قابل ہوۓ کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ،اپنے بچوں کو آزاد فضا اور زمین دلا سکیں -ہم نے اپنے رب سے مانگا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین عطا کر جہاں ہم اپنے دین اور اپنے تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں اور رب نے ہمیں وہ خطہ عطا کردیا !

    الحمدللہ،وطن عزیز پاکستان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تحفۂ خاص ہے بہترین زرخیز زمین ،بہترین آب و ہوا،بہترین موسم ،بہترین انسانی وسائل ،بہترین سمندری بندرگاہیں،بلند ترین پہاڑی چوٹیاں ،ہیرے جواہرات اور معدنی ذخائر سے مالا مال پہاڑ ۔اللہ نے ہم پہ اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں ، کمی اگر ہے تو ہماری کوششوں میں ہے کہ ہم نے اپنے وطن کو جس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا ،اس مقصد کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مقصد وطن عزیز پاکستان کو ایک "جدید اسلامی فلاحی ریاست” بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ عدالتیں اپنے فیصلے قرآن وسنت کے مطابق کریں۔ جہاں غریب طبقہ بھی خوش حال ہوسکے ۔جہاں امن وامان قائم ہو ،جہاں کسی کمزور کو کسی طاقت ور سے خطرہ لاحق نہ ہو ۔جہاں معاشرہ خدا خوفی اور انسانی ہمدردی کی اقدار پر چلتا ہو۔جہاں بچوں اور جوانوں کے لئے تعلیم کا حصول ممکن ہو ،جہاں بزرگوں کو سینئیر سیٹیزن وظیفہ ملتا ہو اور انھیں پنشن گھر بیٹھے مل جایا کرے۔ ہسپتالوں میں ہر عام وخاص کو علاج معالجہ کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔یہ تاریخ ساز لمحات ہیں کہ چند سال قبل تک ہمیں ایک ناکام ریاست سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ وطن دنیا بھر کی آنکھ کا تارا بن چکا ہے۔ "پاکستان کو امن کے سفیر” کے طور پر سراہا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا امیج برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کی حالتِ زار پر بھی توجہ دی جائے ،مہنگائی ختم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں،آئی ایم ایف سے قرضے معاف کروائے جائیں ۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز ہمیشہ سلامت رہے اور عالم_اسلام کے دکھوں کا مداوا بھی کرسکے۔آمین۔

    ~ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے!

  • ہم بنیان المرصوص ہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    ہم بنیان المرصوص ہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی چوتھی آیت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
    ’’بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (ایسے) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیانٌ مرصوص) ہوں۔‘‘
    بنیان المرصوص مکمل ضابطہ حیات، عسکری حکمتِ عملی اور ایمانی قوت کا نچوڑ ہے۔ جب اینٹ سے اینٹ جڑتی ہے اور درمیان میں اخلاص کا گارا لگ جاتا ہے تو عمارت کسی بھی طوفان کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی۔ آج کے پرفتن دور میں، معرکہ حق و باطل اپنے پورے جوبن پر ہے، امتِ مسلمہ کے لیے یہ تصور ڈھال بھی ہے اور تلوار بھی ہے ۔

    مسلمان بہت تیزی سے زوال کا شکار ہو چکے ہیں اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمانی نصاب قران مجید کو چھوڑ دیا ہے اور پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔ جب ہم اسے سمجھ کر پڑھیں گے اور زندگی میں نافذ کریں گے تو ہی یہ حالات بدل سکیں گے ۔

    تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے اسٹیج پر خیر اور شر کی جنگ روزِ اول سے جاری ہے۔ ہابیل اور قابیل سے شروع ہونے والا یہ سفر، نمرود و ابراہیمؑ، فرعون و موسیٰؑ اور ابوجہل و حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتا ہوا آج ہم تک پہنچا ہے۔

    ہمارے بزدل دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کر کے ہماری نوجوان نسل کو کہ دکھا دیا کہ تاریخ میں 1965 کے جو واقعات لکھے ہوئے ہیں وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں اور پھر ہماری افواج نے بھی حکمت ، بصیرت و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت جس طرح کھٹے کیے، وہ تادیر اس کو یاد رکھے گا اور دوبارہ امید ہے کہ ایسی حماقت سے باز رہے گا۔ ہمارے سپہ سالار نے صبح کی نماز کے ادائیگی کے بعد نعرہ لگاتے ہوئے جس طرح دشمن کو جواب دیا وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو چکا ہے اور ساتھ ہی دشمن کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    نیز یہ کہ مسلمان دن کی روشنی میں لڑتا ہے۔ بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں حملہ نہیں کرتا۔

    حق کا راستہ ہمیشہ دشوار گزار رہا ہے، لیکن اس کی جیت کا راز مادی وسائل میں نہیں بلکہ اس بنیان المرصوص والی کیفیت میں رہا ہے جہاں افراد اپنی انفرادی حیثیت کو ختم کر کے مقصدِ عظیم کے لیے فنا ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بنیان المرصوص ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی انا، مسلک، نسل اور زبان کے بتوں کو پاش پاش کر کے حق کی بنیاد پر ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس میں کوئی دراڑ ممکن نہیں اور یہی کچھ ہم نے پچھلے برس انہی دنوں میں دیکھا ۔

    کسی بھی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے اجزا ایک دوسرے کو کتنا سہارا دیتے ہیں۔ دشمن ہمیشہ پہلا وار دیوار کی دراڑوں پر کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے بنیان المرصوص کی صفت کو چھوڑا، وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ اندلس اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جب بھائی بھائی کے خلاف غیروں سے مدد لینے لگا۔ سقوطِ بغداد میں علمی تکبر اور داخلی انتشار نے ہلاکو خان کے لیے راستے ہموار کیے۔

    آج کا معرکہ ٹینکوں اور طیاروں کا نہیں بلکہ نظریاتی یلغار کا ہے۔ دشمن ہمیں خانوں میں بانٹ کر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں بنیان المرصوص ہونا یہ ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف دوسرے کا درد بن جائے۔ اگر جسم کے ایک حصے میں کانٹا چبھے تو تڑپ پوری آنکھ میں ہونی چاہیے۔
    ہم بنیان المرصوص اس وقت بنتے ہیں جب ہمارا کردار سچائی کی بنیاد پر استوار ہو۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار تب بنتی ہے جب سیسہ پگھل کر خلا کو بھر دیتا ہے۔

    ہر عمل کی بنیاد اللہ کی رضا ہو۔ صف بستہ ہونا سکھاتا ہے کہ لیڈر کے ایک اشارے پر پوری سپاہ حرکت میں آئے۔ اپنی ضرورت پر دوسرے بھائی کی ضرورت کو ترجیح دی جائے ۔
    آج کے معرکہ حق میں ہماری سرحدیں معیشت، تعلیم، میڈیا اور ہماری نوجوان نسل یہ سب محاذ ہیں۔ اگر ہمارا تاجر دیانتدار ہے، طالب علم محنتی ہے اور سپاہی نڈر ہے تو ہم بحیثیت قوم ایسی دیوار ہیں جسے ابلیسی قوتیں کبھی گرا نہیں سکتیں۔

    موجودہ عالمی حالات میں، جہاں فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور دنیا کے ہر گوشے میں حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں بنیان المرصوص کا نعرہ نئی امید بن کر ابھرتا ہے۔ یہ نعرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں، ہم جسدِ واحد ہیں۔
    ہمارا قبلہ ایک ہے، ہماری کتاب ایک ہے اور ہمارا مقصدِ حیات ایک ہے۔ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی بنیادیں ریت کی طرح ہوتی ہیں۔ حق کے پیچھے الٰہی نصرت ہوتی ہے۔ جب ایمان والے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ابابیلوں کے لشکر اترتے ہیں اور کنکر بھی ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔

    معرکہ حق میں جیت بنیان المرصوص بن کر دکھانے سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر کی دراڑیں بھرنی ہوں گی۔ ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائیت کے زہر کو نکال کر محبت اور یگانگت کا امرت پینا ہوگا۔
    فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    ہم وہ اینٹ بنیں گے جو گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیتی ہے، نہ کہ وہ جو دیوار کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔ ہم وہ سیسہ بنیں گے جو صفوں کے درمیان خلا کو ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ جب ہم ایک ہو جاتے ہیں تو ہم وہ دو دھاری تلوار بن جاتے ہیں جو باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری طاقت ہے اور یہی ہماری فتح کی ضمانت ہے۔

  • ہنگو،100 سے زائد دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام

    ہنگو،100 سے زائد دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام

    خیبرپختونخوا کے شہر ہنگو میں فتنہ الخوارج کے 100 سےزائد دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    پولیس حکام کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں نے فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام بنائی، کامیاب آپریشن کے بعد اسکول، دیگر املاک اور پہاڑی علاقوں کو کلیئر کردیا گیا ۔،پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں کے مارٹر گولے آبادی پر گرنے سے 6 شہری شہید جبکہ 13 زخمی ہوئے ، دہشت گرد اپنے ہلاک ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھا کر فرار ہوئے،فتنہ الخوارج کی جانب سے ہنگو کے علاقے زرگری دوری بنڈہ میں عام شہری آبادی پر مارٹر گولہ فائر کیا گیا،فتنہ الخوارج کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ دورڑی بانڈہ میں سول مارکیٹ پر گر گیا۔

    آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقارحمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہل کاروں کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا،آئی جی ذوالفقارحمید نے کہا کہ خیبر پختو نخوا پولیس فتنہ الخوارج کا مکمل صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، عوام کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

    شہریوں‌کا کہنا ہے کہ ہنگو میں دہشتگردانہ واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے. اس واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو سرعام لٹکایا جائے،

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،
    بےشک اللہ ان مجاہدوں کو دوست رکھتا ہے ،جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

    قرآن مکمل حق ہے ،اس کے الہامی کلام ہونے میں کوئی شک نہیں لہذا اس کی یہ آیت بھی سچ ثابت ہوئی جب جب کفر نے حق پر حملہ کیا تو جیت حق کی ہوئی ۔ مٔئی 2025 میں ہونے والا معرکہ حق وہ معرکہ وہ جنگ جب پاکستان کے ازلی اور بزدل دشمن جس نے آج تک پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم نہیں کیا اپنی بزدلانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملہ کیا تو پاک فوج کا ہر جوان بنیان مرصوص بن کر فجر کے اُجالے میں دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا اور پھر دنیا بھر نے انڈیا کے صرف رافیل طیارے کی نہیں بلکہ اس کی نام نہاد فوجی طاقت کے دعوی اور برتری کے غرور کو آسمان سے زمین پر گرتے دیکھنا بھارت کی دفاعی طاقت کا بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوا ،دنیا بھر میں بھارتی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ بھارت جو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے قومی سلامتی کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا تھا ۔پاکستان کو فروعی ،فرقہ وارانہ علاقائی صوبائی اور سیاسی اختلافات میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس جنگ نے پوری قوم کو ایک کر دیا ۔خیبر سے کراچی تک ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اس معرکہ حق میں صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی دل یک زبان ہو کر دشمن کے سامنے بنیان مرصوص بن کر کھڈی ہو گئی ۔اس وقت قوم کو نہ تو یہ یاد تھا کہ اس کا تعلق کس مذہب فرقے علاقے سیاسی جماعت صوبے یا زبان سے ہے ۔یاد تھا تو صرف یہ کہ ہم صرف ایک قوم ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔اور انڈیا نے ہمیں تر نوالہ اور اپنی زیر قبضہ ریاست سمجھتے ہوئے ہم پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے اس کے لئے اسے ایسا سبق سکھایا جائے کہ آئندہ بھارت کبھی بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہ کرے ۔اسے یہ معلوم ہو جائے کہ ہم ایک آزاد ریاست اور خودمختار قوم ہیں ۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

    جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جاتا ہے ہم امن کے داعی اور علمبردار ہیں۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کا قابل ذکر کردار اور قربانیاں اس کی مثال ہیں ۔لیکن اگر ہم پر جارحیت مسلط کی جائے تو ہم بنیان مرصوص ہیں ۔ہم مومن ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے دوستوں کے لئے جان دیتے ہیں اس دنیا میں اپنے سبز ہلالی پرچم کو اپنے پر امن اقدامات کے ذریعے سربلند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی سرزمین کا تحفظ کرنا جانتے ہیں جو ہمارا اولین فرض ہے ۔ہم اپنی سر زمین نہ تو دوسرے ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور نہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی اور ملک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو ہم حالت امن میں شبنم اور جنگ مسلط ہونے پر آگ ہیں ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

    اس تاریخی معرکہ میں تینوں مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت اور پروفیشنل تربیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔عالمی میڈیا پاکستان کی بہترین دفاعی صلاحیت اور جنگی حکمت عملی کے گن گاتا رہا جس نے چند گھنٹوں میں جنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔قوم کا ہر فرد افواج کے شانہ بشانہ اپنے اپنے محاذ پر لڑی رہے تھے ۔نوجوان ہیکرز نے بھارت کی حساس دفاعی معلومات اور تنصیبات کے سسٹم کو پیک کر کے سائبر سیکیورٹی اور آی ٹی کی فیلڈ میں اپنی دھاک بٹھاتے ہوئے روایتی جنگ کے اصولوں اور طریقوں کو بدل دیا ۔اس جنگ کو فوج اور عوام نے روایتی جوش اور جذبے سے لڑا لیکن جنگ میں غیر روایتی طریقوں کو متعارف کروا کے روایتی جنگ کی تاریخ کو بدلتے ہوئے دفاعی ماہرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا ۔دنیا بھر کی حکومتیں اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی غیر روایتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاک فوج کی تربیت اور مہارت سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے رابطے کیا اس معرکہ حق نے واقعی حق کو فتح یاب کیا۔پاک فوج اور عوام نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و برکت سے دشمن کو شکست فاش دی ۔انڈیا اب کسی بھی معرکہ یا ایڈونچر سے پہلے سو بار سوچے گا اور اس معرکہ کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ قوم کسی بھی مشکل گھڑی میں اندرونی اختلافات کو بھلا کر بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ہو جاتی ہے۔ جس قوم کا نصب العین ایمان اتحاد اور یقین محکم ہو اسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دشمن ہمیں کبھی بھی الگ نہیں کر سکتا اور نہ ہی باطل حق پر غالب آ سکتا ہے ۔کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ہم خالد کی یلغار ہیں اور طارق کی تلوار ہیں ۔ہم حیدر کرار ہیں ۔ہمیں کوی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

  • فیصل آباد میں “معرکہِ حق کارواں،شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    فیصل آباد میں “معرکہِ حق کارواں،شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِاہتمام فیصل آباد میں “معرکہِ حق کارواں” کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں، نوجوانوں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے وطنِ عزیز اور افواجِ پاکستان سے اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا۔

    شرکاء ہاتھوں میں قومی پرچم اور “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” کے کتبے اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ فضا “پاکستان زندہ باد”، “پاک فوج زندہ باد” اور “آرمی چیف زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔کارواں کی قیادت پروفیسر سیف اللہ قصوری، پروفیسر حافظ محمد طلحہ سعید، شفیق الرحمن وڑائچ، مولانا امیر حمزہ اور محمد احسن تارڑ سمیت دیگر قائدین نے کی۔اس موقع پر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “معرکہِ حق” کی کامیابی پوری قوم کے اتحاد، جذبۂ حب الوطنی اور استقامت کی علامت ہے۔ انہوں نے وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم ہمیشہ اپنی افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

  • معرکہ حق، عشرہ تشکر،ملک بھر میں خطبات جمعہ میں بنیان مرصوص موضوع

    معرکہ حق، عشرہ تشکر،ملک بھر میں خطبات جمعہ میں بنیان مرصوص موضوع

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام “معرکۂ حق، عشرۂ تشکر” کے سلسلے میں آٹھویں روز جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں علماء کرام نے “بنیان مرصوص” کے عنوان سے خطباتِ جمعہ دیے، خطبات میں وطنِ عزیز کے دفاع، قومی یکجہتی اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا،نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں بنیان مرصوص ریلیاں بھی نکالی گئیں،اسلام آباد میں علماء و مشائخ کنونشن،کوئٹہ میں اے پی سی،بہاولنگر،بوریوالہ میں بنیان مرصوص سیمینار، ڈیرہ غازی خان، چنیوٹ،قصور،ملتان،ٹندوآدم،ثمرباغ لوئر دیر،ملکہ ہوسار مری، سرگودھا،فیصٌل آباد،سمیت دیگر شہروں میں منعقدہ ریلیوں میں شہریوں‌کی بڑی تعداد شریک ہوئی ،

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید،حافظ عبدالروف،جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک، انجنیئر حارث ڈار، مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، چیئرمین خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ، صدر مسلم یوتھ لیگ تابش قیوم و دیگر نے خطبات جمعہ کے اجتما ع سے خطاب اور بعد ازاں کارکنان کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ناقابل تسخیر بن چکا،پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے، بنیان مرصوص کے پیچھے ہزاروں شہدا کی قربانیاں ہیں، جب پوری قوم اتحاد، ایمان اور یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہو تو کوئی دشمن پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، بھارتی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمیشہ صبر، حوصلے اور قومی غیرت کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس کے دفاع اور استحکام کے لیے پوری قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی،ضرورت اس امر کی ہے کہ باہمی اختلافات بھلا کر صرف پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا جائے،دشمن پاکستان کے خلاف نفرت، انتشار اور خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے، مگر پاکستانی قوم اپنے اتحاد، حب الوطنی اور جذبۂ ایمانی سے ہر سازش کو ناکام بنا دے گی۔

    مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام بہاولنگر میں مسجد شہداء سے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لئے مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، حافظ امیر حمزہ رافع کی زیرِ قیادت ریلی نکالی گئی،بنیان مرصوص ریلی میں پارٹی عہدیداران، کارکنان اور سول سوسائٹی کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور ہاتھوں میں پاکستانی پرچم و بینرز اٹھا کر پاک فوج کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی،رکزی مسلم لیگ چنیوٹ کے زیر اہتمام عشرہ تشکر کے حوالے سے بنیان مرصوص ریلی کی قیادت عبدالغفور ڈوگر و دیگر نے کی،مرکزی مسلم لیگ ضلع جھنگ کے زیر اہتمام بنیان مرصوص ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی مسلم لیگ ملتان کے زیر اہتمام PP 216 میں معرکہ حق ریلی نکالی گئی،ریلی کی قیادت رانا عبدالرحمان نے کی، شرکاء نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے زیرِ اہتمام پریس کلب کوئٹہ میں بنیان مرصوص آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر عقیل احمد لغاری نے کی،کانفرنس میں سیاسی، مذہبی، قبائلی اور سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور ہم اس کی تعمیر، ترقی، استحکام اور دفاع کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے،مسلم سٹوڈنٹس لیگ ضلع قصور کے زیرِ اہتمام بنیان مرصوص ریلی نکالی گئی، جس میں طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کی قیادت صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ پاکستان عمر عباس نے کی،ویمن لیگ ٹنڈو الہ یار کی جانب سے متحد قوم فاتح پاکستان ریلی نکالی گئی،مرکز ابوبکر سرگودھا سے “معرکۂ حق بنیان مرصوص ریلی” کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت چیئرمین رابطہ علماء و مشائخ پاکستان و چیئرمین اتحاد امت پاکستان قاری محمد یعقوب شیخ نے کی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل سرگودھا منیر کھرل اور صدر مرکزی مسلم لیگ سرگودھا محمد اکمل چسپال بھی ہمراہ تھے