Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی بحریہ کا اسرائیلی ساختہ ڈرون گجرات میں گر کر تباہ

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی ساختہ ڈرون گجرات میں گر کر تباہ

    بھارتی بحریہ کے زیرِ استعمال اسرائیلی ساختہ ڈرون ریاست گجرات کے علاقے دھرم پور میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ معمول کی آپریشنل سرگرمی کے دوران پیش آیا، تاہم حکام نے تاحال ڈرون کے گرنے کی حتمی وجہ سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کو حفاظتی حصار میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ تکنیکی خرابی، آپریشنل مسئلے یا دیگر ممکنہ عوامل کا جائزہ لیا جا سکے۔

    دفاعی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارتی دفاعی شعبے کو فضائی حادثات کے متعدد واقعات کا سامنا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مہنگے دفاعی آلات کے استعمال کے باوجود پیش آنے والے ایسے واقعات دیکھ بھال، تکنیکی معیار اور آپریشنل تیاری کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے حادثات کے بعد اب ڈرون کے حادثات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے دفاعی اداروں کو اپنی تکنیکی صلاحیت، حفاظتی اقدامات اور مینٹیننس کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اب بھارتی ڈرونز بھی حادثات کا شکار ہو رہے ہیں جو ایک بڑی شرمندگی کا باعث ہے۔

  • سعودی عرب نے پاکستان سمیت 7 ممالک کے لیے سیاحتی پیکج ویزا متعارف کرا دیا

    سعودی عرب نے پاکستان سمیت 7 ممالک کے لیے سیاحتی پیکج ویزا متعارف کرا دیا

    ریاض: سعودی عرب نے اپنی سیاحتی صنعت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے سفر کو مزید آسان بنانے کے مقصد سے پاکستان سمیت سات ممالک کے شہریوں کے لیے سیاحتی پیکج ویزا جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ ویژن 2030 کے آغاز کے بعد مملکت نے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے ویزا کے نظام کو جدید اور سہل بنایا ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرانک سیاحتی ویزا (E-Visa)، آمد پر ویزا (Visa on Arrival) اور ٹرانزٹ ویزا جیسی سہولتوں کے بعد اب ایک نئی آزمائشی سروس سیاحتی پیکج ویزا بھی متعارف کرائی گئی ہے۔سعودی وزارت سیاحت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس نئی سہولت سے پاکستان، میکسیکو، انڈونیشیا اور مصر کے شہری فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے علاوہ بھارت، بنگلادیش اور اردن کے شہری بھی سیاحتی پیکج ویزا حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔وزارت کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت منظور شدہ سیاحتی پیکج خریدنے والے درخواست گزاروں کو زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹوں کے اندر ویزا جاری کر دیا جائے گا، جس سے ویزا کے حصول کا عمل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تیز اور آسان ہو جائے گا۔

    حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کو عالمی سیاحت کا اہم مرکز بنانا، غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور وژن 2030 کے تحت سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر شامل ممالک کے شہریوں کے لیے یہ سہولت مذہبی، تفریحی اور ثقافتی سیاحت کے نئے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ سعودی عرب کے مختلف تاریخی، ثقافتی اور تفریحی مقامات تک رسائی بھی پہلے سے زیادہ آسان ہو جائے گی۔

  • اصولوں پر قائم رہنے والی اداکارہ، جس نے بولڈ سین اور مختصر لباس سے ہمیشہ کیا انکار

    اصولوں پر قائم رہنے والی اداکارہ، جس نے بولڈ سین اور مختصر لباس سے ہمیشہ کیا انکار

    ممبئی: بالی ووڈ کی 70 اور 80 کی دہائی میں جہاں گلیمر اور جرات مندانہ مناظر کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا تھا، وہیں ایک ایسی اداکارہ بھی موجود تھیں جنہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنی معصوم اداکاری، سادگی اور باوقار شخصیت کی بدولت لاکھوں مداحوں کے دل جیتنے والی پدمنی کولہاپورے نے اپنے فلمی سفر میں کئی کامیاب فلمیں دیں، لیکن بولڈ سین یا مختصر لباس پہننے سے ہمیشہ گریز کیا۔

    پدمنی کولہاپورے نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا تھا اور بعد ازاں وہ بالی ووڈ کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ انہوں نے انیل کپور، رشی کپور، راجیش کھنہ سمیت متعدد سپر اسٹارز کے ساتھ کام کیا، تاہم انہوں نے کئی ایسی فلموں کی پیشکش بھی مسترد کر دیں جن میں ان سے انٹیمیٹ یا بولڈ مناظر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سال 1982 میں ریلیز ہونے والی فلم "پریم روگ” پدمنی کولہاپورے کے فلمی کیریئر کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے کم عمری میں بیوہ ہونے والی لڑکی منورما کا کردار ادا کیا، جسے نہ صرف ناقدین بلکہ شائقین نے بھی بے حد پسند کیا۔ فلم میں ان کے مقابل رشی کپور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ ہدایت کاری راج کپور نے کی تھی۔فلم کی کہانی، موسیقی اور جذباتی مناظر نے اسے باکس آفس پر بڑی کامیابی دلائی۔ اس کے گانے بھی بے حد مقبول ہوئے اور آج بھی ان میں سے کئی نغمے شادی بیاہ سمیت مختلف تقریبات میں سنے جاتے ہیں۔ اس فلم نے رشی کپور کے کیریئر کو بھی نئی بلندی دی، لیکن سب سے زیادہ شہرت پدمنی کولہاپورے کو ملی۔

    رپورٹس کے مطابق راج کپور فلم "پریم روگ” میں ایک کسنگ سین شامل کرنا چاہتے تھے، تاہم پدمنی کولہاپورے نے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اسے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ بعد میں جب راج کپور نے فلم "رام تیری گنگا میلی” کی پیشکش کی، تو اداکارہ نے اس میں موجود بولڈ مناظر کے باعث اس فلم میں بھی کام کرنے سے معذرت کر لی۔بعد ازاں یہ کردار منداکنی نے ادا کیا اور فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی، لیکن پدمنی کولہاپورے نے شہرت یا کامیابی کی خاطر اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی یہی اصول پسندی اور سادگی آج بھی انہیں بالی ووڈ کی منفرد اور باوقار اداکاراؤں میں شمار کراتی ہے۔

  • سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار، عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار، عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے مقدمے میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی عدالت میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی سماعت ہونا تھی، تاہم سول جج عباس شاہ کی عدم دستیابی کے باعث کارروائی نہ ہو سکی۔ عدالت نے ملزم کی مسلسل عدم حاضری کے پیشِ نظر پہلے سے جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف الزامات پر مبنی بیانات دیے، جن پر قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف سے  کروشیا کے وزیر  خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کروشیا کے وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعظم نے کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کاخیرمقدم کرتے ہوئےکہا کہ دونوں ملکوں کےدوستانہ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ محمدشہبازشریف نے پاکستان اور کروشیا کے درمیان تجارت ،سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت ،ہنرمند افرادی قوت اوروابط کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ اور وزیراعظم آندرے پلینکوویچ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئےدورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا دورہ ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستانی قیادت کے نمایاں کردار کو سراہا۔کروشیا کے وزیرخارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اپنی حکومت کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • جنریشن زی اور ایچ آر پالیسیوں نے دفتر کی محبت کو ماند کر دیا، سروے میں انکشاف

    جنریشن زی اور ایچ آر پالیسیوں نے دفتر کی محبت کو ماند کر دیا، سروے میں انکشاف

    نیویارک: ایک نئی امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دفاتر میں پروان چڑھنے والی محبت، ساتھی ملازمین کے درمیان تعلقات اور رومانوی روابط تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجوہات جنریشن زی کا بدلتا رویہ، آن لائن ڈیٹنگ کا بڑھتا رجحان اور انسانی وسائل (HR) کی سخت پالیسیوں کے تحت جنسی ہراسانی سے متعلق تربیت ہے۔امریکا کی انسانی وسائل کی تنظیم کے 2025 کے سروے کے مطابق صرف 22 فیصد ملازمین نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں کسی ساتھی پر کشش یا پسندیدگی محسوس ہوئی، جبکہ 2024 میں یہ شرح 49 فیصد تھی۔ اس طرح صرف ایک سال میں دفتری "کرش” رکھنے والوں کی تعداد تقریباً نصف رہ گئی۔سروے کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صرف 16 فیصد ملازمین نے اپنے کسی ساتھی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا اعتراف کیا، جبکہ ایک سال قبل یہ تناسب 21 فیصد تھا۔اسی طرح دفتر میں رومانوی یا جسمانی تعلقات قائم کرنے والوں کی شرح بھی نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ 2025 میں صرف 7 فیصد ملازمین نے اعتراف کیا کہ ان کا دفتر میں کسی قسم کا "خطرناک رومانوی تعلق” رہا، جبکہ 2024 میں یہ شرح 13 فیصد تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں دفاتر صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا ساتھی تلاش کرنے کی بھی اہم جگہ سمجھے جاتے تھے۔

    پیو ریسرچ سینٹر کے 2020 کے سروے کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے تقریباً 20 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شریکِ حیات سے دفتر میں ملاقات کی تھی، جبکہ 18 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ شرح صرف 13 فیصد رہی۔ماہرین کے مطابق جنریشن زی اب محبت یا شادی کے لیے دفتر کے بجائے ڈیٹنگ ایپس اور آن لائن پلیٹ فارمز کا زیادہ استعمال کر رہی ہے۔امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مصنفہ جونو کیلی نے لکھا کہ نوجوان ملازمین کے نزدیک دفتر میں محبت کے فوائد کے مقابلے میں اس کے خطرات زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ان کے مطابق ایچ آر کی سخت پالیسیاں، جنسی ہراسانی سے متعلق قوانین اور ممکنہ پیشہ ورانہ مسائل کی وجہ سے ملازمین ایسے تعلقات سے گریز کرنے لگے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 30 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ افراد میں ایک تہائی سے زیادہ نے کہا کہ وہ اس وقت کسی سے تعلق قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، جبکہ تقریباً نصف نے بتایا کہ وہ سرے سے کسی رومانوی تعلق کی تلاش میں ہی نہیں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان نے بھی دفتری محبت کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔اگرچہ دفتری محبت کے رجحان میں کمی آئی ہے، لیکن جو ملازمین اب بھی ایسے تعلقات قائم کرتے ہیں، ان کی وجوہات مختلف ہیں۔سروے کے مطابق 50 فیصد سے زائد افراد کا مقصد حقیقی محبت اور مستقل رشتہ قائم کرنا تھا۔40 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ جوش، مہم جوئی یا جسمانی کشش کی وجہ سے ایسے تعلقات میں آئے۔تقریباً 30 فیصد افراد نے کہا کہ وہ کیریئر میں ترقی، ملازمت کے تحفظ یا اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے دفتر میں رومانوی تعلقات کو مفید سمجھتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دفتری تعلقات رکھنے والے ہر پانچ میں سے تقریباً ایک ملازم نے اعتراف کیا کہ اس نے دفتر میں کھلے عام محبت کا اظہار بھی کیا، تاہم مجموعی طور پر ایسی مثالیں بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ سروے میں شامل 63 فیصد منیجرز کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم میں موجود رومانوی تعلقات نے مجموعی ماحول پر مثبت اثر ڈالا۔25 فیصد نے کہا کہ اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا، جبکہ صرف 12 فیصد منیجرز نے ایسے تعلقات کو ٹیم کے لیے منفی قرار دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے سماجی رویوں، آن لائن ڈیٹنگ کے فروغ اور پیشہ ورانہ احتیاط نے دفتر میں محبت کے روایتی تصور کو نمایاں حد تک تبدیل کر دیا ہے، اور مستقبل میں یہ رجحان مزید کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • خاتون ٹیچر کو 14 سالہ طالب علم کو برہنہ تصاویر بھیجنے پر دو سال قید کی سزا

    خاتون ٹیچر کو 14 سالہ طالب علم کو برہنہ تصاویر بھیجنے پر دو سال قید کی سزا

    امریکا: امریکی ریاست انڈیانا میں ایک خاتون ٹیچر کو 14 سالہ مڈل اسکول کے طالب علم کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجنے اور نامناسب آن لائن رابطے کے مقدمے میں عدالت نے دو سال قید کی سزا سنا دی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 سالہ کیسیڈی کارٹر نے عدالت میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے دو الزامات میں قصوروار ہونے کا اقرار کیا، جس کے بعد جج نے اسے دو سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے بتایا کہ سزا میں اسے پہلے سے حراست میں گزارے گئے دو دن بھی شمار کیے جائیں گے۔ابتدائی طور پر خاتون ٹیچر کے خلاف کم عمر بچے کو جنسی مقاصد کے لیے ورغلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں استغاثہ نے الزامات میں تبدیلی کی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ طالب علم اپنے خاندان کے ساتھ علاقے سے منتقل ہو چکا تھا اور وہ مزید عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، جس کے باعث مقدمے کی نوعیت تبدیل کی گئی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق کیسیڈی کارٹر اس وقت ساؤتھ ڈئربورن کمیونٹی اسکول کارپوریشن میں بطور متبادل ٹیچر خدمات انجام دے رہی تھی۔ اسی دوران اس کی 14 سالہ طالب علم سے اسنیپ چیٹ کے ذریعے دوستی ہوئی۔تحقیقات کے مطابق دونوں کے درمیان ہونے والی آن لائن گفتگو کے دوران خاتون ٹیچر رات گئے طالب علم کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجتی رہی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر ہر بار نہانے کے بعد اپنی تصاویر بھیجتی تھی اور طالب علم کو یہ بھی کہتی تھی کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2023 میں متاثرہ طالب علم نے اسکول کے ریسورس آفیسر کو پورے معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد اسکول کے پرنسپل کو بھی اطلاع دی گئی اور تحقیقات کا آغاز ہوا۔پولیس نے خاتون ٹیچر کا موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک معائنہ کیا، جہاں سے مبینہ طور پر برہنہ تصاویر اور طالب علم کے ساتھ ہونے والی متعدد پیغامات برآمد ہوئے، جنہیں استغاثہ نے عدالت میں اہم شواہد کے طور پر پیش کیا۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان سوشل میڈیا رابطوں کی نگرانی، اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو آن لائن خطرات سے آگاہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

  • میامی کی معروف ٹی وی اینکر کی بکنی تصاویر پر تنازع، سوشل میڈیا پالیسی پر نئی بحث

    میامی کی معروف ٹی وی اینکر کی بکنی تصاویر پر تنازع، سوشل میڈیا پالیسی پر نئی بحث

    امریکا کی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی سے تعلق رکھنے والی معروف ٹی وی نیوز اینکر جنیس فرنانڈیزایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، تاہم اس مرتبہ وجہ ان کی صحافتی رپورٹنگ نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی چھٹیوں کی تصاویر ہیں، جنہوں نے صحافتی حلقوں میں پیشہ ورانہ حدود اور ذاتی آزادی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    چھ مرتبہ ایمی ایوارڈ جیتنے والی اینکر اور سابق مس میامی جنیس فرنانڈیز نے چند ماہ قبل فجی کے سیاحتی دورے کے دوران اپنی انسٹاگرام پروفائل پر کئی تصاویر شیئر کیں۔ ان تصاویر میں وہ سرخ رنگ کی بکنی میں مشہور کلاؤڈ 9 فلوٹنگ ریزورٹ کے شفاف پانیوں میں لطف اندوز ہوتی، ساحلی بار کے قریب وقت گزارتی اور دوستوں کے ساتھ خوشگوار لمحات مناتی دکھائی دیں۔انہوں نے ایک تصویر کے ساتھ لکھا "اب مجھے اندازہ ہوا کہ کلاؤڈ 9 فجیکا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔”

    ان تصاویر پر اس وقت زیادہ توجہ اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے ٹی وی اسٹیشن WPLG کی انتظامیہ نے کچھ عرصہ قبل ملازمین کو ایک سخت ہدایت نامہ جاری کیا تھا، جس میں صحافیوں کو سوشل میڈیا پر "انفلوئنسر” جیسا رویہ اختیار کرنے سے منع کیا گیا تھا۔اس یادداشت میں نیوز ڈپارٹمنٹ کے نائب صدر نے لکھا تھا کہ "ہمارے بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس فضول اور غیر سنجیدہ مواد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔”انہوں نے واضح کیا تھا کہ نیوز روم کے ملازمین کو ڈانس ویڈیوز، فیشن شو، "آؤٹ فٹ آف دی ڈے” یا ایسی دیگر سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ کو متاثر کریں۔انہوں نے مزید ہدایت دی تھی کہ نیوز روم، اسٹوڈیو یا نیوز سیٹ کو اس نوعیت کے مواد کی تیاری کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔میمو میں بل پوہووی نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اگرچہ ملازمین کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نجی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن وہ ہر وقت ادارے کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحافت پہلے ہی عوامی اعتماد کے بحران سے دوچار ہے اور غیر سنجیدہ سوشل میڈیا سرگرمیاں اس صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جنیس فرنانڈیز کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد خود بل پوہووی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان تصاویر نے ادارے کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی۔انہوں نے کہا "میمو میں ملازمین کو چھٹیوں کی تصاویر یا روزمرہ زندگی کی جھلکیاں شیئر کرنے سے نہیں روکا گیا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فلوریڈا میں رہتے ہیں، یہاں ساحل سمندر پر لوگ بکنی پہنتے ہیں۔ یہ تصاویر باوقار اور مناسب تھیں، ان میں کوئی غیر پیشہ ورانہ بات نہیں تھی۔”

    جنیس فرنانڈیز نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز امریکی ریاست لوئیزیانا سے کیا، بعد ازاں پینساکولا میں خدمات انجام دیں اور 2014 میں اپنے آبائی شہر میامی واپس آ کر WPLG سے وابستہ ہو گئیں۔وہ اس وقت چینل کے ہفتہ وار دوپہر 3 بجے اور رات 10 بجے نشر ہونے والے مرکزی نیوز بلیٹن کی اینکر ہیں اور جنوبی فلوریڈا کی نمایاں ٹی وی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

    اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا صحافی اپنی ذاتی زندگی کی تصاویر اور سرگرمیاں سوشل میڈیا پر آزادانہ شیئر کر سکتے ہیں یا انہیں اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کے پیش نظر اضافی احتیاط برتنی چاہیے۔اگرچہ ٹی وی اسٹیشن کی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جنیس فرنانڈیز کی تصاویر ادارے کی پالیسی کے خلاف نہیں تھیں، تاہم اس معاملے نے صحافت، ذاتی آزادی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

  • امیلی راتاجکوسکی کی نئی کتاب پر پبلشرز میں سخت مقابلہ، سات ہندسوں پر مشتمل معاہدہ طے

    امیلی راتاجکوسکی کی نئی کتاب پر پبلشرز میں سخت مقابلہ، سات ہندسوں پر مشتمل معاہدہ طے

    نیویارک: معروف امریکی سپر ماڈل، اداکارہ اور مصنفہ امیلی راتاجکوسکی نے اپنی نئی کتاب "Mother F*cker” کے اشاعتی حقوق ایک بڑے معاہدے کے تحت فروخت کر دیے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کتاب کے حقوق حاصل کرنے کے لیے 12 معروف اشاعتی اداروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، جس کے بعد پینگوئن پریس نے سات ہندسوں (ملین ڈالرز) پر مشتمل معاہدے کے ذریعے کتاب کے حقوق حاصل کر لیے۔یہ کتاب امیلی راتاجکوسکی کے اس مضمون پر مبنی ہے جو انہوں نے دی کٹ کے لیے تحریر کیا تھا اور سوشل میڈیا پر غیرمعمولی طور پر وائرل ہوا تھا۔ مضمون میں انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کے خاتمے کے بعد بطور سنگل ماں اپنی ذاتی زندگی، تعلقات اور خود کو دوبارہ دریافت کرنے کے تجربات پر کھل کر اظہار خیال کیا تھا۔

    امیلی راتاجکوسکی اس سے قبل 2021 میں اپنی کتاب My Body شائع کر چکی ہیں، جس میں انہوں نے فیشن انڈسٹری، شہرت، خواتین کے جسم اور ذاتی آزادی جیسے موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ ان کی نئی کتاب بھی انہی موضوعات کو مزید ذاتی انداز میں آگے بڑھاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایملی نے اپنی نئی کتاب میں کسی بھی شخصیت کا نام براہ راست ظاہر نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی مختلف ملاقاتوں اور تعلقات کو فرضی شناختوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کتاب میں وہ مختلف مردوں کا ذکر منفرد انداز میں کرتی ہیں، جن میں ایک "ایلڈر ملینیل”، ایک ویگن گرافٹی آرٹسٹ، ایک شیف، ایک ہسپانوی نوجوان، ایک ارب پتی کے بیٹے سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

    اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن ان کی طلاق کے بعد ماضی میں ان کا نام متعدد معروف شخصیات سے جوڑا جاتا رہا، امیلی راتاجکوسکی نے اپنی سابقہ ازدواجی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ 2022 میں اپنے شوہر Sebastian Bear-McClard سے علیحدگی کے بعد وہ کئی برس تک مسلسل مختلف لوگوں سے ملتی رہیں، کیونکہ وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ وہ بطور آزاد عورت اپنی شناخت کس طرح قائم کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں مداحوں سے کہا تھا کہ نئی کتاب میں وہ طاقت، مردوں، تعلقات اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات کے بارے میں حاصل ہونے والے تجربات بیان کریں گی۔ ان کا یہی مضمون بعد ازاں اتنا مقبول ہوا کہ بڑے اشاعتی اداروں نے اس پر مبنی مکمل کتاب شائع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

    ادبی حلقوں کے مطابق "Mother F*cker” کے اجراء کے بعد ایک بار پھر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ سکتی ہیں کہ کتاب میں بیان کیے گئے کردار دراصل کن معروف شخصیات کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے باعث اس کتاب کی اشاعت سے قبل ہی اس کے گرد غیرمعمولی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے۔

  • امریکی افواج کے ایران پر دوبارہ فضائی حملے، ٹرمپ کی دھمکی پر عملدرآمد

    امریکی افواج کے ایران پر دوبارہ فضائی حملے، ٹرمپ کی دھمکی پر عملدرآمد

    امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشگی وارننگ کے بعد ایران پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ ( نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی کہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر بندر عباس اور سیریک میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق بندر عباس کے قریب فضائی دفاعی نظام نے "دشمن کے اہداف” کا مقابلہ کیا، تاہم حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    یہ دونوں علاقے گزشتہ رات بھی امریکی حملوں کا نشانہ بنے تھے۔گزشتہ رات 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا،امریکی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب ہونے والی کارروائی میں 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔حملوں میں جن اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ان میں ایران کے فضائی دفاعی نظام،ساحلی ریڈار تنصیبات،اینٹی شپ میزائل صلاحیتیں،پاسداران انقلاب (IRGC) کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیاں
    شامل تھیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران نے اس ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جن میں مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار ایم/ٹی ال رکیت (M/T Al Rekayyat)،سعودی عرب کے پرچم بردار ایم/ٹی ویدیان (M/T Wedyan)،لائبیریا کے پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیریٹی (M/T Cyprus Prosperity)شامل ہیں۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ انہی حملوں کے بعد ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ ترکی میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو امریکہ دوبارہ حملے کرے گا۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ بین الاقوامی بحری راستوں پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

    ایران اور قطر کے درمیان سفارتی رابطہ
    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں مزید کشیدگی روکنے، سفارتی ذرائع کو فعال رکھنے اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔قطر اس معاملے میں ثالثی کی کوشش کرنے والا دوسرا اہم ملک بن گیا ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان بھی دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کر چکا ہے۔