Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹنڈو محمد خان،ماں نے دو بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی

    ٹنڈو محمد خان،ماں نے دو بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی

    ٹنڈو محمد خان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک خاتون نے اپنے دو کمسن بچوں کے ساتھ نہر میں چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں تینوں جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے۔ طویل تلاش کے بعد خاتون اور دونوں بچوں کی لاشیں نہر سے نکال لی گئیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق بچوں کی عمریں 6 اور 7 سال تھیں۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ اہلِ خانہ سے بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، چاندی مہنگی ہوگئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، چاندی مہنگی ہوگئی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں گزشتہ روز کے بڑے اضافے کے بعد آج کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار 700 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 94 ہزار 62 روپے ہو گئی ہے۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 315 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 23 ہزار 578 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔دوسری جانب چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی 80 روپے مہنگی ہونے کے بعد 8 ہزار 525 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں کمی دیکھی گئی، جہاں سونے کا بھاؤ 27 ڈالرز کمی کے بعد 4 ہزار 717 ڈالرز فی اونس پر آ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ فی تولہ سونا 7 ہزار 800 روپے جبکہ 10 گرام سونا 6 ہزار 687 روپے مہنگا ہوا تھا، جس کے بعد آج مارکیٹ میں قیمتوں میں کچھ کمی سامنے آئی ہے،ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاروں کے رجحانات سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • خلیج میں چینی آئل ٹینکر پر حملہ، بیجنگ کا شدید تشویش کا اظہار

    خلیج میں چینی آئل ٹینکر پر حملہ، بیجنگ کا شدید تشویش کا اظہار

    چینی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب خلیج میں اپنے آئل ٹینکر پر حملے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر پر چینی عملہ موجود تھا، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ترجمان نے کہا کہ چین اپنے شہریوں اور سمندری مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی ٹینکر 4 مئی کو مینا صقر کے قریب حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جہاں پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔

    چینی میڈیا ادارے شیاشن کی رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد نامعلوم جہاز کے ڈیک میں آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹ میں متاثرہ جہاز کی شناخت “چائنا آنر اینڈ کریو” کے نام سے کی گئی ہے۔ آگ لگنے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں جبکہ جہاز کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سمندری تجارت کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سیکڑوں بحری جہاز اور تقریباً 20 ہزار سی فیررز اس وقت خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل کی ترسیل، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی شپنگ کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ خلیج کے اہم بحری راستوں پر سیکیورٹی کے مسائل عالمی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان کو للکارنا اب کسی کے لیے آسان نہیں رہا۔طاہر اشرفی

    پاکستان کو للکارنا اب کسی کے لیے آسان نہیں رہا۔طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ “معرکۂ حق” پوری قوم کی وحدت اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ ہے، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے اور مسلم دنیا کو انتشار کے بجائے باہمی تعاون اور امن کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی قیادت کو دنیا میں امن کے قیام کے لیے منتخب کیا ہے اور پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور بھائی چارے کا داعی رہا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور آج پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت بن چکا ہے، جسے للکارنا اب کسی کے لیے آسان نہیں رہا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جہاد کا اعلان اور اجازت صرف ریاست کا اختیار ہے اور کسی فرد یا گروہ کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ “معرکۂ حق” میں انجام دیا جانے والا کارنامہ دنیا کبھی فراموش نہیں کر پائے گی۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے مزید کہا کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔ اسلام کا پیغام دینے والے ہمیشہ امن کے داعی رہے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، اس لیے اسلام ہر قسم کی دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

  • نوشکی: ہائی اسکول کی لائبریری میں فائرنگ، ٹیچر سمیت 2 افراد جاں بحق

    نوشکی: ہائی اسکول کی لائبریری میں فائرنگ، ٹیچر سمیت 2 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ہائی اسکول کی لائبریری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ٹیچر سمیت 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا افسوسناک واقعہ ہائی اسکول کلی جمالدینی میں پیش آیا، جہاں مسلح نامعلوم افراد نے اچانک لائبریری میں گھس کر فائرنگ کر دی۔ واقعے کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے ٹیچر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ دوسرے شخص کی ہلاکت بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے۔

  • انڈونیشیا ، آتش فشاں پھٹنے سے 3 افراد ہلاک، متعدد سیاح پھنس گئے

    انڈونیشیا ، آتش فشاں پھٹنے سے 3 افراد ہلاک، متعدد سیاح پھنس گئے

    انڈونیشیا کے شمالی مالوکو صوبے کے جزیرے ہالماہیرا میں واقع فعال آتش فشاں ماؤنٹ ڈوکو نو میں جمعہ کی صبح ایک زور دار آتش فشانی دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے ذریعے درجن سے زائد پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچانے کی کوششیں جاری رہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سنگاپور کے شہری اور ایک انڈونیشیائی شہری بھی شامل ہیں، تاہم قومی سرچ اینڈ ریسکیو ادارے نے تاحال اموات اور شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔پولیس چیف ارلیخسن پاساریبو کے مطابق واقعے کے وقت مجموعی طور پر 20 کے قریب سیاح ماؤنٹ ڈوکو نو کی چڑھائی پر موجود تھے، جن میں 9 غیر ملکی اور 11 مقامی افراد شامل تھے۔بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ 15 سیاح محفوظ طور پر نیچے اترنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم تین افراد کی لاشیں ابھی تک آتش فشاں کے خطرناک علاقے میں موجود ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ دو دیگر کوہ پیما اب بھی پہاڑ پر موجود ہیں اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آتش فشاں کے دہانے سے دھوئیں اور راکھ کا ایک بہت بڑا بادل آسمان کی طرف اٹھ رہا ہے۔ انڈونیشیائی گائیڈ الیکس دجنگو کے مطابق دھماکے سے قبل شدید زمینی جھٹکے محسوس ہوئے۔
    انہوں نے بتایا “میں نے دیکھا کہ چھوٹے پتھر اور مٹی نیچے کی طرف لڑھک رہی تھی، میں نے فوراً اپنے کلائنٹس کو نیچے بھاگنے کا کہا، یہ بہت خوفناک لمحہ تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیاح اس وقت بھی کریٹر کے قریب ویڈیوز بنا رہے تھے۔

    ماؤنٹ ڈوکو نو انڈونیشیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاؤں میں سے ایک ہے اور ماہرین کے مطابق مارچ کے آخر سے اس کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔مقامی گائیڈز کے مطابق جب یہ آتش فشاں چند دن خاموش رہتا ہے تو اس کے بعد اچانک بڑا دھماکہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور یہی صورتحال اس واقعے سے پہلے بھی دیکھی گئی۔واضح رہے کہ انڈونیشیا دنیا کے اس خطرناک زون میں واقع ہے جسے “رِنگ آف فائر” کہا جاتا ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی واقعات عام ہیں۔ یہ زون جاپان، انڈونیشیا، امریکہ اور جنوبی امریکہ تک پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

  • مردوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کسی عورت کی توجہ یا پیشکش کو رد کر سکیں،خلیل الرحمان قمر

    مردوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کسی عورت کی توجہ یا پیشکش کو رد کر سکیں،خلیل الرحمان قمر

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے معروف مصنف خلیل الرحمٰن قمر ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

    حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شادی، بے وفائی اور مرد و خواتین کے سماجی کردار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔گفتگو کے دوران جب ان سے مردوں کی شادی کے بعد بے وفائی کے رجحان سے متعلق سوال کیا گیا تو خلیل الرحمٰن قمر نے اس مسئلے کا ذمہ دار خواتین کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “مرد آخر دھوکا دیتے کس کے ساتھ ہیں؟ یقیناً دوسری عورتوں کے ساتھ، لیکن اکثر اوقات ان خواتین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو شادی شدہ مردوں کی زندگی میں مداخلت کرتی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو ان عورتوں کے خلاف بھی آواز اٹھانی چاہیے جو شادی شدہ مردوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتی ہیں اور خاندانوں کے بکھرنے کا سبب بنتی ہیں۔

    خلیل الرحمٰن قمر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مرد بعض اوقات جذباتی یا سماجی دباؤ کے باعث غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں اور ان کے مطابق مردوں میں اتنی “قوتِ ارادی” نہیں ہوتی کہ وہ عورتوں کی توجہ یا پیشکش کو رد کر سکیں، جس کے نتیجے میں بے وفائی جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکثر خواتین اپنے شوہروں کی غلطیوں کو بڑے دل سے معاف کر دیتی ہیں، تاہم ان کے پاس رشتہ ختم کرنے کا اختیار بھی موجود ہوتا ہے۔

    ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جبکہ کچھ افراد نے اس رائے کو معاشرتی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے۔

  • اسحاق ڈار کی جانب سے امریکی تحویل میں پاکستانی و ایرانی ملاحوں کی واپسی کیلیےرابطے

    اسحاق ڈار کی جانب سے امریکی تحویل میں پاکستانی و ایرانی ملاحوں کی واپسی کیلیےرابطے

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سنگاپور کے قریب امریکی حکام کی تحویل میں موجود جہازوں پر موجود پاکستانی اور ایرانی سمندری عملے کی باحفاظت وطن واپسی کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے جاری ہیں۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے دوران پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی محفوظ واپسی کے لیے تعاون پر زور دیا گیا۔اسحاق ڈار نے امریکی حکام کی تحویل سے 11 پاکستانی اور 20 ایرانی بحری کارکنوں کی جلد واپسی کے لیے خصوصی درخواست بھی کی ہے۔نائب وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا ہے، اور دونوں ممالک اس صورتحال پر قریبی رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایرانی شہریوں کی پاکستان کے راستے ایران واپسی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے۔

    اسحاق ڈار نے اس معاملے پر سنگاپور کی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دفترِ خارجہ اور متعلقہ ادارے امریکی حکام سمیت تمام فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تمام متاثرہ شہریوں کی حفاظت، فلاح و بہبود اور جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • بھارتی ریاستوں کے حالیہ انتخابات، ہندو مسلم سیاسی تقسیم بے نقاب

    بھارتی ریاستوں کے حالیہ انتخابات، ہندو مسلم سیاسی تقسیم بے نقاب

    بھارتی ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے غیر سرکاری نتائج نے ایک بار پھر ملک کی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر گہری تقسیم کو اجاگر کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نتائج سے ہندو اور مسلم ووٹرز کے درمیان واضح سیاسی رجحانات سامنے آئے ہیں، جو بھارت کے جمہوری اور انتخابی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ انتخابات میں مسلم ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس اور بعض علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس رجحان کی ایک بڑی وجہ یہ تاثر ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں نسبتاً سیکولر سیاسی سوچ رکھتی ہیں اور اقلیتوں کی نمائندگی کے حوالے سے زیادہ قابلِ قبول سمجھی جاتی ہیں۔دوسری جانب ہندو ووٹرز کی اکثریت نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت جاری رکھی ہے، جسے مبصرین ہندو قوم پرست سیاسی بیانیے اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی گزشتہ برسوں میں قومی اور ریاستی سیاست میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس دوران بعض ریاستوں میں پارٹی کی جانب سے مسلم امیدواروں کو محدود یا نہ کے برابر ٹکٹ دینے کی حکمت عملی بھی دیکھی گئی ہے۔بی جے پی رہنماؤں کے مطابق یہ فیصلے سیاسی زمینی حقائق اور ووٹرز کے عمومی رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اس حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس سے اقلیتی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم جمہوری اصولوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی جماعتیں تمام طبقات کو برابر نمائندگی نہ دیں تو سماجی فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

    سیاسی مبصرین اس رجحان کو “ریورس پولرائزیشن” کے طور پر بیان کر رہے ہیں، جس میں ووٹرز تیزی سے نظریاتی اور مذہبی شناختوں کی بنیاد پر تقسیم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان بھارت کی ریاستی سیاست میں ایک گہری تبدیلی کی علامت ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تقسیم کو کم کرنے کے لیے مؤثر سیاسی اور سماجی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف انتخابات بلکہ مجموعی سماجی ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • چارسدہ میں خوارج کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا

    چارسدہ میں خوارج کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا

    چارسدہ میں خوارج کے خلاف عوامی ردِعمل میں نمایاں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں شہریوں نے مختلف مقامات پر دیواروں پر خوارجی دہشتگرد نور ولی کے چہرے پر “لعنت” لکھ کر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر نے نہ صرف ملک کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ مذہبی شخصیات، مساجد اور معصوم شہریوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا۔مقامی ذرائع کے مطابق مولانا شیخ ادریس کی شہادت کے بعد علاقے میں خوارج کے خلاف جذبات مزید بھڑک اٹھے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ علما پر حملے دراصل دین اسلام اور امن دشمنی کا کھلا ثبوت ہیں۔ مختلف علاقوں میں عوام نے دہشتگردی کے خلاف نعرے لگائے اور خوارج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن سمیت متعدد مذہبی علما کی جانب سے خوارج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد عوامی بیانیے میں بھی سختی دیکھی جا رہی ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ معصوم انسانوں کا قتل، مساجد پر حملے اور علما کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

    عوامی و مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ خوارج نے اپنی کارروائیوں سے خود کو اسلام اور انسانیت دونوں کا دشمن ثابت کیا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔