Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شکایت لے کر تھانے جانے والی خاتون سے سب انسپکٹر کامعاشقہ،تعلقات،اسقاط حمل بھی کروا دیا

    شکایت لے کر تھانے جانے والی خاتون سے سب انسپکٹر کامعاشقہ،تعلقات،اسقاط حمل بھی کروا دیا

    اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک خاتون کی شکایت کے بعد پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز اور گھریلو تشدد کی شکایت درج کرانے کے لیے تھانے گئی تھی، جہاں تعینات سب انسپکٹر نے پہلے ہمدردی ظاہر کی، پھر شادی کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کیے، مالی فائدہ حاصل کیا اور بعد میں دھمکیاں بھی دیں۔شکایت سامنے آنے کے بعد سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا اور پورے معاملے کی تحقیقات ایک آئی پی ایس افسر کے سپرد کر دی ہیں۔

    معاملہ کیسے شروع ہوا؟
    متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز سے متعلق مقدمے کی شکایت لے کر تھانہ بارادری پہنچی تھی۔ اس دوران سب انسپکٹر نے اس کی شکایت سننے کے بعد کارروائی کا یقین دلایا اور رابطے کے لیے اس کا موبائل نمبر حاصل کیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ بعد میں تفتیش کے بہانے پولیس افسر اس سے مسلسل رابطے میں رہا اور آہستہ آہستہ ذاتی تعلقات قائم کر لیے۔

    شادی اور ملازمت کا وعدہ
    شکایت کے مطابق سب انسپکٹر نے خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو چکا ہے اور جلد اس سے شادی کرے گا۔ خاتون کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزم نے پولیس محکمے میں ملازمت دلانے کا وعدہ بھی کیا اور اسی بنیاد پر اس کا اعتماد حاصل کیا۔

    لاکھوں روپے کے زیورات لینے کا الزام
    متاثرہ خاتون نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ فروری 2026 میں سب انسپکٹر نے اپنے بیٹے کی شادی کا بہانہ بنا کر تقریباً آٹھ لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات حاصل کیے۔ بعد ازاں جب خاتون نے زیورات واپس مانگے تو اسے مختلف بہانوں سے ٹالا جاتا رہا۔

    حمل اور اسقاط حمل سے متعلق الزامات
    خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا ہے کہ تعلقات کے دوران وہ حاملہ ہوئی، جس کے بعد ملزم نے شادی سے انکار کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس پر حمل ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ 12 مئی 2026 کو اسے اسقاط حمل کی دوا دی گئی، جس کے باعث اس کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اس کا حمل ختم کرایا گیا۔

    شکایت پر ایس ایس پی کا ایکشن
    خاتون نے ثبوتوں کے ساتھ سینئر پولیس حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد ایس ایس پی نے ابتدائی جانچ کی بنیاد پر متعلقہ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا۔پولیس حکام کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

    تحقیقات جاری، حتمی فیصلہ رپورٹ کے بعد
    فی الحال معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد حقائق کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ افسر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آنے کی صورت میں فیصلہ انہی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

  • ساحلِ سمندر پر سیف علی خان کی دلکش تصاویر، کرینہ کپور نے کہا: "میرا ہاٹ ہسبنڈ”

    ساحلِ سمندر پر سیف علی خان کی دلکش تصاویر، کرینہ کپور نے کہا: "میرا ہاٹ ہسبنڈ”

    ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان نے ایک بار پھر اپنے شوہر سیف علی خان کے لیے محبت کا کھلے عام اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کی ساحلی تعطیلات کی تصاویر شیئر کیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں۔

    کرینہ کپور اور سیف علی خان ان دنوں موسمِ گرما کی چھٹیاں ایک خوبصورت ساحلی مقام پر گزار رہے ہیں۔ کرینہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر سیف علی خان کی چند تصاویر شیئر کیں، جن میں وہ سمندر سے باہر آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے شوخ نارنجی رنگ کے سوئمنگ شارٹس پہن رکھے تھے جبکہ ان کی فٹ باڈی اور پُراعتماد انداز نے مداحوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔تصاویر کے ساتھ کرینہ کپور نے مختصر مگر دلچسپ کیپشن لکھا:
    "Summer’s going well. #HotHusband”
    یعنی "گرمیوں کی چھٹیاں بہت اچھی گزر رہی ہیں، میرا ہاٹ ہسبنڈ۔”

    کرینہ کی اس پوسٹ پر مداحوں نے بڑی تعداد میں تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ "بالی ووڈ کی سب سے خوبصورت اور دلکش جوڑی یہی ہے۔” جبکہ کئی مداحوں نے سیف علی خان کی فٹنس اور اسٹائل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ تصاویر فلم Race 2 کے مشہور بیچ لک کی یاد تازہ کر دیتی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب کرینہ کپور نے سیف علی خان کو "ہاٹ ہسبنڈ” کہا ہو۔ وہ اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر اپنے شوہر کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے محبت بھرے انداز میں یہی لقب استعمال کر چکی ہیں۔گزشتہ سال بھی کرینہ نے سیف علی خان کی ایک اسٹائلش تصویر شیئر کی تھی، جس میں وہ نیلے رنگ کی ڈھیلی شرٹ، ڈینم پینٹس، سفید جوتوں، سن گلاسز اور کلاسک گھڑی میں نظر آئے تھے۔ اس پوسٹ کے ساتھ کرینہ نے مزاحیہ انداز میں لکھا تھا”اچھا، اتنے ہاٹ کیوں لگ رہے ہو؟”

    چند روز قبل بھی کرینہ نے اپنی ساحلی تعطیلات سے سیف علی خان کی ایک اور تصویر شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے "Beach Gstaad” لکھی ہوئی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ کرینہ نے ہنستے ہوئے لکھا کہ شاید سیف اگلی چھٹیوں کی منزل کا اشتہار دے رہے ہیں، حالانکہ وہ ابھی موجودہ تعطیلات ہی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔کرینہ اور سیف علی خان بالی ووڈ کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں اکثر اپنی فیملی لائف، تعطیلات اور خوشگوار لمحات کی جھلکیاں مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

  • یَش اور کیارا اڈوانی کی فلم "ٹاکسک” کا نیا گانا "تباہی” ریلیز، سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل

    یَش اور کیارا اڈوانی کی فلم "ٹاکسک” کا نیا گانا "تباہی” ریلیز، سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل

    ممبئی: اداکار یَش اور کیارا اڈوانی کی آنے والی فلم "Toxic: A Fairy Tale for Grown-Ups” کا پہلا رومانوی گانا "تباہی” ریلیز کر دیا گیا ہے۔ گانے کی ریلیز کے بعد جہاں کئی مداحوں نے اس کی موسیقی اور ویژولز کو پسند کیا، وہیں سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے گانے، بول اور دونوں مرکزی اداکاروں کی آن اسکرین کیمسٹری پر تنقید بھی کی۔

    یہ گانا معروف گلوکار اور موسیقار وشال مشرا نے کمپوز اور گایا ہے، جبکہ اس کے ہندی بول راج شیکھر نے تحریر کیے ہیں۔ گانے کو ہندی کے علاوہ کنڑ، تیلگو، تامل اور ملیالم زبانوں میں بھی جاری کیا گیا ہے، تاکہ مختلف زبانوں کے شائقین بھی اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔گانے کی ریلیز کے فوراً بعد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ایک صارف نے لکھا کہ گانے کے بول کمزور، موسیقی غیر متاثر کن اور ویڈیو بے جان محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

    ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یَش اور کیارا کے درمیان بالکل بھی کیمسٹری نظر نہیں آتی۔ دونوں اپنی اپنی پرفارمنس میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایک جوڑی کے طور پر متاثر نہیں کرتے۔ "ایک مداح نے لکھا کہ "ویڈیو میں دونوں اداکار ایک دوسرے کے ساتھ غیر آرام دہ محسوس ہوتے ہیں اور رومانوی جذبات قدرتی انداز میں سامنے نہیں آتے۔”ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ گانا ماضی کے کئی رومانوی میوزک ویڈیوز جیسا محسوس ہوتا ہے اور اس میں کوئی نئی بات نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ تنقیدی تبصرے زیادہ نمایاں رہے، تاہم کئی مداحوں نے یَش کی اسکرین پریزنس، کیارا اڈوانی کی خوبصورتی اور وشال مشرا کی آواز کو سراہا۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ گانا وقت کے ساتھ زیادہ پسند کیا جا سکتا ہے اور فلم کی کہانی کے تناظر میں اس کا اثر مختلف محسوس ہوگا۔

    "تباہی” کو مختلف زبانوں میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ ہر زبان میں گانے کے بول مقامی ناظرین کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈھالے گئے ہیں۔

    "Toxic: A Fairy Tale for Grown-Ups” سال کی بڑی فلموں میں شمار کی جا رہی ہے، جس میں پہلی بار یَش اور کیارا اڈوانی ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کے ٹیزر اور پوسٹرز پہلے ہی مداحوں کی توجہ حاصل کر چکے ہیں، جبکہ اب "تباہی” کی ریلیز نے فلم کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • شادی سے پہلےخواتین کے ساتھ تعلقات رہے ہیں،اکانکشا چمولا کا اعتراف

    شادی سے پہلےخواتین کے ساتھ تعلقات رہے ہیں،اکانکشا چمولا کا اعتراف

    ممبئی: بھارتی ٹیلی ویژن اداکارہ اکانکشا چمولا نے اپنے شوہر گورو کھنہ سے علیحدگی کے بعد کہا ہے کہ وہ دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور اب اپنی زندگی خودمختاری کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں۔

    نیٹ فلکس کے ریئلٹی شو "لاک اپ سیزن 2” میں گفتگو کرتے ہوئے اکانکشا نے بتایا کہ انہوں نے کم عمری میں شادی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، "میں 24 سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں بندھی تھی، لیکن اب دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ پہلی بار اپنی زندگی میں میں نہ والدین کے گھر رہوں گی اور نہ ہی شوہر کے گھر، بلکہ میرا اپنا گھر ہوگا اور میں اکیلے زندگی گزاروں گی۔”بعد کی اقساط میں اکانکشا نے اپنی طلاق کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے دوران انہیں کبھی ماں بننے کی شدید خواہش محسوس نہیں ہوئی۔ ابتدا میں وہ اس امکان کو کھلے دل سے دیکھ رہی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ وہ بچوں کی پرورش کے لیے خود کو موزوں نہیں سمجھتیں۔ ان کے مطابق، اس معاملے پر ابتدا میں گورو کھنہ نے ان کے فیصلے کی حمایت کی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے خیالات میں فرق آ گیا۔

    شو کے دوران اکانکشا کی ذاتی زندگی کا ایک اور پہلو بھی زیرِ بحث آیا، جب انہوں نے اپنی جنسی شناخت کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شادی سے پہلے ان کے خواتین کے ساتھ تعلقات رہے ہیں اور وہ خواتین کی جانب کشش محسوس کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، خواتین ہی ان کے لیے "محفوظ احساس” کا باعث رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ گورو کھنہ اور اکانکشا چمولا نے 24 نومبر 2016 کو شادی کی تھی۔ اس سے قبل بگ باس 19 کے دوران بھی گورو کھنہ نے انکشاف کیا تھا کہ اکانکشا بچوں کی خواہش نہیں رکھتیں، جس پر انہیں ناظرین اور میڈیا کی جانب سے مختلف ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم گورو نے کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے فیصلے کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں، اگرچہ وہ خود خاندان بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔اکانکشا چمولا بھارتی ٹیلی ویژن کے متعدد معروف ڈراموں، جن میں "سنتوشی ماں”، "یہ ہے عاشقی” اور "کرائم پیٹرول” شامل ہیں، میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

  • بھارت ،زیادتی کیس،پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم کی لاش لینے سے ماں کا انکار

    بھارت ،زیادتی کیس،پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم کی لاش لینے سے ماں کا انکار

    بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے علاقے بروئی پور میں نابالغ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور قتل کے مرکزی ملزم پربھاس منڈل پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کی ماں نے بیٹے کی لاش وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "اس نے جو کیا، اسی کی سزا اسے مل گئی۔”

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پربھاس منڈل اس وقت پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا جب اسے واردات کی جگہ پر شواہد کی دوبارہ جانچ کے لیے لے جایا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے ایک اہلکار کی بندوق چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر جوابی کارروائی میں اسے گولی لگی۔ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دے دیا۔انکاؤنٹر کے بعد پولیس اہلکار ملزم کے گھر پہنچے اور اس کی والدہ سندھیا منڈل کو بیٹے کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ پولیس نے انہیں اسپتال جا کر لاش دیکھنے کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہیں بلکہ اس کی لاش بھی وصول نہیں کریں گی۔

    سندھیا منڈل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، "اسے دیکھ کر میں کیا کروں گی؟ مجھ میں وہاں جانے کی بھی ہمت نہیں ہے۔ میرا گلا خشک ہو چکا ہے اور میں ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اپنے بیٹے کی موت کا افسوس ہے تو انہوں نے جواب دیا، "ایک ماں ہونے کے ناطے دکھ تو ہوتا ہے، لیکن اس دکھ کا اب کوئی مطلب نہیں۔ اس نے جو جرم کیا، اسی کی وجہ سے اس کا انجام یہ ہوا اور میں اسی بات پر مطمئن ہوں۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم میں سے کوئی بھی اس کی لاش لینے نہیں جائے گا۔ اسے لے جاؤ، دفنا دو یا جہاں چاہو پھینک دو، جو کرنا ہے کرو۔ وہ کبھی ہماری بات نہیں سنتا تھا، خاص طور پر اپنی ماں کی۔ وہ نشے کا عادی تھا، اس لیے اب اس کے بارے میں میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔”

    واضح رہے کہ یہ واقعہ 4 جولائی کو اس وقت پیش آیا تھا جب ایک نابالغ لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اگلے روز سورجیاپور ہاٹ کے علاقے سے اس کی لاش ایک بورے میں بند حالت میں برآمد ہوئی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔واقعے کے خلاف مقامی افراد نے بروئی پور،جے نگر روڈ بلاک کر دیا، مختلف مقامات پر ٹائر نذرِ آتش کیے گئے اور پولیس کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اسی دوران مشتعل ہجوم نے اس کیس میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جس کی شناخت بعد ازاں اندرجیت منڈل کے نام سے ہوئی۔

    پولیس نے اس مقدمے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ کیس کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

  • بلوچستان ہے میرا پاکستان

    بلوچستان ہے میرا پاکستان

    قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آتے ہیں جب دشمن میدانِ جنگ سے زیادہ دلوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر خوف، بداعتمادی اور انتشار پھیلا دیا جائے تو شاید قوم کے حوصلے متزلزل ہو جائیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ہر آزمائش کو اتحاد، قربانی اور استقامت سے شکست دی ہے۔بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والوں کا مقصد پاکستان کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی پر وار کرنا تھا۔ مگر دہشت گرد ایک بار پھر اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہے، کیونکہ یہ دھرتی ہمیشہ اپنے محافظوں کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے، کمزور نہیں۔

    بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی طاقت کا اہم ستون ہے۔ اس سرزمین کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے، اور اس کا امن پورے ملک کے استحکام کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن برسوں سے بلوچستان کو اپنے ناپاک عزائم کا ہدف بناتے رہے ہیں، مگر ہر بار انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ہمارے شہداء نے اپنے خون سے یہ پیغام لکھا ہے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک ادارے یا ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ جب ایک سپاہی، ایک پولیس اہلکار یا کوئی بے گناہ شہری وطن کی خاطر جان قربان کرتا ہے تو وہ دراصل آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ ایسی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

    دہشت گردی کسی مذہب، قوم یا تہذیب کی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔ بے گناہوں کا خون بہانے والے انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ ایسے عناصر چاہے کسی بھی نام، نعرے یا سرپرستی کے ساتھ سامنے آئیں، ان کا انجام ہمیشہ عبرت اور شکست ہی ہوتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ہدف اس کی معاشی ترقی، قومی یکجہتی اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ لیکن دشمن شاید یہ بھول جاتا ہے کہ یہ وہ ملک ہے جو کلمۂ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد محض سرحدوں پر نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایمان اور بے شمار قربانیوں پر رکھی گئی ہے۔ نظریات کو دھماکوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    بلوچستان کے غیور عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کی طاقت ہیں، کمزوری نہیں۔ اس سرزمین کے قبائل، نوجوان، بزرگ اور ہر محبِ وطن شہری نے مشکل ترین حالات میں بھی ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ یہی قومی یکجہتی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ قومی اتحاد، قانون کی پاسداری، باہمی احترام اور وطن سے عملی محبت کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر قومی سلامتی اور ملکی استحکام پر پوری قوم کا ایک صفحے پر ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    دشمن چاہے کتنی ہی سازشیں کر لے، کتنی ہی نفرتیں بو دے، کتنی ہی خونریزی کر لے، حقیقت یہی رہے گی کہ بلوچستان پاکستان تھا، پاکستان ہے اور ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ پاکستان کی سالمیت، آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اس وطن کے محافظ، اس کے عوام اور اس کی آنے والی نسلیں ہر اس قوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی رہیں گی جو اس مقدس سرزمین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ سازشیں وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر قوموں کا عزم نہیں توڑ سکتیں۔ ان شاء اللہ، بھارت کی ہر مذموم سازش ناکام و نامراد ہوگی، دہشت گردی کے اندھیرے چھٹیں گے، اور پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور باوقار ہو کر ابھرے گا۔

  • قصور،دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے کمسن لڑکے کی نعش برآمد

    قصور،دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے کمسن لڑکے کی نعش برآمد

    قصور ( طارق نوید سندھو سے ) ضلع وہاڑی کا رہائشی 16 سالہ شان ولد اشرف، جو اپنے رشتہ داروں کے پاس مزدوری کے سلسلے میں قصور آیا ہوا تھا، آج 8 جولائی کو کھیتوں میں کام کے دوران گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے دریائے ستلج میں نہانے کی غرض سے اترا۔ دریا میں پانی کی گہرائی 20 فٹ اور بہاؤ 7000 کیوسک ہونے کے باعث نوجوان گہرے پانی میں جا کر ڈوب گیا۔

    واقعے کی اطلاع کنٹرول روم کو ملتے ہی ریسکیو 1122 کی دو گاڑیاں دوپہر 13:16 بجے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ انسیڈنٹ کمانڈر محمد نواز (RSO) کی زیرِ نگرانی ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن کا آغاز کیا اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کی لاش کو دریا سے نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا۔ریسکیو حکام کی جانب سے شہریوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، نہروں اور گہرے پانیوں میں نہانے سے مکمل گریز کریں، کیونکہ موسم گرما میں پانی کے بہاؤ اور گہرائی کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے

  • قصور ، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے کے لیے 3 ارب روپے مختص

    قصور ، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے کے لیے 3 ارب روپے مختص

    KTWMA، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، کروم ریکوری پلانٹس اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس
    قصور(طارق نویدسندھوسے) ممبر قومی اسمبلی سعد وسیم شیخ، ممبران صوبائی اسمبلی ملک محمد احمد سعید خان ایڈووکیٹ اور حاجی محمد نعیم صفدر انصاری ایڈووکیٹ، جبکہ ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا کی مشترکہ صدارت میں KTWMAکے امور، ٹینریز میں انفرادی کروم ریکوری پلانٹس کی تنصیب، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، سیوریج، سینیٹیشن اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اربن یونٹ پنجاب کے نمائندگان، متعلقہ محکموں کے افسران، KTWMA انتظامیہ، ماحولیات سے متعلق اداروں اور ٹینریز مالکان کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اربن یونٹ پنجاب کی جانب سے "WWTP for Kasur Tannery Cluster” منصوبے پر ابتدائی بریفنگ دی گئی اور منصوبے کی فزیبیلٹی، تکنیکی پہلوؤں اور مستقبل کے لائحہ عمل سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں قصور کے عوام کے دیرینہ ماحولیاتی مسئلے کے مستقل حل کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے "WWTP for Kasur Tannery Cluster” منصوبہ پنجاب کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں Sr. No. 2622 کے تحت منظور کر لیا گیا ہے۔منصوبے کے تحت KTWMA کے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو مکمل طور پر فعال کیا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ جدید کروم ریکوری پلانٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ چمڑے کی صنعت سے خارج ہونے والے صنعتی فضلے کو مؤثر انداز میں ٹریٹ کرکے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ اس منصوبے پر تقریباً 3 ارب روپے (3000 ملین روپے) لاگت آئے گی جبکہ اس کی تکمیل کا تخمینہ 2 سے 3 سال رکھا گیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے نہ صرف قصور شہر بلکہ اس سے ملحقہ علاقوں، دریائے ستلج سے ملحق دیہات اور دیگر متاثرہ علاقوں کو صاف ماحول، محفوظ زیرزمین پانی، بہتر سینیٹیشن اور ماحولیاتی تحفظ کی صورت میں نمایاں فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ چمڑے کی صنعت کو فروغ، برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور مقامی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔ڈپٹی کمشنر محمد آصف رضا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹینریز میں انفرادی کروم ریکوری پلانٹس کی تنصیب کے حوالے سے جاری کیے گئے 15 روزہ نوٹس پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ٹینریز مالکان کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنی سفارشات پیش کریں کہ آیا ہر ٹینری میں الگ کروم ریکوری پلانٹ نصب کرنا زیادہ مؤثر ہوگا یا پھر 5 تا 6 یا 10 تا 12 ٹینریز کلسٹر کی صورت میں مشترکہ پلانٹ قائم کریں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت کروم ریکوری پلانٹس کی تنصیب لازمی ہوگی اور اس ضمن میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اربن یونٹ پنجاب کی فزیبیلٹی رپورٹ کی تیاری کے دوران ٹینریز کے نمائندگان کو بھی مکمل طور پر آن بورڈ رکھا جائے تاکہ منصوبہ زمینی حقائق اور صنعتی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ڈیفالٹر ٹینریز سے واجبات کی 100 فیصد وصولی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے یقینی بنائی جائے تاکہ KTWMA کی مالی مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ممبر قومی اسمبلی سعد وسیم شیخ نے کہا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ماحول دوست صنعت، پائیدار ترقی اور عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ یقینی بنا کر صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹینریز مالکان حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور کروم ریکوری کے منصوبے بروقت مکمل ہوں اور قصور ایک صاف، محفوظ اور ماحول دوست صنعتی شہر بن سکے۔ملک محمد احمد سعید خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ قصور میں زیرزمین پانی بڑی حد تک ناقابل استعمال ہو چکا ہے جبکہ KTWMA کے مسائل کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک ادارے یا شعبے کا نہیں بلکہ پورے ضلع اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے، جسے حکومت، متعلقہ اداروں، صنعتکاروں اور شہریوں کو مل کر حل کرنا ہوگا۔حاجی محمد نعیم صفدر انصاری نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے کی منظوری قصور کی صنعتی اور ماحولیاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون، مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے منصوبے کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنائیں گے تاکہ عوام کو اس کے ثمرات جلد از جلد مل سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ KTWMA کے تمام انتظامی، مالی اور تکنیکی مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرتے ہوئے قصور کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک، صنعتی لحاظ سے مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔

  • ننکانہ صاحب،محکمہ صحت میں‌ سنگین مالی و انتظامی سوالات،لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو واجبات نہ ملے

    ننکانہ صاحب،محکمہ صحت میں‌ سنگین مالی و انتظامی سوالات،لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو واجبات نہ ملے

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
    ننکانہ صاحب، ضلعی محکمہ صحت میں ایک سال میں 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول کا معمہ17 سرکاری گاڑیوں کے لیے ایک سال میں 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا، فیلڈ عملہ تاحال واجبات سے محروم،ذرائع
    چھ ماہ کے پی او ایل بل تیار ہونے کے باوجود بجٹ نہ ہونے کا جواز دے کر واپس کر دیے گئے،ذرائع
    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ فوری نوٹس لیں، پی او ایل فنڈ کا ریکارڈ طلب کر کے شفاف تحقیقات کرائیں
    فیلڈ میں خدمات سر انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جائیں

    ننکانہ صاحب ، محکمہ صحت پنجاب کے آئی آر ایم این سی ایچ اینڈ نیوٹریشن پروگرام میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHS) کو پی او ایل (Petrol, Oil & Lubricants) فنڈ کی عدم فراہمی سے متعلق سنگین مالی و انتظامی سوالات سامنے آ گئے ہیں،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 26 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز تعینات ہیں، جن میں سے 17 سپروائزرز کو سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں ان گاڑیوں کے لیے محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے 120 لیٹر ماہانہ پیٹرول مقرر ہے۔ اس حساب سے 17 گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 2,040 لیٹر جبکہ مالی سال یکم جولائی 2025 تا 30 جون 2026 کے دوران مجموعی طور پر 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے چھ ماہ کے پی او ایل واجبات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ بل تیار کر لیے گئے تھے اور تمام انتظامی کارروائی مکمل ہو چکی تھی، تاہم جون 2026 کے اختتام سے چند روز قبل یہ بل یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے کہ بجٹ دستیاب نہیں ہے،ذرائع کے مطابق خبر کی اشاعت کے بعد سی ای او ہیلتھ ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اختر چوہدری نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنی تعیناتی کے عرصے کے واجبات ادا کریں گے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی،

    ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر عبید حسین کی مبینہ انتظامی غفلت، مؤثر نگرانی کے فقدان اور محکمانہ لاپرواہی کے باعث یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا، ذرائع کے مطابق اگر بروقت متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا اور فنڈز کے اجرا کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے تو فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو اپنے جائز حق سے محروم نہ ہونا پڑتا،ضلعی محکمہ صحت کے ذرائع نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نادیہ ثاقب، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب، پروگرام ڈائریکٹر آئی آر ایم این سی ایچ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی سیکرٹری لیول پر غیر جانبدارانہ انکوائری، خصوصی آڈٹ اور ذمہ دار افسران کے تعین کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال کی حقیقت سامنے آ سکے اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جا سکیں،ذرائع نے بالخصوص ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کریں، حقائق کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اگر کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے،اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 24,480 لیٹر پیٹرول کا حساب کون دے گا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

  • اوکاڑہ ایل پی جی اوور چارجنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 25 دکانیں سیل

    اوکاڑہ ایل پی جی اوور چارجنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 25 دکانیں سیل

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلع بھر میں ایل پی جی مافیا اور گیس کی اوور چارجنگ کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی کی زیر نگرانی کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر گیس فروخت کرنے پر مجموعی طور پر 25 دکانیں سیل کر دی گئیں، 11 مقدمات درج کیے گئے جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کارروائیوں کے دوران اوکاڑہ شہر میں 7، شیرگڑھ میں 2، حجرہ شاہ مقیم میں 3، بصیر پور میں 5 اور حویلی لکھا میں 8 دکانیں سیل کی گئیں۔ سول ڈیفنس کی ٹیمیں ضلع بھر میں مسلسل فیلڈ چیکنگ کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
    سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی نے کہا کہ گیس مہنگے داموں فروخت کر کے عوام کا استحصال کرنے والے دکاندار فوری طور پر اپنی روش ترک کریں، کیونکہ سرکاری ریٹس سے تجاوز کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اوور چارجنگ کرنے والے دکانداروں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں گیس کی اوور چارجنگ کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن بلا تعطل جاری رہے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔