امریکا اور کینیڈا سمیت مغربی ممالک میں ایک نیا سماجی رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جہاں غیر شادی شدہ خواتین روایتی شادی کے بغیر ماں بننے کے لیے اسپرم ڈونرز کا انتخاب کر رہی ہیں۔ اس رجحان کو “سنگل مدر بائی چوائس” یا مختصراً ایس ایم بی سی کہا جاتا ہے، جس میں خواتین اپنی مرضی اور منصوبہ بندی کے تحت اکیلے بچوں کی پرورش کا فیصلہ کرتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی خواتین برسوں تک ناکام محبت، ڈیٹنگ ایپس پر مایوسی اور مناسب شریکِ حیات نہ ملنے کے بعد ماں بننے کے خواب کو ترک کرنے کے بجائے اسپرم ڈونر بینکس کا رخ کر رہی ہیں۔46 سالہ امریکی خاتون لیسلے جونز نے بتایا کہ وہ 35 برس کی عمر میں سنگل تھیں لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ ماں بنیں۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف اس لیے اپنے خواب کو ترک نہیں کیا کیونکہ ان کی زندگی میں کوئی مرد موجود نہیں تھا۔لیسلے جونز نے ایک فرٹیلٹی انسٹیٹیوٹ کے ذریعے اسپرم ڈونر کا انتخاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خوبصورت، لمبے قد اور بھوری آنکھوں والے مرد کی تلاش میں تھیں۔ ان کے مطابق وہ ایسا شخص چاہتی تھیں جسے اگر وہ کسی کیفے یا بار میں دیکھتیں تو انہیں پرکشش محسوس ہوتا۔انہوں نے دو اسپرم وائلز ایک ہزار ڈالر میں خریدیں اور اپنے سفر کا آغاز کیا، تاہم ماں بننے کی راہ انتہائی دشوار ثابت ہوئی۔
لیسلے جونز نے بتایا کہ ابتدائی آئی وی ایف علاج ناکام رہا، وزن بڑھ گیا، بعد میں ڈونر ایگز کے لیے مزید 15 ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے منتخب کردہ اسپرم ڈونر کے ذریعے بنائے گئے تمام آٹھ ایمبریوز اچانک ضائع ہوگئے، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔بعد ازاں انہوں نے وزن کم کرنے کی سرجری کروائی اور پھر ایک نامعلوم ڈونر جوڑے کے ایمبریو عطیے کے ذریعے حاملہ ہونے میں کامیاب رہیں۔ جون 2021 میں انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔لیسلے جونز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں اس بات پر کوئی افسوس نہیں کہ انہوں نے اکیلے ماں بننے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اب بعض خواتین اسپرم ڈونر کے انتخاب کو باقاعدہ سماجی تقریب کی شکل بھی دے رہی ہیں۔36 سالہ ایملی ویب نے اپنی دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ “اسپرم شاور” کا اہتمام کیا جہاں مختلف ڈونرز کی پروفائلز دیکھی گئیں، ان کی تعلیم، شخصیت، خاندانی پس منظر اور ظاہری شکل پر بحث کی گئی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے بہترین امیدوار منتخب کیا گیا۔اسی طرح نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کیٹلن نے اپنی بہن کے لیے “ہُوز مائی بے بی ڈیڈی” نامی تقریب منعقد کی، جس میں اہل خانہ نے ممکنہ اسپرم ڈونرز کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔سوشل میڈیا انفلوئنسر ایشلے ڈین نے بھی اسپرم ڈونر پارٹی کا اہتمام کیا جہاں اسپرم کی شکل والے کپ کیکس اور خصوصی کیک تیار کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں غیر شادی شدہ خواتین کی جانب سے بچوں کی پیدائش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔امریکی ادارہ سی ڈی سی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً 40 فیصد بچے غیر شادی شدہ خواتین کے ہاں پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ گزشتہ تین دہائیوں میں 30 سال سے زائد عمر کی اکیلی خواتین کی جانب سے اکیلے والدین بننے کے رجحان میں 140 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دنیا کے بڑے اسپرم اور ایگ بینک “کرایوس انٹرنیشنل” کے مطابق 36 سے 45 برس کی خواتین ان خدمات کے استعمال میں سب سے آگے ہیں۔44 سالہ جیسیکا نورمبرگ نے بتایا کہ ماں بننے کے لیے انہیں لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی 30 کی دہائی میں ایگز فریز کروائے تھے لیکن وہ عمل کامیاب نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ دس مختلف مراحل کے بعد وہ ایک بیٹی کی ماں بن سکیں۔ اسپرم ڈونر کے انتخاب کے لیے انہوں نے مردوں کی صحت، خاندانی تاریخ، شخصیت اور نفسیاتی پروفائلز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ان کی دو سالہ بیٹی کایا مستقبل میں 18 برس کی عمر کے بعد اپنے بائیولوجیکل ڈونر سے رابطہ کر سکے گی۔جیسیکا نے انکشاف کیا کہ ان کے منتخب کردہ اسپرم ڈونر کے ذریعے دنیا بھر میں تقریباً 50 بچے پیدا ہوچکے ہیں، جنہیں وہ اپنی بیٹی کے ’ہاف سبلنگز‘ قرار دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں اسپرم ڈونیشن اگرچہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے، تاہم ایک ہی ڈونر کے اسپرم کے استعمال کی تعداد پر سخت پابندیاں موجود نہیں۔امریکن سوسائٹی فار ری پروڈکٹیو میڈیسن نے خبردار کیا ہے کہ ایک ہی ڈونر کے بہت زیادہ استعمال سے مستقبل میں جینیاتی رشتوں سے لاعلم افراد کے آپس میں تعلقات قائم ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ کینڈس کیتھرین فیبرائل نے بتایا کہ انہوں نے 2020 میں اسپرم ڈونر کے ذریعے اپنے بیٹے کو جنم دیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں لوگوں نے ان کے فیصلے پر شکوک کا اظہار کیا، کیونکہ معاشرے میں روایتی شادی کو ہی بچوں کے لیے محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ محفوظ اور خوشحال خاندان صرف شادی سے نہیں بنتا بلکہ اس ماحول سے بنتا ہے جو والدین بچوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہتی ہیں کہ خاندان مختلف انداز میں تشکیل پا سکتے ہیں اور مکمل زندگی گزارنے کے لیے شادی ہی واحد راستہ نہیں۔