Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران کے پاس 70 فیصد میزائل ذخیرہ موجود،سی آئی اے

    ایران کے پاس 70 فیصد میزائل ذخیرہ موجود،سی آئی اے

    امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شدید بمباری کے باوجود ایران اب بھی اپنے تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق یہ رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے جلد خاتمے سے متعلق پر امید بیانات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو کم از کم 3 سے 4 ماہ تک برداشت کر سکتا ہے، اس کے بعد ہی اسے شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا،رپورٹ کے مطابق شدید بمباری کے باوجود ایران اب بھی اپنے تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرے کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ایرانی حکومت نے اپنی زیرِ زمین میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال کر لیا ہے، تباہ شدہ میزائلوں کی مرمت کی ہے اور نئے میزائل بھی تیار کیے ہیں۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کو اوول آفس میں کہا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہو چکے ہیں، شاید صرف 18 یا 19 فیصد باقی ہیں۔ تاہم سی آئی اے کی رپورٹ اس دعوے سے مختلف ہے،امریکی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت سی آئی اے کے ابتدائی اندازے سے بھی زیادہ ہے۔ایک اہلکار نے کہا کہ ایرانی قیادت زیادہ سخت اور پرعزم ہو گئی ہے۔

  • طلبہ کی جنسی زندگی پر نئی تحقیق، دوران تعلق موبائل استعمال کرنے کا انکشاف

    طلبہ کی جنسی زندگی پر نئی تحقیق، دوران تعلق موبائل استعمال کرنے کا انکشاف

    امریکا میں ہونے والے ایک نئے سروے نے نوجوان نسل کی بدلتی عادات اور اسمارٹ فون پر بڑھتے انحصار سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے لائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہر تین میں سے ایک امریکی کالج طالبعلم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جنسی تعلق کے دوران بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے۔

    یہ سروے سوشل میڈیا ایپس “یک یاک” اور “سائیڈ چیٹ” کے ذریعے کیا گیا، جس میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ایک لاکھ امریکی طلبہ نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 35 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ تعلق کے دوران کبھی نہ کبھی ٹیکسٹ میسج بھیجنے، سوشل میڈیا چیک کرنے یا ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے کے لیے فون استعمال کرچکے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ نئی نسل اسکرینز اور ڈیجیٹل دنیا پر کس قدر انحصار کرچکی ہے۔ تحقیق میں شامل نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اعتراف کیا کہ موبائل فون اب ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، حتیٰ کہ انتہائی ذاتی لمحات میں بھی وہ اس سے دور نہیں رہ پاتے۔

    سروے میں نوجوانوں کی نجی زندگی اور تعلقات سے متعلق دیگر سوالات بھی پوچھے گئے۔ حیران کن طور پر 23 فیصد طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے روم میٹ کی موجودگی میں بھی اپنے پارٹنر کے ساتھ تعلق قائم کیا۔ اس کے علاوہ 72 فیصد طلبہ نے کہا کہ ان کی موجودہ یا حالیہ محبت یا رومانوی تعلق آن لائن کے بجائے حقیقی زندگی میں ملاقات کے ذریعے قائم ہوا۔تحقیق کے نتائج ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ “جنریشن زی” یا نوجوان نسل “سیکس ریسیشن” یعنی جنسی تعلقات میں کمی کے دور سے گزر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو عمر کے مختلف گروپس کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 22 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں جنسی تعلقات میں کمی زیادہ دیکھی گئی، جبکہ موجودہ سروے بنیادی طور پر کالج جانے والے نوجوانوں یعنی 18 سے 22 سال کے افراد پر مشتمل تھا۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ کورونا وبا بھی ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جو نوجوان اس وقت 22 سے 34 برس کے درمیان ہیں، انہوں نے اپنی تعلیم اور ابتدائی ملازمت کے اہم سال کورونا لاک ڈاؤن اور آن لائن زندگی میں گزارے، جس کی وجہ سے ان میں سماجی میل جول اور تعلقات سے متعلق بے چینی بڑھی۔ اس کے برعکس موجودہ کالج طلبہ نسبتاً نارمل کیمپس زندگی کا تجربہ کررہے ہیں، جس کے باعث ان کے رویے مختلف نظر آتے ہیں۔

    گزشتہ برس “نیشنل سروے آف فیملی گروتھ” کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ امریکا میں نوجوانوں کے ایک بڑے حصے میں جنسی تعلقات سے دوری بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 22 سے 34 سال کے 10 فیصد مرد اور 7 فیصد خواتین نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک کنوارے ہیں۔امریکی ادارے “انسٹیٹیوٹ آف فیملی اسٹڈیز” نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوان مردوں میں جنسی تعلقات سے دوری کی شرح تقریباً دوگنی ہوچکی ہے، جبکہ خواتین میں اس میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی عادت نوجوانوں کی توجہ، تعلقات اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے۔ ان کے مطابق حقیقی انسانی تعلقات میں مسلسل ڈیجیٹل مداخلت مستقبل میں سماجی رویوں کو مزید تبدیل کرسکتی ہے۔

  • عضوِ تناسل کا کینسر ،غلط تشخیص ، 4 انچ حصہ کٹوانا پڑگیا

    عضوِ تناسل کا کینسر ،غلط تشخیص ، 4 انچ حصہ کٹوانا پڑگیا

    برطانیہ کے 26 سالہ نوجوان اسٹیون ہیمل نے ایک نہایت تکلیف دہ اور نایاب بیماری کے خلاف اپنی جدوجہد بیان کرتے ہوئے مردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ اسٹیون کو عضوِ تناسل کے جارحانہ کینسر نے اس حد تک متاثر کیا کہ ڈاکٹروں کو ان کے عضوِ تناسل کا تقریباً 4 انچ حصہ کاٹنا پڑا۔

    اسٹیون ہیمل نے برطانوی ٹی وی پروگرام میں اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ایک صبح وہ شدید سوجن کے ساتھ بیدار ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا اور امید کی کہ یہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔لیکن چند ہی دن بعد صورتحال خوفناک رخ اختیار کر گئی۔ اسٹیون کے مطابق وہ گھر میں چائے بنا رہے تھے کہ اچانک انہیں نیچے نمی محسوس ہوئی۔ جب انہوں نے دیکھا تو ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا“خون الماریوں، فرش اور میرے پیروں تک پھیل چکا تھا۔ منظر انتہائی خوفناک تھا۔”

    شدید خون بہنے کے بعد اسٹیون ڈاکٹر کے پاس گئے، تاہم ان کی کم عمر ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کینسر کے امکان کو تقریباً مسترد کر دیا۔اسٹیون کے مطابق انہیں بتایا گیا “تم صرف 26 سال کے ہو، اس عمر میں عضوِ تناسل کا کینسر نہیں ہوتا، یہ زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے مردوں میں پایا جاتا ہے۔”ڈاکٹروں نے انہیں بالانائٹس نامی بیکٹیریل انفیکشن قرار دیتے ہوئے سٹیرائیڈ کریم استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ کچھ عرصے تک اسٹیون مطمئن رہے کہ انہیں کینسر نہیں ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر بڑھتی رہی۔

    کچھ ہی ہفتوں بعد اسٹیون کو شدید تکلیف شروع ہوگئی۔ انہوں نے درد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا “ایسا لگتا تھا جیسے کوئی مسلسل سوئی چبھو رہا ہو، ہر سیکنڈ درد بڑھتا جاتا تھا۔”وہ کئی کئی گھنٹے گرم پانی کے ٹب میں بیٹھے رہتے کیونکہ صرف گرم پانی ہی انہیں کچھ سکون دیتا تھا۔بعد ازاں خون بہنا دوبارہ شروع ہوگیا۔ ایک موقع پر وہ اپنی بہن کی شادی سے ایک دن پہلے بھائی کی گاڑی میں بے ہوش ہوگئے اور جب آنکھ کھلی تو گاڑی خون سے بھر چکی تھی۔حالت تشویشناک ہونے کے باوجود اسٹیون نے بہن کی شادی میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بالغ افراد کیلئے استعمال ہونے والے پیڈز پہن کر تقریب میں شرکت کی اور درد کم کرنے کیلئے شراب کا سہارا لیا۔ان کے مطابق “میں نے خود سے کہا کہ شادی نہیں چھوڑ سکتا، چاہے تکلیف کتنی ہی کیوں نہ ہو۔”

    بعد ازاں ماہر یورولوجسٹ نے فوری طور پر انہیں کینسر اسپیشلسٹ کے پاس بھیجا۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے ختنہ کرنے کا فیصلہ کیا، مگر سرجری کے دوران معلوم ہوا کہ سرطان عضوِ تناسل کے ٹشوز کو بری طرح تباہ کر چکا ہے۔اسٹیون نے بتایا کہ عضو کی حالت ایسی ہوگئی تھی جیسے “کیلے کو نیچے سے کاٹ دیا گیا ہو” اور اندر ایک “بڑا گڑھا” بن چکا تھا۔ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ کینسر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور جان بچانے کیلئے عضوِ تناسل کا بڑا حصہ کاٹنا ناگزیر ہے۔سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے عضوِ تناسل کے سرے سمیت تقریباً 4 انچ حصہ نکال دیا۔ اسٹیون کے مطابق ڈاکٹروں کے چہروں سے ہی ظاہر ہورہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ شاید وہ زندہ نہ بچ سکیں۔ان کے یورولوجسٹ نے صاف الفاظ میں کہا “یہ بہت خراب صورتحال ہے۔ میں تمہاری عمر کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حصہ بچانے کی کوشش کروں گا، لیکن تمہاری زندگی اب مکمل طور پر بدل جائے گی۔”

    طویل علاج اور کامیاب صحت یابی کے بعد اسٹیون اب عضوِ تناسل کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بیماری نے ان کی زندگی کا نظریہ بدل دیا۔انہوں نے کہا“میں نے زندگی کو نئے انداز سے دیکھنا سیکھ لیا ہے۔ اب رشتے زیادہ گہرے اور جذباتی محسوس ہوتے ہیں۔”اسٹیون نے مصنوعی تعمیرِ نو نہ کروانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس سے حساسیت مزید کم ہوسکتی تھی۔

    ماہرین کے مطابق عضوِ تناسل کا کینسر دنیا بھر میں نسبتاً نایاب بیماری ہے، تاہم اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق ہر سال امریکا میں تقریباً 2 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔بیماری کی علامات میں‌،عضو پر سرخ دھبے،غیر معمولی سوجن،خون بہنا،زخم یا گلٹیاں،رنگت میں تبدیلی،بدبودار مواد یا اخراج ،شدید درد شامل ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی علامت دو ہفتوں سے زائد برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔اسٹیون ہیمل نے مردوں سے اپیل کی ہے کہ شرمندگی یا خوف کی وجہ سے طبی معائنہ مؤخر نہ کریں۔انہوں نے کہا “اگر آپ مسلسل ماضی کو دیکھتے رہیں تو آگے نہیں بڑھ سکتے۔ میں زندہ ہوں، میرے پاس میرا بچہ ہے، زندگی اب بھی خوبصورت ہے، چاہے کچھ چیزیں ظاہری طور پر مختلف کیوں نہ ہوں۔”

  • ورزش احتیاط سے،ورنہ مردانہ کمزوری بھی ہو سکتی ہے

    ورزش احتیاط سے،ورنہ مردانہ کمزوری بھی ہو سکتی ہے

    ایک مضبوط جسم اور بہترین فٹنس ہر مرد کی خواہش ہوتی ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جم میں کی جانے والی کچھ عام غلطیاں مردوں کی جنسی صحت کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ خصوصاً ویٹ لفٹنگ اور سخت ورزش کے دوران جسم کے مخصوص عضلات پر ضرورت سے زیادہ دباؤ مستقبل میں جنسی مسائل، درد اور حتیٰ کہ مردانہ کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ ویٹ ٹریننگ عضلات کو طاقتور بناتی ہے، دماغی صحت بہتر کرتی ہے اور ذیابیطس و دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرتی ہے، تاہم بعض ورزشیں جسم کے عضلات کو حد سے زیادہ سخت اور تناؤ کا شکار بنا دیتی ہیں۔یہ عضلات جسم کے نچلے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور مثانے، آنتوں اور جنسی اعضاء کو سہارا دیتے ہیں۔ یہی عضلات دیگر بنیادی جسمانی افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برطانوی پرسنل ٹرینر ٹوبی کنگ نے بتایا کہ اگر یہ عضلات مسلسل دباؤ اور سختی کا شکار رہیں تو خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے جنسی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق بہت سے مرد ورزش کے دوران مسلسل جسم کو سخت حالت میں رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ کیفیت درد کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ ورزشیں جن میں جسم کو زور سے دبانا پڑتا ہے، زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں، ان ورزشوں کے دوران اکثر لوگ لاشعوری طور پر شرونیی فرش کے پٹھوں کو مسلسل سکیڑتے رہتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ عضلات اپنی قدرتی کارکردگی کھو سکتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ سائیکلنگ اور ٹرائیتھلون جیسی سرگرمیوں میں طویل وقت تک غلط سیٹ استعمال کرنے سے بھی عضلات پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جو جنسی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ورزش کے دوران غلط سانس لینے کا طریقہ بھی مسئلہ بڑھا دیتی ہے۔اگر کوئی شخص بھاری وزن اٹھاتے وقت صحیح انداز میں سانس نہ لے تو جسم کے اندر پیدا ہونے والا دباؤپیلوک فلور کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جس سے عضلات مزید متاثر ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزشیں مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ جسمانی ساخت اور طاقت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ تاہم اگر علامات ظاہر ہوں تو ورزش کے طریقہ کار اور شدت کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ماہرین نے چند اہم تجاویز دی ہیں ،ورزش کے دوران صحیح طریقہ اپنائیں،بھاری وزن آہستہ آہستہ بڑھائیں،جسم کو مسلسل تناؤ کی حالت میں نہ رکھیں ،پیلوک فلور اسپیشلسٹ اور فزیوتھراپسٹ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ مسئلہ عضلات کی کمزوری، سختی یا ری لیکسیشن کی خرابی کی وجہ سے ہے۔ ماہرین نے مردوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ورزش کے بعد جنسی کمزوری یا غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو شرمندگی کے بجائے فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  • رسی باندھنے کی روایت ’شیباری‘ کیا واقعی رشتوں کو مضبوط بناتی ہے؟ نئی بحث چھڑ گئی

    رسی باندھنے کی روایت ’شیباری‘ کیا واقعی رشتوں کو مضبوط بناتی ہے؟ نئی بحث چھڑ گئی

    امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ نے جاپانی فن “شیباری” یا “رسی پلے” کو ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جہاں بعض جوڑے اسے تعلقات میں اعتماد، قربت اور بہتر رابطے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ عمل کمزور رشتوں کی خامیوں کو بھی بے نقاب کر سکتا ہے۔

    شیباری، جس کا مطلب جاپانی زبان میں “باندھنا” یا “گرہ لگانا” ہے، دراصل رسیوں کے ذریعے جسم کو مخصوص انداز میں باندھنے کا ایک قدیم فن ہے۔ ماضی میں اسے محض ایک جنسی رجحان یا درد و تسلط سے وابستہ سرگرمی سمجھا جاتا تھا، مگر اب اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی رابطے کا بھی ایک منفرد ذریعہ بن چکا ہے۔شیباری اکیڈمی کی بانی سارا لانڈا نے کہا کہ شیباری دراصل “بغیر الفاظ کے گفتگو” ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں شریک افراد ایک دوسرے کے سانس لینے کے انداز، جسمانی تناؤ، حرکات اور چہرے کے تاثرات کو محسوس کرتے ہیں، جس سے گہری قربت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں لوگ جذباتی تنہائی کا زیادہ شکار ہیں اور اسی وجہ سے ایسے تجربات کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو اعتماد، حدود کے تعین اور باہمی رابطے کو مضبوط کریں۔ ان کے مطابق شیباری مکمل توجہ، اعتماد اور حساس رابطے کا نام ہے۔

    رپورٹ میں شامل ایک جوڑے رچرڈ اور کیٹ نے بتایا کہ ابتدا میں وہ شیباری کو محض درد اور اطاعت سے جڑی سرگرمی سمجھتے تھے، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ ان کے تعلق کو زیادہ متوازن اور مضبوط بنانے کا ذریعہ بن گیا۔رچرڈ کے مطابق، “ہم اب ایک دوسرے کو صرف دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں۔ اگر تکلیف ہو تو فوراً بتاتے ہیں، اگر مدد چاہیے ہو تو مانگ لیتے ہیں۔”کیٹ نے کہا کہ شیباری نے ان کے تعلق کی نوعیت بدل دی اور رشتے میں برابری کا احساس پیدا کیا۔

    اسی طرح ایک اور جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے تعلق کے ابتدائی دنوں میں شیباری آزمایا تھا۔ ان کے مطابق ابتدا میں یہ محض ایک “دلچسپ تجربہ” لگا، مگر بعد میں اس نے انہیں ایک دوسرے کے جذبات اور کمزوریوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔یاسمین کا کہنا تھا کہ شیباری نے انہیں اپنی ضروریات واضح انداز میں بیان کرنا سکھایا۔ “جب آپ مکمل طور پر دوسرے شخص پر اعتماد کرتے ہیں تو آپ کو اپنی آواز استعمال کرنا پڑتی ہے، اور یہی چیز تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔”

    ماہرین کے مطابق شیباری جیسے تجربات صرف اسی وقت مثبت ثابت ہوتے ہیں جب دونوں افراد کے درمیان واضح رضامندی، مکمل اعتماد اور کھلی گفتگو موجود ہو۔ اگر تعلق پہلے سے تناؤ یا غلط فہمیوں کا شکار ہو تو یہ سرگرمی اختلافات کو مزید نمایاں بھی کر سکتی ہے۔سارہ لانڈا نے خبردار کیا کہ شیباری کسی جادوئی حل کی طرح نہیں، بلکہ یہ رشتے میں پہلے سے موجود حقیقت کو زیادہ واضح کر دیتا ہے۔ اگر جوڑے کے درمیان اعتماد اور رابطہ مضبوط ہو تو یہ قربت بڑھا سکتا ہے، لیکن اگر مسائل موجود ہوں تو وہ بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں “جذباتی قربت” دنیا بھر میں سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے تعلقاتی موضوعات میں شامل رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی تعلق کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

  • اسپرم ڈونر  کا بڑھتا رجحان، اکیلی خواتین ماں بننے کیلیے نئے راستے اختیار کرنے لگیں

    اسپرم ڈونر کا بڑھتا رجحان، اکیلی خواتین ماں بننے کیلیے نئے راستے اختیار کرنے لگیں

    امریکا اور کینیڈا سمیت مغربی ممالک میں ایک نیا سماجی رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جہاں غیر شادی شدہ خواتین روایتی شادی کے بغیر ماں بننے کے لیے اسپرم ڈونرز کا انتخاب کر رہی ہیں۔ اس رجحان کو “سنگل مدر بائی چوائس” یا مختصراً ایس ایم بی سی کہا جاتا ہے، جس میں خواتین اپنی مرضی اور منصوبہ بندی کے تحت اکیلے بچوں کی پرورش کا فیصلہ کرتی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق کئی خواتین برسوں تک ناکام محبت، ڈیٹنگ ایپس پر مایوسی اور مناسب شریکِ حیات نہ ملنے کے بعد ماں بننے کے خواب کو ترک کرنے کے بجائے اسپرم ڈونر بینکس کا رخ کر رہی ہیں۔46 سالہ امریکی خاتون لیسلے جونز نے بتایا کہ وہ 35 برس کی عمر میں سنگل تھیں لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ ماں بنیں۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف اس لیے اپنے خواب کو ترک نہیں کیا کیونکہ ان کی زندگی میں کوئی مرد موجود نہیں تھا۔لیسلے جونز نے ایک فرٹیلٹی انسٹیٹیوٹ کے ذریعے اسپرم ڈونر کا انتخاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خوبصورت، لمبے قد اور بھوری آنکھوں والے مرد کی تلاش میں تھیں۔ ان کے مطابق وہ ایسا شخص چاہتی تھیں جسے اگر وہ کسی کیفے یا بار میں دیکھتیں تو انہیں پرکشش محسوس ہوتا۔انہوں نے دو اسپرم وائلز ایک ہزار ڈالر میں خریدیں اور اپنے سفر کا آغاز کیا، تاہم ماں بننے کی راہ انتہائی دشوار ثابت ہوئی۔

    لیسلے جونز نے بتایا کہ ابتدائی آئی وی ایف علاج ناکام رہا، وزن بڑھ گیا، بعد میں ڈونر ایگز کے لیے مزید 15 ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے منتخب کردہ اسپرم ڈونر کے ذریعے بنائے گئے تمام آٹھ ایمبریوز اچانک ضائع ہوگئے، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔بعد ازاں انہوں نے وزن کم کرنے کی سرجری کروائی اور پھر ایک نامعلوم ڈونر جوڑے کے ایمبریو عطیے کے ذریعے حاملہ ہونے میں کامیاب رہیں۔ جون 2021 میں انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔لیسلے جونز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں اس بات پر کوئی افسوس نہیں کہ انہوں نے اکیلے ماں بننے کا فیصلہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق اب بعض خواتین اسپرم ڈونر کے انتخاب کو باقاعدہ سماجی تقریب کی شکل بھی دے رہی ہیں۔36 سالہ ایملی ویب نے اپنی دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ “اسپرم شاور” کا اہتمام کیا جہاں مختلف ڈونرز کی پروفائلز دیکھی گئیں، ان کی تعلیم، شخصیت، خاندانی پس منظر اور ظاہری شکل پر بحث کی گئی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے بہترین امیدوار منتخب کیا گیا۔اسی طرح نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کیٹلن نے اپنی بہن کے لیے “ہُوز مائی بے بی ڈیڈی” نامی تقریب منعقد کی، جس میں اہل خانہ نے ممکنہ اسپرم ڈونرز کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔سوشل میڈیا انفلوئنسر ایشلے ڈین نے بھی اسپرم ڈونر پارٹی کا اہتمام کیا جہاں اسپرم کی شکل والے کپ کیکس اور خصوصی کیک تیار کیے گئے۔

    ماہرین کے مطابق امریکا میں غیر شادی شدہ خواتین کی جانب سے بچوں کی پیدائش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔امریکی ادارہ سی ڈی سی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً 40 فیصد بچے غیر شادی شدہ خواتین کے ہاں پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ گزشتہ تین دہائیوں میں 30 سال سے زائد عمر کی اکیلی خواتین کی جانب سے اکیلے والدین بننے کے رجحان میں 140 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دنیا کے بڑے اسپرم اور ایگ بینک “کرایوس انٹرنیشنل” کے مطابق 36 سے 45 برس کی خواتین ان خدمات کے استعمال میں سب سے آگے ہیں۔44 سالہ جیسیکا نورمبرگ نے بتایا کہ ماں بننے کے لیے انہیں لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی 30 کی دہائی میں ایگز فریز کروائے تھے لیکن وہ عمل کامیاب نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ دس مختلف مراحل کے بعد وہ ایک بیٹی کی ماں بن سکیں۔ اسپرم ڈونر کے انتخاب کے لیے انہوں نے مردوں کی صحت، خاندانی تاریخ، شخصیت اور نفسیاتی پروفائلز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ان کی دو سالہ بیٹی کایا مستقبل میں 18 برس کی عمر کے بعد اپنے بائیولوجیکل ڈونر سے رابطہ کر سکے گی۔جیسیکا نے انکشاف کیا کہ ان کے منتخب کردہ اسپرم ڈونر کے ذریعے دنیا بھر میں تقریباً 50 بچے پیدا ہوچکے ہیں، جنہیں وہ اپنی بیٹی کے ’ہاف سبلنگز‘ قرار دیتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق امریکا میں اسپرم ڈونیشن اگرچہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے، تاہم ایک ہی ڈونر کے اسپرم کے استعمال کی تعداد پر سخت پابندیاں موجود نہیں۔امریکن سوسائٹی فار ری پروڈکٹیو میڈیسن نے خبردار کیا ہے کہ ایک ہی ڈونر کے بہت زیادہ استعمال سے مستقبل میں جینیاتی رشتوں سے لاعلم افراد کے آپس میں تعلقات قائم ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

    کینیڈا سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ کینڈس کیتھرین فیبرائل نے بتایا کہ انہوں نے 2020 میں اسپرم ڈونر کے ذریعے اپنے بیٹے کو جنم دیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں لوگوں نے ان کے فیصلے پر شکوک کا اظہار کیا، کیونکہ معاشرے میں روایتی شادی کو ہی بچوں کے لیے محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ محفوظ اور خوشحال خاندان صرف شادی سے نہیں بنتا بلکہ اس ماحول سے بنتا ہے جو والدین بچوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہتی ہیں کہ خاندان مختلف انداز میں تشکیل پا سکتے ہیں اور مکمل زندگی گزارنے کے لیے شادی ہی واحد راستہ نہیں۔

  • اونلی فینز ماڈل سے دوران جنسی سرگرمی گاہک قتل

    اونلی فینز ماڈل سے دوران جنسی سرگرمی گاہک قتل

    کیلیفورنیا کی ایک خاتون، جو بظاہر گھریلو زندگی گزار رہی تھیں لیکن خفیہ طور پر اونلی فینز ماڈل اور ہائی پروفائل ایسکارٹ کے طور پر کام کرتی تھیں، نے ایک گاہک کی ہلاکت کے مقدمے میں غیر ارادی قتلِ انسان کا جرم قبول کر لیا ہے۔

    32 سالہ میکائیلا رائلارسڈم کو آئندہ ماہ چار سال قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ استغاثہ کے مطابق 55 سالہ مائیکل ڈیل ایک خطرناک جنسی سرگرمی کے دوران دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہوئے۔یہ واقعہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے ایسکونڈیڈو میں پیش آیا۔ حکام کے مطابق میکائیلا گزشتہ تقریباً 10 برس سے اس صنعت سے وابستہ تھیں اور ریورسائیڈ کاؤنٹی کے علاقے مینفی میں مقیم تھیں۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر جنسی سرگرمی کے دوران مائیکل ڈیل کے منہ پر ڈکٹ ٹیپ لگائی جبکہ ان کے سر پر پلاسٹک بیگ چڑھایا گیا۔ چونکہ متاثرہ شخص کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے، اس لیے وہ خود کو آزاد نہ کرا سکے۔

    تحقیقات کے مطابق متاثرہ شخص تقریباً 8 منٹ تک اسی حالت میں رہا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اگلے روز ڈاکٹروں نے اسے دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے فوراً بعد انہوں نے 911 پر کال کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق ان کے شوہر برینڈن رائلارسڈم کو بھی ان کے اونلی فینز اکاؤنٹ اور کاروبار کا علم تھا اور وہ اس کے انتظام میں مدد کرتے تھے۔

    خاتون اپنے آن لائن پروفائل پر “Ashley SinCal” کے نام سے سرگرم تھیں اور خود کو “اعلیٰ معیار کی پرفارمر” قرار دیتی تھیں۔ ان کی ویب سائٹ پر مختلف خدمات کی قیمتیں بھی درج تھیں، جن میں خصوصی ملاقات کے لیے 1500 ڈالر تک فیس طلب کی جاتی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیکل ڈیل نے اس مخصوص ملاقات کے لیے خاتون کو 11 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔خاتون کے وکیل ڈین کوہن نے کہا کہ ان کی مؤکلہ کا قتل کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور واقعے کے بعد انہوں نے شواہد چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ وکیل کے مطابق متاثرہ شخص اس نوعیت کی سرگرمی میں خود دلچسپی رکھتا تھا۔

  • آبنائے ہرمز کے قریب چینی تیل بردار جہاز پر حملہ، ڈیک پر آگ بھڑک اٹھی

    آبنائے ہرمز کے قریب چینی تیل بردار جہاز پر حملہ، ڈیک پر آگ بھڑک اٹھی

    آبنائے ہرمز کے قریب ایک چینی ملکیت کے تیل بردار جہاز پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے ڈیک پر آگ لگ گئی۔ واقعے نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    چینی میڈیا اداروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی تیل بردار جہاز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ حملے کا شکار ہونے والے جہاز پر “چائنہ اونر اینڈ کریو” درج تھا، جس سے اس کی چینی ملکیت اور عملے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔بحری سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ جہاز غالباً “جے وی انوویشن” نامی آئل اینڈ کیمیکل ٹینکر تھا، جو مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔

    یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کی ميناء صقر بندرگاہ کے قریب پیش آیا، جہاں حملے کے بعد جہاز کے ڈیک سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • ایرانی صدر کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات

    ایرانی صدر کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈرآیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے،ملاقات کو ایرانی صدر نے اعتماد، عاجزی اور خلوص سے بھرپور قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ہونے والی ملاقات نہایت مثبت ماحول میں ہوئی، جہاں باہمی اعتماد اور اخلاص نمایاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اندازِ گفتگو، سوچ اور عاجزانہ طرزِ عمل نے انہیں بے حد متاثر کیا۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کا اخلاقی رویہ اور انکساری انتظامی نظام کے لیے ایک عملی مثال ہے۔ ان کے مطابق سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، جس کے دوران مختلف قومی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ قیادت میں عاجزی، خلوص اور عوامی احساس ذمہ داری ہی مضبوط حکمرانی کی بنیاد بنتی ہے، اور یہی خصوصیات انہوں نے سپریم لیڈر کی شخصیت میں نمایاں طور پر محسوس کیں۔

  • گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ  میں کلچرل ڈے منایا گیا

    گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ میں کلچرل ڈے منایا گیا

    گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ لاہور میں کلچرل ڈے منایا گیا، اس موقع پر رنگا رنگ اور شاندار تقریبات منعقد کی گئیں

    گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ میں ثقافتِ پنجاب کے دلکش رنگوں سے سجا یہ دن نہ صرف روایات کی خوبصورت عکاسی کرتا رہا بلکہ طالبات کے چہروں پر خوشی، جوش اور اپنائیت کی جھلک بھی نمایاں دکھائی دی۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ میں منعقدہ کلچرل ڈے کے موقع پر مختلف ثقافتی سرگرمیوں، روایتی ملبوسات، علاقائی کھانوں اور تفریحی پروگراموں نے میلے کا سماں باندھ دیا،تقریب کے آغاز سے ہی کالج کا ماحول دیدہ زیب ثقافتی رنگوں میں ڈھلا ہوا نظر آیا۔ طالبات نے وطن عزیز پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے خوبصورت روایتی لباس زیب تن کیے، جبکہ مختلف اسٹالز پر علاقائی کھانوں، دستکاریوں اور ثقافتی اشیاء کی نمائش بھی کی گئی۔ ان اسٹالز پر طالبات کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا ،

    کلچرل ڈے کی سب سے نمایاں اور دلچسپ سرگرمی اونٹ سواری رہی، جس نے طالبات کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ طالبات نے نہ صرف اس منفرد سرگرمی سے بھرپور لطف اٹھایا بلکہ تصاویر اور یادگار لمحات کو اپنے کیمروں میں بھی محفوظ کیا،کالج انتظامیہ کی جانب سے طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی کے خصوصی اقدامات کیے گئے جبکہ تقریب کے دوران نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے عملہ ہر وقت متحرک دکھائی دیا۔

    گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وومین اسلام پورہ کی طالبات نے اس خوبصورت اور یادگار تقریب کے انعقاد پر کالج انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف ذہنی آسودگی فراہم کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو اپنی ثقافت، روایات اور تہذیب سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں،