Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی حکومت نے فلم ’ستلج‘ کیوں رکوائی، کیا نئی دہلی اپنی خونریز تاریخ چھپانا چاہتا ہے؟

    بھارتی حکومت نے فلم ’ستلج‘ کیوں رکوائی، کیا نئی دہلی اپنی خونریز تاریخ چھپانا چاہتا ہے؟

    معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم کو بھارتی حکومت محض دو دن ہی برداشت کر پائی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حقیقی واقعات پر مبنی فلم ستلج بھارت میں ZEE5⁠ نے نشر کی تھی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج تین برس کی تاخیر اور تین ناموں کی تبدیلی کے بعد 3 جولائی 2026 کو بھارت میں ریلیز ہوئی۔ فلم ساز نے سنسر بورڈ کے اعتراضات کو دور کرنے کے لئے پہلے گھلوگھارا، پھر پنجاب ’95 اور آخر میں ستلج رکھا گیا ، تاہم یہ کوشش ناکام رہی، بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر فلم کو بھارت میں زی فائیو سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ فلم ستلج پنجاب میں 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور پولیس کے مبینہ مظالم پر مبنی ہے۔ فلم سکھ انسانی حقوق کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی سے متاثر ہے، جنہوں نے پنجاب ہزاروں گمشدگیوں اور مبینہ ہلاکتوں کی تحقیقات کیں۔ جسونت سنگھ کھالڑہ نے انکشاف کیا تھا کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے خاموشی سے جلا دیا گیا۔ کھالڑہ نے بلدیاتی ریکارڈز سے 25 ہزار سے زائد ایسے افراد کا سراغ لگایا جنہیں پولیس نے قتل کر کے خاندانوں کو اطلاع دیے بغیر نامعلوم لاشوں کے طور پر جلا دیا۔ جسونت سنگھ کھالڑہ نے اپنی تحقیقات پر پریس کانفرنسیں کیں اور بیرونِ ملک بھی آواز اٹھائی جسونت سنگھ خالصہ کو 1995ء میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا- کھالڑہ کی بیوہ پرمجیت کور کھالڑہ نے انصاف کے حصول کے لئے طویل قانونی جدوجہد کی۔ پرمجیت کور کھالڑہ برسوں سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ پنجاب میں سکھوں کے خلاف مبینہ ریاستی جرائم پر پولیس سربراہ کے پی ایس گل کا بین الاقوامی سطح پر احتساب ہو۔ پنجاب پولیس کریک ڈاؤن کے سربراہ K. P. S. Gill پر کھالڑہ قتل کے حوالے سے کبھی فردِ جرم عائد نہ ہوئی۔ فلم میں سکھوں کی ماورائے عدالت گمشدگیوں اور قتل کے لئے “نسل کشی” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے

  • خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا

    خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا

    پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزیوں پر قید، جرمانے یا دونوں سزائیں دینے کی شقیں شامل کر دی گئی ہیں۔

    منظور شدہ ترمیمی ایکٹ کے مطابق اسمبلی یا کسی قائمہ کمیٹی کی کارروائی، سوالات، قرارداد، تحریک یا تحریکِ التوا کو ایوان میں پیش کیے جانے یا سرکاری طور پر جاری ہونے سے قبل شائع یا نشر کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ قانون کے تحت ایسی خلاف ورزی کو قابلِ سزا جرم تصور کیا جائے گا۔ایکٹ میں مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کے لیے الگ الگ سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اسمبلی کی کارروائی یا کسی رکن کی تقریر کی مسخ شدہ یا گمراہ کن رپورٹ شائع کرنے پر تین ماہ تک قید یا تین لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔اسی طرح ممنوعہ اسمبلی کارروائی یا قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کو قبل از وقت شائع یا نشر کرنے والے افراد کو چھ ماہ تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ترمیمی قانون کے تحت اسمبلی یا اس کے وقار کے خلاف ہتک آمیز بیانات شائع کرنے پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو چھ ماہ تک قید، پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔مزید برآں، اسمبلی کے کسی افسر پر حملہ کرنے یا سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں ایک ماہ تک قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں نافذ کی جا سکیں گی۔

  • صحافی و پوڈکاسٹر ریحان طارق لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار

    صحافی و پوڈکاسٹر ریحان طارق لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار

    لاہور: صحافی اور پوڈکاسٹر ریحان طارق کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنی فیملی کے ہمراہ لندن سے لاہور پہنچے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریحان طارق گزشتہ رات ایک بجے کے بعد لندن سے آنے والی پرواز کے ذریعے لاہور ایئرپورٹ پہنچے، جہاں امیگریشن اور سیکیورٹی چیکنگ کے دوران انہیں روک لیا گیا۔ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکار ایئرپورٹ پہنچے اور انہیں اپنی تحویل میں لے گئے۔قریبی عزیزوں کے مطابق ریحان طارق کو ایئرپورٹ پر کچھ دیر تک روکے رکھنے کے بعد این سی سی آئی اے کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم گرفتاری کی وجوہات سے متعلق اہل خانہ کو فوری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ریحان طارق کے خلاف لاہور میں این سی سی آئی اے کے پاس ایک مقدمہ درج ہے۔ریحان طارق وزیر داخلہ محسن نقوی کے ادارے سے وابستہ ہیں،یاد رہے کہ ریحان طارق نے چند روز پہلے ذاکر جواد نقوی سے متنازعہ پوڈ کاسٹ کیا تھا۔ جس کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ مذہبی و سماجی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل آیا تھا۔

  • 37 ہفتے گزر چکے،بانی پی ٹی آئی سے کسی بھی فرد کی ملاقات نہیں کروائی گئی،بیرسٹر گوہر

    37 ہفتے گزر چکے،بانی پی ٹی آئی سے کسی بھی فرد کی ملاقات نہیں کروائی گئی،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہلِ خانہ کی ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل ملاقاتوں پر پابندی سیاسی کشیدگی اور نفرتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 37 ہفتے گزر چکے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی سے کسی بھی فرد کی ملاقات نہیں کروائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کا حق سلب کرنا مناسب نہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو معاشرے میں تناؤ اور نفرتیں مزید بڑھیں گی۔آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جہاں مقامی حالات کا جائزہ لینے کے بعد انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے حوالے سے کسی بھی ریاست مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کرتی، تاہم عوام کے جائز اور آئینی مطالبات کی مکمل تائید کرتی ہے۔پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف متحد ہے اور فارورڈ بلاک سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات بھی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی سے ان کی بھابھی مہر النساء مانیکا اور بیٹی مبشرہ شیخ نے ملاقات کی، جو جیل کے کانفرنس روم میں تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی کی صحت، خیریت اور دیگر خاندانی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات پرامن ماحول میں مکمل ہوئی، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہلِ خانہ کی ملاقات نہ ہونے کا معاملہ بدستور سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔

  • امریکہ بھارت تعلقات میں ایک اور دراڑ

    امریکہ بھارت تعلقات میں ایک اور دراڑ

    بھارت پرامریکی پابندیوں نے مودی کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا دیئے ۔

    امریکہ جریدہ فارن پالیسی کے مطابق بھارتی پالیسی سازوں نے امریکہ کی نظرمیں چین کے مقابل بھارت کی اہمیت ختم ہونے کی نشاندہی کردی ۔امریکہ بھارت کو سخت محصولات ، ایچ ۔ ون بی ویزا فیس میں اضافے اور روسی تیل کی خریداری پرپابندیوں سے بری طرح جکڑچکا۔ امریکی صدرٹرمپ کا ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں پاکستان کوبطورثالث قبول کرنا بھارت کیلئے دھچکا تھا ۔ امریکی تجزیہ کارایڈورڈ لوس کا کہنا تھا کہ آنے والی کئی دہائیوں تک بھارت کے لیے چین کا ہم پلہ بننا ناممکن ہے ۔ بھارتی تجزیہ نگارڈاکٹرہریندرسیکھن کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے بعد بھارت سخت امریکی پالیسیوں کے نشانے پرہے

  • گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے 100 روزہ پلان تیار کیا جائے، بلاول

    گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے 100 روزہ پلان تیار کیا جائے، بلاول

    گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وزیراعلیٰ ہاؤس گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ گلگت بلتستان کے پہلے گورنر قمر زمان کائرہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ بھی شریک تھے، جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور عہدیداران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عہدیداران نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو حالیہ انتخابات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں سمیت انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز سے آگاہ کیا۔

    اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ بند کمروں میں بیٹھنے کے بجائے عوام کے درمیان رہ کر حکومت چلائیں، عوامی مسائل کو براہِ راست سنیں اور ان کے حل کو اولین ترجیح دیں۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے 100 روزہ جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے پر انہیں کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید ہدایت کی کہ حقِ ملکیت سے متعلق قانون سازی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ حقِ حاکمیت کے حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قرارداد پیش کی جائے تاکہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہو سکے۔انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی فوری گراؤنڈ ورک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ناگزیر ہے۔

    اجلاس میں گلگت بلتستان میں پارٹی کی تنظیمی فعالیت، عوامی رابطہ مہم، ترقیاتی ترجیحات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مؤثر، شفاف اور خدمت پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں۔

  • کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل، پڑوسی گرفتار

    کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل، پڑوسی گرفتار

    کراچی کے علاقے نیپیئر میں 6 سالہ بچے کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جو مقتول بچے کا پڑوسی بتایا جاتا ہے۔

    پولیس کے مطابق 6 سالہ ولی پیر کی شام گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتا ہوگیا تھا، جس کے بعد اہل خانہ اور اہل علاقہ مسلسل دو روز تک اس کی تلاش میں مصروف رہے۔ بعد ازاں بچے کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند حالت میں برآمد ہوئی، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ شبہ سامنے آیا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تاہم واقعے کی حتمی نوعیت اور موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔

    مقتول بچے کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کرکے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان گزشتہ دو روز سے بچے کو تلاش کر رہا تھا، جبکہ ملزم مسلسل انہیں گمراہ کرتا رہا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واردات ملزم کے گھر میں انجام دی گئی۔ ان کے مطابق جب بھی انہوں نے شک کی بنیاد پر ملزم کے گھر جانے کی کوشش کی، اس نے انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ نے مزید بتایا کہ ملزم خود بھی بچے کی تلاش میں ان کے ساتھ شامل رہ کر بے گناہی کا تاثر دیتا رہا۔

    مقتول کے والد، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتے ہیں، نے بتایا کہ ان کے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے پر مشتمل پانچ بچے تھے، جن میں 6 سالہ ولی سب سے چھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اکلوتے بیٹے کا بے رحمانہ قتل پورے خاندان کے لیے ناقابل برداشت سانحہ ہے۔دوسری جانب اہل علاقہ نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ ملزم حمزہ کو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہریوں نے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور دیگر رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملزم کو جلد از جلد سخت ترین قانونی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے

  • ایران کا بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کا بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود 85 امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے فضائی حملوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جنوبی ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کیے، جنہیں امریکا نے آبنائے ہرمز میں منگل کے روز تین بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں قرار دیا ہے۔

    کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔کویتی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کی جانب سے سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ تاہم کویتی حکام نے حملوں کے ذمہ دار ملک کا باضابطہ طور پر نام نہیں لیا۔

    ادھر بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا اہم اڈہ قائم ہے، وہاں بھی میزائل حملے کے خطرے کے پیش نظر سائرن بجا دیے گئے۔بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ پرسکون رہیں، قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔بحرینی حکام نے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ پر ہیں۔

    ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے امریکی حملوں کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا کو "تباہ کن اور فیصلہ کن جواب” دیں گی۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے بین الاقوامی قوانین اور گزشتہ ماہ طے پانے والے امن فریم ورک کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کا ایران ہر سطح پر جواب دے گا۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی نمائندے محمد قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکا پر شدید تنقید کی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران پر حملے، ایرانی تیل پر نئی پابندیاں اور مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دے کر تمام سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔محمد قالیباف نے کہا "دھونس، بلیک میلنگ اور طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے، ایران کبھی دباؤ میں نہیں آئے گا۔”

    ایرانی فوج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت صرف انہی راستوں سے ممکن ہوگی جن کی نشاندہی ایران کرے گا۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کرتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق دی گئی خصوصی اجازت بھی منسوخ کردی تھی۔

  • امریکہ کے ایران پر نئے حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    امریکہ کے ایران پر نئے حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران پر حالیہ حملوں اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے اثرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے عالمی بازار میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی اضافے کے بعد 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران سے تیل کی سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا ایرانی تیل کی برآمدات مزید محدود ہوئیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کی شرح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • شارجہ سے کراچی آنے والے کارگو طیارہ حادثے  میں پائلٹ سمیت 5 افراد کی موت

    شارجہ سے کراچی آنے والے کارگو طیارہ حادثے میں پائلٹ سمیت 5 افراد کی موت

    کراچی: شارجہ سے کراچی آنے والا ایک نجی ایئرلائن کا کارگو طیارہ کراچی کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار عملے کے تمام پانچ ارکان جاں بحق ہوگئے۔

    پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا۔ طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے جن میں پائلٹ رضوان ادریس، معاون پائلٹ فیصل جتوئی، انجینئر محمد حامد، انجینئر محمد عارف اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل تھے۔ تمام جاں بحق افراد کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا ہے۔
    ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں لاپتا ہوگیا، جس کے فوری بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ امدادی کارروائیوں میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور دیگر متعلقہ ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے پاک بحریہ کا جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پاک فضائیہ کا ساب طیارہ بھی فضائی تلاش میں شریک ہے۔اس کے علاوہ پاک بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ تربت سے پرواز کرکے سرچ آپریشن میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے تجارتی جہاز لاہور کو بھی متاثرہ علاقے میں تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیمیں سمندر میں طیارے کے ملبے اور دیگر شواہد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک طیارے کا ملبہ اور دیگر ضروری شواہد مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ دوسری جانب حادثے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ اداروں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔