Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان میں ہم جنس پرستی ، لاہور میں خفیہ روابط،واٹس ایپ گروپس بن گئے

    پاکستان میں ہم جنس پرستی ، لاہور میں خفیہ روابط،واٹس ایپ گروپس بن گئے

    پاکستان میں ہم جنس پرستی ایک حساس اور متنازع موضوع ہے، جو نہ صرف قانونی پابندیوں بلکہ سخت سماجی رویّوں کی وجہ سے بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں، اس کمیونٹی کے افراد اپنی شناخت اور روابط کو خفیہ رکھنے پر مجبور ہیں،واٹس ایپ گروپس بنا کر آپس میں ایک دوسرے سے دوستی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے

    اسلام میں ہم جنس پرستی (یعنی مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق قائم کرنا) کو گناہ اور ممنوع عمل قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں قومِ لوط کا ذکر آتا ہے، جنہوں نے اس عمل کو اختیار کیا تھا، اور اس کی وجہ سے انہیں عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں اس عمل کی مذمت واضح ہوتی ہے۔شریعت کےمطابق جنسی تعلق صرف نکاح کے دائرے میں مرد اور عورت کے درمیان جائز ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے جنسی تعلقات، جیسے زنا یا ہم جنس پرستی، حرام قرار دیے گئے ہیں۔ اسلام میں ہم جنس پرستی کو فطرت کے خلاف اور گناہ سمجھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو اس سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ پاکستان کے تعزیراتی قوانین کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، لاہور جیسے بڑے شہر میں ہم جنس پرست افراد ایک دوسرے سے رابطے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،نجی چیٹ گروپس شامل ہیں۔ تاہم، واٹس ایپ گروپس یا دیگر بند نیٹ ورکس کی معلومات عام طور پر عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسے گروپس زیادہ تر ذاتی جان پہچان یا باہمی اعتماد کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں،فیس بک پر بھی گروپس دستیاب ہیں تو وہیں واٹس ایپ پر بھی مختلف گروپس موجود ہیں جہاں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں افراد ایڈ ہیں اور اپنی پسند،ناپسند، ون ویو میں‌تصاویر بھیجی جاتی ہیں

    ہم جنس پرستوں کے لاہور کےایک واٹس ایپ گروپ میں تعارف کے طور پر لکھا گیا ہے کہ ’لاہور میٹ اپس‘ میں خوش آمدید،لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ہم جنس پرست مردوں یا ایسے مردوں کے لیے نیٹ ورکنگ جو مردوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ہمارا واٹس ایپ گروپ ایک معاون اور جامع ماحول فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جہاں ہم جنس پرست مرد اکٹھے ہو کر نیٹ ورکنگ کر سکیں، میل جول بڑھا سکیں، اور بامعنی گفتگو میں حصہ لے سکیں۔’لاہور میٹ اپس‘ کے اراکین کے طور پر، افراد کو مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ہمارا گروپ تنوع، احترام اور بااختیار بنانے کے اصولوں کو فروغ دینے پر فخر کرتا ہے۔ ہم ایک پیشہ ورانہ ماحول قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں جہاں اراکین اپنی اصل شناخت کے ساتھ خود کو ظاہر کر سکیں اور ہم خیال افراد کے ساتھ حقیقی روابط قائم کر سکیں۔ امتیاز اور عدم برداشت کی ہماری کمیونٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں کہ ہر رکن خود کو قابلِ قدر اور محترم محسوس کرے۔آج ہی ’لاہور میٹ اپس‘ میں شامل ہوں تاکہ اپنے نیٹ ورک کو وسعت دیں، بامعنی گفتگو میں حصہ لیں، اور ایک ایسی معاون کمیونٹی کا حصہ بنیں جو ہم جنس پرست مردوں کے لیے شمولیت اور بااختیار بنانے کو فروغ دیتی ہے۔ یاد رکھیں، نیٹ ورکنگ کا مقصد روابط قائم کرنا ہے

    اس واٹس ایپ گروپ میں 141 افراد موجود ہیں،جن میں سے اکثریت کا لاہور اور فیصل آباد سے تعلق ہے،اسی طرح سوشل گروپ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ موجود ہے جس میں 387 افراد شامل ہیں،

    ہم جنس پرستوں کے واٹس ایپ گروپس میں ہر عمر کے افراد موجود ہیں، اگر 20،پچیس برس کے لڑکے ہیں تو وہ پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں،کئی تو دس دس ہزار کی ڈیمانڈ بھی کرتے ہیں ،خواجہ سرا بھی ان گروپس میں موجود ہیں، ہم جنس پرستوں کا آپس میں ملنے کے لئے سب سےبڑا مسئلہ :جگہ:کا ہوتا ہے،تاہم لاہور میں‌باغ جناح سمیت کئی علاقوں میں ہم جنس پرستوں کی باقاعدہ محفلیں ہوتی ہیں جو خفیہ طریقے سے ہوتی ہیں،سیاحتی مقامات مری،سوات سمیت دیگر علاقوں میں ہم جنس پرست افراد لاہور سے وفود کی صورت میں جاتے ہیں،

    نوٹ، اس خبر پر ہم جنس پرست افراد میں سے کوئی ردعمل دینا چاہے تو من و عن شائع کیا جائے گا،

  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، قیمتی پتھروں کی کٹائی،تین سینٹرز آف ایکسیلینس بنانے کا فیصلہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، قیمتی پتھروں کی کٹائی،تین سینٹرز آف ایکسیلینس بنانے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم کیا ہے،
    ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے،یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں. سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے.

    وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.

    اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں.

    اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے. وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    چین کے صوبے ہونان کے شہر چانگشا میں پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں سمیت تین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    ان معاہدوں کے تحت کراچی میں پانی کی قلت کے حل، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور چائے کی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔پہلی مفاہمتی یادداشت سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لوشیئن انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ کے درمیان طے پائی۔ اس معاہدے کے تحت کراچی کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا بنانے (ڈی سیلینیشن) کے منصوبے پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور چینی کمپنی کے پارٹی برانچ سیکرٹری و چیئرمین یوہوئی نے دستخط کیے۔

    دوسرا سمجھوتہ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لانگ پن ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی کے درمیان ہوا، جس کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس ایم او یو پر شرجیل انعام میمن اور کمپنی کے چیئرمین چن ژی شین نے دستخط کیے۔تیسری مفاہمتی یادداشت چائے کے شعبے سے متعلق ہے، جو مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی، ہونان ٹی گروپ اور جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی (ہینان) کے درمیان طے پائی۔پاکستان کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ چینی اداروں کی نمائندگی چیئرمین ژو چونگ وانگ اور چیئرمین ہاؤ جیاولونگ نے کی۔

    اس معاہدے کا مقصد چائے کی صنعت کی ترقی، صنعتی تعاون کے فروغ اور پاکستان و چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں، جن سے نہ صرف کراچی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے بھی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوں گے۔

  • ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت خارج

    ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے ڈاکٹرکی غیر اخلاقی ویڈیوبناکربلیک میل کرنےکے ملزم اسرار مجید کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں ایف آئی اے کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ اخرم عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نجی اسپتال میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا اور نوکری سے نکالے جانے پر ملزم نےگارڈ سے مل کرگھرکے واش روم میں کیمرےلگائے، ملزم نےنازیبا ویڈیو بنا کرخاتون ڈاکٹر سے 25 لاکھ روپےکی ڈیمانڈکی، ایف آئی اے نےلیڈی ڈاکٹرکے بیٹےکی درخواست پرملزم کوگرفتارکیا،ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم 10ماہ سےجیل میں ہے،جھوٹ اور سچ کا پتہ ٹرائل میں لگےگا۔

    بعد زاں عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی اور کہا کہ ملزم نےجوکام کیاہے وہ ضمانت کامستحق نہیں ہے،

  • آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں

    آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں

    وفاقی آئینی عدالت سے حکومت کو بڑا ریلیف مل گیا، آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں، دفعات بحالی سے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار بحال ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق عدالت نے حکومت کا شہریوں کے پاسپورٹ غیرفعال قرار دینے کا اختیار بھی بحال کردیا۔
    آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا، حکومتی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا جہاں سے ڈی پورٹ ہوا تھا، غیرقانونی اقدامات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیا گیا۔

    عامر رحمان نے بتایا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اور پاسپورٹ غیرفعال ہونا چیلنج کیا گیا۔ جسٹس حسن نے کہا کہ یہ خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسہ لے کر اٹلی بھیجتا تھا؟، ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی ہے؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے معلومات نہیں لیں، لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول 3 اور 10 کالعدم قرار دے دیئے۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  • پاکستان ثالثی کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ایرانی وزیرخارجہ

    پاکستان ثالثی کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ایرانی وزیرخارجہ

    ماسکو: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور موجودہ سفارتی عمل میں اسلام آباد کی شمولیت نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

    ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم امریکی مؤقف اور سخت شرائط کے باعث گزشتہ دور کے طے شدہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات اور نامناسب طرزِ عمل نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت اور سفارتی حکام کے ساتھ قریبی مشاورت ضروری تھی تاکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کا درست جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ روسی حکام کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں جاری ہیں، جن میں علاقائی سیکیورٹی، جاری تنازعات اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق یہ ملاقاتیں ایران کے لیے اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک اہم موقع ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار خطے میں سفارتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

  • یہ کیسا الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا،عدالت

    یہ کیسا الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا،عدالت

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے درخواست گزاروں کو ایکٹ کو غیر قانونی جیسے الفاظ کہنے سے روک دیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ایسے الفاظ کا استعمال کرنا ہے تو کسی دوسری عدالت میں جائیں، جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ کوئی شخص برا نہیں ہوتا،ہر چیز میں اچھائی ہوتی ہے۔پنجاب حکومت کے وکیل نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی کاپی عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا چیئرمین اور وائس چیئرمین ڈائریکٹ عوام نے منتخب کرنے ہیں؟۔ وکیل نے بتایا کہ آئین میں الیکٹڈ کا لفظ ہے، چیئرمین سینٹ، اسپیکر، وزیراعظم منتخب ہوتا ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ میئر کو کس نے منتخب کرنا ہے؟، وکیل نے جواب دیا کہ میئر کو چیئرمینز منتخب کریں گے۔

    عدالت نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا، آپ دوسری سائیڈ کو سنیں یا ساری سیاسی جماعتیں بیٹھ جائیں اور ملکر اتفاق رائے کرلیں۔

  • ٹیسلا کو بھارت میں سخت چیلنجز، 10 فیصد ہدف بھی پورا نہ ہوسکا

    ٹیسلا کو بھارت میں سخت چیلنجز، 10 فیصد ہدف بھی پورا نہ ہوسکا

    نئی دہلی: دنیا کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا کو بھارت میں اپنی توقعات کے برعکس سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایلون مسک کی قیادت میں کمپنی نے بھارتی مارکیٹ میں بڑی امیدوں کے ساتھ قدم رکھا، مگر فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی نے حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حال ہی میں کمپنی نے بھارت میں اپنا نیا 6 سیٹر لانگ وہیل بیس ماڈل Tesla Model YL متعارف کرایا ہے، جس کی قیمت تقریباً 62 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ لانچ دراصل کمپنی کی جانب سے “ڈیمیج کنٹرول” کی کوشش ہے، کیونکہ گزشتہ کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔رپورٹس کے مطابق 2025 میں ٹیسلا نے 2500 یونٹس فروخت کرنے کا ہدف رکھا تھا، تاہم کمپنی صرف 227 گاڑیاں ہی فروخت کر سکی۔ ہدف کا 10 فیصد بھی حاصل نہ ہونا کمپنی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ فروخت بڑھانے کے لیے کمپنی کو لاکھوں روپے تک کی رعایتیں بھی دینا پڑیں۔بھارت میں درآمدی ڈیوٹی 70 سے 110 فیصد تک ہونے کے باعث ٹیسلا گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں اور ان کا مقابلہ براہ راست لگژری برانڈز جیسے BMW، Mercedes-Benz اور Volvo سے ہوتا ہے۔

    الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں ایک اور بڑی رکاوٹ چارجنگ اسٹیشنز کی کمی ہے۔ بھارت میں محدود چارجنگ نیٹ ورک اور Tesla Supercharger کی کم دستیابی صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر طویل سفر کے دوران۔

    بھارتی مارکیٹ میں Tata Motors اور Mahindra & Mahindra جیسے مقامی برانڈز کا مضبوط اثر و رسوخ بھی ٹیسلا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ Tata Nexon EV جیسی گاڑیاں نسبتاً سستی اور مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہیں، جس کے باعث صارفین انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ٹیسلا کا سروس نیٹ ورک محدود ہونے کے باعث صارفین کو مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ بھارتی سڑکوں کی حالت اور اسپیڈ بریکرز بھی کم گراؤنڈ کلیئرنس والی گاڑیوں کے لیے مسئلہ بنتے ہیں۔

  • بیوی کا انوکھا الزام، شوہر کی بہن کوہی دوسری بیوی قرار دے کر طلاق لے لی

    بیوی کا انوکھا الزام، شوہر کی بہن کوہی دوسری بیوی قرار دے کر طلاق لے لی

    مدھیہ پردیش: عام طور پر طلاق کے مقدمات میں گھریلو تشدد، جہیز یا ازدواجی تنازعات جیسے الزامات سامنے آتے ہیں، مگر ایک حیران کن واقعے میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی ہی بہن کو اس کی دوسری بیوی قرار دے کر عدالت سے یکطرفہ طلاق حاصل کرلی۔

    یہ معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیار بینچ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں شوہر نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلاق دھوکہ دہی اور گمراہ کن شواہد کی بنیاد پر حاصل کی گئی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق گوالیار کی رہائشی خاتون کی شادی 1998 میں ایک نجی مارکیٹنگ کمپنی سے وابستہ شخص سے ہوئی تھی۔ شوہر کے اکثر گھر سے باہر رہنے کے باعث دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے، اور 2015 کے بعد خاتون نے علیحدہ رہائش اختیار کرلی۔خاتون کسی بھی صورت طلاق حاصل کرنا چاہتی تھی جبکہ شوہر اس پر آمادہ نہیں تھا۔ بالآخر 2021 میں خاتون نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے۔

    اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر خاتون نے ایک خاندانی گروپ تصویر پیش کی، جس میں شوہر ایک خاتون کے ساتھ کھڑا تھا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ تصویر میں موجود وہ خاتون شوہر کی دوسری بیوی ہے۔ عدالت نے اسی تصویر کو بنیاد بنا کر خاتون کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے طلاق دے دی، جبکہ شوہر کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔

    واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب شوہر کو رواں ماہ اپریل کے پہلے ہفتے میں طلاق کے فیصلے کا علم ہوا۔ عدالتی ریکارڈ چیک کرنے پر وہ حیران رہ گیا کہ جس خاتون کو اس کی دوسری بیوی ظاہر کیا گیا، وہ دراصل اس کی سگی بہن تھی۔سرکاری وکیل دھرمیندر شرما کے مطابق شوہر نے اب ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی بیوی نے عدالت کو گمراہ کیا اور غلط بیانی کے ذریعے طلاق کا حکم حاصل کیا۔ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں شوہر نے درخواست کی ہے کہ یکطرفہ طلاق کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ یہ فیصلہ غلط اور گمراہ کن شواہد پر مبنی ہے۔

  • چلتن نیشنل پارک کوئٹہ میں موسمِ بہار کی آمد، سیاحوں کا رش بڑھ گیا

    چلتن نیشنل پارک کوئٹہ میں موسمِ بہار کی آمد، سیاحوں کا رش بڑھ گیا

    کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے خوبصورت دارالحکومت کوئٹہ میں واقع چلتن نیشنل پارک میں موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی قدرتی حسن اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد پارک کا رخ کر رہی ہے۔

    چلتن نیشنل پارک میں رنگ برنگے پھول کھل اٹھے ہیں، سرسبز و شاداب میدان اور خوشگوار موسم نے علاقے کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ پارک میں ہر طرف پھیلی بہار کی دلکش فضا، ہلکی ٹھنڈی ہوا اور قدرتی مناظر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ فیملیز، طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد یہاں پکنک منانے اور فطرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے پہنچ رہی ہے۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ چلتن پارک میں موجود سکون، صاف ستھرا ماحول اور دلکش پہاڑی مناظر کسی بھی ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر موسمِ بہار میں یہاں کی خوبصورتی دیدنی ہوتی ہے، جہاں مختلف اقسام کے جنگلی پھول اور سبزہ زار ایک دل فریب منظر پیش کرتے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق پارک میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ سیاح بلاخوف و خطر اپنی تفریح سے لطف اندوز ہو سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کا مثبت اثر سیاحت پر بھی پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق چلتن نیشنل پارک نہ صرف تفریح کا بہترین مقام ہے بلکہ یہ حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے، جہاں نایاب جنگلی حیات اور پودوں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔اگر قدرتی حسن، سکون اور خوشگوار موسم کے متلاشی ہیں تو چلتن نیشنل پارک ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بہار کے حسین رنگ ایک یادگار تجربہ فراہم کریں گے۔