پاکستان میں ہم جنس پرستی ایک حساس اور متنازع موضوع ہے، جو نہ صرف قانونی پابندیوں بلکہ سخت سماجی رویّوں کی وجہ سے بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں، اس کمیونٹی کے افراد اپنی شناخت اور روابط کو خفیہ رکھنے پر مجبور ہیں،واٹس ایپ گروپس بنا کر آپس میں ایک دوسرے سے دوستی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے
اسلام میں ہم جنس پرستی (یعنی مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق قائم کرنا) کو گناہ اور ممنوع عمل قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں قومِ لوط کا ذکر آتا ہے، جنہوں نے اس عمل کو اختیار کیا تھا، اور اس کی وجہ سے انہیں عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں اس عمل کی مذمت واضح ہوتی ہے۔شریعت کےمطابق جنسی تعلق صرف نکاح کے دائرے میں مرد اور عورت کے درمیان جائز ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے جنسی تعلقات، جیسے زنا یا ہم جنس پرستی، حرام قرار دیے گئے ہیں۔ اسلام میں ہم جنس پرستی کو فطرت کے خلاف اور گناہ سمجھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو اس سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ پاکستان کے تعزیراتی قوانین کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، لاہور جیسے بڑے شہر میں ہم جنس پرست افراد ایک دوسرے سے رابطے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،نجی چیٹ گروپس شامل ہیں۔ تاہم، واٹس ایپ گروپس یا دیگر بند نیٹ ورکس کی معلومات عام طور پر عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسے گروپس زیادہ تر ذاتی جان پہچان یا باہمی اعتماد کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں،فیس بک پر بھی گروپس دستیاب ہیں تو وہیں واٹس ایپ پر بھی مختلف گروپس موجود ہیں جہاں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں افراد ایڈ ہیں اور اپنی پسند،ناپسند، ون ویو میںتصاویر بھیجی جاتی ہیں
ہم جنس پرستوں کے لاہور کےایک واٹس ایپ گروپ میں تعارف کے طور پر لکھا گیا ہے کہ ’لاہور میٹ اپس‘ میں خوش آمدید،لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ہم جنس پرست مردوں یا ایسے مردوں کے لیے نیٹ ورکنگ جو مردوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ہمارا واٹس ایپ گروپ ایک معاون اور جامع ماحول فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جہاں ہم جنس پرست مرد اکٹھے ہو کر نیٹ ورکنگ کر سکیں، میل جول بڑھا سکیں، اور بامعنی گفتگو میں حصہ لے سکیں۔’لاہور میٹ اپس‘ کے اراکین کے طور پر، افراد کو مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ہمارا گروپ تنوع، احترام اور بااختیار بنانے کے اصولوں کو فروغ دینے پر فخر کرتا ہے۔ ہم ایک پیشہ ورانہ ماحول قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں جہاں اراکین اپنی اصل شناخت کے ساتھ خود کو ظاہر کر سکیں اور ہم خیال افراد کے ساتھ حقیقی روابط قائم کر سکیں۔ امتیاز اور عدم برداشت کی ہماری کمیونٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں کہ ہر رکن خود کو قابلِ قدر اور محترم محسوس کرے۔آج ہی ’لاہور میٹ اپس‘ میں شامل ہوں تاکہ اپنے نیٹ ورک کو وسعت دیں، بامعنی گفتگو میں حصہ لیں، اور ایک ایسی معاون کمیونٹی کا حصہ بنیں جو ہم جنس پرست مردوں کے لیے شمولیت اور بااختیار بنانے کو فروغ دیتی ہے۔ یاد رکھیں، نیٹ ورکنگ کا مقصد روابط قائم کرنا ہے

اس واٹس ایپ گروپ میں 141 افراد موجود ہیں،جن میں سے اکثریت کا لاہور اور فیصل آباد سے تعلق ہے،اسی طرح سوشل گروپ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ موجود ہے جس میں 387 افراد شامل ہیں،
ہم جنس پرستوں کے واٹس ایپ گروپس میں ہر عمر کے افراد موجود ہیں، اگر 20،پچیس برس کے لڑکے ہیں تو وہ پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں،کئی تو دس دس ہزار کی ڈیمانڈ بھی کرتے ہیں ،خواجہ سرا بھی ان گروپس میں موجود ہیں، ہم جنس پرستوں کا آپس میں ملنے کے لئے سب سےبڑا مسئلہ :جگہ:کا ہوتا ہے،تاہم لاہور میںباغ جناح سمیت کئی علاقوں میں ہم جنس پرستوں کی باقاعدہ محفلیں ہوتی ہیں جو خفیہ طریقے سے ہوتی ہیں،سیاحتی مقامات مری،سوات سمیت دیگر علاقوں میں ہم جنس پرست افراد لاہور سے وفود کی صورت میں جاتے ہیں،
نوٹ، اس خبر پر ہم جنس پرست افراد میں سے کوئی ردعمل دینا چاہے تو من و عن شائع کیا جائے گا،
