Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی ناکام، منی پور میں حالات کنٹرول سے باہر

    مودی ناکام، منی پور میں حالات کنٹرول سے باہر

    مودی ناکام، منی پور میں حالات کنٹرول سے باہر ہونے لگے، سیکولر بھارت میں مسیحی عوام اور سیکیورٹی فورسز آمنے سامنے آ گئے

    بی جے پی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث جنتا بیزارعلیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑنے لگیں،بھارتی ذرائع ابلاغ نے عوام پر روا رکھے جانے والے مظالم کا پردہ چاک کر دیا،بھارتی میڈیا انڈیا ٹو ڈے کے مطابق منی پور کے ضلع بشنوپور میں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے، حالات شدید کشیدہ ہوگئے، بھارتی قابض فورسز سے شدید جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے، مقامی افراد نے بھارتی فورسز کو علاقے میں جانے سے روکا جس پر جھڑپیں ہوئیں،منی پور کی مظلوم عوام نے قابض بھارتی فورسز کی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی، متعدد قابض فورسز کے اہلکار یرغمال بنا لئے گئے،بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کےمطابق؛منی پور میں طاقت کے بہیمانہ استعمال کے باعث خوف وہراس کا راج، ہندوستانی فورسز کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی

    عالمی ماہرین کے مطابق؛منی پور کشیدگی پر مودی سرکار نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بلکہ سیاسی مقاصد کیلئے نسلی فسادات کو مزید ہوا دے رہی ہے،ہندوستانی فوج اپنے مذموم مفادات کی خاطر عام شہریوں کے جان ومال کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد تنظیم کا بھیانک روپ دھار چکی ہے

  • وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج شام سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم نے سعودی عرب کی جانب سے عزت مآب ولی عہد کی قیادت میں مثالی صبر اور تحمل کو سراہا، جن کی موجودہ بحران میں قیادت سعودی عرب اور اس سے باہر کے تمام امن پسند لوگوں کے لیے طاقت کا باعث ہے۔

    وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور ہوا۔ ولی عہد نے امن کے اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔

    دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مملکت سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر ولی عہد سعودی عرب کے لیے اپنی مخلصانہ تعریف کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مملکت کے درمیان منفرد تعلقات ہیں کیونکہ دونوں ممالک پاکستان-سعودی عرب اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

    بعد ازاں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف گزشتہ شب جدہ سے مدینہ منورہ پہنچے. گورنر مدینہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آلسعود نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کا مدینہ منورہ آمد پر استقبال کیا.وزیرِ اعظم نے مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری دی اور ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و آشتی کیلئے دعائیں کیں. وزیرِ اعظم کی آمد پر وزیرِ اعظم اور وفد کیلئے روضہ رسول کے دروازے کھولے گئے، وزیرِ اعظم نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خاص کی اور درود و سلام پیش کیا. وزیرِ اعظم سعودی عرب کا اپنا دورہ مکمل کرکے مدینہ منورہ سے دوحہ جائیں گے. دوحہ میں وزیرِ اعظم کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے دو طرفہ ملاقات ہوگی.

  • آئی ایم ایف منیجنگ ڈائریکٹر  پاکستان کی  معاشی اصلاحات  کی معترف

    آئی ایم ایف منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان کی معاشی اصلاحات کی معترف

    آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی اصلاحات اور معاشی استحکام کی تعریف کی ہے۔

    آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی اصلاحات میں پیش رفت کو سراہا،سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کے باعث معاشی استحکام برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،مضبوط معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ گہری ساختی اصلاحات کا تسلسل معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور عوامی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے لیے اہم ہوگا

  • پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک نے کر دی ہے۔ یہ رقم پاکستان کو مالی معاونت اور زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس میں سے 2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی رقم بھی جلد ملنے کی توقع ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی سپورٹ اگلے ہفتے تک پاکستان کو مل جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی سالانہ رول اوور مدت کو بھی بڑھایا جا رہا ہے، اور اب اسے سالانہ تجدید کے بجائے تین سال کے لیے توسیع دی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد ان ڈپازٹس کی میچورٹی 2028 تک پہنچ جائے گی۔ماہرین کے مطابق سعودی مالی تعاون سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، روپے پر دباؤ میں کمی اور معاشی استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔

  • امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل و گیس نیٹ ورک نشانے پر

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل و گیس نیٹ ورک نشانے پر

    امریکا کے محکمہ خزانہ نے آج ایران کے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات سے منسلک دو درجن سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ تمام عناصر ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام چلایا جا رہا تھا۔محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں نو بحری جہاز شامل ہیں، جن میں خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس لے جانے والے ٹینکرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں قائم کئی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق محمد حسین شمخانی کے والد ایران کی اعلیٰ قیادت کے اہم سیاسی مشیر تھے، جو حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے،

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل پر تمام پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل تہران کو ایک ماہ کی عارضی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ ٹینکرز میں موجود ذخیرہ شدہ تیل فروخت کر سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن مزید سخت اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا تیل خریدنے والے ممالک پر بھی "ثانوی پابندیاں” عائد کی جا سکتی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شمخانی کے شپنگ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل جولائی میں بھی امریکا نے اس نیٹ ورک سے وابستہ 115 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر وسیع پابندیاں عائد کی تھیں۔ماہرین کے مطابق نئی پابندیوں سے ایران کی توانائی برآمدات اور خطے میں معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کی دھجیاں اڑ گئیں سرجری یہاں نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو یا میرے نجی کلینک 45 ہزار کا پیکج بھی بتا دیا
    بھاری تنخواہیں لینے والے ڈاکٹرز لٹیرے بن گئے وزیر اعلی، سیکرٹری ہیلتھ سے مسیحائی کے روپ میں چھپے قصاب کے خلاف فوری کارروائی کا عوامی مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے کمرہ نمبر 64 میں تعینات سرجن ڈاکٹر نے اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غریب مریض کی مجبوری کا سودا کر ڈالا۔ شرقی علاقے کے رہائشی ظہیر نامی شہری، جو جسم پر موجود ایک تکلیف دہ انفیکشن زدہ گلٹی کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچا تھا، اسے ڈاکٹر نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ یہاں یہ سرجری نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو جبکہ ساتھ ہی اسے اپنے نجی کلینک آیان ہسپتال آنے کی دعوت دے دی جہاں اسی سرجری کے لیے 45 ہزار روپے کا پیکج بھی بتا دیا،

    متاثرہ شہری ظہیر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ شدید تکلیف کے باعث جمعہ کے روز ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان پہنچا تھا۔ پرچی کاؤنٹر نے اسے 64 نمبر کمرہ کے سرجن کے پاس بھیجا، لیکن سرجن نے محض ایک پین کلر لکھ کر دی اور ڈراتے ہوئے کہا کہ آج ہی سرجری کروانا بھی ضروری ہے مگر یہ سرجری ٹی ایچ کیو میں نہیں ہو سکتی راولپنڈی سرکاری ہسپتال چلے جاو یا میرے پاس پرائیویٹ ہسپتال آ جاو، میرے استفسار پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر سودے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو پرائیویٹ 65 ہزار خرچہ ہے لیکن آپ سے 45 ہزار لے لوں گا۔ غریب مریض رقم نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر گھر لوٹ گیا، جہاں ایک مقامی سماجی شخصیت نے اس کی حالت زار دیکھ کر چندہ جمع کیا اور ایک دوسرے نجی ہسپتال میں 30 ہزار روپے میں اس کی معمولی سرجری کروائی۔

    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک عام نجی ہسپتال میں وہ سرجری ہو سکتی ہے تو کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ٹی ایچ کیو میں کیوں نہیں؟ کیا سرجن ڈاکٹر صرف نجی کلینک بھرنے اور سرکاری تنخواہ ہضم کرنے کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرہ نمبر 64 کے اس تاجر ڈاکٹر کے خلاف فوری انکوائری کی جائے اور سی او ہیلتھ راولپنڈی و انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر ان کا محاسبہ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتال میں معمولی سرجری کی سہولت بھی میسر نہیں تو انتظامیہ کو چاہیے کہ ہسپتال کو تالا لگا کر چابیاں محکمہ صحت کے حوالے کر دے۔

  • ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    فری ادویات کا اعلان وہ تو سارا دن کہتی رہتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فری میڈیسن ویژن کا ٹی ایچ کیو میں تمسخر
    آپریشن تھیٹر کے باہر مریض خوار، فارمیسی سے سامان غائب مریضوں کو لوٹنے کا بازار گرم شہریوں کا محکمہ صحت کی غفلت پر شدید احتجاج
    گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صحت سہولت پروگرام کے بلند و بانگ دعووں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ اور عملے نے نہ صرف حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا بلکہ وزیر اعلیٰ کی ذات کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ اور توہین آمیز رویہ اپنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو جس میں آپریشن کے لیے آئی ایک غریب مریضہ کو ہسپتال عملے نے سرجری کا سامان باہر سے خریدنے کا حکم دیا۔ جب مریضہ کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ ہسپتالوں میں تمام ادویات اور سامان مفت ملے گا، تو وہاں موجود عملے نے مبینہ طور پر انتہائی شرمناک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مریم نواز تو سارا دن یہی کہتی رہتی ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی توہین ہیں بلکہ اس کرپٹ مافیا کی عکاسی کرتے ہیں جو غریب مریضوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مریضہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو نے ہسپتال انتظامیہ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ فارمیسی سے ادویات کی عدم فراہمی اور ڈاکٹر کی جانب سے طلب کردہ دو جوڑے گلوز تک نہ ملنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں سرکاری ادویات یا تو غائب کی جا رہی ہیں یا پھر جان بوجھ کر مریضوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں کی کایا پلٹنے کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کا یہ ہسپتال ان کے ویژن کے لیے شرمناک دھبہ بن چکا ہے۔


    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف بیانات تک محدود نہ رہا جائے، بلکہ گوجرخان ہسپتال کے اس باغی اور بدتمیز عملے کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کے احکامات کی اہمیت ان کے اپنے ملازمین کی نظر میں سارا دن کی باتوں سے زیادہ نہیں، تو پھر ایسے ہسپتالوں کو بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

  • پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی چیز حتمی نہیں، اور جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے اس وقت تک کسی فیصلے کو یقینی نہ سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ ایک ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر امریکی وفد ایران کے ساتھ اگلے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد ہی جائے، جہاں گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی حکام سے مذاکرات کی قیادت کی تھی،ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔

    پریس سیکریٹری نے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت امریکا مکمل طور پر مذاکراتی عمل میں مصروف ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کا آپشن اب بھی موجود ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے۔

  • اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    معروف صحافی اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے اے آر وائی نیوز سے 21 سالہ وابستگی کے بعد باقاعدہ استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اے آر وائی نیوز اور اپنی سیاسی تحریک “عوام راج” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، لہٰذا انہوں نے “عوام راج” کا راستہ اختیار کیا۔اقرار الحسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 21 سال کا شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے پروگرام “سرِ عام” کو ملنے والی محبتوں، دعاؤں اور عوامی پذیرائی پر ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے شمار یادوں کے ساتھ اس نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

    اقرار الحسن نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز اُس وقت کیا تھا جب اے آر وائی نیوز کی نشریات دبئی سے جاری ہوتی تھیں۔ ابتدائی دور میں انہوں نے بطور نیوز کاسٹر اپنی شناخت بنائی، جبکہ بعد ازاں کرپشن کے خلاف اپنے مشہور پروگرام سرِ عام کے ذریعے ملک بھر میں شہرت حاصل کی۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک وہ اے آر وائی نیوز کا نمایاں چہرہ رہے اور پاکستانی میڈیا میں ایک بااثر آواز کے طور پر جانے گئے۔ ان کی صحافتی خدمات اور تحقیقاتی رپورٹس نے انہیں عوامی حلقوں میں خاص مقام دلایا۔

    اقرار الحسن کے استعفے کی بنیادی وجہ ان کی نئی سیاسی جماعت عوام راج کو قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافت اور سیاست کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت کے مشن کو ترجیح دی۔اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے اے آر وائی نیوز کی قیادت، ساتھیوں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 سال ان کی زندگی کا یادگار ترین باب رہے گا۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “عوام راج پائندہ باد” کے نعرے بھی درج کیے

  • عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کروانے کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ان کا اعلیٰ سطحی استقبال کیا گیا۔

    تہران آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے وفد کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امریکہ ایران مذاکراتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات گہرے، تاریخی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شاندار میزبانی اور مثبت کردار قابلِ تحسین ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

    مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاک ایران تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔