پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کو زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات پیش کردیئے۔ فوری ریلیف پیکیج، سود کی معافی اور نئے قرضے دیئے جائیں۔
اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں چوہدری منظور اور ندیم افضل چن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسانوں کیلئے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔پیپلزپارٹی نے زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات میں کہا کہ کسانوں کو فوری طور پر ریلیف پیکیج دیا جائے، پچھلا سود معاف کیا جائے اور نئے قرضے فراہم کیے جائیں۔چوہدری منظور نے کہا کہ حکومت کسانوں سے آلو کی فصل خریدے، کمرشل بینک زرعی شعبے کو قرضے نہیں دیتے، کسانوں کو ابھی تک سیلاب والی امداد نہیں ملی۔ندیم افضل چن نے کہا کہ زرعی بحران کے باعث انڈسٹری بھی سنگین مشکلات کا شکار ہے، پیپلزپارٹی سڑکوں پر بعد میں پہلے اسمبلی میں معاملہ اٹھائے گی، زرعی شعبے کا کرائسز سب سے زیادہ پنجاب میں ہے، آپ کسان کیلئے بجلی کا ریٹ بھی کم نہیں کررہے، سڑکوں پر جانے کا آپشن آخری ہے۔ملک بھر میں کسان مہنگائی، بیجوں کی قلت، پانی کی کمی اور زرعی لاگت میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں، مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کسانوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کسانوں کو ریلیف، مناسب قیمت اور سہولیات کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ عوام اور کسان کی آواز بن کر، پیپلز پارٹی ہر مشکل میں ساتھ کھڑی ہے۔
