ایران میں مظاہروں کے دوران جاں بحق افراد کے جنازوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، دو ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد صورتحال معمول پر آنے لگی۔
ایران میں 2 ہفتے جاری رہنے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد صورتحال معمول پر آنے لگی۔ ایرنی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات ملک بھر میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔رپورٹ کے مطابق تہران اور اصفہان میں مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے جنازوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کیخلاف نعرے لگائے۔مظاہرین کے ہاتھوں تباہ ہونیوالی مساجد اور دیگر عمارتوں کی بحالی پر کام کا آغاز کردیا گیا۔ایرانی سیکیورٹی فورسز نے تمام شہروں کے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہماری لڑائی دہشت گردوں سے تھی، مظاہرین سے نہیں، پھانسیاں دینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شرپسندوں نے داعش کی طرز پر حملے کیے، پولیس اہلکاروں کے سر قلم کیے، زندہ جلادیا، عام مظاہرین پر گولیاں برسائیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ صدر ٹرمپ ایسا چاہتے تھے۔ عباس عراقچی نے پرتشدد مظاہروں کو اسرائیلی سازش قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کیساتھ سفارتکاری کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہت بہتر ہے، امریکا نے جون جیسی غلطی دوبارہ دہرائی تو وہی نتیجہ نکلے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا، جون جیسی غلطی دوبارہ دہرائی تو وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ملک میں امن وسکون اور صورتحال قابو میں ہے، مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، انہوں نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور یورپی ممالک سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے، اگرچہ امریکا کیساتھ سفارتکاری کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہت بہتر ہے۔
