امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں زیرِ حراست مظاہرین کو دی جانے والی سزائے موت کا عمل روک دیا گیا ہے اور انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ملک میں "قتل و غارت بند ہو چکی ہے”۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ ایران میں جاری کریک ڈاؤن کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی۔
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں جاری ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی مظاہرین کو دی جانے والی ممکنہ سزائے موت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، خاص طور پر 26 سالہ مظاہرہ کرنے والے ارفان سلطانی کے معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی محکمہ خارجہ، ارفان سلطانی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام انہیں سزائے موت دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔تاہم ایران کی عدلیہ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارفان سلطانی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی۔ عدالتی بیان کے مطابق ان پر "ملکی سلامتی کے خلاف اجتماع و سازش” اور "ریاست مخالف پروپیگنڈا” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی سزا قانون کے مطابق قید ہے، نہ کہ سزائے موت۔
صدر ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "اب سزائے موت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے”۔تاہم ارفان سلطانی کے ایک اہلِ خانہ کے مطابق اگرچہ طے شدہ دن پر پھانسی نہیں دی گئی، لیکن سزائے موت کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا اور خاندان اب بھی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔
امریکی فوجی اڈوں پر حفاظتی اقدامات، قطر میں اہلکاروں کو انخلا کی ہدایت
ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر قطر میں موجود مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے سے بعض امریکی اہلکاروں کو "احتیاطی اقدام” کے طور پر نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ایرانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن
ایران میں حکومتی سطح پر نافذ کیا گیا مواصلاتی بلیک آؤٹ تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔ سائبر سیکیورٹی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایرانی عوام کو 156 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بلیک آؤٹ کے باعث حقیقی صورتحال جاننا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ حکومتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جھوٹی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ادھر ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک ایران میں مفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زمینی رکاوٹوں اور آلات کی قلت کے باعث اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ فرانس بھی اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک یُوٹیل سیٹ (Eutelsat) کے ذریعے ایران کو انٹرنیٹ سہولت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ہزاروں مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہولناک انکشافات
امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 2,400 مظاہرین ہلاک اور 18,470 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم سی این این ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایران میں "غیر معمولی پیمانے پر غیر قانونی قتل” کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان رپورٹس کو "مبالغہ آرائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کوئی بدامنی نہیں۔
ایرانی عوام خوف اور صدمے کا شکار، لاشیں وصول کرنے پر بھی فیس
سی این این سے گفتگو کرنے والے ایرانی شہریوں اور ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اسپتالوں میں مردہ خانوں پر دباؤ ہے، درجنوں لاشیں ایک ہی جگہ رکھی جا رہی ہیں، جبکہ بعض خاندانوں سے لاشیں وصول کرنے کے لیے رقم بھی طلب کی جا رہی ہے۔ایک ڈاکٹر کے مطابق مظاہروں کے دوران اسپتالوں میں "ماس کیژولٹی صورتحال” تھی اور وہ ایک ہی رات میں 10 سے زائد آپریشن کرنے پر مجبور ہوا۔تہران کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ "پورا شہر خوف، صدمے اور خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے، لوگ بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں”۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فی الحال ایران میں مظاہرین کو قتل یا پھانسی دینے کا عمل روکا گیا ہے، لیکن انہوں نے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سمیت بعض بااثر شخصیات ایران پر جلد حملے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
