ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کو اپنی بڑی فوجی کامیابیوں میں شمار کیا تھا۔ امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے دنیا کے سب سے طاقتور 14 بم گرا کر ایران کی دو جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے دوران نہ تو کسی امریکی اہلکار کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی طیارے کا ضیاع ہوا۔ اس مشن میں درجنوں لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن بھرنے والے جہاز اور دیگر معاون طیارے بھی شامل تھے۔
اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں، تاہم اس بار ان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کارروائی تہران میں سخت گیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں عام ایرانی شہریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تو یہ گزشتہ موسمِ گرما میں تین جوہری اہداف پر ہونے والی محدود بمباری جیسی نہیں ہوگی۔ مظاہرین کی حمایت میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا ہدف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC)، اس سے منسلک بسیج فورسز اور ایرانی پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ کمانڈ سینٹرز اکثر گنجان آباد شہری علاقوں میں واقع ہیں، جس سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر امریکی حملوں میں شہری مارے گئے تو یہ اقدام الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ہوائی میں مقیم سابق امریکی نیوی کپتان اور تجزیہ کار کارل شسٹر کے مطابق،“امریکہ جو بھی کرے، اسے انتہائی درستگی کے ساتھ کرنا ہوگا تاکہ IRGC کے علاوہ کسی اور کو نقصان نہ پہنچے۔ شہری ہلاکتیں، چاہے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہوں، ان اختلاف کرنے والوں کو بھی امریکہ سے دور کر سکتی ہیں جو صرف حکومت سے نفرت پر متحد ہیں۔”
امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
آسٹریلیا کے گریفتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے وزٹنگ فیلو پیٹر لیٹن کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے خطرات کے باوجود واشنگٹن کے پاس اہداف کی ایک وسیع فہرست موجود ہے۔ان کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بالواسطہ طور پر نشانے پر آ سکتی ہے، کیونکہ ایران نے گزشتہ برس اسرائیلی حملوں سے سبق سیکھتے ہوئے اہم شخصیات اور اثاثوں کو پھیلانے اور چھپانے کی کوشش کی ہے۔شسٹر بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایرانی قیادت جان چکی ہے کہ جو چیزیں اہم ہیں انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے، لیکن امریکہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ جو کچھ اسے مل جائے، وہ اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق اگرچہ اعلیٰ رہنماؤں کے گھروں یا دفاتر پر حملوں کی عسکری اہمیت محدود ہوگی، لیکن یہ مظاہرین کے لیے ایک علامتی پیغام ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی قیادت اور IRGC کو معاشی طور پر بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق، “IRGC اور قیادت کے ملک بھر میں بے شمار تجارتی ادارے اور منافع بخش کاروبار ہیں۔ ان مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو ان اور ان کے خاندانوں کے لیے مالی طور پر اہم ہیں۔”
آسٹریلوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا ایک تہائی سے دو تہائی حصہ IRGC کے کنٹرول میں ہے، جس سے اس کے معاشی کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔شسٹر کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ IRGC کی قیادت اور اہلکار اپنی بقا کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں بنسبت حکومت کے تحفظ کے، کیونکہ IRGC کبھی خودکش ادارہ نہیں رہا۔
امریکہ کون سے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟
گزشتہ حملوں میں بی-2 بمبار طیارے مرکزی کردار میں تھے، مگر اس بار اہداف کی نوعیت کے باعث دیگر ہتھیار زیادہ موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔شسٹر کے مطابق علاقائی IRGC ہیڈکوارٹرز اور اڈوں کو ٹوماہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی بحریہ کے آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے ایران کے ساحلوں سے دور رہتے ہوئے داغے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل (JASSM) بھی ایک آپشن ہے، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 1000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ یہ میزائل ایف-15، ایف-16، ایف-35، بی-1، بی-2 اور بی-52 بمبار طیاروں سمیت کئی پلیٹ فارمز سے فائر کیے جا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرونز کا استعمال بھی ممکن ہے، تاہم قریبی فاصلے سے بم گرانے والے طیاروں کا استعمال زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔
بحری بیڑے اور فضائی اڈے
اس وقت امریکی بحری بیڑا USS Abraham Lincoln مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں میل دور جنوبی بحیرۂ چین میں موجود ہے، جس سے فوری کارروائی کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔ ایسی صورت میں ممکنہ فضائی حملے خلیجی خطے کے فضائی اڈوں یا دور دراز مقامات سے کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برس بی-2 بمباروں نے امریکا سے براہِ راست پرواز کر کے کیا تھا۔
پیٹر لیٹن کے مطابق اگر کوئی کارروائی ہوئی تو وہ “انتہائی ڈرامائی” ہوگی۔“ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے اقدامات پسند ہیں جو میڈیا کی توجہ حاصل کریں، مختصر مدت کے ہوں اور امریکی افواج کے لیے کم سے کم خطرہ رکھیں۔”ان کے بقول، ایک آسان اور محفوظ ہدف خلیج فارس میں واقع تیل کی تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن پر حملہ ایران کو درمیانی اور طویل مدت میں شدید معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ بڑے دھویں کے بادل اور مناظر عالمی میڈیا کے لیے نمایاں ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ایران پر نئی امریکی کارروائی کے امکانات زیرِ بحث ہیں، مگر اس کے نتائج، خطرات اور خطے پر اثرات غیر معمولی حد تک سنجیدہ ہو سکتے ہیں
