ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے افسران سے بدعنوانی کے مقدمے میں 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کر لیے
لاہور کیس میں این سی سی آئی اے کے 8 ملزمان سے نقدی اور اثاثے ضبط کیے گئے،ایف آئی آے نے جواب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جمع کرا دیا،سب سے زیادہ 1 کروڑ 12 لاکھ 95 ہزار روپے کی ریکوری ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ہوئی،ڈپٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت جونیئر افسران اور ایک نجی شخص سے بھی رقوم برآمد ہوئیں،ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے این سی سی آئی اے کے خلاف ایف آئی آر نمبر 36/2025 درج کی،لاہور کیس میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کا الزام شامل ہے،سائبر کرائم کیس میں سہولت کاری کے بدلے رشوت لینے کی تحقیقات جاری ہیں،تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ این سی سی آئی اے میں وسیع بدعنوانی کا عندیہ دیتا ہے
تحقیقات میں این سی سی آئی اے لاہور میں ماہانہ رشوت کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے،کال سینٹرز، ایگریگیٹ کمپنیوں اور ملزمان سے باقاعدہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کی جاتی رہیں،افسران کی جانب سے اعلیٰ حکام تک رشوت پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،تفتیش کے مطابق منافع بخش تعیناتیوں کے لیے بھاری رقوم ادا کی جاتی تھیں،راولپنڈی کیس میں غیر قانونی کال سینٹرز سے 30 کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام ہے،ایف آئی آر نمبر 97/2025 میں بحریہ ٹاؤن کے کال سینٹرز کو قانونی تحفظ دینے کا ذکر ہے،چینی شہری گوا کاشیان عرف کیلون کو مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے،راولپنڈی کے 30 کروڑ کے کیس میں اب تک صرف 15 لاکھ روپے کی برآمدگی ہو سکی،ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز گرفتار، بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی گئی،ایف آئی اے نے بینک اکاؤنٹس منجمد، جائیدادوں کی چھان بین اور موبائل فونز فرانزک کے لیے بھیج دیے،مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کارروائی جاری ہے،این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف محکمانہ کارروائی جبکہ ایف آئی اے نے عبوری چالان کی تیاری شروع کر دی
