سندھ حکومت نے خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور گرانے کےلیے ترجیحی اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا، جو غیرمحفوظ عمارتیں پہلے ہی خالی کی جا چکی ہیں انہیں گرایا جائے گا،شرجیل میمن نے ہدایت کی کہ متاثرہ رہائشیوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، کراچی میں 588 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 471 کا سروے اسسٹنٹ کمشنرز نے مکمل کرلیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کمشنر کراچی کے دفتر میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں مخدوش عمارتوں کو جلد از جلد خالی کرانے اور جو خالی کرائی جا چکی ہیں انہیں منہدم کرنے اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے ترجیحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے اور متاثرہ فراد کی بحالی کے لئے فوری نوعیت کی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مکینوں کی زندگیوں کو محفوظ کیا جاسکے اور انہیں با عزت اور محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے،کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز نے انتہائی 588 مخدوش عمارتوں میں سے 471 مخدوش عمارتوں کا جنرل سروے مکمل کرلیا ہے،سروے کے ذریعے ملکیت سمیت مکینوں اور یونٹس سے متعلق تمام ضروری معلومات جمع کر لی گئی ہیں،اجلاس میں 59 خالی کرائی گئی عمارتوں کے مکینوں کی بحالی کے لئے ترجییحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
