ہفتہ کی صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کی اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کو اسرائیلی آپریشن سے باخبر دو ذرائع نے بتایا کہ حملوں کا ہدف ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت تھی۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کے سپریم لیڈر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف ، اور صدر مسعود شامل تھے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حملوں کی فہرست میں ایران کی نو قائم شدہ ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری Ali Shamkhani اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری Ali Larijani بھی شامل تھے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ان حملوں میں ایرانی قیادت کی کسی اہم شخصیت کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کسی جانی نقصان یا اعلیٰ حکام کے متاثر ہونے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر اسرائیلی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی کو نئی سطح پر لے جا سکتی ہے، کیونکہ اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کو غیر معمولی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔مزید تفصیلات اور ایرانی ردعمل کا انتظار ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
