Baaghi TV

کراچی پولیس پر اغوا اور بھتہ خوری کے الزامات

کراچی میں ایک طالب علم نے پولیس پر شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور بھتہ خوری کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں، جس کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اسے زبردستی گھر سے اٹھا کر تھانے منتقل کیا، غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا اور رہائی کے بدلے بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ طالب علم حسنین کے مطابق سکھن پولیس کی تین موبائلیں اس کے گھر پر آئیں اور بغیر کسی وارنٹ یا واضح وجہ کے اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔ حسنین کا دعویٰ ہے کہ تھانے پہنچنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

طالب علم نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکار جبار اور اس کے ساتھی نورا نے ابتدائی طور پر 50 ہزار روپے وصول کیے، جس کے بعد اسے صبح تقریباً 6 بجے رہا کر دیا گیا۔ تاہم حسنین کے مطابق اس کا ذاتی سامان تاحال تھانے میں موجود ہے اور سامان کی واپسی کے لیے پولیس کی جانب سے مزید ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حسنین نے الزام لگایا کہ اسے نہ تو کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی کوئی قانونی وجہ بتائی گئی، بلکہ سارا معاملہ محض پیسے بٹورنے کے لیے کیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ طالب علم ہے اور اتنی بڑی رقم ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں، اس لیے اس نے میڈیا اور اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب پولیس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متاثرہ نوجوان تھانے آجائے تو اس کا سامان واپس کر دیا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر ایس ایس پی ملیر نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور انکوائری ایس پی ملیر کے سپرد کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اگر کسی اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ کراچی میں ماضی میں بھی پولیس اہلکاروں پر شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور بھتہ خوری کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سخت تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر پولیس کے احتساب اور اصلاحات کے مطالبے کو تقویت دے دی ہے۔

More posts