Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آپریشن  غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

    وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

    وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے، افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔

  • موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان کو اوور اسپیڈنگ پر روکنے کے معاملے میں مبینہ نرمی برتنے کے الزامات پر اپنے اہلکاروں کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا، جب موٹر وے پولیس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر چکری انٹرچینج کے قریب رفتار چیک کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران اہلکاروں نے BQB-79 نمبر کی گاڑی کو 166 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے پایا، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی.پیٹرولنگ ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم مرتضیٰ اور سب انسپکٹر سعادت حسن نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر چیک پوسٹ پر گاڑی نہیں روکی اور سفر جاری رکھا۔بعد ازاں گاڑی کو اسلام آباد کے قریب انسپکٹر فراز مہدی نے روک لیا، جنہوں نے ڈرائیور کی شناخت منصور علی خان کے طور پر کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افسر ٹریفک خلاف ورزی پر چالان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم بعد میں اس معاملے میں مبینہ نرمی کے الزامات سامنے آنے پر موٹر وے پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ترجمان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق انکوائری کا مقصد واقعے کی مکمل حقیقت معلوم کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا اہلکاروں نے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی یا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    باجوڑ میں افغان فورسز کی جانب سے پاکستان میں شہری آبادی پر مارٹر گولے کے حملے کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام نے پاک فوج سے فتنہ الخوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کرنے کی گزارش کردی۔

    خیبر پختونخوا کے عوام کی جانب سے افغان فورسز کے حملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صوبے کے شہریوں نے کہا ہے کہ افغان فورسز نے معصوم لوگوں کو شہید کیا۔ جنگ میں آبادی کو نشانہ بنانا غیر انسانی عمل ہے،ایک شہری نے کہا کہ عام لوگوں پر بمباری کرنا اور ایک ہی گھر سے 4 جنازے اٹھانا ظلم اور بربریت ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ عام آبادی کو ہدف نہ بنائے،شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو،باجوڑ کے عوام پاک فوج سے گزارش کرتے ہیں فتنہ خوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کریں، عجیب بات ہے ہم نے اپنی صوبائی حکومت کی طرف سے اس بربریت کی کوئی مذمت نہیں دیکھی، کسی صوبائی وزیر نے نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی آواز اُٹھائی۔ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

  • قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،خالد مسعود سندھو

    قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،خالد مسعود سندھو

    پاکستان سے سیاسی افراتفری ،دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، صدر مرکزی مسلم لیگ
    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،پاکستان قومیت، لسانیت، وطنیت کا نہیں بلکہ لا الہ الا اللہ کا ملک ہے،پاکستان سے سیاسی افراتفری ،دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کر رہے ہیں،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ماہ مباک کی ستائیسویں رات لیلۃ القدر کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا یہ مملکت کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کی گئی ایک عظیم امانت ہے، ہمارے اکابرین اور قائدین نے بے شمار قربانیاں دے کر اس وطن کو حاصل کیا تاکہ یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم ہو سکے جو اسلامی اصولوں، عدل، مساوات اور اخوت پر مبنی ہو،تا ہم یہاں کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے نظریئے کو پس پشت ڈالا، آج بھی اگر ہم قیامِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کو اپنا لیں تو ملک میں حقیقی امن، استحکام اور خوشحالی ممکن ہے، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، اسی سوچ کے تحت ہم نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق آئی ٹی اور ہنر کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور نوجوان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں،ماہ رمضان میں خدمت کا رمضان مہم کے تحت ملک بھر میں سحر و افطار دسترخوان سجائے گئے عید کے بعد خدمت کی مہم کو مزید تیز کریں گے.

  • ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانوی وزیراعظم

    ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ایران کیخلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، آبنائے ہرمز کھولنا کوئی آسان کام نہیں، ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران کیخلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھیں، ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی۔ آبنائے ہرمز کو کھولنا کوئی آسان کام نہیں، سمندری آمد و رفت بحال کرنے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، ہم مسئلے کے تیز تر حل کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ ہم مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دیں گے اور برطانوی مفاد کا دفاع ہر صورت میں میرا فرض ہے، چاہے کتنے ہی دباؤ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں کینیڈا کے وزیراعظم سے ملاقات کی اور جلد ہی یوکرین کے صدر سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور گلف میں کسی قسم کی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے،

    وزیراعظم کی کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے.وزیراعظم کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں، حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی مانگ پوری کرنے لے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ،بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تیل کی مسلسل فراہمی اور اس کی متعین قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پاک ایپ Pak App میں صارفین کے لیے فیچر شامل کر دیا گیا ہے،اب صارفین پاک ایپ Pak App کے ذریعے ملک میں کہیں بھی تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں پر فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات لیے جائیں گے، اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم کے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس،سول اسپتال کو جدید ترین بنانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس،سول اسپتال کو جدید ترین بنانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سول اسپتال کراچی ماسٹر پلان سے متعلق اجلاس ہوا، سول اسپتال کراچی کو 100 ارب روپے کی لاگت سے جدید ترین اسپتال بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    اجلاس میں نجی شراکت داروں کے ساتھ ماسٹر پلان کو حتمی شکل دی گئی، منصوبے کے تحت عبدالستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر فوری شروع ہوگی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سول اسپتال کے 2142 بستروں میں مزید 500 بستروں کا اضافہ کیا جائے، خستہ حال عمارتوں کی جگہ جدید میڈیکل، سرجیکل ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے، نیا او پی ڈی بلاک، برنس وارڈ اور جیل وارڈ منصوبے میں شامل ہوں گے، جدید مورچری اور ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا۔

  • واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی،ایران

    واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی،ایران

    ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے یا پیغامات کے تبادلے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جاری کشیدگی کے دوران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے حوالے سے کوئی پیغام رسانی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور تنازع اس انداز میں ختم ہونا چاہیے کہ آئندہ اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران سے بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان کے مطابق ایران ابھی مذاکرات کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی بیان دیا کہ یہ اہم بحری راستہ صرف ان ممالک کے لیے بند کیا جا سکتا ہے جو ایران کے دشمن ہیں یا اس کے خلاف جارحیت کی حمایت کرتے ہیں۔

    ایران کی فوج نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی طیارہ بردار بیڑے سے منسلک لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان خاتم الانبیاء مرکزی کمانڈ کے مطابق بحیرہ احمر میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford ایران کے لیے خطرہ ہے، اس لیے اس کے اسٹرائیک گروپ کو سہولت فراہم کرنے والے تمام لاجسٹک اور سروس مراکز ممکنہ اہداف سمجھے جائیں گے،امریکی طیارہ بردار جہاز اس وقت بحیرہ احمر میں ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں تعینات ہے۔

    دریں اثنا امریکی بحریہ کے مطابق جمعرات کو USS Gerald R. Ford کے اندر لانڈری روم میں ایک غیر جنگی آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں دو امریکی ملاح معمولی زخمی ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا اور واقعے کے باوجود طیارہ بردار جہاز مکمل طور پر آپریشنل رہا۔

  • تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    بھارت میں تیار جنگی طیارے تیجس کے مسلسل حادثات نے نام نہاد "میڈ اِن انڈیا” دفاعی منصوبے کی ناکامی اور ناقص دفاعی صلاحیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ طیاروں کی تباہی کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلا مودی کے وشو گرو بننے کے تمام عزائم کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کے بڑھتے ہوئے حادثات بھارت کے ایک بڑی فوجی طاقت بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے خاموشی سے تیجس طیاروں کے 30 جہازوں پر مشتمل پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا۔ ماہرین کے مطابق کسی طیارے کی مکمل فلیٹ کو گراؤنڈ کرنا عام طور پر سنگین تکنیکی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔بی بی سی کے مطابق تیجس پروگرام کا آغاز 1981 میں کیا گیا تھا جبکہ اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی، تاہم اتنے طویل عرصے کے باوجود بھارت اب تک اس طیارے کے لیے اپنا انجن تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیجس طیاروں میں استعمال ہونے والے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے ہیں، جس سے مقامی دفاعی پیداوار کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    مزید برآں بھارت کے پاس اس وقت ففتھ جنریشن جنگی طیارہ موجود نہیں ہے اور روس کے SU-57 میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو چکا ہے، جس سے بھارتی فضائیہ کے حفاظتی اور تکنیکی نظام پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔عسکری تقاضوں کے مطابق بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، تاہم دستیاب اسکواڈرن کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق تیجس طیاروں کی گراؤنڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور دیگر آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تکنیکی اور آپریشنل کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیجس کا حادثہ کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہے۔ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کو اپنی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے میں ابھی کئی دہائیاں درکار ہو سکتی ہیں۔