واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنسی ہراسانی اور ہتکِ عزت کے مقدمے میں ایک اور بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ ایک وفاقی جج نے حکم دیا ہے کہ مصنفہ ای جین کیرول کو 2023 میں جیوری کی جانب سے مقرر کردہ ہرجانے کی رقم، جو سود سمیت بڑھ کر تقریباً 58 لاکھ امریکی ڈالر ہو چکی ہے، ادا کی جائے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق یہ رقم پہلے ہی ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں جمع کرائی جا چکی تھی، تاہم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھے جانے کے بعد وفاقی جج لوئس اے کیپلن نے رقم کی ادائیگی کی منظوری دے دی۔ ٹرمپ کے وکلا نے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے ادائیگی روکنے کی درخواست بھی کی، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
یہ مقدمہ اس الزام سے متعلق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 1996 میں نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع ایک لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ٹرائل روم میں مصنفہ ای جین کیرول کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔ 2023 میں جیوری نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کیرول کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ٹرمپ کو ہرجانہ ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ای جین کیرول نے 2019 میں اپنی خودنوشت میں اس واقعے کا ذکر کیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے ان کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے متعدد بیانات دیے۔ انہی بیانات کو عدالت نے ہتکِ عزت کے زمرے میں شمار کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ای جین کیرول کو جانتے تک نہیں تھے اور ان کے بقول یہ الزامات سیاسی مقاصد اور کتابوں کی فروخت بڑھانے کے لیے لگائے گئے۔ ٹرمپ کے وکلا نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف عدالتی نظام کو سیاسی مخالفین استعمال کر رہے ہیں، اسی لیے وہ قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔
امریکہ کی سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کی جج یونس سی لی نے بھی ٹرمپ کی جانب سے رقم کی ادائیگی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد جاری رہے گا۔
دوسری جانب ای جین کیرول کے وکلا نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکل گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے جیوری کی جانب سے مقرر کردہ ہرجانے کی منتظر ہیں اور اب مزید تاخیر مناسب نہیں۔وفاقی جج لوئس اے کیپلن نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ برسوں سے اس مقدمے کو طول دیتے رہے ہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے مقررہ رقم ادا کریں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس کے علاوہ ای جین کیرول کے حق میں سنائے گئے ایک دوسرے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بھی اپیل کر رہے ہیں، جس میں 2024 میں مین ہیٹن کی ایک علیحدہ جیوری نے کیرول کے حق میں 8 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر ہرجانے کا فیصلہ دیا تھا۔ اس مقدمے میں ٹرمپ مختصر طور پر عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔