Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بننے سے بچا رہا ہے،سینیٹر روبینہ خالد

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بننے سے بچا رہا ہے،سینیٹر روبینہ خالد

    پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے ن لیگ کے رانا ثناء اللہ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو اُن تمام خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیے جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری نہیں بنا رہا، بلکہ انہیں بھکاری بننے سے بچا رہا ہے

    چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ساکھ بین الاقوامی ہے.بی آئی ایس پی دنیا میں تخفیف غربت کا سب سے بڑا پروگرام ہے.دیگر ممالک بھی بی آئی ایس پی کی تقلیدکررہے ہیں.بی آئی ایس پی کے ذریعے نادارخاندانوں کو امدادفراہم کی جارہی ہے .یقیناًہر پروگرام میں مسائل ہوتے ہیں جنہیں دورکیاجاتاہے.بی آئی ایس پی ایک کروڑ لوگوں کی کفالت کرتا ہے. بی آئی ایس پی سفید پوش لوگوں کیلئے ہے.ریاست اپنی عوام کی عزت نفس کو بچانے کیلئے یہ پروگرام چلا رہی ہے.صدر مملکت اور وزیراعظم کوبی آئی ایس پی پر پورا اعتماد ہے.ماہ رمضان کا ریلیف پیکج بھی بی آ ئی ایس پی کے توسط سے دیا گیا.وزیراعظم نے کہاہے اس پروگرام کو مزید مربوط کیا جائے.سماجی تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے.بی آئی ایس پی صرف مالی معاونت نہیں بلکہ تعلیمی وسائل بھی فراہم کرتا ہے.اس پروگرام میں خاص طور پر بچیوں کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے. پروگرام سے 1 کروڑ 20 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں.نادرا کے بعد سب سے بڑا پروگرام ڈیٹا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے.غریب کے بچوں کی صحت اور تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہا ہے۔یہ ملک صرف امیروں کے لیے نہیں ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بی آئی ایس پی کی معمولی رقم سے غریب کا کیا ہوگا، یہ سب بھرے پیٹ کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن جس گھر میں فاقہ ہو، اُس کے لیے یہ رقم ایک بڑی سہولت اور ریلیف ہے۔

  • راولپنڈی جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی، مقدمہ درج

    راولپنڈی جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی، مقدمہ درج

    راولپنڈی کے نیو جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی کے معاملے پر تھانہ سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ سیشن کورٹ کے چوکیدار تنویر حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو دیکھی جو نیو جوڈیشنل کمپلیکس کی تھی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ویڈیو میں مرد و خواتین کو نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی شکلیں واضح طور پر پہچانی جا سکتی ہیں۔ مدعی نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو تلاش کرکے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی چھان بین کا عمل جاری ہے اور اس میں شامل افراد کی شناخت کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • شوہر کو قتل کرنے والی خاتون کی عمر قید کی سزا 14 برس قید میں تبدیل

    شوہر کو قتل کرنے والی خاتون کی عمر قید کی سزا 14 برس قید میں تبدیل

    سپریم کورٹ نے میکے سے پیسے منگوانے اور تشدد کرنے پرشوہرکو قتل کرنے والی خاتون کی عمر قید کی سزا 14 سال قید میں تبدیل کردی۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قتل کیس کی سماعت کی،عدالت میں سماعت کے دوران وکیل صفائی نے کہا کہ بیروزگارشوہربیوی پرتشدد کرتا اور میکے سے پیسے مانگنے پرمجبور کرتا تھا، مجرمہ کے 4 بچے تھے، مجرمہ کی والدہ عموماً مالی مدد کردیتی تھیں، آخری بار مجرمہ کی والدہ نے پیسے دینے سے انکارکیا جس پرشوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، مجرمہ کی عزت کو خطرہ تھا جس پر اس نے ردِعمل دیا، مجرمہ2016 سے جیل میں ہے اور تقریباً 10 سال قید کاٹ چکی ہے۔

    پراسیکیوٹرنےکہا کہ مجرمہ نے شوہرکے سرپروارکیا جس کے نتیجے میں موت واقع ہوگئی، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ عموماً شوہربیوی کو قتل کرتا ہے، یہ پہلا کیس دیکھا ہے جس میں بیوی نے شوہرکوقتل کیا،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیس میں مجرمہ کے دوبھائی بھی نامزد تھے تاہم انہیں بری کردیا گیا،جسٹس ہاشم نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کے شواہد پرفیصلہ کیا جائے توکیس میں تینوں ملزمان بری ہوجاتے ہیں،عدالت نے سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرمہ افشاں سحرکی عمرقید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کردی۔

  • گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش  شروع

    گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش شروع

    گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی لاہور سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    بجلی کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث تکنیکی خرابیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں ٹرانسفارمر جلنے اور دیگر فنی مسائل کے باعث بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے، جبکہ کئی مقامات پر صارفین گھنٹوں بجلی سے محروم رہتے ہیں،دیہی علاقوں میں صورتحال مزید سنگین بتائی جا رہی ہے جہاں تکنیکی خرابیوں کے باعث طویل دورانیے کی بندش معمول بن چکی ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی مسلسل بندش نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی بجلی کی طلب 3200 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم طلب کے مطابق بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور مجموعی طور پر بجلی کی کمی کا سامنا نہیں ہے.لیسکو حکام کے مطابق ہائی لاسز فیڈرز پر شیڈول کے مطابق 4 سے 5 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں سامنے آنے والی بندشیں زیادہ تر تکنیکی خرابیوں کا نتیجہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خراب ٹرانسفارمرز اور دیگر فنی مسائل کے فوری ازالے کے لیے ٹیمیں متحرک ہیں تاکہ بجلی کی فراہمی کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔

  • ایرانی حملہ،اسرائیل میں امریکی سفیر بنکر میں پناہ لینے پر مجبور

    ایرانی حملہ،اسرائیل میں امریکی سفیر بنکر میں پناہ لینے پر مجبور

    اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی ایرانی حملوں کے بعد بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ امریکی سفیر نے بنکر سے جاری اپنے پیغام میں تصدیق کی ہے کہ وہ حملوں کے دوران حفاظتی اقدامات کے تحت بنکر میں موجود ہیں۔

    مائیک ہکابی نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں موجود افراد خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں اور مسلسل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث ملک بھر میں خطرے کی صورتحال برقرار ہے، جبکہ بڑی تعداد میں شہری اور غیر ملکی اہلکار بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی مراکز کے قریب رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر پناہ گاہوں کا رخ کریں۔ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی اپیل کر رہی ہے۔

  • شوٹنگ کے دوران رومانوی مناظر کو کم کرنے کی درخواست رد کی گئی،علیزے شاہ

    شوٹنگ کے دوران رومانوی مناظر کو کم کرنے کی درخواست رد کی گئی،علیزے شاہ

    لاہور: پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے گلوکار فلک شبیر کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ان سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں اور ماضی میں ایک میوزک ویڈیو کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔

    حال ہی میں گلوکار فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا تھا کہ عوامی مقامات پر مختصر لباس پہننے والوں کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔اس تناظر میں اداکارہ علیزے شاہ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں فلک شبیر کے ساتھ کیے گئے مشہور میوزک ویڈیو ’’یاداں‘‘ کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے متعدد دعوے کیے۔ علیزے شاہ کے مطابق انہیں اس میوزک ویڈیو میں خود فلک شبیر نے کاسٹ کیا تھا،اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ شوٹنگ کے دوران انہیں مختصر لباس پہننے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ وہ اس حوالے سے مطمئن نہیں تھیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں استعمال ہونے والے تمام مختصر ملبوسات فلک شبیر کی اہلیہ اور معروف اداکارہ سارہ خان نے ڈیزائن اور اسٹائل کیے تھے،علیزے شاہ نے ایک اور اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شوٹنگ کے دوران متعدد مرتبہ رومانوی مناظر کو کم کرنے کی درخواست کی، تاہم ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا گیا اور انہیں وہ مناظر انجام دینے پڑے۔

    اداکارہ کے ان دعوؤں کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تاہم فلک شبیر یا سارہ خان کی جانب سے علیزے شاہ کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • وفاقی بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا فیصلہ

    وفاقی بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا فیصلہ

    وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے دوران سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اے جی ای جی اے) نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بجٹ میں ملازمین کے مطالبات شامل نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔الائنس کے مطابق 9 جون کو وزارتِ خزانہ کے سامنے اور 10 جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے، جن میں ملک بھر سے سرکاری ملازمین کے نمائندہ وفود شرکت کریں گے۔ ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی سرگرمیوں کا مقصد حکومت کی توجہ ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات اور ان کے جائز مطالبات کی جانب مبذول کرانا ہے۔آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا ہے کہ 10 مارچ 2025 کو حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور سرکاری ملازمین کے تمام مطالبات کو آئندہ وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔

    ملازمین کے اہم مطالبات میں تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے نیا پے اسکیل 2026 متعارف کرانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کم تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ، جبکہ کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں پنشن اصلاحات کی واپسی، مختلف اداروں کے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی منظوری، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، اور دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے ملازمتوں کی بحالی جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔

    ملازمین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث سرکاری ملازمین شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ بجٹ میں ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیتے ہوئے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل سرکاری ملازمین کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں میں تیزی نے حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں حکومت اور ملازمین کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

  • ڈومنیکن ریپبلک میں نجی طیارہ حادثے کا شکار، پائلٹ اور شریک پائلٹ کی موت

    ڈومنیکن ریپبلک میں نجی طیارہ حادثے کا شکار، پائلٹ اور شریک پائلٹ کی موت

    ڈومنیکن ریپبلک کے مشرقی علاقے میں واقع لا رومانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک نجی طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ چند ہی منٹوں میں مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں پائلٹ اور شریک پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔

    نیشنل ایوی ایشن اتھارٹی نے 8 جون کو جاری بیان میں بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ 7 جون کو پیش آیا، جب ایک امریکی رجسٹرڈ نجی جیٹ پرواز کے دوران پیش آنے والی تکنیکی یا ہنگامی صورتحال کے باعث واپس ایئرپورٹ پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر بے قابو ہو گیا اور شدید حادثے کا شکار ہو گیا۔مقامی ڈومینکن اخبار ’’ایل دیا‘‘ کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹ اور شریک پائلٹ کی شناخت امریکی شہری ایرک زیویئر ڈیاگو اور روڈی گجل کے ناموں سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مسافر سوار نہیں تھا۔

    سوشل میڈیا پر حادثے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران جیسے ہی طیارے کے پہیے رن وے سے ٹکراتے ہیں، وہ توازن کھو بیٹھتا ہے۔ طیارہ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کئی بار اچھلتا ہے اور پھر اچانک ایک بڑے آتشیں گولے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں جلتے ہوئے طیارے سے اٹھنے والا گہرا دھواں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ڈومنیکن سول ایوی ایشن انسٹی ٹیوٹ نے پائلٹ اور شریک پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ گلف اسٹریم جی-200 ماڈل کا نجی جیٹ تھا۔ ادارے کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے لا رومانا سے تقریباً 16 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اسے ایئرپورٹ واپس لا کر اتارنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ طیارہ پیورٹو ریکو سے ڈومنیکن ریپبلک پہنچا تھا جہاں اس میں ایندھن بھرا گیا، اور بعد ازاں اسے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن روانہ ہونا تھا، تاہم روانگی کے فوراً بعد پیش آنے والی ہنگامی صورتحال کے باعث اسے واپس ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی جو المناک حادثے پر ختم ہوئی۔تحقیقاتی ادارے طیارے کے بے قابو ہونے اور آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، جبکہ حادثے کی مکمل رپورٹ آنے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جا رہا ہے

  • پتا نہیں فلک شبیر جیسے لوگوں کا دماغ کب خواتین کے کپڑوں سے نکلےگا،حنا پرویز بٹ

    پتا نہیں فلک شبیر جیسے لوگوں کا دماغ کب خواتین کے کپڑوں سے نکلےگا،حنا پرویز بٹ

    مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے گلوکار فلک شبیر کی جانب سے عوامی مقامات پر ڈریس کوڈ نافذ کرنے کے مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنانا معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    فلک شبیر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک اسٹوری شیئر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے ویپنگ پر پابندی کے فیصلے کو سراہا تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے درخواست کی تھی کہ عوامی مقامات، بازاروں اور سڑکوں پر مختصر لباس پہننے والوں کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے، بصورت دیگر ثقافتی طور پر معاشرہ نقصان سے دوچار ہوسکتا ہے۔گلوکار نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ دو بیٹیوں کے والد ہونے کے ناطے وہ مریم نواز سے عاجزانہ اپیل کرتے ہیں کہ عوامی مقامات پر لباس سے متعلق ضابطہ اخلاق متعارف کرایا جائے تاکہ معاشرتی اور ثقافتی اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

    فلک شبیر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ پتا نہیں فلک شبیر جیسے لوگوں کا دماغ کب خواتین کے کپڑوں سے نکلےگا۔ آپ کبھی استنبول گئے ہوں تو وہاں خواتین کے لباس پر کوئی بات نہیں کرتا، یہاں پاکستان میں جس کا جو دل کرتا ہے سوشل میڈیا پر آکر بولنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسی ذہنیت کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا۔ خدارا اپنے کام سے کام رکھنا شروع کر دیں تو معاشرے کیلئے یہ ایک بڑی خدمت ہوگی.

  • ایل این جی کے ایک اور جہاز کی پاکستان آمد،پورٹ قاسم پر لنگرانداز

    ایل این جی کے ایک اور جہاز کی پاکستان آمد،پورٹ قاسم پر لنگرانداز

    پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جب ایل این جی بردار جہاز ’’بی ڈبلیو ہیلیوس‘‘ پاکستان پہنچ کر پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا۔ یہ کارگو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور گیس کی دستیابی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

    اتوار کے روز پاکستان کو ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو موصول ہوا، جس میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار کیوبک میٹر مائع قدرتی گیس موجود ہے۔ یہ کارگو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے حاصل کیا، جس کا مقصد توانائی کے شعبے کے لیے کم لاگت اور بروقت ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق بی پی سنگاپور کے تعاون سے حاصل کی گئی ایل این جی لے کر آنے والا جہاز صبح تقریباً 8 بجے پورٹ قاسم پہنچا، جہاں متعلقہ حکام نے کارگو کی اتارائی کا عمل شروع کر دیا۔ اس گیس کو ری گیسیفکیشن کے بعد قومی گیس ترسیلی نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی طلب پوری کی جا سکے۔

    توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی ایل این جی کارگو کی آمد سے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی میں استحکام آئے گا، جبکہ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بھی درکار ایندھن میسر ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ایل این جی کی بروقت درآمدات کا مقصد آئندہ مہینوں میں توانائی کے ممکنہ دباؤ کو کم کرنا اور قومی معیشت کی ضروریات کے مطابق گیس کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔حکام کے مطابق درآمدی ایل این جی کے یہ ذخائر قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں شامل کیے جانے کے بعد ملک میں گیس سپلائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔