وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے دوران سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اے جی ای جی اے) نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بجٹ میں ملازمین کے مطالبات شامل نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔الائنس کے مطابق 9 جون کو وزارتِ خزانہ کے سامنے اور 10 جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے، جن میں ملک بھر سے سرکاری ملازمین کے نمائندہ وفود شرکت کریں گے۔ ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی سرگرمیوں کا مقصد حکومت کی توجہ ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات اور ان کے جائز مطالبات کی جانب مبذول کرانا ہے۔آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا ہے کہ 10 مارچ 2025 کو حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور سرکاری ملازمین کے تمام مطالبات کو آئندہ وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔
ملازمین کے اہم مطالبات میں تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے نیا پے اسکیل 2026 متعارف کرانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کم تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ، جبکہ کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں پنشن اصلاحات کی واپسی، مختلف اداروں کے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی منظوری، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، اور دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے ملازمتوں کی بحالی جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔
ملازمین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث سرکاری ملازمین شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ بجٹ میں ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیتے ہوئے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل سرکاری ملازمین کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں میں تیزی نے حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں حکومت اور ملازمین کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
