پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جب ایل این جی بردار جہاز ’’بی ڈبلیو ہیلیوس‘‘ پاکستان پہنچ کر پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا۔ یہ کارگو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور گیس کی دستیابی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اتوار کے روز پاکستان کو ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو موصول ہوا، جس میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار کیوبک میٹر مائع قدرتی گیس موجود ہے۔ یہ کارگو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے حاصل کیا، جس کا مقصد توانائی کے شعبے کے لیے کم لاگت اور بروقت ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق بی پی سنگاپور کے تعاون سے حاصل کی گئی ایل این جی لے کر آنے والا جہاز صبح تقریباً 8 بجے پورٹ قاسم پہنچا، جہاں متعلقہ حکام نے کارگو کی اتارائی کا عمل شروع کر دیا۔ اس گیس کو ری گیسیفکیشن کے بعد قومی گیس ترسیلی نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی طلب پوری کی جا سکے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی ایل این جی کارگو کی آمد سے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی میں استحکام آئے گا، جبکہ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بھی درکار ایندھن میسر ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ایل این جی کی بروقت درآمدات کا مقصد آئندہ مہینوں میں توانائی کے ممکنہ دباؤ کو کم کرنا اور قومی معیشت کی ضروریات کے مطابق گیس کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔حکام کے مطابق درآمدی ایل این جی کے یہ ذخائر قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں شامل کیے جانے کے بعد ملک میں گیس سپلائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
