مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خلیجی سمندری راستوں میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات برطانیہ کی سمندری سکیورٹی تنظیم نے جاری کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے، جو بھارتی شہری تھا۔ اس ہلاکت کی تصدیق عمان میں موجود عمان میں بھارتی سفارتخانے نے بھی کی ہے۔حملے زیادہ تر اہم سمندری راستوں کے اطراف میں رپورٹ ہوئے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
یکم مارچ:
UKMTO کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کو میزائل نما گولوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک اور ٹینکر بحرین میں لنگر انداز ہونے کے دوران حملے کی زد میں آیا۔ اسی روز خلیج عمان میں MKD VYOM نامی ٹینکر پر حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مزید ایک جہاز کے قریب بھی گولہ پھٹنے کی اطلاع دی گئی۔
3 مارچ:
خلیج عمان میں لنگر انداز دو جہازوں پر حملہ کیا گیا جبکہ ایک کارگو جہاز کے قریب ڈرون بھی دیکھا گیا جس نے پانی میں گر کر دھماکہ کیا۔
4 مارچ:
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دو جہازوں کے اندر دھماکے رپورٹ ہوئے جبکہ ایک اور جہاز سے تقریباً ایک ناٹیکل میل کے فاصلے پر گولہ پھٹنے کی اطلاع ملی۔
6 مارچ:
آبنائے ہرمز میں ایک ٹگ بوٹ کو گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔
7 مارچ:
خلیج فارس میں سمندر میں قائم ایک آئل ڈرلنگ رگ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے کچھ افراد زخمی ہوئے اور اہلکاروں کو فوری طور پر نکالنا پڑا۔
10 مارچ:
خلیج فارس میں ایک جہاز پر گولہ گرنے سے اس کے ڈھانچے کو ممکنہ نقصان پہنچا۔
11 مارچ:
آبنائے ہرمز میں Mayuree Naree نامی کنٹینر شپ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خلیج فارس میں مزید تین جہاز بھی حملوں کا شکار ہوئے۔
12 مارچ:
خلیج فارس میں ایک کنٹینر جہاز پر گولہ لگنے سے آگ بھڑک اٹھی۔
ماہرین کے مطابق ان حملوں نے خطے میں سمندری سکیورٹی اور عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔