Baaghi TV

Blog

  • 
ایل این جی ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا

    
ایل این جی ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا

    ‎متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے زیر انتظام ایل این جی ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے، جو موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر اب بھارت کے مغربی ساحل کے قریب موجود ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس ایل این جی ٹینکر کی آخری لوکیشن 30 مارچ کو خلیج کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ اب اس کے کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے گزرنے والی ہر بڑی شپنگ سرگرمی عالمی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ایسے واقعات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق متعلقہ کمپنی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جس سے اس ٹینکر کی نقل و حرکت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود توانائی کی سپلائی جاری رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ عالمی منڈی میں کسی بڑی خلل سے بچا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • ‎ایران میں پیٹرول قلت کا خدشہ، امریکی دعویٰ

    ‎ایران میں پیٹرول قلت کا خدشہ، امریکی دعویٰ

    ‎امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو جلد پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل کی صنعت شدید دباؤ میں ہے اور پیداوار متاثر ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
    ‎اپنے بیان میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے سمندری راستوں پر سخت نگرانی اور پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل اور پیداوار میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران میں تیل نکالنے کا عمل رک سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی معاشی اور توانائی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ پاسداران انقلاب کے رہنماؤں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایران میں ایندھن کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی معیشت بلکہ خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایران کے پاس متبادل ذرائع اور ذخائر موجود ہیں، جو اسے فوری بحران سے بچا سکتے ہیں۔
    ‎یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور توانائی کے شعبے میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ‎ایران کے پاس زمین کے علاوہ بڑے بحری جہازوں میں بھی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے: ماہرین

    ‎ایران کے پاس زمین کے علاوہ بڑے بحری جہازوں میں بھی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے: ماہرین

    ‎ماہرین کے مطابق ایران کے پاس ایسے کئی عملی آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکی ناکا بندی کے باوجود اپنی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو فوری طور پر متاثر ہونے سے بچا سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں ایسے متبادل انتظامات تیار کیے ہیں جو اسے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تیل ایران کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ برآمدات روکنے سے ایران پر دباؤ بڑھے گا۔ تاہم ماہرین اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث وہ فوری بحران سے بچ سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نہ صرف زمینی تنصیبات میں تیل ذخیرہ کر سکتا ہے بلکہ بڑے آئل ٹینکرز کو بھی فلوٹنگ اسٹوریج کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کے پاس متعدد ویری لارج کروڈ کیریئرز موجود ہیں، جن میں ہر ایک لاکھوں بیرل تیل محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎مزید یہ کہ بعض رپورٹس کے مطابق ایران نے کچھ ٹینکرز کو آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، جس سے اس کی سپلائی مکمل طور پر نہیں رکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایران کو کم از کم قلیل مدت میں معاشی دباؤ سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔
    ‎ایک توانائی تجزیہ کار کے مطابق ایران کو ماضی کے تجربات، خصوصاً کورونا وبا کے دوران ذخیرہ اندوزی کی حکمت عملی، سے بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک دہائی میں متبادل برآمدی راستوں اور سہولیات میں اضافہ بھی اس کی مدد کر رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طویل مدت میں پابندیوں کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر ایران کے لیے پیداوار بند کرنا ضروری نہیں ہوگا اور وہ چند ماہ تک اپنی تیل کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔

  • 
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا، ٹرمپ

    
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا، ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہی، جس میں انہوں نے موجودہ صورتحال کو نہایت حساس قرار دیا۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قیادت کے اندر معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    ‎امریکی صدر نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ ایران اپنی پالیسی میں بہتری لائے گا اور حالات کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی بحری راستے کو کھلا رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم ترین راستہ ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے اس حوالے سے ہر پیش رفت کو عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

  • ‎بھارتی ایئرلائنز بحران کا شکار، آپریشن معطلی کا خدشہ

    ‎بھارتی ایئرلائنز بحران کا شکار، آپریشن معطلی کا خدشہ

    ‎بھارت کی بڑی ایئرلائنز ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ شدید مالی دباؤ کے باعث فضائی آپریشنز معطل ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایئرلائنز کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت اور موجودہ حالات نے صنعت کو سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر فیول کی قیمتیں مجموعی آپریشنل اخراجات کا 40 فیصد سے زائد حصہ بن چکی ہیں، جس نے کمپنیوں کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
    ‎ایئرلائنز حکام کا کہنا ہے کہ طویل روٹس اختیار کرنے کی مجبوری کے باعث نہ صرف ایندھن کا استعمال بڑھا ہے بلکہ پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں کئی روٹس کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
    ‎ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے حکومت سے فوری مداخلت، ریگولیٹری سہولت اور مالی معاونت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صنعت کو مکمل بحران سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پروازوں کی منسوخی یا مکمل آپریشن معطلی جیسے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

  • امریکا ایران پسِ پردہ سفارت کاری تیز

    امریکا ایران پسِ پردہ سفارت کاری تیز

    ‎امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران بظاہر جتنے دور دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں اتنے فاصلے پر نہیں ہیں اور پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں ممکنہ کشیدگی میں کمی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎سی این این کے مطابق جاری بیک چینل ڈپلومیسی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ یا ٹول ٹیکس کے کھولنا ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق سفارتی بات چیت کے اگلے مرحلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر گفتگو متوقع ہے، تاہم اس سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مراحل وار مذاکرات کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ ایران کو اپنی ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہونا ہوگا، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ پیش رفت یا تعطل کا فیصلہ ہوگا۔

  • 
جیٹ فیول قلت کا خدشہ، فضائی سفر مزید مہنگا  سکتا ہے

    
جیٹ فیول قلت کا خدشہ، فضائی سفر مزید مہنگا سکتا ہے

    ‎انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے ایشیا سمیت مختلف خطوں میں جیٹ فیول کی ممکنہ قلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باعث فضائی سفر مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایئر لائنز اور مسافروں دونوں کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔
    ‎آئی اے ٹی اے کے مطابق موجودہ صورتحال کورونا وبا سے مختلف ہے کیونکہ اس بار فضائی سفر کی طلب برقرار ہے، جبکہ ایندھن کی سپلائی میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلب اور رسد کے درمیان فرق قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
    ‎چیف آئی اے ٹی اے ولی والش کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قلت کا سب سے زیادہ اثر ایشیا، یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکا پر پڑنے کا امکان ہے، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب سفر عروج پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس دوران ایندھن کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایئر لائنز کے لیے فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ برداشت کرنا ممکن نہیں، اس لیے یہ اضافی بوجھ بالآخر مسافروں پر منتقل ہوگا، جس سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایشیا اور یورپ میں فیول راشننگ کے باعث کچھ پروازوں کی منسوخی کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو فضائی آپریشنز کو متاثر کر سکتا ہے۔

  • 
یو اے ای کا اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

    
یو اے ای کا اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

    ‎متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جو یکم مئی 2026 سے مؤثر ہوگا۔ اس فیصلے کو عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی پیداوار پالیسی، موجودہ صلاحیت اور مستقبل کی توانائی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یو اے ای کے طویل مدتی معاشی وژن، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور عالمی منڈی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنے کے عزم کے مطابق ہے۔
    ‎اوپیک سے علیحدگی کے بعد یو اے ای کو تیل کی پیداوار کے حوالے سے زیادہ خودمختاری حاصل ہوگی۔ اس سے قبل اوپیک اور اوپیک پلس کے تحت رکن ممالک کو مخصوص کوٹہ سسٹم کا پابند ہونا پڑتا تھا، تاہم اب یو اے ای اپنی پیداوار کو عالمی طلب کے مطابق آزادانہ طور پر بڑھا یا کم کر سکے گا۔
    ‎یو اے ای نے گزشتہ برسوں میں اپنی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اب وہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
    ‎یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپیک پلس کے اندر پیداوار کی سطح اور کوٹہ سسٹم پر کافی عرصے سے اختلافات موجود تھے۔ یو اے ای ماضی میں بھی اس بات پر تحفظات ظاہر کر چکا ہے کہ موجودہ کوٹہ اس کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے مطابق نہیں۔

  • 
ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، سائنس بورڈ تحلیل

    
ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، سائنس بورڈ تحلیل

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کے اہم سائنسی پالیسی ادارے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام نے پالیسی حلقوں اور ماہرین میں بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی نیشنل سائنس بورڈ کے تمام ارکان کو فوری طور پر برطرف کر دیا ہے، جس کے بعد یہ ادارہ عملاً غیر فعال ہو گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 22 رکنی بورڈ کے ارکان کو بغیر کسی وضاحت کے ای میل کے ذریعے برطرفی کا نوٹس دیا گیا۔
    ‎یہ بورڈ 1950 سے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی پالیسی سازی اور فنڈنگ کی نگرانی کرتا رہا ہے اور اسے امریکا کی سائنسی ترقی میں ایک اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ذمہ داریوں میں تحقیقاتی منصوبوں کی منظوری اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبے میں پالیسی رہنمائی شامل تھی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق نیشنل سائنس فاؤنڈیشن تقریباً 9 ارب ڈالر کی تحقیقاتی فنڈنگ کا انتظام کرتی ہے، جس کی نگرانی یہی بورڈ کرتا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اس فنڈنگ اور پالیسی سازی کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے اثرات امریکی سائنسی تحقیق، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر پڑ سکتے ہیں، جبکہ بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججز کے تبادلے منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججز کے تبادلے منظور

    ‎جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین جج صاحبان کے تبادلوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کثرتِ رائے سے کیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق کمیشن کے 9 ارکان نے جسٹس محسن اختر کیانی کے تبادلے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ کر دیا گیا۔ اسی طرح جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری بھی اکثریتی رائے سے دی گئی۔
    ‎مزید برآں جوڈیشل کمیشن نے جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ تینوں ججز کے تبادلے کو عدالتی نظام میں انتظامی بہتری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلوں سے متعلق اپنی سفارش واپس لے لی، جس کے باعث ان کے تبادلوں پر غور نہیں کیا گیا۔
    ‎اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان تبادلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خالی نشستوں کو صرف ٹرانسفر ججوں کے ذریعے ہی پُر کیا جائے گا اور نئی تقرریاں نہیں کی جائیں گی۔
    ‎ماہرین قانون کے مطابق اس نوعیت کے تبادلے عدالتی نظام میں توازن برقرار رکھنے اور مختلف ہائی کورٹس میں تجربہ کار ججز کی موجودگی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔