امریکا کی معروف گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کو تفریحی صنعت میں اے آئی کے استعمال پر بڑھتی تشویش کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 36 سالہ پاپ اسٹار نے اپنی آواز کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں تین ٹریڈ مارک درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان میں ’ہے‘، ’ہے، اٹس ٹیلر سوئفٹ‘ اور ’اٹس ٹیلر سوئفٹ‘ جیسے ساؤنڈ مارکس شامل ہیں، جن کا مقصد ان کی آواز کی شناخت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ ایک درخواست ان کے اسٹیج امیج سے متعلق بھی دی گئی ہے، جس میں انہیں گلابی گٹار کے ساتھ رنگین لباس اور چاندی کے جوتے پہنے دکھایا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے وہ اپنی بصری شناخت کو بھی محفوظ بنانا چاہتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی آڈیو اور ویڈیوز تیزی سے تیار کی جا رہی ہیں، جس سے فنکاروں کی شناخت اور ساکھ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات اب قانونی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ٹیلر سوئفٹ کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانونی کوششیں نہ صرف فنکاروں بلکہ دیگر شعبوں کے افراد کے لیے بھی مثال بن سکتی ہیں۔
ٹیلر سوئفٹ کی اے آئی کے خلاف قانونی جنگ
