Baaghi TV

Blog

  • 
واٹس ایپ میں نیا ببل فیچر، بات چیت ہوگی مزید آسان

    
واٹس ایپ میں نیا ببل فیچر، بات چیت ہوگی مزید آسان

    واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور کارآمد فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت بات چیت کا انداز مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق میٹا کی ملکیت میں موجود اس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں نوٹیفکیشن ببلز کی آزمائش جاری ہے۔
    یہ فیچر دراصل اینڈرائیڈ 10 میں پہلے سے موجود ببل سسٹم پر مبنی ہے، جسے اب واٹس ایپ میں شامل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے جب بھی کسی صارف کو نیا میسج موصول ہوگا تو وہ اسکرین پر ایک فلوٹنگ ببل کی صورت میں ظاہر ہوگا، چاہے صارف کسی اور ایپ میں مصروف کیوں نہ ہو۔
    ‎اس ببل میں متعلقہ کانٹیکٹ یا گروپ کی پروفائل تصویر کے ساتھ واٹس ایپ کا چھوٹا آئیکون بھی دکھائی دے گا، جس سے فوری اندازہ ہو جائے گا کہ نیا پیغام آیا ہے۔ صارف اس ببل پر کلک کر کے براہ راست چیٹ کھول سکے گا، جہاں وہ میسج پڑھنے اور جواب دینے کی سہولت حاصل کرے گا، بغیر مکمل ایپ کھولے۔
    ‎اس نئے فیچر سے صارفین کو ملٹی ٹاسکنگ میں خاصی آسانی ملے گی۔ مثال کے طور پر ویڈیو دیکھتے ہوئے یا کسی اور ایپ کا استعمال کرتے ہوئے بھی چیٹس کا جواب دیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایک وقت میں متعدد چیٹس کو سنبھالنا بھی آسان ہو جائے گا۔
    ‎ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگا جو بیک وقت کئی کام انجام دیتے ہیں اور فوری ردعمل دینا چاہتے ہیں۔

  • ‎ایران نے اسٹیل برآمدات عارضی معطل کر دیں

    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے اسٹیل سلیب اور شیٹس کی برآمدات کو 30 مئی تک عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اسے حالیہ حالات سے جوڑا جا رہا ہے۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی اسٹیل انڈسٹری کو حالیہ کشیدگی کے دوران شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ملک کی سالانہ اسٹیل پیداوار کی صلاحیت کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ بند ہو چکا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ موبارکہ اسٹیل کمپنی اور خوزستان اسٹیل کمپنی جیسے بڑے صنعتی ادارے بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اپریل کے آغاز میں خوزستان اسٹیل کمپنی کے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت اور آپریشنز کی بحالی میں 6 سے 12 ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اسٹیل ایران کی اہم غیر تیل برآمدات میں شامل ہے، اس لیے اس شعبے میں رکاوٹ نہ صرف ملکی معیشت بلکہ زر مبادلہ کی آمدن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ برآمدات کی معطلی سے عالمی مارکیٹ میں بھی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو ایرانی اسٹیل پر انحصار کرتے ہیں۔

  • 
جمعہ کی چھٹی ختم، اسکول معمول پر آئیں گے

    
جمعہ کی چھٹی ختم، اسکول معمول پر آئیں گے

    ‎صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اسکولوں میں جمعہ کی چھٹی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چھٹی مستقل نہیں رہے گی اور جلد ختم کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو دوبارہ معمول کے ہفتہ وار شیڈول پر لایا جا رہا ہے۔
    ‎وزیر تعلیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جمعہ کی چھٹی کو مستقل بنانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں یہ سہولت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور طلبہ کو روایتی شیڈول کے مطابق اسکول آنا ہوگا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ فیصلے کو بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عارضی نوعیت کا تھا جسے مخصوص حالات کے تحت متعارف کروایا گیا تھا۔
    ‎رانا سکندر حیات نے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بھی وضاحت کی اور کہا کہ چھٹیوں کے دورانیے یا شیڈول کے بارے میں حتمی فیصلہ 15 مئی کے بعد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے کوئی بھی اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔
    ‎یاد رہے کہ عالمی سطح پر توانائی بحران اور پیٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی دی گئی تھی، جس کے تحت طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اب حالات میں بہتری کے بعد حکومت نے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، قیمتی پتھروں کی کٹائی،تین سینٹرز آف ایکسیلینس بنانے کا فیصلہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، قیمتی پتھروں کی کٹائی،تین سینٹرز آف ایکسیلینس بنانے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم کیا ہے،
    ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے،یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں. سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے.

    وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.

    اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں.

    اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے. وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    چین کے صوبے ہونان کے شہر چانگشا میں پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں سمیت تین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    ان معاہدوں کے تحت کراچی میں پانی کی قلت کے حل، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور چائے کی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔پہلی مفاہمتی یادداشت سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لوشیئن انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ کے درمیان طے پائی۔ اس معاہدے کے تحت کراچی کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا بنانے (ڈی سیلینیشن) کے منصوبے پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور چینی کمپنی کے پارٹی برانچ سیکرٹری و چیئرمین یوہوئی نے دستخط کیے۔

    دوسرا سمجھوتہ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لانگ پن ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی کے درمیان ہوا، جس کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس ایم او یو پر شرجیل انعام میمن اور کمپنی کے چیئرمین چن ژی شین نے دستخط کیے۔تیسری مفاہمتی یادداشت چائے کے شعبے سے متعلق ہے، جو مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی، ہونان ٹی گروپ اور جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی (ہینان) کے درمیان طے پائی۔پاکستان کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ چینی اداروں کی نمائندگی چیئرمین ژو چونگ وانگ اور چیئرمین ہاؤ جیاولونگ نے کی۔

    اس معاہدے کا مقصد چائے کی صنعت کی ترقی، صنعتی تعاون کے فروغ اور پاکستان و چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں، جن سے نہ صرف کراچی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے بھی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوں گے۔

  • ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت خارج

    ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے ڈاکٹرکی غیر اخلاقی ویڈیوبناکربلیک میل کرنےکے ملزم اسرار مجید کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں ایف آئی اے کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ اخرم عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نجی اسپتال میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا اور نوکری سے نکالے جانے پر ملزم نےگارڈ سے مل کرگھرکے واش روم میں کیمرےلگائے، ملزم نےنازیبا ویڈیو بنا کرخاتون ڈاکٹر سے 25 لاکھ روپےکی ڈیمانڈکی، ایف آئی اے نےلیڈی ڈاکٹرکے بیٹےکی درخواست پرملزم کوگرفتارکیا،ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم 10ماہ سےجیل میں ہے،جھوٹ اور سچ کا پتہ ٹرائل میں لگےگا۔

    بعد زاں عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی اور کہا کہ ملزم نےجوکام کیاہے وہ ضمانت کامستحق نہیں ہے،

  • آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں

    آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں

    وفاقی آئینی عدالت سے حکومت کو بڑا ریلیف مل گیا، آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کردیں، دفعات بحالی سے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار بحال ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق عدالت نے حکومت کا شہریوں کے پاسپورٹ غیرفعال قرار دینے کا اختیار بھی بحال کردیا۔
    آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا، حکومتی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا جہاں سے ڈی پورٹ ہوا تھا، غیرقانونی اقدامات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیا گیا۔

    عامر رحمان نے بتایا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اور پاسپورٹ غیرفعال ہونا چیلنج کیا گیا۔ جسٹس حسن نے کہا کہ یہ خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسہ لے کر اٹلی بھیجتا تھا؟، ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی ہے؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے معلومات نہیں لیں، لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول 3 اور 10 کالعدم قرار دے دیئے۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  • پاکستان ثالثی کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ایرانی وزیرخارجہ

    پاکستان ثالثی کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ایرانی وزیرخارجہ

    ماسکو: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور موجودہ سفارتی عمل میں اسلام آباد کی شمولیت نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

    ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم امریکی مؤقف اور سخت شرائط کے باعث گزشتہ دور کے طے شدہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات اور نامناسب طرزِ عمل نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت اور سفارتی حکام کے ساتھ قریبی مشاورت ضروری تھی تاکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کا درست جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ روسی حکام کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں جاری ہیں، جن میں علاقائی سیکیورٹی، جاری تنازعات اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق یہ ملاقاتیں ایران کے لیے اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک اہم موقع ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار خطے میں سفارتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

  • یہ کیسا الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا،عدالت

    یہ کیسا الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا،عدالت

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے درخواست گزاروں کو ایکٹ کو غیر قانونی جیسے الفاظ کہنے سے روک دیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ایسے الفاظ کا استعمال کرنا ہے تو کسی دوسری عدالت میں جائیں، جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ کوئی شخص برا نہیں ہوتا،ہر چیز میں اچھائی ہوتی ہے۔پنجاب حکومت کے وکیل نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی کاپی عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا چیئرمین اور وائس چیئرمین ڈائریکٹ عوام نے منتخب کرنے ہیں؟۔ وکیل نے بتایا کہ آئین میں الیکٹڈ کا لفظ ہے، چیئرمین سینٹ، اسپیکر، وزیراعظم منتخب ہوتا ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ میئر کو کس نے منتخب کرنا ہے؟، وکیل نے جواب دیا کہ میئر کو چیئرمینز منتخب کریں گے۔

    عدالت نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا، آپ دوسری سائیڈ کو سنیں یا ساری سیاسی جماعتیں بیٹھ جائیں اور ملکر اتفاق رائے کرلیں۔

  • ٹیسلا کو بھارت میں سخت چیلنجز، 10 فیصد ہدف بھی پورا نہ ہوسکا

    ٹیسلا کو بھارت میں سخت چیلنجز، 10 فیصد ہدف بھی پورا نہ ہوسکا

    نئی دہلی: دنیا کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا کو بھارت میں اپنی توقعات کے برعکس سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایلون مسک کی قیادت میں کمپنی نے بھارتی مارکیٹ میں بڑی امیدوں کے ساتھ قدم رکھا، مگر فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی نے حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حال ہی میں کمپنی نے بھارت میں اپنا نیا 6 سیٹر لانگ وہیل بیس ماڈل Tesla Model YL متعارف کرایا ہے، جس کی قیمت تقریباً 62 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ لانچ دراصل کمپنی کی جانب سے “ڈیمیج کنٹرول” کی کوشش ہے، کیونکہ گزشتہ کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔رپورٹس کے مطابق 2025 میں ٹیسلا نے 2500 یونٹس فروخت کرنے کا ہدف رکھا تھا، تاہم کمپنی صرف 227 گاڑیاں ہی فروخت کر سکی۔ ہدف کا 10 فیصد بھی حاصل نہ ہونا کمپنی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ فروخت بڑھانے کے لیے کمپنی کو لاکھوں روپے تک کی رعایتیں بھی دینا پڑیں۔بھارت میں درآمدی ڈیوٹی 70 سے 110 فیصد تک ہونے کے باعث ٹیسلا گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں اور ان کا مقابلہ براہ راست لگژری برانڈز جیسے BMW، Mercedes-Benz اور Volvo سے ہوتا ہے۔

    الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں ایک اور بڑی رکاوٹ چارجنگ اسٹیشنز کی کمی ہے۔ بھارت میں محدود چارجنگ نیٹ ورک اور Tesla Supercharger کی کم دستیابی صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر طویل سفر کے دوران۔

    بھارتی مارکیٹ میں Tata Motors اور Mahindra & Mahindra جیسے مقامی برانڈز کا مضبوط اثر و رسوخ بھی ٹیسلا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ Tata Nexon EV جیسی گاڑیاں نسبتاً سستی اور مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہیں، جس کے باعث صارفین انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ٹیسلا کا سروس نیٹ ورک محدود ہونے کے باعث صارفین کو مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ بھارتی سڑکوں کی حالت اور اسپیڈ بریکرز بھی کم گراؤنڈ کلیئرنس والی گاڑیوں کے لیے مسئلہ بنتے ہیں۔