مدھیہ پردیش: عام طور پر طلاق کے مقدمات میں گھریلو تشدد، جہیز یا ازدواجی تنازعات جیسے الزامات سامنے آتے ہیں، مگر ایک حیران کن واقعے میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی ہی بہن کو اس کی دوسری بیوی قرار دے کر عدالت سے یکطرفہ طلاق حاصل کرلی۔
یہ معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیار بینچ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں شوہر نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلاق دھوکہ دہی اور گمراہ کن شواہد کی بنیاد پر حاصل کی گئی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق گوالیار کی رہائشی خاتون کی شادی 1998 میں ایک نجی مارکیٹنگ کمپنی سے وابستہ شخص سے ہوئی تھی۔ شوہر کے اکثر گھر سے باہر رہنے کے باعث دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے، اور 2015 کے بعد خاتون نے علیحدہ رہائش اختیار کرلی۔خاتون کسی بھی صورت طلاق حاصل کرنا چاہتی تھی جبکہ شوہر اس پر آمادہ نہیں تھا۔ بالآخر 2021 میں خاتون نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے۔
اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر خاتون نے ایک خاندانی گروپ تصویر پیش کی، جس میں شوہر ایک خاتون کے ساتھ کھڑا تھا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ تصویر میں موجود وہ خاتون شوہر کی دوسری بیوی ہے۔ عدالت نے اسی تصویر کو بنیاد بنا کر خاتون کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے طلاق دے دی، جبکہ شوہر کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔
واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب شوہر کو رواں ماہ اپریل کے پہلے ہفتے میں طلاق کے فیصلے کا علم ہوا۔ عدالتی ریکارڈ چیک کرنے پر وہ حیران رہ گیا کہ جس خاتون کو اس کی دوسری بیوی ظاہر کیا گیا، وہ دراصل اس کی سگی بہن تھی۔سرکاری وکیل دھرمیندر شرما کے مطابق شوہر نے اب ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی بیوی نے عدالت کو گمراہ کیا اور غلط بیانی کے ذریعے طلاق کا حکم حاصل کیا۔ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں شوہر نے درخواست کی ہے کہ یکطرفہ طلاق کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ یہ فیصلہ غلط اور گمراہ کن شواہد پر مبنی ہے۔









