Baaghi TV

Blog

  • امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    واشنگٹن میں ایک سالانہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے اس حملے کو امریکی صدر کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلانٹائن نے عدالت میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس شخص نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہےکیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے ایلن پر ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے اور پرتشدد جرم کے دوران گولی چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنے ساتھ ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، تین چاقو اور ایک خودکار پستول لے کر واشنگٹن پہنچا تھاحکام نے شاٹ گن کے اندر سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں فائرنگ کی گئی تھی۔

    مختصر سماعت کے دوران ایلن نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہےملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایلن کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

    ایف بی آئی کے بیانِ حلفی کے مطابق ایلن نے 6 اپریل کو اسی ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھا جہاں یہ تقریب ہونی تھی اور وہ گزشتہ ہفتے ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا تھاہفتے کے روز اس نے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی جس میں خود کو دوستانہ وفاقی قاتل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظا میہ کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا، ای میل میں لکھا تھا کہ میں نے یہ سب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں اور میرے نمائندے جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے –

    بیانِ حلفی کے مطابق ایلن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر لگی مشین سے اسلحہ سمیت تیزی سے گزرا، جس پر ایک سیکیورٹی افسر نے اس پر گولی چلائی، ایلن زمین پر گر گیا لیکن اسے گولی نہیں لگی اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سیکیورٹی افسر کے سینے میں گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گولی کس کی طرف سے چلائی گئی تھی۔

    جج میتھیو شاربا نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھا جائے جب اس کی ضمانت یا مستقل قید کے حوالے سے دوبارہ سماعت ہوگی۔

    قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو غدار، ریپسٹ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا قرار دیا تھامہذب زندگی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے خلاف اس طرح کے اقدامات جاری رہنے دیے جائیں گے۔

  • ملک بھر میں ہیٹ ویو الرٹ، درجہ حرارت میں اضافہ

    ملک بھر میں ہیٹ ویو الرٹ، درجہ حرارت میں اضافہ

    ‎محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس سے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان اس ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اپریل کے آخری دنوں اور مئی کے آغاز میں یہ شدید گرمی برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مغربی ہواؤں کے باعث گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے، جو موسم کو مزید خشک اور سخت بنا سکتی ہیں۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور مریض افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور ہلکے کپڑے پہنیں تاکہ ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎حکومت نے بھی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں آگاہی مہم اور طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔

  • 
تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان

    
تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جغرافیائی کشیدگی اور ممکنہ سپلائی خدشات نے توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
    ‎تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 97 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان غالب رہا، جہاں 100 انڈیکس 1174 پوائنٹس کی کمی کے بعد 169,497 کی سطح پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں 78 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 33 ارب روپے رہی، جبکہ مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 130 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 18,747 ارب روپے تک آ گئی۔
    ‎عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹس میں کچھ بہتری دیکھی گئی، جہاں جاپان اور جنوبی کوریا کے شیئر بازاروں میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس یورپی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا، برطانیہ اور فرانس کے بازاروں میں دوران ٹریڈنگ کمی کا رجحان غالب رہا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • 
جامعہ پشاور مالی بحران کا شکار، اساتذہ کا احتجاج

    
جامعہ پشاور مالی بحران کا شکار، اساتذہ کا احتجاج

    ‎خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے قائم حکومت کے تعلیمی دعووں کے برعکس صوبے کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ پشاور شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ادارہ اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق جامعہ پشاور کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ مارچ کی آدھی تنخواہیں ادا نہ ہونا اور تقریباً 162 ملین روپے کی پنشن روک دی جانا اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال نے اساتذہ اور دیگر ملازمین کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
    ‎اساتذہ تنظیم کے مطابق حکومتی سطح پر جامعات کے لیے گرانٹس میں کمی اور مالی خودمختاری کے نام پر اداروں کو وسائل کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث تعلیمی ادارے مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
    ‎پیوٹا نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ پشاور کے لیے فوری طور پر 4 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جائے اور پنشن فنڈ کو بحال کیا جائے تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے اور ادارہ معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکے۔
    ‎دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقیاتی منصوبوں اور تشہیری مہمات پر بھاری اخراجات کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تعلیمی ادارے بنیادی مالی مسائل کا شکار ہیں، جو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔

  • پاکستان میں ہم جنس پرستی ، لاہور میں خفیہ روابط،واٹس ایپ گروپس بن گئے

    پاکستان میں ہم جنس پرستی ، لاہور میں خفیہ روابط،واٹس ایپ گروپس بن گئے

    پاکستان میں ہم جنس پرستی ایک حساس اور متنازع موضوع ہے، جو نہ صرف قانونی پابندیوں بلکہ سخت سماجی رویّوں کی وجہ سے بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں، اس کمیونٹی کے افراد اپنی شناخت اور روابط کو خفیہ رکھنے پر مجبور ہیں،واٹس ایپ گروپس بنا کر آپس میں ایک دوسرے سے دوستی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے

    اسلام میں ہم جنس پرستی (یعنی مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق قائم کرنا) کو گناہ اور ممنوع عمل قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں قومِ لوط کا ذکر آتا ہے، جنہوں نے اس عمل کو اختیار کیا تھا، اور اس کی وجہ سے انہیں عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں اس عمل کی مذمت واضح ہوتی ہے۔شریعت کےمطابق جنسی تعلق صرف نکاح کے دائرے میں مرد اور عورت کے درمیان جائز ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے جنسی تعلقات، جیسے زنا یا ہم جنس پرستی، حرام قرار دیے گئے ہیں۔ اسلام میں ہم جنس پرستی کو فطرت کے خلاف اور گناہ سمجھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو اس سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ پاکستان کے تعزیراتی قوانین کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، لاہور جیسے بڑے شہر میں ہم جنس پرست افراد ایک دوسرے سے رابطے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،نجی چیٹ گروپس شامل ہیں۔ تاہم، واٹس ایپ گروپس یا دیگر بند نیٹ ورکس کی معلومات عام طور پر عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسے گروپس زیادہ تر ذاتی جان پہچان یا باہمی اعتماد کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں،فیس بک پر بھی گروپس دستیاب ہیں تو وہیں واٹس ایپ پر بھی مختلف گروپس موجود ہیں جہاں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں افراد ایڈ ہیں اور اپنی پسند،ناپسند، ون ویو میں‌تصاویر بھیجی جاتی ہیں

    ہم جنس پرستوں کے لاہور کےایک واٹس ایپ گروپ میں تعارف کے طور پر لکھا گیا ہے کہ ’لاہور میٹ اپس‘ میں خوش آمدید،لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ہم جنس پرست مردوں یا ایسے مردوں کے لیے نیٹ ورکنگ جو مردوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ہمارا واٹس ایپ گروپ ایک معاون اور جامع ماحول فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جہاں ہم جنس پرست مرد اکٹھے ہو کر نیٹ ورکنگ کر سکیں، میل جول بڑھا سکیں، اور بامعنی گفتگو میں حصہ لے سکیں۔’لاہور میٹ اپس‘ کے اراکین کے طور پر، افراد کو مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ہمارا گروپ تنوع، احترام اور بااختیار بنانے کے اصولوں کو فروغ دینے پر فخر کرتا ہے۔ ہم ایک پیشہ ورانہ ماحول قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں جہاں اراکین اپنی اصل شناخت کے ساتھ خود کو ظاہر کر سکیں اور ہم خیال افراد کے ساتھ حقیقی روابط قائم کر سکیں۔ امتیاز اور عدم برداشت کی ہماری کمیونٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں کہ ہر رکن خود کو قابلِ قدر اور محترم محسوس کرے۔آج ہی ’لاہور میٹ اپس‘ میں شامل ہوں تاکہ اپنے نیٹ ورک کو وسعت دیں، بامعنی گفتگو میں حصہ لیں، اور ایک ایسی معاون کمیونٹی کا حصہ بنیں جو ہم جنس پرست مردوں کے لیے شمولیت اور بااختیار بنانے کو فروغ دیتی ہے۔ یاد رکھیں، نیٹ ورکنگ کا مقصد روابط قائم کرنا ہے

    اس واٹس ایپ گروپ میں 141 افراد موجود ہیں،جن میں سے اکثریت کا لاہور اور فیصل آباد سے تعلق ہے،اسی طرح سوشل گروپ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ موجود ہے جس میں 387 افراد شامل ہیں،

    ہم جنس پرستوں کے واٹس ایپ گروپس میں ہر عمر کے افراد موجود ہیں، اگر 20،پچیس برس کے لڑکے ہیں تو وہ پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں،کئی تو دس دس ہزار کی ڈیمانڈ بھی کرتے ہیں ،خواجہ سرا بھی ان گروپس میں موجود ہیں، ہم جنس پرستوں کا آپس میں ملنے کے لئے سب سےبڑا مسئلہ :جگہ:کا ہوتا ہے،تاہم لاہور میں‌باغ جناح سمیت کئی علاقوں میں ہم جنس پرستوں کی باقاعدہ محفلیں ہوتی ہیں جو خفیہ طریقے سے ہوتی ہیں،سیاحتی مقامات مری،سوات سمیت دیگر علاقوں میں ہم جنس پرست افراد لاہور سے وفود کی صورت میں جاتے ہیں،

    نوٹ، اس خبر پر ہم جنس پرست افراد میں سے کوئی ردعمل دینا چاہے تو من و عن شائع کیا جائے گا،

  • 
حملہ آور کا پیغام سامنے، سیکیورٹی پر سوالات

    
حملہ آور کا پیغام سامنے، سیکیورٹی پر سوالات

    ‎وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر میں فائرنگ کرنے والے ملزم کول ٹوماس ایلن کے اہلخانہ کو بھیجے گئے پیغام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس نے واقعے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم نے فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے خاندان کو ایک پیغام ارسال کیا تھا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس پیغام میں ملزم نے اپنے اقدام پر معذرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے خلاف غصے کا اظہار بھی کیا۔ اس نے لکھا کہ وہ ایک اہم کام کرنے جا رہا ہے اور اسے انجام دے کر ہی واپس آئے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیغام سے اس کے ارادوں کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔
    ‎نیویارک پوسٹ کے مطابق ملزم نے اپنے منصوبے میں سرکاری شخصیات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا تھا۔ واقعے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎دوسری جانب ملزم کے ابتدائی بیان نے سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں سیکیورٹی انتہائی کمزور تھی اور وہ باآسانی متعدد ہتھیار اندر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے مطابق سیکیورٹی زیادہ تر باہر موجود مظاہرین پر مرکوز تھی جبکہ اندرونی نگرانی کمزور تھی۔
    ‎ملزم نے مزید کہا کہ اگر وہ کسی غیر ملکی ایجنٹ کی جگہ ہوتا تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار اندر لا سکتا تھا اور کسی کو خبر تک نہ ہوتی۔ اس نے ہوٹل کے سیکیورٹی نظام کو حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار قرار دیا۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم نے دو ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن خرید رکھی تھی اور شوٹنگ کی باقاعدہ مشق بھی کرتا تھا۔ امکان ہے کہ اسے جلد عدالت میں پیش کر کے فرد جرم عائد کی جائے گی۔

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار

    ‎اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم معاشی امور کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن اور چینی سمیت بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر قیمتوں کی نگرانی جاری رکھی جائے اور سپلائی چین کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملتا رہے۔
    ‎اجلاس میں متعدد اہم مالی فیصلے بھی کیے گئے۔ ای سی سی نے کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی، جبکہ قومی ہاکی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر 3 کروڑ روپے انعام دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
    ‎اس کے علاوہ نیب میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور مصنوعی ذہانت کے نظام کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے لیے تقریباً 6 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی جس سے ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ادا کی جائیں گی۔
    ‎بلوچستان میں تعینات افسران کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج کے تحت 31 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
    ‎مزید برآں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مرمت کے بعد دوبارہ برآمد کے پائلٹ منصوبے کی منظوری دی گئی، جبکہ گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق تجاویز کو بھی منظور کر لیا گیا۔

  • ٹرمپ آج ایرانی تجاویز کا جائزہ لیں گے

    ٹرمپ آج ایرانی تجاویز کا جائزہ لیں گے

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایرانی تجاویز امریکا کو پاکستانی ذرائع کے ذریعے موصول ہو چکی ہیں۔ ان تجاویز میں ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت کو وقتی طور پر مؤخر کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی پیشکش کی ہے، جسے عالمی تجارت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ اجلاس وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ میں واقع انٹیلیجنس کمپلیکس کے گراؤنڈ فلور پر منعقد ہوگا، جہاں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی راستوں اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا نے ابھی تک ان تجاویز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور انہیں میڈیا کے ذریعے زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان تجاویز پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جاری

    
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جاری

    ‎شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 7 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جن میں زیادہ تر ڈرائی بلک ویسلز شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور نگرانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎ڈیٹا اینالیٹکس کمپنیوں کے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق ان جہازوں میں عراقی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہاز بھی شامل تھے جبکہ ایک ڈرائی بلک ویسل ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں خطے میں تجارتی نقل و حمل کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں، اگرچہ حالات غیر یقینی ہیں۔
    ‎امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف 13 اپریل کو نافذ کی گئی ناکہ بندی کے بعد اب تک 37 جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر ایرانی توانائی کی ترسیل کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔
    ‎ٹینکر ٹریکرز کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے 6 آئل ٹینکرز، جو تقریباً 10.5 ملین بیرل تیل لے جا رہے تھے، انہیں واپس ایرانی بندرگاہوں کی جانب بھیج دیا گیا۔ تاہم ایک اور تجزیے کے مطابق 24 اپریل کو تقریباً 40 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے کچھ ٹینکرز ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں ہونے والی ہر پیش رفت کو عالمی سطح پر گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

  • 
ایرانی مذاکرات کار مہارت سے آگے بڑھ رہے ہیں، جرمن چانسلر

    
ایرانی مذاکرات کار مہارت سے آگے بڑھ رہے ہیں، جرمن چانسلر

    ‎جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار نہایت مہارت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور وہ اپنے مؤقف کو مضبوط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
    ‎اپنے بیان میں جرمن چانسلر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ان کی حکمت عملی منظم نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی پوزیشن سفارتی سطح پر مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکا کی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ واشنگٹن اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق جرمن چانسلر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک بھی ایران امریکا مذاکرات کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اس کے نتائج عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔