Baaghi TV

Blog

  • ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو   نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے متعلق حالیہ رپورٹس (اپریل 2026) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکی اڈوں اور فوجی آلات کو سرکاری طور پر ظاہر کیے جانے والے نقصان سے کہیں زیادہ "وسیع” نقصان پہنچایا ہے۔

    امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ امریکی حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔

    این بی سی نیوز اور دیگر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق،خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آلات کو مناسب فضائی دفاعی نظام ہونے کے باوجود ایرانی فضائی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آ سکتی ہے ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے اہم اثاثوں کو نشانہ بنایا،حملوں میں گودام، کمانڈ ہیڈکوارٹر، طیاروں کے ہینگر، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، رن وے، اور ہائی اینڈ ریڈار سسٹم (بشمول THAAD سسٹم) کو شدید نقصان پہنچا، ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلیے میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

    امریکی حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مرمت پر اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں ایک واقعے میں، ایرانی ایف-5 لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی دفاعی نظام (air defense systems) کو چکمہ دے کر حملہ کیا پینٹاگون نے عوامی سطح پر نقصانات کی مکمل تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں، جس پر امریکی قانون سازوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کویت اور دیگر مقامات پر امریکی اڈے اس حد تک متاثر ہوئے کہ کچھ سہولیات ناقابل استعمال ہو گئیں۔

    رپورٹ میں تین سرکاری حکام، کانگریس کے دو معاونین اور معاملے سے باخبر ایک اور شخص سمیت متعدد ذرائع کے حوالے دیے گئے پچھلی رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکا کو جدید ترین فوجی ساز و سامان سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر نصب ایک ارب ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم بھی شامل ہے۔

  • بشریٰ بی بی کی 29 مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی 29 مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج 29 مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 18 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل ملک اور قانونی ٹیم عدالت پیش ہوئے۔عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسران کی عدم دستیابی کے باعث کارروائی کو آگے نہ بڑھایا جا سکا، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ 18 مئی مقرر کر دی۔واضح رہے کہ یہ مقدمات 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج سے متعلق درج کیے گئے تھے، جن میں مختلف الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے۔

  • انگور اڈہ زلول خیل میں افغان اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی، پوسٹیں تباہ

    انگور اڈہ زلول خیل میں افغان اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی، پوسٹیں تباہ

    انگور اڈہ زلول خیل میں افغان اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی، پوسٹیں تباہ کر دی گئیں،

    پاک فوج کی بروقت اور چوکس کارروائی کے باعث فتنہ الخوارج کی دراندازی کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں،فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نےسول آبادی کو نشانہ بنایا،فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین شہری زخمی، زخمیوں کو فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کردیا گیا ،جنوبی وزیرستان کے علاقے،زلول خیل انگور اڈہ میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، متعدد افغان پوسٹوں کو تباہ کیا گیا،آپریشن غضب للحق کی مؤثر کارروائیوں کے بعد افغان طالبان شکست کی بوکھلاہٹ میں سول آبادی کو نشانہ بنانے لگے،اہل علاقہ نے افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعےکی بھرپور مذمت کی اور،پاک فوج سےجوابی کارروائی کا مطالبہ کیا.

    علاوہ ازیں‌ 26 اپریل کو افغان خارجی رجیم کے عناصر بلوچستان کے چمن سیکٹر میں واقع ھاشم پوسٹ کے بالمقابل سرحدی باڑ کے قریب پہنچے اور اسے کاٹنے کی کوشش کی۔ہماری فورسز نے اس نقل و حرکت کو بروقت دیکھ لیا اور فوراً دراندازوں کو نشانہ بنایا۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد طالبان اور فتنہ الخوارج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ موقع سے فرار ہو گئے۔ہماری افواج ہر وقت چوکنا ہیں اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں۔

  • براہموس بحران،بھارت میں سپرسانک میزائل کی پیداوار میں کمی،بھارتی بحریہ کو ترسیل میں تاخیر

    براہموس بحران،بھارت میں سپرسانک میزائل کی پیداوار میں کمی،بھارتی بحریہ کو ترسیل میں تاخیر

    نئی دہلی: بھارت کے انتہائی اہم دفاعی منصوبے براہموس سپرسانک کروز میزائل کو سنگین داخلی بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کی پیداوار میں مبینہ طور پر 50 فیصد سے زائد کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے بھارتی بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، جنگی تیاری اور خطے میں دفاعی توازن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق براہموس ایروسپیس میں بڑے پیمانے پر عملے کے تبادلوں نے مینوفیکچرنگ نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس بحران کے باعث بحریہ کو میزائلوں کی فراہمی میں کئی سال کی تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے فرنٹ لائن جنگی جہازوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔براہموس میزائل بھارتی بحریہ کے لیے ایک کلیدی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جو بحیرہ ہند میں بڑھتی ہوئی چینی بحری سرگرمیوں کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف دفاعی حکمت عملی بلکہ بھارت کی برآمدی پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اندرونی رپورٹس کے مطابق کم از کم 56 تجربہ کار ملازمین جن میں انجینئرز، سسٹم ماہرین، سینئر ٹیکنیشنز اور منیجرز شامل ہیں کو اچانک مختلف مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ تبادلے خاص طور پر حیدرآباد، لکھنؤ، ناگپور اور پلانی کے درمیان کیے گئے، جہاں ملازمین کو 13 اپریل 2026 تک نئی تعیناتیوں پر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔دفاعی امور سے وابستہ ایک سابق افسر نے ان تبادلوں کو "بلا جواز” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حساس اور انتہائی درستگی کے حامل پروڈکشن یونٹس سے تجربہ کار عملے کی اچانک منتقلی ادارے کے لیے خودساختہ نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

    مزید برآں، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کو بعض ملازمین کی جانب سے انتظامی اصلاحات کے بجائے دباؤ یا ہراسانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ماہر انجینئرز اور ٹیکنیشنز کے استعفوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میزائلوں کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ بحران جلد حل نہ ہوا تو اس کے اثرات نئی دہلی سے لے کر بیجنگ تک اور پورے انڈو پیسیفک خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، جہاں عسکری توازن پہلے ہی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

  • پارہ چنار ائیرپورٹ طویل تعطل کے بعد دوبارہ فعال

    پارہ چنار ائیرپورٹ طویل تعطل کے بعد دوبارہ فعال

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں واقع پارہ چنار ائیرپورٹ کو طویل عرصے بعد دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں فضائی رابطوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاک فوج، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی مشترکہ کاوشوں سے ائیرپورٹ کو قابلِ استعمال بنایا گیا۔ پاک آرمی ایوی ایشن نے 26 اپریل کو ائیرپورٹ پر آپریشنل لینڈنگ اور ٹیک آف کے کامیاب ٹرائلز انجام دیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ٹرائلز کا مقصد رن وے کی فعالیت اور ائیرپورٹ کی مجموعی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس دوران پاک آرمی ایوی ایشن کی جانب سے مجموعی طور پر 6 کامیاب لینڈنگ اور ٹیک آف کیے گئے۔ابتدائی جائزے کے مطابق ائیرپورٹ کے رن ویز کو پیشہ ورانہ معیار اور اعلیٰ حفاظتی اصولوں کے مطابق قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہاں باقاعدہ پروازوں کا آغاز بھی ممکن ہو سکے گا۔

    مقامی افراد کے لیے یہ پیش رفت نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ ائیرپورٹ کی بحالی سے نہ صرف آمدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ علاقے کی معاشی و سماجی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • نہر  میں نہاتے ہوئے نوجوان جانبحق،پابندی لگانےکا مطالبہ

    نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جانبحق،پابندی لگانےکا مطالبہ

    قصور
    مصطفی آباد (للہانی) نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جاں بحق، شہریوں کا نہروں پر نہانے پر پابندی کا مطالبہ
    مصطفی آباد کے علاقے للیانی نہر میں گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان گرمی کی شدت کے باعث نہر میں نہانے کے لیے اترا، تاہم پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور ڈوب گیا
    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ کافی کوششوں کے بعد نوجوان کی لاش نکال لی گئی، جس کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی اور اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں متعدد نوجوان اور بچے نہروں میں نہاتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لیکن اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں پر نہانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، حفاظتی باڑ لگائی جائے اور متعلقہ مقامات پر وارننگ بورڈ نصب کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے
    شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ نہروں کے کنارے نگرانی بڑھائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے
    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں نہروں میں ڈوبنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں تیز بہاؤ اور گہرے پانی کے باعث نوجوان جان کی بازی ہار گئے

  • 
آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی، پاکستان کو قسط متوقع

    
آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی، پاکستان کو قسط متوقع

    ‎پاکستان کے قرض پروگرام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر سے زائد رقم کی منظوری دی جا سکتی ہے، جو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور آر ایس ایف کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس رقم کا مقصد پاکستان کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنا اور مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اگر تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، جبکہ آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے بعد مزید 210 ملین ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ فنڈز زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد اب اس پروگرام کو اگلے مرحلے میں لے جانے کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق اس قسط کی منظوری پاکستان کے لیے مثبت اشارہ ہوگی، جس سے نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔