Baaghi TV

Blog

  • 
کراچی میں وبا تیزی سے پھیلنے لگی

    
کراچی میں وبا تیزی سے پھیلنے لگی

    ‎کراچی میں خسرہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور ماہرین نے اسے وبائی شکل اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ رواں سال کے دوران سندھ بھر میں خسرہ کے باعث اب تک 40 بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ متاثرہ بچوں کی تعداد 1183 تک پہنچ گئی ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی والدین لاعلمی یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن نہیں کروا رہے، جس کے باعث خسرہ جیسے متعدی مرض کو پھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بیماری مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور مزید جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لازمی لگوائیں تاکہ انہیں اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ویکسینیشن مہم کو تیز کیا جا رہا ہے اور والدین کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے سہولیات بھی بڑھائی جا رہی ہیں۔
    ‎ڈاکٹروں کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، کھانسی، نزلہ اور جسم پر سرخ دانے شامل ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

  • 
نیتن یاہو کا حزب اللہ پر جنگ بندی خلاف ورزی کا الزام

    
نیتن یاہو کا حزب اللہ پر جنگ بندی خلاف ورزی کا الزام

    ‎اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے اقدامات اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہی، جہاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی سرگرمیاں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ عملی طور پر جنگ بندی کو کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے جنوبی لبنان کے سات دیہات کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ اقدام ممکنہ کارروائی کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
    ‎اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد وہ جواب دینے پر مجبور ہے اور اس حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو یہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم تازہ الزامات کے بعد اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

  • 
ڈیزل قیمت فارمولا تبدیلی، دباؤ کی تردید

    
ڈیزل قیمت فارمولا تبدیلی، دباؤ کی تردید

    ‎وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ڈیزل کی قیمت کے فارمولے میں تبدیلی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن اور ملکی ریفائنریز کے درمیان رضاکارانہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد یہ نیا فارمولا متعارف کرایا گیا۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس حوالے سے ماہرین اور ریسرچ ٹیم سے مشاورت کے بعد ایک عبوری فارمولا تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف موجودہ نظام کو بہتر بنانا ہے بلکہ مستقبل میں ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ریفائننگ سیکٹر کو اپ گریڈ کر کے مکمل ڈی ریگولیشن کی طرف لے جانا ہے۔
    ‎علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو طویل مدت تک مستحکم رکھنے کے لیے عالمی سطح پر تنازعات کا حل بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ براہ راست مقامی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معاشی بہتری کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے اور توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق نئے فارمولے کے تحت قیمتوں کی ادائیگی کا نظام مقامی ریفائنریز کو علاقائی سطح پر مسابقت کے قابل بنائے گا اور انہیں دیگر ممالک، خصوصاً بھارت کی ریفائنریز کے برابر لانے میں مدد دے گا۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا ایک اہم مقصد ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک کو زیادہ اقتصادی فائدہ حاصل ہو سکے۔ ان کے مطابق مسابقتی ماحول پیدا ہونے سے نہ صرف صنعت ترقی کرے گی بلکہ صارفین کے مفادات کا بھی بہتر تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔

  • 
سوات میں ماں اور ساتھی کے ہاتھوں بیٹی قتل

    ‎خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر اپنی ہی تین سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقتولہ بچی تمنا کی لاش ایک ملزم کی نشاندہی پر امان کوٹ کے پہاڑی علاقے سے برآمد کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس افسوسناک واردات میں بچی کی اپنی ماں بھی ملوث تھی، جس نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر یہ جرم کیا۔
    ‎ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان دیگر جرائم میں بھی ملوث رہے ہیں، جن میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں شامل ہیں۔ پولیس نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 14 چوری شدہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی ہیں، جو ان کے جرائم کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان تک رسائی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ممکن ہوئی، جس کے ذریعے ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے اور مختلف پہلوؤں سے کیس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کے دیگر ممکنہ جرائم کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
    ‎یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

  • 
کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی

    
کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی

    ‎کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک انسپکٹر کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر ایک سابق پولیس افسر کے بیٹے سے متعلق ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔
    ‎پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آغا شہریار کے نام سے ہوئی ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا اور تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
    ‎ملزم کے والد اصغر پٹھان، جو خود سابق پولیس افسر رہ چکے ہیں، نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کا چند روز قبل چار افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی تنازعے کے پس منظر میں یہ واقعہ پیش آیا ہو سکتا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے ایف بی آر اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب ملزم کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
    ‎واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
سلطان عمان اور ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

    
سلطان عمان اور ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

    ‎سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مسقط میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، جاری تنازعات اور امن کے قیام کے لیے جاری ثالثی کے اقدامات پر غور کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎ملاقات کے دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور جاری بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں جانب سے اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے سیاسی حل کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر سلطنت عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمان ہمیشہ خطے میں امن کے قیام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں عمان کی ثالثی کی کوششوں کو مثبت قرار دیا اور ان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
    ‎عمان کو طویل عرصے سے خطے میں ایک غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مختلف ممالک کے درمیان بات چیت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں اسی طرح جاری رہیں تو مستقبل میں اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

  • امریکی بحریہ نے ایرانی جہاز روک لیا

    امریکی بحریہ نے ایرانی جہاز روک لیا

    ‎امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے بحیرہ عرب میں ایک ایسے تجارتی جہاز کو روک لیا جو مبینہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سفر کر رہا تھا۔ اس واقعے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز ان 19 جہازوں پر مشتمل مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے ’شیڈو فلیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ پر شبہ ہے کہ یہ ایرانی تیل اور گیس کو خفیہ طریقوں سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں ملوث ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا، جو یو ایس ایس پنکنی نامی جنگی بحری جہاز سے روانہ ہوا تھا۔ کارروائی کے دوران جہاز کو امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرنے اور واپس ایران جانے کا حکم دیا گیا۔
    ‎سینٹکام نے مزید بتایا کہ اس قسم کے جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پہلے ہی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے پروپین، بیوٹین اور دیگر توانائی مصنوعات کی اربوں ڈالر مالیت کی غیر قانونی ترسیل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف نافذ پابندیوں کے بعد سے اب تک 37 ایسے جہازوں کو روکا یا ان کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے، جو مبینہ طور پر اسی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی تجارت اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں، اور ان میں معمولی تبدیلی بھی بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔

    والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    ‎خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درست اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی بنانا، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کر کے بچوں کی اسکول تک رسائی ممکن بنانا ہے۔
    ‎اس اہم منصوبے پر غور کے لیے چیف سیکریٹری آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ ویلج کونسل کی سطح تک ایک جامع سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کے ان بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق طلبہ کا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا جائے گا، جن میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، وفاقی اسکول، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ اس عمل سے ایک مکمل اور درست ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو پالیسی سازی میں مدد دے گا۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تاہم نئے سروے کے ذریعے زیادہ درست معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق وسائل اور بجٹ مختص کیا جا سکے۔ محکمہ صحت اور بلدیات اس عمل میں مقامی سطح پر اہم کردار ادا کریں گے، جس سے بچوں کی حقیقی وقت میں نشاندہی ممکن ہوگی۔
    ‎محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق موجودہ نظام میں فوری طور پر 25 فیصد مزید بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 100 روزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎چیف سیکریٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں اور منصوبے کو جلد کابینہ سے منظور کروایا جائے، جبکہ وزیر تعلیم نے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔

  • وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: عینی شاہد صحافی نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: عینی شاہد صحافی نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا

    ‎واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے نے تقریب میں موجود مہمانوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم میں تقریب جاری تھی اور تقریباً 2600 افراد شریک تھے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھے اور ایک معروف مینٹلسٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا۔
    ‎ایک صحافی نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب ابھی اپنے آغاز میں ہی تھی جب صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو اچانک خفیہ پیغامات دیے گئے۔ ان پیغامات کے بعد ماحول میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی اور قریب بیٹھے افراد کے چہروں پر تشویش نمایاں ہونے لگی۔
    ‎چند لمحوں بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے ساتھ ہی ہال میں موجود افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے پناہ لینا شروع کر دی۔ اس دوران سکیورٹی اہلکار فوری حرکت میں آئے اور انتہائی تیزی کے ساتھ صدر کو گھیرے میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
    ‎سیکریٹ سروس نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں صورتحال کو سنبھالا اور ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔ فائرنگ کے باعث تقریب کو فوری طور پر روک دیا گیا اور تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
    ‎پولیس کے مطابق حملہ آور نے ہوٹل کے سکیورٹی پوائنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور پانچ سے آٹھ گولیاں چلائیں۔ اس واقعے میں ایک سیکریٹ سروس اہلکار زخمی ہوا تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان محفوظ رہی۔
    ‎حکام نے بتایا کہ ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور چاقو برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں اس نے اعتراف کیا کہ اس کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار تھے۔