Baaghi TV

Blog

  • 
نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم

    
نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم

    ‎اسرائیل کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں نے آئندہ انتخابات کے لیے مشترکہ اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ نے اپنی جماعتوں کو یکجا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد موجودہ حکومت کو شکست دینا اور ایک مضبوط متبادل قیادت سامنے لانا ہے۔
    ‎یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کو متحد کرنا، اختلافات کو ختم کرنا اور تمام تر توانائیاں آئندہ انتخابات جیتنے پر مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک واضح سمت دینے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
    ‎نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی سیاسی جماعت کا نام ’ٹوگیدر‘ رکھا گیا ہے، جو مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی علامت ہے۔
    ‎یاد رہے کہ بینیٹ اور لیپڈ اس سے قبل بھی اتحاد کر چکے ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں انہوں نے نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا، تاہم ان کی مشترکہ حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور تقریباً 18 ماہ بعد ختم ہو گئی تھی۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اتحاد نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل داخلی اور خارجی سطح پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

  • خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، 85 شدت پسند ہلاک

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، 85 شدت پسند ہلاک

    ‎خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 85 شدت پسند مارے گئے، تاہم ان واقعات میں جانی نقصان بھی قابلِ تشویش رہا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے مجموعی طور پر 119 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 67 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق صوبے کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر 475 مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں 1427 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 107 ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 27 اہلکار فرنٹیئر کور کے شامل ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی ان حملوں کا نشانہ بنی۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات میں 298 شہری اور 45 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
    ‎سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق عوام کے تعاون سے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت

    وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت

    ‎واشنگٹن میں صحافیوں کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں نے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوری اقدار اور صحافتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
    ‎برطانوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ امریکی صدر، خاتون اول اور دیگر شرکا اس واقعے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اداروں اور آزاد صحافت کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔
    ‎فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے صدر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
    ‎ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت اور تشدد کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس حملے کو افسوسناک قرار دیا۔
    ‎جرمن چانسلر کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف ایک ملک بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
    ‎عالمی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں جمہوری نظام اور صحافتی آزادی کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی  اور عاصم منیر کی اہم ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عاصم منیر کی اہم ملاقات

    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس موقع پر باہمی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے امور بھی زیر بحث آئے۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ دراصل مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سے قبل بھی ایرانی وزیر خارجہ مختلف ممالک کے دورے کر چکے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • 
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جلد ختم ہوگی

    
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جلد ختم ہوگی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور امریکا اس میں کامیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور معاملات فون کے ذریعے بھی طے کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں کچھ عناصر ایسے ہیں جن سے بات چیت ممکن ہے جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو معاملات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کشیدگی کم کرنے کی جانب قدم بڑھائے گا۔
    ‎امریکی صدر نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مذاکرات کا حصہ ہوگا اور امریکا اس حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔ انہوں نے چین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر مایوس نہیں ہیں، تاہم چین مزید مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ‎ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صورتحال ختم ہونے کے قریب تھی تو برطانیہ کی جانب سے بعد میں مدد کی پیشکش کی گئی، جو ان کے مطابق مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنی پوزیشن بھی مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس صورتحال میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

  • 
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ زنجان میں کارروائی کے دوران تین امریکی بنکر شکن بم تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک اور بم کو ناکارہ بنا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کے دوران GBU-57 طرز کے تین بنکر بسٹر بموں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ ایک اور بم کو غیر فعال بنا کر متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئیں۔
    GBU-57 کو دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی حساس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق اسی کارروائی کے دوران دشمن طیاروں کی جانب سے گرائے گئے 9 ہزار 500 سے زائد دیگر بم بھی تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس ہونے والی محدود جنگ کے دوران بھی امریکی افواج نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ایسے ہی طاقتور بموں کے استعمال کی اطلاعات دی تھیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شفاف معلومات اور تصدیق شدہ حقائق نہایت اہمیت رکھتے ہیں تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

  • 
ایران میں ’جان فدا‘ مہم، 3 کروڑ رجسٹریشن

    
ایران میں ’جان فدا‘ مہم، 3 کروڑ رجسٹریشن

    ‎ایران میں ملکی دفاع کے لیے شروع کی گئی ’جان فدا‘ مہم نے غیر معمولی عوامی ردعمل حاصل کر لیا ہے، جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق اس مہم میں رجسٹر ہونے والے شہریوں کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ مہم 28 فروری کو اس وقت شروع کی گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران میں زمینی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے عوام کو ملکی دفاع کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی گئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائی۔
    ‎ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مختصر وقت میں اس مہم نے وسیع عوامی توجہ حاصل کی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 30 ملین سے زائد افراد اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد ایران کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا تناسب بنتی ہے، جو عوامی سطح پر ردعمل کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران عراق جنگ کے دوران تقریباً 20 لاکھ افراد رضاکارانہ طور پر محاذ پر گئے تھے، جو اس وقت کی آبادی کا تقریباً 5 سے 6 فیصد تھے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مہم میں چند دنوں کے اندر 3 کروڑ افراد کی رجسٹریشن ایک نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کو عوامی حمایت حاصل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایرانی معاشرہ دفاعی معاملات پر متحد نظر آ رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز پر کسی کی اجارہ داری قبول نہیں: ایران

    
آبنائے ہرمز پر کسی کی اجارہ داری قبول نہیں: ایران

    ‎ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کسی بھی بیرونی طاقت کی اجارہ داری ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
    ‎انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز صرف ایران ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کی مشترکہ ملکیت ہیں، اور کسی بیرونی قوت کو ان معاملات میں مداخلت یا رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے قدرتی وسائل پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی ایسے ملک سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی جہاں بیرونی طاقتیں آ کر وسائل پر کنٹرول حاصل کر لیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کا خاتمہ ہو اور علاقائی ممالک اپنے معاملات خود طے کریں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے سے متعلق بیانات اور اقدامات کو عالمی سطح پر گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

  • 
ٹرمپ کا محفوظ بال روم بنانے پر زور

    
ٹرمپ کا محفوظ بال روم بنانے پر زور

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں جدید سیکیورٹی سے آراستہ بال روم کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پیش آنے والا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک محفوظ اور جدید بال روم کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔
    ‎اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے فوج، سیکرٹ سروس اور سابق صدور وائٹ ہاؤس میں ایک محفوظ بال روم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر زیر تعمیر خفیہ بال روم پہلے سے موجود ہوتا تو حالیہ واقعہ پیش نہ آتا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ نیا بال روم جدید ترین سیکیورٹی فیچرز سے لیس ہوگا اور اسے دنیا کی محفوظ ترین عمارتوں میں شامل کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس بال روم کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس کے اوپر کوئی کمرے نہیں ہوں گے، تاکہ کسی بھی غیر مجاز فرد کے لیے اندر داخل ہونا ممکن نہ ہو سکے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے ایک خاتون کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور تعمیراتی کام مقررہ وقت سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب واشنگٹن میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق ملزم پر آتشیں اسلحہ کے ذریعے پرتشدد کارروائی اور ایک وفاقی اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

  • 
ایرانی وزیر خارجہ آج دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے

    
ایرانی وزیر خارجہ آج دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی آج مسقط سے اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ مختصر قیام کے دوران اہم پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کا یہ دورہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس کے بعد وہ ماسکو روانہ ہو جائیں گے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ ایک سہ ملکی سفارتی سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر اسلام آباد سے اپنے دورے کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں مسقط گئے اور اب دوبارہ پاکستان آ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران وہ اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات زیر بحث آئیں گے۔
    ‎گزشتہ روز سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایرانی وفد کا دورہ پاکستان مثبت رہا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں میں اہم امور پر بات چیت ہوئی اور ان ملاقاتوں کے نتائج کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارتی روابط کے نتیجے میں آئندہ 48 گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے اپنے پہلے دورہ پاکستان کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ملاقات میں مشیر قومی سلامتی جنرل عاصم ملک، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
    ‎ایرانی سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
    ‎وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی وفد سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو خوشگوار اور تعمیری قرار دیا۔