Baaghi TV

Blog

  • انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر

    انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر

    انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر، ہندوتوا کا اصل چہرہ عالمی سطح پرآشکارہو گیا

    عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق مصنوعی ذہانت کوبھارت میں مسلم خواتین کے خلاف ہتھیارکے طورپراستعمال کیا جارہا ہےہندوتوا پرکاربند بھارت میں مسلم خواتین کئی سالوں سے آن لائن ہراسانی اورنفرت انگیزمہمات کا نشانہ بنتی رہی ہیں، اے آئی کےذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے جعلی اور نازیبا تصاویراورگمراہ کن پروپیگنڈا تیارکیا جارہا ہے، بھارت میں مسلم خواتین کی تصاویراورویڈیوزکوغیراخلاقی تصاویرمیں تبدیل کرکے نازیبا مناظرمیں دکھایا جارہا ہے، صرف مئی 2023 سے مئی 2025 میں 1300ہزارویڈیوزبنائی گئیں جن میں مسلم خواتین کو نازیبا خاکوں میں دکھایا گیا ،

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ٹرمپ پھر بول پڑے

    پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ٹرمپ پھر بول پڑے

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں طیاروں کے گرائے جانے کا ذکر کر کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زخم پھر تازہ کر دیئے ہیں

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،امریکی صدر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ روک کر 3 کروڑ جانیں بچائیں،پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جنگ روک کر 3کروڑ افراد کو بچایا،اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل میں ان کی مقبولیت 99 فیصد تک تھی، سمجھ سے بالاہے کہ کوئی یہودی ڈیموکریٹ کو ووٹ کیسے دے سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کےدرمیان جنگ بندی کی بات کئی بار دہراچکے ہیں۔

  • ترکیہ ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی

    ترکیہ ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی

    مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

    برطانوی جریدے اکانومسٹ کا کہنا ہے اسرائیل کو شام میں ترکیہ کی بڑھتی موجودگی اور مصر، پاکستان و سعودیہ کیساتھ دفاعی تعلقات پر تشویش ہے اور اب ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے،رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا آرمینیائی نسل کشی تسلیم کرنا کشیدگی بڑھانے کا سبب ہے جبکہ اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کیساتھ لیتے ہیں،امریکا کی جانب سے ترکیہ کوایف-35 طیاروں کی فروخت کا معاملہ پر صدر ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے نے اسرائیل کو مزید پریشان کر دیا ہے۔

    اکانومسٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے جہاں دونوں ممالک اب ایک دوسرے کو براہِ راست سکیورٹی خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔

    برطانوی جریدے کے مطابق اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کے ساتھ ایک سانس میں لیتے ہیں۔

  • بھارتی اندرونی اختلافات،کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی ریاستوں میں‌ تقسیم ہو سکتا،سیکیورٹی ذرائع کی بریفنگ

    بھارتی اندرونی اختلافات،کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی ریاستوں میں‌ تقسیم ہو سکتا،سیکیورٹی ذرائع کی بریفنگ

    راولپنڈی میں سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے سینئر صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد اور دفاعی امور سے وابستہ بڑے پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے شرکت کی۔بریفنگ کا موضوع معمول کے طے شدہ ایجنڈوں سے مختلف تھا۔ بریفنگ میں داخلی سلامتی، سیاسی و سفارتی معاملات یا ادارہ جاتی امور پر گفتگو نہیں کی گئی، بلکہ پوری بریفنگ کا مرکز بھارت اور خطے میں اس کے بالادستی قائم کرنے کے مبینہ عزائم تھے۔

    بریفنگ میں یہ کہا گیا کہ بھارت ایک ناکام اور ناقابلِ عمل ریاست ہے، جو اپنی بنیادی سماجی ساخت، آبادی، آئینی تشکیل اور دفاعی اداروں میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کا فروغ سوچ کے باعث ناقابلِ مصالحت اختلافات کا شکار ہے، اور کسی بھی وقت چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہونے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔بریفنگ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بھارت کے مبینہ بالادستانہ عزائم اور توسیع پسندانہ سوچ کا مقابلہ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔جہاں پاکستان ایک پراعتماد اور ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے، وہیں بھارت بتدریج زوال اور انتشار کے راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے،مذہبی تقسیم، ذات پات، شناختی سیاست اور علاقائی تنازعات بھارت کے قومی اتحاد کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں پاکستان کے عالمی کردار میں بہتری کے مقابلے میں بھارت کو اپنے داخلی تضادات چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔

    یہ نہایت مضحکہ خیز ہے کہ بھارت، جس کا اپنا ریکارڈ مذہبی اقلیتوں، مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر طبقات کے خلاف امتیازی سلوک اور ریاستی سرپرستی میں مظالم سے بھرا ہوا ہے، پاکستان کو نصیحت کر رہا ہے۔بھارت کو دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی حالات کا سامنا کرنا چاہیے، جہاں بی جے پی حکومت کے تحت مسلمانوں اور دیگر مذہبی برادریوں کو تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں، امتیازی قوانین، ماورائے عدالت مسماریوں، نفرت انگیز تقاریر اور ریاستی اداروں کے غلط استعمال کا سامنا ہے۔

    پاکستان میں پیش آنے والا واقعہ انتظامی نوعیت کا تھا، نہ کوئی ہجوم گردوارہ مسمار کر رہا تھا اور نہ اسے حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ چند افراد کے انفرادی عمل پر قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔بھارت کو چاہیے کہ مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں، سکھوں، آدیواسیوں اور دیگر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے فوری، قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔نئی دہلی اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے مسلسل پاکستان کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہتا ہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹائی جا سکے، بھارت اس وقت اندرونی طور پر شدید کھوکھلا ہو چکا ہے اور وہ ایک ناکام ریاست بننے کے دہانے پر ہے۔بھارت کے موجودہ اندرونی تضادات اور بحران اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

  • 
روس کے یوکرین  پر تازہ حملے، ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی

    
روس کے یوکرین پر تازہ حملے، ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی

    یوکرین کے دارالحکومت پر روس کے رات بھر جاری رہنے والے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر21 ہو گئی ہے، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فوجی انتظامیہ کے مطابق امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا کام مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    حکام کے مطابق حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں، مکانات اور شہری انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اہلکار زخمیوں کو نکالنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
    دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی یوکرین کی حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی اور اس میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یوکرین سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں رہائشی عمارتوں اور شہری علاقوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد روسی دعوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
    روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں حالیہ دنوں کے دوران حملوں میں نمایاں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک میں جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے ایک بار پھر شہری آبادی کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

  • 
وینزویلا: زلزلے کے 8 روز بعد ملبے تلے دبے سیکیورٹی گارڈ کو زندہ نکال لیا گیا

    
وینزویلا: زلزلے کے 8 روز بعد ملبے تلے دبے سیکیورٹی گارڈ کو زندہ نکال لیا گیا

    ‎وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلے کے آٹھ روز بعد امدادی ٹیموں نے ایک شاپنگ مال کے ملبے تلے دبے سیکیورٹی گارڈ کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا، جس کے بعد امدادی کارکنوں اور اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر لاگیرا میں واقع ایک شاپنگ مال کے ملبے میں تقریباً نو میٹر گہرائی میں پھنسے سیکیورٹی گارڈ ہرنان البرٹو کو طویل اور انتہائی احتیاط سے جاری ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت باہر نکالا گیا۔ امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹوں کی مسلسل محنت کے بعد ان تک رسائی حاصل کی اور انہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    ‎حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے وینزویلا کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد تقریباً 2,300 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مقامی ریسکیو اداروں کے ساتھ تقریباً 1,600 غیر ملکی امدادی کارکن بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
    ‎دریں اثنا، امدادی کارروائیوں کے دوران ایک اور حیران کن واقعہ بھی سامنے آیا، جب ٹنوں ملبے تلے دبی ایک نومولود بچی کو تین روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔ امدادی ٹیموں کے مطابق انہیں ملبے کے نیچے سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد انہوں نے انتہائی احتیاط سے کنکریٹ اور ملبہ ہٹایا اور بچی کو محفوظ حالت میں باہر نکال لیا۔
    ‎جیسے ہی نومولود کو ملبے سے زندہ نکالا گیا، وہاں موجود ریسکیو اہلکاروں، رضاکاروں اور متاثرہ خاندانوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ والدین نے اپنی بچی کو گلے لگا کر اللہ کا شکر ادا کیا، جبکہ یہ جذباتی منظر دیکھ کر امدادی کارکن بھی آبدیدہ ہو گئے۔
    ‎ادھر وینزویلا میں امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی کام بھی تیزی سے جاری ہیں۔

  • 
ایس ایم ڈبلیو 5 آبدوز کیبل میں خرابی، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    
ایس ایم ڈبلیو 5 آبدوز کیبل میں خرابی، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    ‎پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی وجہ سے متعلق اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایس ایم ڈبلیو 5 (SMW-5) آبدوز انٹرنیٹ کیبل میں خرابی کے باعث مختلف علاقوں میں صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔
    ‎پی ٹی اے کے مطابق خرابی کی نشاندہی کے بعد متعلقہ ادارے اور ایس ایم ڈبلیو 5 کنسورشیم تکنیکی مسئلے کی وجوہات معلوم کرنے اور اسے جلد از جلد دور کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ انٹرنیٹ سروسز کو معمول پر لایا جا سکے۔
    ‎ترجمان پی ٹی اے نے بتایا کہ صارفین کو کم سے کم متاثر کرنے کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل بین الاقوامی لنکس پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سروس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ عالمی اداروں اور کنسورشیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ آبدوز کیبل کی بحالی کے متوقع وقت سے متعلق معلومات موصول ہوتے ہی عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
    ‎اتھارٹی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ عارضی سست رفتاری یا کنیکٹیویٹی کے مسائل کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، کیونکہ تکنیکی ماہرین خرابی دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ آبدوز فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے ایسی کسی بھی کیبل میں خرابی کی صورت میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

  • 
کیف پر حملے کے بعد پیوٹن کو بریفنگ، کریملن نے یوکرین جنگ پر اختلافات کا اعتراف کر لیا

    
کیف پر حملے کے بعد پیوٹن کو بریفنگ، کریملن نے یوکرین جنگ پر اختلافات کا اعتراف کر لیا

    ‎روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر کیے گئے بڑے حملے سے متعلق اعلیٰ فوجی قیادت نے بریفنگ دی ہے، جبکہ کریملن نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
    ‎کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کیف پر حملہ روس کی جانب سے ایک "بڑا جوابی حملہ” تھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
    ‎پیسکوف نے اعتراف کیا کہ روس میں جنگ کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ماہرین اور حلقے انتہائی سخت اقدامات کے حامی ہیں، جبکہ کچھ افراد زیادہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایک بات طے ہے کہ روس اپنی قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔
    ‎حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے کامیاب ڈرون حملوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد روس کے بعض سخت گیر حلقے صدر پیوٹن پر مزید جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
    ‎یورپی یونین کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کیف حکومت پر دباؤ مزید بڑھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو یورپی یونین کی جانب سے براعظم کو مزید عسکری بنانے کی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اور مناسب ردعمل پر غور جاری ہے۔

  • 
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں تقریباً 100 ممالک کی شرکت

    
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں تقریباً 100 ممالک کی شرکت

    ‎تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں دنیا بھر سے اعلیٰ شخصیات اور سرکاری وفود کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تقریب میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جن میں سربراہان حکومت، پارلیمانی اسپیکرز، وزرائے خارجہ، خصوصی ایلچی، سیاسی شخصیات اور عوامی وفود شامل ہوں گے۔
    ‎پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف آئندہ چند روز میں تہران پہنچیں گے جہاں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم کے دورے کا مقصد ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ ہمدردی اور تعزیت کرنا ہے۔ پاکستان حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
    ‎چین کی نمائندگی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ بیجنگ کی جانب سے سرکاری وفد کی قیادت کریں گے۔
    ‎بھارت کی جانب سے نائب وزیر خارجہ شری پابیترا اور ریاست بہار کے گورنر سید عطا حسنین آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے وفد کی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب نہ صرف سابق سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہوگی بلکہ ایران اپنے بین الاقوامی سفارتی تعلقات، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کا پیغام بھی دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔
    ‎اگرچہ تقریب میں متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے، تاہم چند ہی ممالک کے سربراہان حکومت یا صدور خود شرکت کریں گے۔ بیشتر ممالک نے وزرا، پارلیمانی رہنماؤں یا خصوصی نمائندوں کو تہران بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎ایرانی ذرائع کے مطابق مختلف ممالک سے آنے والے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور تہران میں آخری رسومات کے لیے سکیورٹی اور انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

  • 
مفتی تقی عثمانی آئندہ پانچ سال کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر منتخب

    
مفتی تقی عثمانی آئندہ پانچ سال کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر منتخب

    ‎وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ سال کے لیے متفقہ طور پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا صدر منتخب کر لیا گیا، جبکہ قاری حنیف جالندھری کو ناظمِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دے دی گئی۔
    ‎کراچی میں منعقدہ اجلاس سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اجتماعیت، نظمِ جماعت اور اجتماعی قیادت کی اطاعت کا دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت سے وابستگی رکھنے والے ہر کارکن اور ذمہ دار پر اجتماعی فیصلوں کی پاسداری لازم ہے اور ذاتی رائے کو کبھی بھی اجتماعی نظم پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
    ‎مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کامیاب تحریکیں واضح اصولوں، مؤثر حکمت عملی اور مضبوط پالیسیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں، اس لیے جذبات کو ہمیشہ پالیسی کا تابع ہونا چاہیے، نہ کہ پالیسی کو وقتی جذبات کے مطابق تشکیل دیا جائے۔
    ‎انہوں نے برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل امارتِ شرعیہ کے قیام پر حضرت شیخ الحدیثؒ نے اس بنیاد پر اختلاف کیا تھا کہ امارت کے قیام کے لیے اقتدار اور قوت ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ کے ساتھ السیاست الاسلامیہ پر بھی مستقل کتاب شامل کی جائے تاکہ علماء کرام اسلامی سیاسی فکر اور عصری تقاضوں سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔
    ‎اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ برس کے لیے صدر وفاق المدارس اور قاری حنیف جالندھری کو ناظمِ اعلیٰ برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی، جسے شرکائے اجلاس نے مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
    ‎جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کے مطابق قائد جمعیت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ دینی مدارس کی آزادی، اتحاد امت، نظریاتی تشخص اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
    ‎محمد اسلم غوری نے مفتی محمد تقی عثمانی اور قاری حنیف جالندھری کو نئی مدت کے لیے منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں وفاق المدارس دینی تعلیم کے فروغ اور مدارس کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔