Baaghi TV

Blog

  • ایرانی وزیر خارجہ سے  ملاقات کرکے خوشی ہوئی،شہباز شریف

    ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی،شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہاکہ ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

    واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا اس وقت پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

  • پنجاب کا مقابلہ پنجاب سے ہوگا کیونکہ وسائل کے مطابق بات ہوگی،حافظ نعیم

    پنجاب کا مقابلہ پنجاب سے ہوگا کیونکہ وسائل کے مطابق بات ہوگی،حافظ نعیم

    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کا زوال دیکھ رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کا نظام تباہ کر دیا ہے۔

    جماعت اسلامی نے لاہور میں حافظ کا ساتھ دو بدل دو نظام ممبر شپ مہم کا آغاز کیا جو 25 اپریل سے 15 مئی تک جاری رہے گی، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پورے ملک میں جماعت اسلامی کے 50 لاکھ ممبر بنائے جائیں گے اور یہ نوجوان ہر گھر تک جائیں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کسانوں کا استحصال کر رہی ہے، حکومت نے 3500 روپے من گندم کی قیمت مقرر کی لیکن کسانوں کو یہ سرکاری قیمت بھی نہیں مل رہی ہے جبکہ حکومت کا فوکس عوام کے پیسوں سے اپنے اشتہار چلانا ہے پورے پاکستان میں پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، بچوں کے اسکول آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں، لیپ ٹاپ بانٹ کر یہ سستی شہرت تو حاصل کرلیتے ہیں مگر حقیقی معاملات کی طرف دھیان نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ صحت اور تعلیم کی سہولت بھی نہیں دے سکتے، ان کے پاس اربوں آئیں گے یہ اڑا دیں گے پر عوام کو کچھ نہیں دیں گے، یہ وڈیروں کو فائدہ دیتے ہیں، یہ الیکٹیبلز کو نوازتے ہیں ،مڈل کلاس پیٹرول پر 125 روپے رٹیکس دیتے ہیں اور پیٹرول پر 107 روپے لیوی دی جا رہی ہے بڑے قرضے معاف کرا لیتے ہیں ٹیکس عام بندہ دیتا ہے، جب آئی پی پیز آئیں اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، اربوں روپے کیپیسٹی پیمنٹ دے ر ہے ہیں، یہ ان لوگوں کو نوازتے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت ہر حکومت میں ہوتے ہیں ہمارے ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت 49 ہزار میگاواٹ اور کھپت 24 ہزار میگا واٹ ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عام بندہ مرتا ہے مگر حکمرانوں کی عیاشیاں جاری ہیں، اربوں کے جہاز خریدے جا رہے ہیں، یہ مراعات یافتہ لوگ عوام کا دکھ کیا سمجھیں، پنجاب کا مقابلہ پنجاب سے ہوگا کیونکہ وسائل کے مطابق بات ہوگی، لوکل باڈیز کا الیکشن کیوں نہیں کراتے موجودہ حالات میں امریکہ کا زوال دیکھ رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کا نظام تباہ کر دیا ہے۔

  • ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد سے عمان روانہ

    ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد سے عمان روانہ

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے مسقط روانہ ہوگئے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد نور خان ائیربیس سے واپس روانہ ہوا، اس موقع پر پاکستانی اعلیٰ حکام، ایرانی سفیر اور ایرانی سفارت خانہ کے عہدید ارو نے وفد کو الوداع کہا، ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں روسی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

    قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے بعد بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

  • ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ویڈیوز واشنگٹن ڈی سی کی ایک عمارت پر پروجیکٹ کر دی گئیں۔

    مناظر میں ایپسٹین سے منسلک تصاویر اور دستاویزات شامل تھیں، جبکہ پس منظر میں اس کی ای میلز کے اقتباسات پر مبنی آڈیو بھی سنائی گئی سڑک کے دوسری جانب ایک ہجوم جمع ہو گیا جو عمارت کی بیرونی دیوار پر چلنے والی ان پروجیکشنز کو دیکھتا رہا –

    مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی تصاویر اور دستاویزات واشنگٹن ہلٹن کی عمارت پر دکھائیں، یہ احتجاج 24 اپریل کو پروجیکٹ کیا گیا جو سالانہ وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ڈنر سے عین پہلے کا وقت تھا،یہ ایک اہم تقریب ہے جس میں صحافی، سیاسی رہنما اور وہ شخصیات شریک ہوتی ہیں جو امریکی صدارت کا احاطہ کرتی ہیں۔

    اس سال کی تقریب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اس میں شرکت کرنے والے ہیں، جو بطور صدر ان کی پہلی حاضری ہوگی میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اور فیک نیوز کے خلاف ان کے بیانات کے باعث ان کی شرکت نے واشنگٹن میں حیرت اور دلچسپی پیدا کر دی ہے یہ تقریب وا ئٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے، اور روایتاً اس میں موجودہ صدر کی شرکت کو آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور 2025 میں بھی اسے نظر انداز کردیا تھا اس سال انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر کئی نیوز رومز میں تنقید سامنے آئی ہے سینکڑوں صحافیوں نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہےجس میں شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے براہِ راست سوال کریں۔

    صدر ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، وہ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو فیک نیوز قرار دیتے رہے ہیں صدرٹرمپ صحافیوں کو ذاتی طور پر نشانہ بھی بناتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو وائٹ ہاؤس پریس پول سے خارج کرنے جیسے میڈیا کی رسائی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے۔

  • سینیٹر سیدال خان  قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر

    سینیٹر سیدال خان قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر

    سینیٹ سیکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سینیٹر سیدال خان کو قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر کر دیا ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 53(3) اور آرٹیکل 61 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، سینیٹر سیدال خان، جو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہیں، 25 اپریل 2026 سے بطور قائم مقام چیئرمین سینیٹ ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی ان دنوں صدرِ پاکستان کی بیرونِ ملک سرکاری مصروفیات کے دوران ان کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث قائم مقام چیئرمین کی تقرری ضروری ہوئی اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں اور حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ نوٹیفکیشن کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی پروگرام میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے، مقامی سطح پر تیار کردہ ’ای او تھری‘ سیٹلائٹ خلا میں روانہ کردیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ ‘الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ’ (ای او3) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کردیا ہے اس تاریخی سیٹلائٹ کو چین کے تائی یوآن سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ای او تھری سیٹلائٹ کا کامیاب مشن پاکستان کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہے، جو ملک میں شہری منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ)، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دے گایہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے ایک مربوط نظام کی بنیاد بنے گا، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا قومی ترجیحات کو سہارا دینے اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    اس تاریخی موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے سپارکو کے انجینیئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے ساتھ ہی انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کے دیرینہ اور ہر موسم کے آزمودہ دوست ملک چین کے تعاون کو بھی سراہا، جس نے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں بھرپور مدد فراہم کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی مدد سے اب پاکستان خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ڈیٹا کے لیے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کر سکے گا۔

  • سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج ہوا-

    سورج نے7 گھنٹوں کےاندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کےشمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سےشدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہےپہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔

    طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

    23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔

    ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔

  • مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ”ایل نینو“ نامی موسمی نظام مئی کے اوائل میں دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور موسم کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

    ایل نینو دراصل بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی چکر ہے جو ہر دو سے سات سال کے درمیان سامنے آتا ہےیہ نظام ایل نینو اور لا نینا کے مراحل کے درمیان گھومتا رہتا ہے ایل نینو کے دوران سمندر کے پانی کا درجہ حرارت خاص طور پر وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں بڑھ جاتا ہے، جس سے ہواؤں کا نظام متاثر ہوتا ہے اور دنیا بھر میں بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن بدل جاتے ہیں۔

    عالمی موسمیاتی ادارے کی جانب سے 21 اپریل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات واضح ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ایک مضبوط ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے، جس کی شدت آنے والے مہینوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق سال کے آغاز میں موسم نسبتاً متوازن تھا، لیکن اب موسمی ماڈلز ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس سے ایل نینو کے آغاز پر اعتماد بڑھ گیا ہے اس کے اثرات نہ صرف درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کریں گے۔

    اس سے قبل ایل نینو مئی 2023 سے مارچ 2024 تک جاری رہا تھا، جس نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، نئی رپورٹ کے مطابق آئندہ مئی، جون اور جولائی میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر جنوبی شمالی امریکا، وسطی امریکا، کیریبین، یورپ اور شمالی افریقہ میں، بارشوں کے حوالے سے صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے کچھ علاقوں میں بارشیں زیادہ ہو سکتی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، جس کی وجہ سے حتمی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔

    امریکی موسمیاتی ادارے نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جون سے اگست کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات ساٹھ فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ مئی سے جولائی کے دوران اس کے ظاہر ہونے اور سال کے باقی حصے میں جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے، مزید یہ کہ سال کے آخر میں ایک انتہائی مضبوط ایل نینو بننے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں مزید ڈیٹا آنے کے بعد پیشگوئی کو مزید واضح کیا جائے گا، جبکہ عالمی موسمیاتی ادارہ مئی کے آخر میں اس حوالے سے تازہ رپورٹ جاری کرے گا-

  • آبنائےہرمز  میں ایران کے زیر قبضہ  جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    آبنائےہرمز میں ایران کے زیر قبضہ جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    ایران کی جانب سے آبنائےہرمز سے قبضے میں لیے گئے جہاز کے مناظر سامنے آگئے۔

    ایرانی پریس ٹی وی کے صحافی نے زیرقبضہ جہا ز سے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں جہاز پر لدے کنٹینرز دکھائے گئے ایرانی پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جہاز کےاندرونی مناظربھی دیکھے جاسکتےہیں ایرانی صحافی کےمطابق اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر ایران کامکمل کنٹرول ہے۔

    دوسری جانب ترکیے نے امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا، ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔