Baaghi TV

Blog

  • حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ،ویڈیو وائرل

    حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ،ویڈیو وائرل

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    علامہ طاہر اشرفی نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ لندن میں اہل خانہ کے ہمراہ ایک دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں بعض افراد نے انہیں روک لیا۔ مجھے اور میرے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور نازیبا زبان استعمال کی گئی متعلقہ افراد نے فوج اور سپہ سالار کے حوالے سے سوالات کیے اور تلخ جملوں کا تبادلہ کیا-

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے میں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ بعض افراد بھی موجود تھے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اہل خانہ کے سامنے ہنگامہ آرائی اور بدزبانی قابل قبول نہیں اگر کسی کے اہل خانہ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے تو اسے برداشت کرنا مشکل ہوگا اختلاف رائے کو اخلاقیات اور برداشت کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

    انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات اور سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ انہوں نے مختلف ادوار میں پاکستان اور عالم اسلام کے تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کیا اور کسی ذاتی فائدے کے لیے کوئی عہدہ یا منصب حاصل نہیں کیا، انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، اپنے ساتھیوں اور عرب نوجوانوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے واقعے کے بعد ان سے اظہار یکجہتی کیا۔

  • ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کی تقریب سے عین قبل کہا تھا کہ آج رات ہال میں شاٹس فائر ہوں گی اگرچہ ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کی طرف تھا، لیکن تقریب کے دوران ہونے والے اصل حملے نے ان کے ان الفاظ کو ایک عجیب رنگ دے دیا ہے۔

    کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ آج مقابلے کے لیے تیار ہیں اور ان کی تقریر روایتی ڈونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ہوگی، وہ مزاحیہ اور تفریح سے بھرپور ہوگی اور آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی، اس لیے ہر کسی کو یہ دیکھنا چاہیے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں خود قلم اٹھاتے ہیں اور کاغذ پر اپنے خیالات لکھتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر ان کا اپنا کام ہےابھی تقریب جاری ہی تھی اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے کہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہال کا سکون برباد کر دیا۔

    تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔

    بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔

    واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    تہران: ہفتے کو پاکستان کا دورہ مکمل کرنےکے بعد عمان روانہ ہونے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اور روس روانگی سے قبل ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے اعلان کردہ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے آئی آر این اے نے بتایا کہ ایرانی وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ضرور ی امور پر مشاورت کے لیے تہران واپس جا چکا ہے یہ نمائندے اتوار کی رات اسلام آباد میں دوبارہ عباس عراقچی سے ملیں گے۔

    واضح رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ گزشتہ روز پاکستان کا دورہ مکمل کرکے سلطنت عمان روانہ ہوئے تھےپاکستان کے دورے پر ایران کے وزیرخارجہ عباس عرا قچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کو "انتہائی مفید” قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ انہیں "ابھی دیکھنا ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں”۔

  • دہلی: سوئس طیارے کے انجن میں ٹیک آف کے دوران آگ لگ گئی، 6 مسافر زخمی

    دہلی: سوئس طیارے کے انجن میں ٹیک آف کے دوران آگ لگ گئی، 6 مسافر زخمی

    نئی دہلی:سوئس انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پرواز میں نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر ٹیک آف کے دوران انجن میں آگ لگنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں 6 مسافر زخمی ہوگئے۔

    حکام کے مطابق پرواز نمبر ایل ایکس 147 زیورخ روانہ ہونے والی تھی، طیارہ رات ایک بج کر 8 منٹ پر رن وے پر ٹیک آف کی دوڑ میں تھا کہ اچانک ایک انجن میں خرابی پیدا ہوئی اور اس میں آگ بھڑک اٹھی،پائلٹس نے فوری طور پر طیارہ روک دیا، جس کے بعد تمام مسافروں کو ایمرجنسی سلائیڈز کے ذر یعے رن وے پر محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا، انخلا کے دوران 6 مسافر زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔

    ایئر لائن کے جاری بیان کے مطابق طیارے میں 228 مسافر اور 4 شیر خوار بچے سوار تھے چند افراد جو ایمرجنسی سلائیڈ استعمال نہ کرسکے، انہیں سیڑھیوں کے ذریعے باہر نکالا گیا سوئس انٹرنیشنل ایئر لائنز نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم قائم کر دی ہے، جبکہ مسافروں کے لیے متبادل پروازو ں او ر ہوٹل میں قیام کے انتظامات کیے جا رہے ہیں،مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

  • واشنگٹن:  ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن: ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے خفیہ ادار ے کے اہلکاروں نے قابو کر لیا،جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی،انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

    امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران ہونے والے ایک فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے-

    وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،نہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے،صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہےسی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

    سی این این کے مطابق ملزم لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے اور اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے دوڑ رہا تھا، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی افسران نے اسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک لیا۔

    us

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہے۔

    اس حوالے سے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے اور اس پر بہت جلد فردِ جرم عائد کر دی جائے گی، ملزم کے خلاف فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

    دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں فائرنگ کے آغاز کا منظر دیکھا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات عوام کے سامنے اس لیے لا رہے ہیں تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔

    تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزم کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس کا کسی تنظیم سے تعلق تھا یا یہ اس کی انفرادی کارروائی تھی فی الحال ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہےہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

  • یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور  سیلاب متاثرین کیلئے  16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے 16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض دے گی-

    تفصیلات کے مطابق یورپی یونین سیلاب متاثرین اور کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے پاکستان کو مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض فراہم کرے گی جس کے لیے باقاعدہ قرض معاہدوں پر دستخط 28 اپریل کو ہوں گے یہ معاہدے یورپی انویسٹمنٹ بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پائیں گے۔

    یورپی یونین کے اس مالی پیکیج میں سے 10 کروڑ یورو سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے فراہم کیے جائیں گے، اس رقم سے تقریباً 21 لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن بنائی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ آباد کیا جا سکے 6 کروڑ یورو کراچی میں پانی کی فراہمی اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جس سے شہریوں کو صاف پانی کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔

  • آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو  اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پربھاری لیو ی لگانی پڑے گی،علی پرویز ملک

    آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پربھاری لیو ی لگانی پڑے گی،علی پرویز ملک

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے شرائط میں نرمی یا رعایت حاصل نہ ہو سکی تو حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی میں 50 سے 55 روپے تک کے اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر معیشت کو مزید سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےحکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاہم، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر عالمی ادارے نے رعایت نہ دی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پر 50 سے 55 روپے تک لیو ی لگانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں سستا ترین ڈیزل پاکستان میں فراہم کیا جا رہا ہے اور ڈیزل پر لیوی صفر ہونے کی وجہ سے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کرنا پڑاہ آئی ایم ایف کے تعاون کے بغیر موجودہ معاشی حالات میں نظام چلانا ممکن نہیں ہے، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو ہمارے پاس اربوں ڈالرز کے اسٹریٹجک ذخائر موجود نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر 100 ارب روپے کے فنڈز سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار معاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہیں-

    علی پرویز ملک نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے کی کمی کی گئی تو سیاسی مخالفین نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے انتہائی کٹھن حالات میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا اور عوام کو بڑی تکلیف سے بچایا، وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ علاقائی تعاون کے ذریعے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔

  • ایران : احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنیوالے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی

    ایران : احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنیوالے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی

    ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی-

    ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی،عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔

    ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلیجنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،جبکہ ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی-

    قبل ازیں رواں ماہ ہی حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی تھیمایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا تھا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے جنپیں گزشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔

    علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔

    ’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی بی بی سی کے مطابق علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔

  • صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورہ فی الحال منسوخ ہونے کے باعث صدر ٹرمپ نے امریکی صحافی کو بھی امریکا واپس آنے کا کہہ دیا۔

    نیو یارک پوسٹ سے منسلک صحافی کیٹلن ڈورن بوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکسٹ پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا، جس میں انہیں مختصر طور پر کہا گیا کہ گھر واپس آ جاؤ۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجے جانے والے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے،انہوں نے کہاکہ یہ دورہ ان کے مطابق وقت کے ضیاع کے مترادف تھا، کیونکہ بہت زیادہ وقت سفر میں صرف ہو رہا تھا اور کام کا بوجھ بھی زیادہ ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد جانے کا دورہ منسوخ کر دیا ہے جو ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے طے تھا ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور کنفیوژن پائی جاتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل میں قیادت کون کر رہا ہے ہ اگر ایرانی فریق بات کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کرے۔

  • مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو  جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ  معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اہم عالمی معاملات خصوصاً ایران جنگ سے پیدا ہونے والے بحران میں غیر معمولی طور پر پس منظر میں نظر آ رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیج رہے ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بات چیت کی قیادت کرتے رہے تاہم اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجو دگی نمایاں رہی، اگرچہ روبیو کو ٹرمپ کی انتظامیہ میں وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے لیکن اہم خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے، ان کا زیادہ فوکس لاطینی امریکا پر رہا ہے جبکہ ایران جیسے بڑے بحران میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ اور غیر مقبول معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں تاکہ ممکنہ ناکامی کا بوجھ ان پر نہ آئے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    ہینری کسنجر کے بعد روبیو واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت دو اہم عہدوں پر فائز ہیں تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اختیارات اور اثر و رسوخ اس تاریخی مثال کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے معاملے میں شامل ہوتے ہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عملی طور پر ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا انداز بدل چکا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور محدود حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔