Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    امریکا میں ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت اکثریت کر رہی ہے-

    امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے عملی امکانات اب بھی محدود ہیں ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 55 فی صد افراد صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 37 فی صد اس کی مخالفت کرتے ہیں آزاد حیثیت کے ووٹرز میں بھی 50 فیصد نے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 28 فیصد اس کے خلاف رہے۔

    جائزے میں شامل حکمران جماعت کے حامیوں میں سے 21 فی صد نے مواخذے کی حمایت کی، تاہم 72 فی صد نے اس کی مخالفت کی یہ سروے اپریل 2026 کے وسط میں 1514 افراد سے کیا گیا جس میں آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی مواخذے کی حمایت کی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر عدم اطمینان کے باوجود مواخذہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اس جماعت کے کسی رکن نے مواخذے کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا عوام سیاسی کشمکش سے تھک چکے ہیں اور مواخذے کا عمل ایوان نمائندگان سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔

    پیشگوئی کرنے والے مالیاتی اندازوں کے مطابق 2027 سے پہلے صدر کے مواخذے کا امکان تقریباً 13 فی صد ہے، جب کہ 2028 سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو کر تقریباً دو تہائی تک جا سکتا ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اگرچہ ڈیموکریٹک جماعت کے اندر مواخذے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کیے بغیر صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعت طویل عرصے سے مواخذے کی بات کر رہی ہے، تاہم اس کے لیے درکار سیاسی حمایت موجود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی مسلسل بحث آئندہ انتخابات میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار 300 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 162 روپے ہو گئی اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 971 روپے بڑھنے کے بعد 4 لاکھ 22 ہزار 806 روپے ہو گئی جبکہ عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ 23 ڈالرز اضافے سے 4708 ڈالرز فی اونس ہو گیا گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 2900 روپے کی کمی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 92 روپے مہنگی ہو کر 8 ہزار 49 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 79 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 75 اعشاریہ 65 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

  • اسحاق ڈار کا ترک وزیرِ خارجہ سے رابطہ

    اسحاق ڈار کا ترک وزیرِ خارجہ سے رابطہ

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فودان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان کی جاری سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ، مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے،گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار کا مصر کے وزیرِ خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس میں اہم علاقائی امور پر گفتگو کی گئی۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • یروشلم میں اسرائیلی سڑکوں پر،ٹرمپ سے نیتن یاہو کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

    یروشلم میں اسرائیلی سڑکوں پر،ٹرمپ سے نیتن یاہو کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

    اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم میں ہفتہ کے روز مظاہرین نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کی حمایت ختم کرے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق درجنوں افراد نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے لیے پیغامات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے امریکا اور اسرائیل کے اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔مظاہرین کے نعروں میں “دوبارہ دھوکہ نہ کھائیں” اور “انہوں نے آپ کو غزہ اور ایران کے معاملے پر گمراہ کیا” جیسے جملے شامل تھے۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سابق نائب سربراہ نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ایک “فوری پیغام” دینا چاہتے ہیں کہ وہ “غلط گھوڑے پر شرط لگا رہے ہیں” اور نیتن یاہو کو ایک کمزور اور ناکام سیاستدان قرار دیا۔

    مظاہرے میں شریک 11 سالہ بچے یارون نے بھی نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “انہیں ہمارے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں، وہ صرف اقتدار میں رہنے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔”

    یہ احتجاج اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر کیا گیا، جو نیتن یاہو کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ارجنٹائن کے صدر کے دورۂ اسرائیل کے دوران ہکابی نے نیتن یاہو اور ملیئی کو صدر ٹرمپ کے قریبی ترین عالمی رہنماؤں میں شمار کیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے آغاز پر اسرائیلی عوام کی اکثریت نے اس کی حمایت کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اپریل کے وسط میں ہونے والے مختلف سرویز کے مطابق اب زیادہ تر اسرائیلی اس جنگ کو کامیاب نہیں سمجھتے۔ابتدائی طور پر ایران جنگ کے خلاف مظاہرے محدود تھے، تاہم اب ان کا دائرہ اور شدت دونوں بڑھ رہی ہیں، جو اسرائیلی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری امید سے

    وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری امید سے

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی سمجھی جانے والی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے دوسری بار ماں بننے کی خوشخبری سنا دی ہے۔

    28 سالہ کیرولین لیویٹ، جو اس عہدے پر فائز ہونے والی کم عمر ترین پریس سیکریٹری ہیں، نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ جلد اپنے دوسرے بچے کو جنم دینے والی ہیں اور اسی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے میڈیا بریفنگ سے دور رہیں گی۔انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ “یہ ممکنہ طور پر کچھ وقت کے لیے میری آخری بریفنگ ہوگی، کیونکہ میں کسی بھی وقت بچے کو جنم دے سکتی ہوں۔” انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں صحافیوں کو زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ “آپ سب کے پاس صدر کا فون نمبر موجود ہے۔”

    کیرولین لیویٹ کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ ملی، جہاں صارفین نے اسے ٹرمپ کے براہِ راست اور غیر روایتی اندازِ گفتگو کی طرف اشارہ قرار دیا۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ ان کی غیر موجودگی میں پریس بریفنگ کی ذمہ داریاں کون سنبھالے گا، تاہم اطلاعات ہیں کہ سینئر حکام وقتاً فوقتاً یہ ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ کیرولین لیویٹ پہلے سے ایک بیٹے کی ماں ہیں، جس کی پیدائش جولائی 2024 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے چند دن بعد ہی دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں، جو ان کی پیشہ ورانہ لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ذاتی زندگی کے حوالے سے کیرولین لیویٹ نے 2023 میں 60 سالہ نکولس ریکیو سے شادی کی تھی، اور اب یہ جوڑا اپنے دوسرے بچے کے استقبال کی تیاری کر رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں کیرولین لیویٹ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ میڈیا حکمت عملی کا اہم چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اکثر سخت سوالات کا پراعتماد انداز میں جواب دیتی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ عہدہ مسلسل دباؤ اور مصروفیات سے بھرپور ہوتا ہے،

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور پاک-ایران دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون، علاقائی امن و استحکام، اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،

  • قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز ،سرکاری مؤقف کا ہمیشہ انتظار کریں،اسحاق ڈار

    قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز ،سرکاری مؤقف کا ہمیشہ انتظار کریں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں علاقائی پیش رفت اور سفارتی سرگرمیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے تاکہ خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران امریکا سہولت کاری کے عمل سے متعلق پاکستان کا مؤقف صرف وہی ہے جو سرکاری ذرائع سے جاری کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ یا نامعلوم پاکستانی حکام کے حوالے سے شائع یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں پاکستان کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور صرف مستند اور سرکاری بیانات پر انحصار کریں تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔

  • میٹرک و انٹر میں فیل طلبا کو اب گھبرانے کی ضرورت نہیں

    میٹرک و انٹر میں فیل طلبا کو اب گھبرانے کی ضرورت نہیں

    پنجاب میں میٹرک و انٹر کے طلبہ کے لیے بڑا فیصلہ، فیل ہونے کی صورت میں مزید چانسز دے دیے گئے

    پنجاب میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں کسی بھی مضمون میں فیل ہونے والے طلبہ کے لیے امتحان دینے کے مواقع میں اضافہ کر دیا گیا ہے،پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن چیئرمین کمیٹی کے ترجمان کے مطابق اب فیل ہونے والے امیدوار 4 سال کے دوران مجموعی طور پر 6 مرتبہ امتحان دینے کے اہل ہوں گے۔ترجمان نے بتایا کہ یہ نئی پالیسی 2024ء کے سالانہ امتحانات سے نافذ العمل ہو گی۔ اس کے تحت طلبہ کو اضافی چانس میں بھی اسی وقت کے موجودہ نصاب کے مطابق امتحان دینا ہوگا۔

    اس سے قبل فیل ہونے والے طلبہ کے لیے یہ سہولت صرف 4 چانسز تک محدود تھی۔تعلیمی حکام کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد طلبہ پر امتحانی دباؤ میں کمی لانا، ناکامی یا کم نمبروں کی صورت میں انہیں مزید مواقع فراہم کرنا اور مجموعی طور پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔

  • ترکیے کی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی میں مدد کی پیشکش

    ترکیے کی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی میں مدد کی پیشکش

    انقرہ: ترکیے نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے معاونت کی پیشکش کر دی ہے۔

    ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر خطے میں امن معاہدہ طے پاتا ہے تو ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے آپریشنز مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے ذریعے انجام دیے جائیں گے، لہٰذا ترکیے کے لیے اس عمل میں شرکت کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی اور علاقائی استحکام کی ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادہ ہے۔

    ترک وزیر خارجہ کے اس بیان کو علاقائی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل کا ایک انتہائی حساس اور اہم سمندری راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔