Baaghi TV

Blog

  • 
ایل پی جی مافیا بے قابو، سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود، عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور

    
ایل پی جی مافیا بے قابو، سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود، عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور

    ‎ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری سطح پر کمی کے دعووں کے باوجود صارفین کو ریلیف نہ مل سکا۔ اوگرا کی جانب سے جولائی کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 68 روپے کمی کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے مقرر کی گئی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں، بلکہ من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔
    ‎صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین، رکشہ ڈرائیوروں اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمت صرف اعلانات تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر کسی جگہ اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
    ‎رکشہ ڈرائیوروں نے شکایت کی ہے کہ مہنگی ایل پی جی خریدنے کے بعد ان کی روزانہ کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کے اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ روزگار چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کئی افراد قرض لے کر گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
    ‎شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایل پی جی مافیا کھلے عام سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لیکن متعلقہ ادارے اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سرکاری نرخ پر ایل پی جی فراہم نہیں کر سکتی تو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
    ‎دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں خود پلانٹس سے ایل پی جی 420 سے 450 روپے فی کلو کے حساب سے ملتی ہے، اس لیے وہ سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹس مہنگے داموں گیس فروخت کریں گے تو ریٹیل سطح پر سستی فروخت ممکن نہیں۔
    ‎دکانداروں نے مزید کہا کہ متعلقہ ادارے پلانٹس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ سپلائی چین کے آغاز میں ہے، جہاں قیمتوں کا تعین سرکاری نرخوں کے برعکس کیا جا رہا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار اور مجموعی مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

  • 
توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں نئے بینچ کی منتظر

    
توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں نئے بینچ کی منتظر

    ‎اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپیلیں جسٹس خادم حسین سومرو کے بینچ سے منتقل کر دی گئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے تاحال ان اپیلوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل نہیں دیا۔
    ‎دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرنے سے متعلق 12 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے، جس میں اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے قابل قبول قرار دینے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
    ‎عدالتی حکم نامے کے مطابق عدالت نے اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کی معافی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان کے وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف اور قانونی جواز قابل قبول ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد تمام اعتراضات بھی ختم کر دیے اور ہدایت کی کہ اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگا کر آئندہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
    ‎تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اپیلیں قانونی مدت کے اندر، یعنی 29 دسمبر 2025 کو دائر کر دی گئی تھیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 20 دسمبر 2025 کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
    ‎عدالتی کارروائی کے تازہ مرحلے کے بعد اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کب نیا بینچ تشکیل دیتے ہیں اور اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کب شروع ہوتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نئے بینچ کی تشکیل کے بعد سزا کے خلاف اپیلوں پر تفصیلی دلائل دیے جائیں گے، جس کے بعد عدالت آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔
    ‎توشہ خانہ ٹو کیس ملکی سیاست اور عدالتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے اس مقدمے کی ہر عدالتی پیش رفت پر سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین اور عوام کی گہری نظر ہے۔

  • 
فیفا ورلڈ کپ 2026: امریکا، میکسیکو اور کینیڈا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

    
فیفا ورلڈ کپ 2026: امریکا، میکسیکو اور کینیڈا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

    ‎کراچی: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شریک تینوں میزبان ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پہلی بار تین ممالک کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا عالمی فٹبال ٹورنامنٹ دلچسپ مقابلوں کے بعد اب ناک آؤٹ مرحلے کے اگلے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
    ‎راؤنڈ آف 32 کے مقابلوں کے اختتام تک اب تک دس ٹیمیں پری کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ باقی چھ نشستوں کا فیصلہ آئندہ میچز میں ہوگا۔ تاہم سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ تینوں میزبان ٹیمیں بھی اگلے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہیں، جس سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    ‎کینیڈا نے میزبان ممالک میں سب سے پہلے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس نے راؤنڈ آف 32 کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک صفر سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ کینیڈا کی ٹیم نے مضبوط دفاع اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح اپنے نام کی۔
    ‎دوسری جانب میکسیکو نے ایکواڈور کو دو صفر سے شکست دے کر چالیس برس بعد ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔ میکسیکو کی اس کامیابی کو ملکی فٹبال کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے اور شائقین نے اس کامیابی کا بھرپور جشن منایا۔
    ‎امریکا نے بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے بوسنیا کو دو صفر سے ہرایا اور اعتماد کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچ گیا۔ امریکی ٹیم نے پورے میچ میں کھیل پر گرفت برقرار رکھی اور مخالف ٹیم کو زیادہ مواقع فراہم نہیں کیے۔
    ‎اب پری کوارٹر فائنل میں کینیڈا کا مقابلہ مراکش سے ہوگا، جبکہ امریکا اور میکسیکو آمنے سامنے ہوں گے۔ دونوں شمالی امریکی ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس اہم مقابلے کو ٹورنامنٹ کے دلچسپ ترین میچز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف کل ایران اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے

    
وزیراعظم شہباز شریف کل ایران اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف کل ایران اور ترکیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ اعلیٰ سطح کی اہم ملاقاتوں کے ساتھ مختلف سرکاری تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ ایران کا مرکزی مقصد شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت اور ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر اہم وزرا بھی اس دورے میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کرے گا۔
    ‎ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے متعلق بھی اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حالیہ رابطوں کے دوران ایران اور امریکا نے آنے والے دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد جلد منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
    ‎طاہر حسین اندرابی کے مطابق دوحہ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مختلف نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریق سفارتی ذرائع سے معاملات کو آگے بڑھانے اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر بھی پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اب بھی افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎پاک بھارت اہم شخصیات کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان نہ تو اس خط کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب سمجھتی ہے۔
    ‎سفارتی حلقوں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور اہم بین الاقوامی امور پر مشاورت کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

  • 
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کے لیے اہم معاہدے

    
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کے لیے اہم معاہدے

    ‎پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سکیورٹی و کھیلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات، داخلی سلامتی، سرحدی تعاون، انسداد جرائم اور دیگر مشترکہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں موجود تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت انسداد دہشت گردی، جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے، ادارہ جاتی روابط اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
    ‎دورانِ ملاقات کھیلوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع میں اضافہ، مشترکہ تربیتی پروگرام، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مختلف کھیلوں میں تعاون کو فروغ دینے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس سلسلے میں ایک الگ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
    ‎وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے معاہدے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، منظم جرائم کے خاتمے اور عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ملاقات کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سکیورٹی بلکہ کھیلوں اور دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 9 ہزار 100 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 91 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت بڑھ کر 4ہزار 63ڈالر کی سطح پر آگئی جس کےبعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے چوتھے دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 9100روپےکا اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4لاکھ 28 ہزار 736روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 7802روپے بڑھ کر 3لاکھ 67ہزار 572روپے ہو گئی۔

    دوسری جانب مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 203 روپے کے اضافے سے 6ہزار 445 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 174روپے کے اضافے سے 5ہزار 525روپے کی سطح پر آگئی۔

  • دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے ،دفتر خارجہ

    دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے ،دفتر خارجہ

    پاکستان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کر سکے –

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی ترجمان نے پچھلے دنوں ہونے والے سیمینار کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کر سکے پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے امن اور سکون کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اہم بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی بھی نام نہاد کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بے بنیاد ہے، جسے پاکستان پوری طاقت سے مسترد کرتا ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اصل پریشانی بھارتی قیادت کا وہ رویہ ہے جس کے تحت وہ پانی کو ایک ایسا اثاثہ سمجھ رہے ہیں جسے جب چاہیں روک لیں، موڑ دیں یا اپنے قابو میں کر لیں جبکہ اپنی مرضی سے قبضہ کرنے کی یہ سوچ نہ صرف پانی کے اس پرانے معاہدے کے خلاف ہے بلکہ عالمی قانون کے بھی خلاف ہے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا بھارت کے اپنے عالمی وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جس سے دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے ملک میں ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اس سلسلے میں 28جون کو باجوڑ میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 4 دہشتگردو ں کو ہلاک کیا گیا، جن میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا بڑا کمانڈر خان فروش عبدالزبل بھی شامل ہے، جبکہ باقی 3 دہشتگردوں کا تعلق بھارت کی شہ پانے والی جماعت الاحرار سے تھا شہر یو ں کی حفاظت اور ملکی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق 29 جون کو افغان ناظم الامور کو پاکستان کے دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور کراچی میں ہونے والے دہشتگرد حملے پر افغان حکام کو سخت احتجاجی خط یعنی ڈیمار ش دیا گیا اسی طرح کابل میں موجود پاکستان کے سفیر نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کو یہ احتجاجی خط پیش کیایہ سخت قدم اس بنیاد پر اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان شہریوں کی شمولیت صاف سامنے آئی ہے اور ایک افغان حملہ آور کو زندہ بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام شواہد سے یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے حکم جاری کر دیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور جو بھی افغان شہری بغیر ویزے یا قانونی کاغذات کے رہ رہا ہے، اسے گرفتار کیا جائے۔

    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے زراعت کے میدان میں ایک بہت بڑی عالمی کامیابی حاصل کی ہے اور پاکستان کو ’انٹرنیشنل اولیو کونسل‘ یعنی زیتون کی عالمی کونسل کا مستقل رکن بنا لیا گیا ہے لزبن میں ہونے والے کونسل کے 123ویں اجلاس میں پاکستان نے پہلی بار مستقل ممبر کے طور پر شرکت کی، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے خوراک و قومی تحفظ رانا تنویر حسین نے کی اس عالمی کونسل میں 27 ممالک شامل ہیں اور اب پاکستان ’اولیو ڈپلومیسی‘ یعنی زیتون کی سفارت کاری کے ذریعے ملک میں اس کی پیداوار بڑھائے گا تاکہ اسے باہر کے ملکوں کو بیچ کر ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔

    دفتر خارجہ نے قیدیوں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کو اپنے ہاں قید 753 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کر دی ہے، جسے سرکاری ذرائع، خاندانوں اور میڈیا کی خبروں کی مدد سے بالکل صحیح اور تصدیق شدہ طریقے سے تیار کیا گیا ہے ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ بھارت نے وہاں قید پاکستانیوں کی فہرست کس طرح تیار کی ہے، لیکن ہماری فہرستیں بالکل درست ہیں۔

    ترجمان نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کا دورہ کریں گے وزیراعظم کل اپنے اس دورے پر روانہ ہوں گے اور ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی کابینہ کے دیگر اہم وزرا بھی شامل ہوں گے وزیراعظم ایران جا کر وہاں کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے اور دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا مکرر اظہار کریں گے اس کے بعد وزیراعظم ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول جائیں گے، جہاں وہ ایک بڑی کاروباری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

    طاہر انداربی نے امریکا اور ایران کے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ممالک بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہو چکے ہیں اور اگلا اجلاس ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد ہوگا۔

  • پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اسحاق ڈار

    پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔

    اسلام آباد میں چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی قیادت، حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے چین کو غیر معمولی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا، کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا اور دنیا کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی نئی مثال قائم کی۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، جو باہمی اعتماد، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بنیادی مفادات کے احترام پر قائم ہےد و نوں ممالک کے درمیان سیاسی جماعتوں کی سطح پر مسلسل رابطوں نے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا اور عوامی روابط کو فروغ دیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے درمیان بھی دیرینہ تعلقات موجود ہیں، جبکہ چین پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط برقرار رکھتا ہے رواں برس مئی میں بیجنگ میں پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کی تقریب میں مختلف پاکستانی سیاسی جماعتوں نے بھی شرکت کی، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ 2015 میں شروع ہونے والا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگ میل ثابت ہوا، سی پیک نے پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے، سڑکوں کے جال کی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، اب سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت، زرا عت، معدنیات، آئی ٹی اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے، جو حکومت کے “پانچ ایز” ترقیاتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے بھی قریبی تعاون کیا دونوں ممالک نے رواں برس مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات، سمندری راستوں کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد پر زور دیا گیا، جسے عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہوئی پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ممکن ہوئے، جبکہ ان امن کوششوں کو چینی صدر شی جن پنگ کی مذاکرات پر مبنی امن تجویز سے بھی تقویت ملی،پاکستان چین کے ساتھ اپنی آہنی دوستی کو مزید مضبوط بنانے، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو کامیاب بنانے اور خطے سمیت دنیا میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

  • ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے لگژری بوئنگ 747-8 طیارے پر اپنی پہلی پرواز مکمل کی اس موقع پر طیارے کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم خود ایسا طیارہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ ہم اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کو تیار ہی نہ ہوتے-

    تقریباً $40 کروڑ (400 ملین ڈالر) مالیت کا یہ بوئنگ طیارہ قطری حکومت کی جانب سے امریکا کو بغیر کسی شرط کے تحفے میں دیا گیا ہے،طیارے کا نیا رنگ و ڈیزائن سفید، سرخ اور نیوی بلیو پر مشتمل ہے، جو صدر ٹرمپ کے ذاتی طیارے سے بھی مشابہت رکھتا ہے اس انتہائی پرتعیش طیارے کو عارضی طور پر نئے ‘ایئر فورس ون’ کا درجہ دیا گیا ہےرپورٹس کے مطابق یہ طیارہ امریکی محکمہ دفاع کو باضابطہ طور پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پرانا صدارتی طیارہ 35 سال پرانا تھا، اور یہ نیا تحفہ ملک کے شایانِ شان ہے، صدر ٹرمپ نے اس طیارے میں پہلی صدارتی پرواز میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے شمالی ڈکوٹا کے لیے مکمل کی، طیارے کو صدارتی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین سیکیورٹی نظام اور اضافی سہولیات شامل کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ مگر شاندار مشین ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب بوئنگ کے سربراہ نے انہیں اس طیارے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے قطر سے اسے کچھ عرصے کے لیے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم بعد میں قطر کے امیر نے یہ طیارہ امریکا کو بطور تحفہ دینے کی پیشکش کر دی،وہ اس طیارے کو اس وقت تک استعمال کریں گے جب تک امریکا میں تیار ہونے والے نئے صدارتی طیارے مکمل نہیں ہو جاتے، جس میں تقریباً 2 سال لگ سکتے ہیں،انہوں نے قطر کی جانب سے اس طیارے پر کیے گئے اخراجات کو ’اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا۔

    اس تحفے کو امریکی سیاست میں کانگریس اور اخلاقی گروپس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں قرار دیا ہے،یہ طیارہ، جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، بغیر کسی شرط کے امریکا کو دیا گیا ہے اور اسے اِس وقت قانونی، اخلاقی اور قومی سلامتی سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل 1990 سے استعمال ہونے والا بوئنگ 747-200 ایئر فورس ون مرحلہ وار سروس سے ہٹایا جا چکا ہے، جبکہ 2 نئے بوئنگ 747-800 طیاروں کو VC-25B کے طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ پرانے اور نئے صدارتی طیاروں کے درمیان عبوری خلا پُر کیا جا سکے۔

  • شوٹنگ کے دوران  نعمان اعجاز نے مجھے حقیقی تھپڑ مارا،رعید محمد عالم

    شوٹنگ کے دوران نعمان اعجاز نے مجھے حقیقی تھپڑ مارا،رعید محمد عالم

    اداکار رعید محمد عالم نے انکشاف کیا ہے کہ اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران سینئر اداکار نعمان اعجاز نے انہیں حقیقی تھپڑ مارا تھا تاکہ میں منظر کے مطابق جذبات کا اظہار کر سکوں۔

    رعید محمد عالم نے ایک پوڈکاسٹ میں بتایا کہ جب میں نے اداکاری کا آغاز کیا تو مجھے رونے والے مناظر کرنے میں مشکل پیش آتی تھی، ایک ڈرامے میں میری نعمان اعجاز کے ساتھ شوٹنگ تھی، جس میں میرے چند مکالمے تھے اور مجھے رونا بھی تھا، لیکن کئی ٹیک دینے کے باوجود میں رو نہیں پا رہا تھا میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں گلیسرین استعما ل کرنے سے آنکھوں میں شدید خارش ہوتی ہے، اس لیے میں اس کا استعمال بھی نہیں کر سکتا تھا۔

    رعید کے مطابق نعمان بھائی نے مجھ سے پوچھا، کیا تمہیں رونے میں مشکل ہو رہی ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا، جس پر انہوں نے اچانک مجھے زور سے تھپڑ مار دیا اور کہا اب بچہ اچھا روئے گا، میں نے ان سے کہا، نعمان بھائی، یہ تو بہت زور کا تھا،اس واقعے کے باوجود میں اپنے سینئر فنکاروں کا بے حد احترام کرتا ہوں ہمارے سینئرز احترام کے مستحق ہیں، انہوں نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور نعمان بھائی نے بھی مجھے اداکاری کے حوالے سے بے شمار چیزیں سکھائیں۔