Baaghi TV

Blog

  • معرکۂ حق کے ہیرو کیپٹن محمد حیدر علی،شاندار جنگی کارکردگی کی داستان

    معرکۂ حق کے ہیرو کیپٹن محمد حیدر علی،شاندار جنگی کارکردگی کی داستان

    معرکۂ حق کے دوران پاک فوج کے بہادر افسر کیپٹن محمد حیدر علی نے میزائل لانچنگ آفیسر کی ذمہ داریاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں اور میدانِ جنگ میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق کیپٹن محمد حیدر علی کی یونٹ نے اس معرکے میں مثالی کارکردگی دکھائی، جس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور فتح کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت اور حکمتِ عملی کے باعث آپریشنل کامیابیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔معرکے کے دوران فتح ون میزائل کے مؤثر اور درست فائر نے دشمن کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس سے اس کی جارحانہ منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق دشمن کے ممکنہ اہداف میں پٹھان کوٹ ایئر بیس اور مامون ایوی ایشن بیس شامل تھے۔

    کیپٹن محمد حیدر علی کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا، جو ان کی قربانیوں اور خدمات کا باضابطہ اعتراف ہے۔یہ اعزاز ان کی اس شاندار جنگی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے جس میں انہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

  • اسلام آباد، گھر سے خاتون ،بچے سمیت چار لاشیں برآمد

    اسلام آباد، گھر سے خاتون ،بچے سمیت چار لاشیں برآمد

    اسلام آباد کے تھانہ نون کے علاقے، کمال کیپیٹل ہسپتال کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ہی گھر سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قتل ہونے والوں میں دو مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہیں۔ چاروں افراد کو سر میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا، جس سے واقعہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول حبیب الرحمٰن سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسی گھر میں رہائش پذیر تھا۔واقعے کی تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس نے اطلاع دینے والے سیکیورٹی گارڈ اور اہلِ محلہ کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں۔ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

  • بہترین حکمتِ عملی، کامیاب سفارتکاری، پاکستان کا عالمی وقار بلند ،بھارت تنہائی کا شکار

    بہترین حکمتِ عملی، کامیاب سفارتکاری، پاکستان کا عالمی وقار بلند ،بھارت تنہائی کا شکار

    بہترین حکمتِ عملی اور کامیاب سفارتکاری، پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوگیا، معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کی گئی۔

    جنگی میدان میں دشمن کو عبرتناک شکست کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر اصولی مؤقف کو اجاگر کیا، معرکہ حق کی کامیابی کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر مضبوط اور بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا۔امریکی صدر نے پاکستانی قیادت کو سراہتے ہوئے انتہائی مضبوط، غیرمعمولی اور شاندار قیادت قرار دیا، پاک سعودیہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا مظہر ہے۔ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کا کردار مؤثر اور متوازن سفارتکاری کا واضح عکاس ہے، سیاسی وعسکری قیادت کی متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان عالمی امن کا ضامن بن گیا ہے۔پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست دینے کے بعد ڈپلومیسی سے بھی دنیا میں تنہا کردیا۔

  • اسلام آباد،سیکورٹی سخت،سرچ آپریشن کے دوران 31 مشکوک افراد گرفتار

    اسلام آباد،سیکورٹی سخت،سرچ آپریشن کے دوران 31 مشکوک افراد گرفتار

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں،آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے احکامات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری ہیں

    تھانہ کرپا، ترنول، سیکرٹریٹ، لوہی بھیر، تھانہ نون، سمبل، کورال، رمنا اور تھانہ شہزاد ٹاؤن کے علاقوں میں زونل ایس پیز کی زیرِ نگرانی سرچ آپریشنز کئے گئے جس میں لیڈیز پولیس نے بھی حصہ لیا۔سرچ آپریشن کے دوران 674 افراد، 259 گھرانوں، 31 ہوٹلز، 26 دکانوں، 260 موٹر سائیکلز، 96 گاڑیوں کو چیک کیا۔ 31 مشکوک افراد اور 10 موٹر سائیکلز کو مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر موثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔ تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں۔ سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شہری چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔

  • گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر :   قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تاریخ لکھے گی کہ گوجرخان میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب ترقی کے نام پر غریبوں کی بستیوں کو اجاڑا گیا اور شہر کے بڑے کہلانے والے تماشہ دیکھتے رہے۔ تم نے شہر تو چمکا لیا، مگر انسانیت کا جنازہ نکال دیا۔گوجرخان کی تاریخ میں ستم ظریفی کی ایک نئی داستان رقم ہو چکی ہے۔ وہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی اور تجارتی گہما گہمی سے پہچانا جاتا تھا، آج اپنوں ہی کی بے حسی اور سفید ہاتھیوں کی لوٹ مار کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ بیس سال پہلے پچاس کھوکھوں کی لیز سے شروع ہونے والا سفر، تین سو سے زائد کھوکھوں میں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر کے اختتام پذیر ہوا۔ یہ صرف کھوکھوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ متوسط طبقے کی معیشت کا وہ قتلِ عمد ہے جس کے پیچھے دہائیوں کی کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کا ہاتھ ہے۔ انڈر پاسز کے شاندار منصوبے اپنی جگہ، لیکن کیا ترقی کا راستہ ہمیشہ غریب کی ہڈیوں سے گزر کر ہی بنتا ہے؟ کھوکھا بازار کی مسماری نے جہاں سینکڑوں چھوٹے تاجروں کو سڑک پر لا کھڑا کیا، وہیں اب اگلا نشانہ وہ تین ہزار رکشہ ڈرائیور ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر رزقِ حلال کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    گوجرخان کی بلدیہ، جسے ہم سفید ہاتھی کہیں تو غلط نہ ہوگا، برسوں سے ان رکشہ والوں سے انٹری فیس کے نام پر 10 روپے سے شروع ہونے والی اب 50 روپے کی پرچی وصول کر رہی ہے۔پورے پنجاب میں کہیں بھی یہ بھتہ نما پرچی اتنی مہنگی نہیں، مگر گوجرخان وہ واحد لاوارث تحصیل ہے جہاں رکشہ ڈرائیور سے رقم تو لی جاتی ہے، مگر اسے سر چھپانے کے لیے ایک فٹ کا اسٹینڈ تک میسر نہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کروڑوں روپے کا ریونیو آخر جا کہاں رہا ہے؟ وہ کون سے پیٹ ہیں جو غریب کی دہاڑی سے بھرے جا رہے ہیں؟ بلدیہ گوجرخان نے آج تک ان محنت کشوں کو کوئی متبادل جگہ کیوں نہیں دی؟ کیا اس ادارے کی ذمہ داری صرف وصولی تک محدود ہے؟ ستم تو یہ ہے کہ پہلے 50 کھوکھوں کی آڑ میں سینکڑوں غیر قانونی ڈھانچے کھڑے کروا کر جیبیں بھری گئیں، اور جب حساب کا وقت آیا تو بوجھ اس ریڑھی والے اور کھوکھے والے پر ڈال دیا گیا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ان پالیسی میکروں پر بھروسہ کیا۔گوجرخان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

    یہاں پہلے کیری ڈبہ کار اسٹینڈز کو ختم کیا گیا، متبادل جگہ کا لالی پاپ دیا گیا، مگر وہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ اب باری رکشہ والوں کی ہے۔ انڈر پاس بنے گا، سڑکیں چمکیں گی، مگر ان سڑکوں پر چلنے والا وہ محنت کش کہاں جائے گا جس کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا؟ اس معاشی قتلِ عام کے ذمہ دار صرف سرکاری افسران نہیں، بلکہ گوجرخان کے وہ سفید کالر شرفاء، وہ نام نہاد کھڑپینچ اور سماجی شخصیات بھی ہیں جو فوٹو سیشن میں تو پیش پیش رہتی ہیں، مگر جب شہر کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہو تو ان کی زبانوں پر قفل لگ جاتے ہیں۔ مقامی سیاست دانوں سے لے کر مالشی پالشی ٹاوٹوں تک سب نے مل کر اس شہر کو بیروزگاری کی دلدل میں دھکیلا ہے۔ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں، جہاں ایک وقت کی روٹی خواب بنتی جا رہی ہے، وہاں ہزاروں خاندانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ انتظامیہ اور پالیسی ساز یاد رکھیں کہ جب غربت اور فاقہ کشی حد سے بڑھتی ہے، تو وہ صرف بے بسی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو ہر نظام کو بہا لے جاتا ہے۔

    گوجرخان کے متوسط طبقے کی آہیں ان ایوانوں کو ضرور ہلا دیں گی جہاں بیٹھ کر غریب کے رزق پر شب خون مارنے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ترقی ضرور لائیے، مگر انسانوں کو مار کر نہیں۔ انڈر پاسز ضروری ہیں، مگر ان سے پہلے ان ہاتھوں کو روزگار دینا ضروری ہے جو اس شہر کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گوجرخان کے ان مسیحاؤں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے شہر کو چمکانے کے چکر میں اس کے بیٹوں کو اندھیروں کے حوالے کر دیا۔

  • نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بالواسطہ سفارتکاری یا تعطل؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشمکش

    پاکستان بطور ثالث عالمی امن کی امید یا ایک اور سفارتی امتحان؟

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران امریکہ کشیدگی نازک سیزفائر اور غیر یقینی سفارتکاری،عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی وقتی سیزفائر کی صورت میں تو تھمتی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ خاموشی کسی پائیدار امن کی ضامن نہیں بلکہ ایک عارضی توقف کا منظر پیش کرتی ہے۔ بظاہر مذاکرات کا در کھلا ہے، مگر باہمی بداعتمادی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہر پیش رفت ایک نئے تعطل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

    واشنگٹن کی خواہش ہے کہ معاملات کو براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ تہران اس کے برعکس بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تضاد محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اعتماد کے شدید بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ براہِ راست مکالمہ اسے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اسے سفارتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی کا باعث سمجھتا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ تاہم، یہ عمل کسی آسان سفارتکاری کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں اطراف اپنے اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا ہے۔ جب تک ان امور پر کسی حد تک لچک پیدا نہیں کی جاتی، مذاکرات کی رفتار سست اور غیر مؤثر رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

    موجودہ حالات میں ایک دیرپا اور قابلِ اعتماد امن کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم اسے یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فریقین تحمل، تدبر اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کریں، اور ثالثی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تو کسی حد تک پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ نازک سیزفائر کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ بالآخر، یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔

  • ایران میں 55 روز بعد غیر ملکی پروازوں کی بحالی، فضائی آپریشن دوبارہ شروع

    ایران میں 55 روز بعد غیر ملکی پروازوں کی بحالی، فضائی آپریشن دوبارہ شروع

    ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث 55 روز تک بند رہنے والی بین الاقوامی فضائی سروس دوبارہ بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے محدود پیمانے پر بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں مدینہ، مسقط، استنبول، دوحہ، شنگھائی اور گوانگژو کے لیے پروازیں آپریٹ کی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق 55 روز کے وقفے کے بعد پہلی بار قطر ایئر ویز کی پرواز دوحہ سے تہران کے لیے روانہ ہوئی، جسے خطے میں فضائی روابط کی بحالی کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اسی دوران تہران سے دبئی، لاہور، نجف اور مسقط کے لیے بھی پروازیں شیڈول کے مطابق چلائی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آہستہ آہستہ اپنے بین الاقوامی فضائی نیٹ ورک کو بحال کر رہا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں فلائٹ آپریشن کو مزید وسعت دی جائے گی اور مزید بین الاقوامی روٹس کھولے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب مشہد ایئرپورٹ، جو ملک کے شمال مشرقی حصے کی بڑی فضائی سہولت ہے، پہلے ہی دوبارہ فعال کیا جا چکا ہے۔واضح رہے کہ ایران کی فضائی حدود 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد بڑی حد تک بند رہی تھیں، تاہم 8 اپریل کو اعلان کردہ ابتدائی جنگ بندی کے بعد محدود فضائی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اب مکمل بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

  • تین بچے قتل کیس،قاتل ماں کی تھی جھنگ کے شہریار سے دوستی

    تین بچے قتل کیس،قاتل ماں کی تھی جھنگ کے شہریار سے دوستی

    اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، قاتل ماں کی شہریار نامی لڑکے سے دوستی تھی۔

    لاہور کی مقامی عدالت نے اچھرہ میں 3 بچوں کو قتل کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ ردا فاطمہ کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ تفتیشی افسر ملزمہ سے خاتون افسر کی موجودگی میں تفتیش کرے اور 29 اپریل کو ملزمہ سے ہونیوالی تفتیش کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔تین بچوں کے قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آگئے۔ قاتل والدہ کی جھنگ کے رہائشی شہریار سے دوستی تھی، وہ اُس سے شادی کرنا چاہتی تھی، بچے شادی میں رکاوٹ تھے،شہریار سے ردا موبائل ایپ کے ذریعے پیسے منگواتی تھی، پولیس شہریار کو گرفتار کرنے کیلئے جھنگ پہنچ گئی ہے۔

  • اکشے کمار کی بیٹی کو ہراساں کرنے والا ایک ملزم گرفتار

    اکشے کمار کی بیٹی کو ہراساں کرنے والا ایک ملزم گرفتار

    ممبئی: معروف بھارتی اداکار اکشے کمار کی 13 سالہ بیٹی کو آن لائن گیم کھیلنے کے دوران ہراساں کرنے کے کیس میں پولیس نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال اکتوبر میں سامنے آیا تھا، جب اکشے کمار نے ایک تقریب کے دوران انکشاف کیا تھا کہ آن لائن گیم کھیلتے ہوئے ایک نامعلوم صارف نے ان کی بیٹی سے نازیبا تصاویر بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ اداکار کے مطابق ان کی بیٹی نے فوری طور پر گیم بند کر کے اپنی والدہ کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔
    اکشے کمار نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات بچوں کو بلیک میلنگ اور سنگین جرائم کی طرف دھکیل سکتے ہیں، اس لیے والدین اور معاشرے کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔واقعے کے بعد بھارتی سائبر سیل نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور جدید تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزم کی شناخت کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔

    حکام کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ دیگر بچوں کو بھی آن لائن ہراسانی کا نشانہ بناتا رہا ہے یا نہیں۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اکشے کمار کے اس انکشاف کے بعد یہ کیس تعلیمی اداروں میں سائبر سیکیورٹی اور آن لائن حفاظت سے متعلق آگاہی مہمات میں بھی شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔

  • کوئٹہ: ڈھاڈر میں دہشت گرد حملہ ناکام، متعدد دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید

    کوئٹہ: ڈھاڈر میں دہشت گرد حملہ ناکام، متعدد دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید

    کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈھاڈر میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے حملے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے تعلق رکھنے والے عناصر نے علاقے میں حملے کی کوشش کی، جسے فورسز نے مؤثر انداز میں پسپا کر دیا۔

    معاونِ خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جوابی کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے جانی نقصان سے علاقے کو محفوظ رکھا۔بابر یوسفزئی کے مطابق اس کارروائی میں ایک بہادر جوان نے جامِ شہادت نوش کیا، جس کی قربانی کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے شہید اہلکار کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ سیکیورٹی ادارے صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔